ماہِ شعبان اور آج کا مسلمان-مختار احمد مدنی

ماہ شعبان عربی سال کا آٹھواں مہینہ ہے اس ماہ میں کثرت سے روزے ( صوم ) رکھنا نبی اکرمﷺ کا معمول تھا۔

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺروزہ رکھتے تو ہم کہتے کہ اب آپ افطار نہیں کریں گے اور جب افطار کرتے تو ہم کہتے کہ روزہ نہیں رکھیں گے اور میں نے اللہ کے رسولﷺ کو رمضان کے سوا کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی شعبان کے علاوہ کسی اور ماہ میں زیادہ روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

اسی ماہ میں ازواج مطہرات رمضان کے روزوں کی قضاء کرتی تھیں، رمضان کے روزں کی قضاء کے لئے یہ آخری ماہ ہے ایسا شخص جس نے کسی شرعی عذر کی بناء پر رمضان کے کچھ روزے چھوڑ دیئے ہوں انہیں چاہیے کہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے قضا کر دیں ورنہ وہ گناہ گار ہوں گے۔

اس مہینہ کی دوسری فضیلت یہ ہے کہ اس ماہ میں اللہ کے دربار میں اعمال پیش ہوتے ہیں اس ماہ میں نبی کریمﷺ نے کے صوم رکھنے کی حکمت اور وجہ بھی یہی تھی جیسا کہ سیدہ اسامہ بن زید بیان فرماتے ہیں، میں نے اللہ کے رسولﷺسے سوال کیا، آپ شعبان کے مہینہ میں اتنا روزے کیوں رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’یہ وہ مہینہ ہے جسے رجب اور رمضان کے درمیان پڑنے کی وجہ سے لوگ بھول جاتے ہیں جبکہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ رب العالمین کے پاس اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش کیا جائے تو میں روزے سے ہوں۔‘‘ (مسند احمد ؛ ارواء الغلیل: 4؍103؛ سلسلہ احادیث صحیحہ : 1898)

ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ شعبان میں آپ ﷺ کی اتباع و پیروی میں کثرت سے روزے رکھنا چاہیے، لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ ماہ شعبان میں صوم کی مشروعیت ابتدائی 15 دنوں میں ہے کیونکہ آپ ﷺ نے نصف شعبان کے بعد صوم رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

«إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا.»

’’جب شعبان آدھا گذر جائے تو روزے نہ رکھو۔‘‘ (مسند امام احمد ؛ سنن ابوداؤد: 2337 ؛ جامع ترمذی: 738)

اس حدیث کی روشنی میں امام شافعی ﷫ نے ایسے شخص کو جسے روزے کی عادت نہ ہو، نصف شعبان کے بعد روزے سے منع کیا ہے۔ (لطائف المعارف: 260)

15شعبان کے بعد لگا تار روزے سے ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ لگا تار پورا ما روزہ رکھنے سے انسان کو کمزوری لاحق ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے رمضان کے صوم جو فرض ہیں ان کے رکھنے میں مشقت اور پریشانی کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ شعبان کے روزے صرف مسنون ہیں فرض نہیں، اس لئے آپ اللہ نے امت مسلمہ پر رحمت و شفقت کرتے ہوئے نصف شعبان کے بعد صوم رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

البتہ یہ واضح رہے کہ جو شخص سوموار اور جمعرات کوروزہ رکھتا ہے یا اس پر ماہ رمضان کی قضاء ہے تو اس کے لئے نصف شعبان کے بعد بھی روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

اس ماہ کی تیسری فضیات یہ ہے کہ اللہ تعالی لوگوں کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نصف شعبان کی رات کو مطلع ہو کر مشرک وکینہ پرور کے سوا پوری مخلوق کو معاف کر دیتا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، سلسلہ صحیحہ : 1652 ؛ صحیح الجامع : 1819)

قارئین کرام ! یہ تھی اس ماہ کی فضیلتیں اور اس ماہ میں ہمارے رہبر وقائدنبی کریمﷺ کا وہ عمل جسے آپ کے سامنے احادیث کی روشنی میں بیان کر دیا گیا ہے ۔

اس ماہ کے تعلق سے رسول اکرمﷺ کی سنت اور معمول جان لینے کے بعد اب آئیے دیکھیں کہ اس ماہ میں آپ کی اُمت کا کیا عمل ہے؟ جب ہم امت مسلمہ کے اعمال پر نظر ڈالتے ہیں تو بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دوسرے مہینوں کی طرح اس مہینہ میں بھی بہت سارے ایسے اعمال انجام دیئے جاتے ہیں جن کا نبی کریمﷺ کے کے اعمال وسنن سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے، آنے والی سطروں میں انہیں اعمال کا تذکرہ پھر قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا حکم بیان کیا جارہا ہے۔

شب برأت اور اس کی حقیقت

اس ماہ کی 15 ویں رات کو شب برات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے حالانکہ شب براءت کا لفظ کسی بھی صحیح حدیث میں وارد نہیں ہوا ہے۔ احادیث میں شعبان کی پندرہویں رات کہا گیا ہے، کچھ علماء اس رات کی شب قدر جیسی فضیلتیں بیان کرتے ہیں، یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس رات پورے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ روز یوں میں اضافہ ہوتا ہے، عمریں بڑھائی جاتی ہیں، انہیں من گھڑت فضائل کے پیش نظر لوگ رات بھر جاگ جاگ کر دعائیں کرتے ہیں، اس رات انفرادی و اجتماعی عبادتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، آتش بازیاں کی جاتی ہیں، پٹاخے بجائے جاتے ہیں، مسجدوں کو چراغاں کیا جاتا ہے، قبروں کی اجتماعی زیارت کی جاتی ہے، پورے خاندان کے لوگ ایک ساتھ قبرستان جاتے ہیں، وہاں پھول چڑھاتے ہیں، قرآن کریم یا اس کی بعض سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں، بیوہ عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے شوہروں کی روحیں اس رات دنیا میں واپس آتی ہیں، اس لئے بہترین قسم کے پکوان تیار کر کے ان کا انتظار کرتی ہیں۔ ہانڈیوں کے ڈھکن کھول دیئے جاتے ہیں، تا کہ روحوں کو کھانا تناول کرنے میں کسی قسم کی مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے، روحیں آتے ہی فوراً کھانے میں مصروف ہو جائیں، کئی سالوں سے جو بھوکی پیاسی ہوتی ہیں یہ کتنی خلاف عقل بات ہے کہ روحیں آسمان وزمین کی ساری بندشوں اور رکاوٹوں کو چیرتے ہوئے اپنے گھروں کو تو آجاتی ہیں لیکن ڈھکن جیسی معمولی چیز کھولنے کی طاقت ان کے پاس نہیں ہوتی ہے۔ اسی لئے پہلے ہی ان کے ڈھکن کھول دیئے جاتے ہیں۔

شب برات کی فضیات میں قرآن کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ﴾

’’ہم نے اسے (قرآن کریم ) کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم لوگوں کو ڈرانے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الدخان: 3)

حالانکہ ان کا یہ قول سراسر غلط و بے بنیاد ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اس آیت میں جس رات کو مبارک رات کہا ہے، وہ رمضان کی شب قدر ہے نہ کہ شب برأت ۔ کیونکہ قرآن مجید کا نزول ماہ رمضان میں ہوا ہے نہ کہ شعبان کے مہینہ میں۔

ارشادربانی ہے:

﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ ﴾

’’رمضان تووه مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔‘‘ (سورۃ البقرة: 185)

دوسری جگہ اللہ رب العالمین ارشاد فرماتا ہے:

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ 0‏ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ 0‏ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ‎﴾

’’ہم نے اسے ( قرآن کریم کو ) شب قدر میں نازل فرمایا تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے، شب قدر میں ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے ۔‘‘ (سورۃ القدر :1۔3)

اس سے بڑھ کر با برکت رات کیا ہوگی کہ جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہو، ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ سورۃ الدخان کی آیت نمبر تین میں جس مبارک رات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد شب قدر ہے نا کہ شب برأت۔ بلکہ اس سے شب برأت مراد لینا قرآن کریم اور حدیث رسولﷺ کی تکذیب ہے۔ جس طرح قرآن کریم میں وضاحت وصراحت کے ساتھ فرمایا گیا کہ اس کا نزول ماہ رمضان میں ہوا ہے ۔صحیح حدیث میں بھی وارد ہے کہ جتنی بھی آسمانی کتا ہیں لوگوں کی رشد وہدایت کے لئے اتاری گئیں سب ماہ رمضان ہی میں نازل کی گئی ہیں۔

سیدنا وائلہ بن الأسقع روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نےفرمایا:

’’صحف ابراہیم رمضان کی پہلی رات، توراۃ ساتویں، انجیل چودہویں، زبور انیسویں اور قرآن پچیسویں رات میں نازل کیا گیا۔‘‘ (مسند احمد؛ سلسلہ صحیحہ:1575 ؛ صحیح الجامع: 11497)

شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت میں گناہوں کی مغفرت کے حوالہ سے سیدنا ابوموسی اشعری کی جو حدیث بیان ہوئی ہے اس سے کسی عبادت کا ثبوت نہیں ملتا ہے کیونکہ کسی دن یا رات کی فضیلت ثابت ہو جانے سے کسی خاص عبادت کا کرنا ثابت نہیں ہوتا ہے، جس طرح فضیلت ثابت کرنے کے لئے دلیل چاہیے، ٹھیک اسی طرح عبادت ثابت کرنے کے لئے بھی دلیل چاہیئے ۔ مثال بہت ہی واضح ہے۔

نبی کریمﷺ نے جمعہ مبارک کو سب سے بہتر دن قرار دیا ہے، وہ سارے دنوں کا سردار ہے اس کی بہت ساری خصوصیات فضیلتیں ہیں، اس دن سیدنا آدم کی پیدائش ہوئی اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اسی دن قیامت بھی قائم ہوگی، اس دن ایک ایسی گھڑی ہے اس وقت بندہ جو سوال کرتا ہے اللہ اسے ضرور دیتا ہے لیکن کوئی شخص صرف جمعہ کے دن یہ کہہ کر روزہ نہیں رہ سکتا کہ یہ بہت افضل دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپﷺ نے صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمادیا ہے۔ انسان جمعہ کے دن جمعہ کی نماز پڑھتا ہے اس کے علاوہ کوئی اور عبادت انجام نہیں دیتا ہے۔ اب اگر کوئی جمعہ کی فضیلتیں کو دیکھتے ہوئے اس دن 50اس رکعت نماز پڑھے تو اس کا یہ عمل ہمارے نبی کریم ﷺ کی سنت کے خلاف ہو گا، اسی طرح اگر کسی رات کو عبادت کے لئے خاص کرنا جائز ہوتا تو جمعہ کی رات سب سے بہتر رات تھی، لیکن نبی کریم ﷺ نے جمعہ کی رات کو اس کے دن کی فضیلتوں کے باوجود عبادت کے لئے خاص کرنے سے منع فرمایا۔

صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے جمعہ کی رات کو عبادت کے لئے خاص مت کرو، وہی مثال پندرہویں شعبان کی رات کی فضیلت کی ہے، جس نبی اقدسﷺ نے پندرہویں شعبان کی فضیلت بیان کی اس نبی نے اس رات کسی خصوصی عبادت کا اہتمام نہیں کیا۔ اگر یہ عبادت جائز ہوتی تو ضرور نبی کریمﷺ پڑھتے وہ ہم سے زیادہ خیر و نیکی کے حریص اور متلاشی تھے اور جہاں تک لوگوں کی مغفرت کی بات ہے تو یہ صرف شعبان کی پندرہویں رات کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ تو ہر دن ہوتا ہے۔ جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ اللہ رب العالمین روزانہ آخری تہائی رات میں آسمانِ دنیا پر آتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے پھر میں اس کی دعا کو قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے پھر میں اس کی مغفرت کر دوں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ گناہوں کی مغفرت کا کام ہمیشہ ہوتا رہتا ہے جسے صرف شب برات کے ساتھ خاص کر دینا اللہ کی وسعت رحمت کو تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شب برات کا مسلمانوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس بدعت کے موجد شیعہ و روافض ہیں، ان کے عقیدہ کے مطابق چودہویں شعبان ان کے بارہویں امام غائب حسن عسکری کی ولادت کا دن ہے، جس کی خوشی میں حلوہ پکاتے ہیں گھروں کا چراغاں کرتے ہیں، پٹاخے پھوڑتے ہیں اور پندرہویں شعبان یعنی شب برأت کو اپنے مزعومہ امام غائب کے نام چٹھیاں لکھ کر دریاؤں اور نہروں میں ڈالتے ہیں۔ چٹھیوں میں مسلمانوں کے موجودہ قرآن سے برات یعنی بیزاری کا اعلان کیا جاتا ہے اور امام غائب سے ان کا اپنا قرآن جلد از جلد لے کر آنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ یہ ہے اس قبیح بدعت کا اصلی روپ جسے مسلمانوں میں پھیلانے کے لئے رافضیوں نے اللہ کے رسولﷺ کے دندان مبارک کی شہادت کے افسانے پھیلائے اور اس رات کے فضائل گھڑے۔ (بدعات اور ان کا تعارف، سعید بن عزیز بن یوسف زئی: ص 27)

اس لئے ہم سنی مسلمانوں کو چاہیے کہ اس درآمد شدہ بدعت سے فوراً توبہ کرلیں۔

حلوہ خوری کی بدعت

شب برات میں حلوہ کھانے کی رسم بھی بڑے زور وشور کے ساتھ منائی جاتی ہے جس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ غزوہ احد میں آپ ﷺ کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے، تکلیف کے باعث آپ کھانا کھانے سے قاصر تھے، لہٰذا آپ ﷺ نے حلوہ تناول فرمایا تھا، آپ کی اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس رات حلوہ خوری کی جاتی ہے، اس دلیل پر حلوہ خوروں کی پوری عمارت قائم ہے۔ دین اسلام میں کسی رات یا کسی دن کسی مخصوص کھانے کی نہ کوئی ترغیب ہے اور نہ ہی حکم۔ انسان اپنی مرضی کے مطابق اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے جس دن جو کھانا چاہے کھا سکتا ہے، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، شرط صرف یہ ہے کہ وہ حلال ہو حرام نہ ہو۔ تاریخی اعتبار سے یہ بات بالکل بے بنیاد ہے اس لئے کہ غزوہ احد شوال 3 ہجری میں پیش آیا تھا نہ کہ شعبان کے مہینہ میں، یہ کتنی خلاف عقل بات ہے کہ دندان مبارک ماہ شوال میں شہید ہوں اور حلوہ کھانے کی سنت ماہ شعبان میں ادا کی جائے وہ بھی صرف ایک دن، ایسا تو نہیں ہے کہ آپ نے صرف ایک دن حلوہ کھایا پھر آپ کی تکلیف ختم ہوگئی بلکہ کئی دنوں تک آپ کو کھانے کی ضرورت پڑی ہوگی پھر ایک ہی دن یہ سنت کیوں ادا کی جاتی ہے اور اگر سنت سے اتنی محبت ہے تو پہلے دانت تو ڑوائے جائیں پھر حلوہ کھائیں اور جہاں تک مسجدوں کو چراغاں کرنے کی بات ہے تو وہ سراسر فضول خرچی ہے اور قرآنی آیت کے بموجب فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔

﴿‏إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ﴾

’’بلاشبہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔‘‘ (سورۃ الاسراء: 27)

نیز چراغاں کرنا پٹاخے وغیرہ پھوڑ نا مجوس ( آتش پرستوں) کا فعل ہے جس سے مسلمانوں کو احتراز کرنا چاہیے اور اپنی دولت اللہ کی راہ میں صرف کرنی چاہیے۔ چراغاں کرنا اس لئے بھی درست نہیں ہے کیونکہ اسے انسان عبادت سمجھ کر کرتا ہے، جس کے کرنے پر اسے اجر کی امید ہوتی ہے۔

اور یہ عقیدہ کہ روحیں واپس آتی ہیں یہ قرآن وحدیث کے متصادم عقیدہ ہے، مرنے کے بعد کسی کی روح دنیا میں واپس نہیں آتی ہے۔

ارشادربانی ہے:

﴿وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴾

’’اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے اس دن تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں۔‘‘ (سورۃ المؤمنون: 100)

یعنی اللہ تعالیٰ نے روحوں کو دنیا میں واپس آنے کے رستہ میں روک لگا رکھی ہے اگر میت فاسق وفاجر ہے تو اس کی روح سجین اور اگر نیک ہے تو علیین میں یا پرندوں کے پیٹ میں رہتی ہے یا جنت میں یا کسی اور جگہ رہتی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ فرماتے ہیں :

’’قیامت کے دن سب سے پہلے میں اٹھوں گا۔‘‘

(صحیح بخاری 2412 ؛ صحیح مسلم 2374)

روحوں کے دنیا میں آنے کا عقیدہ کفار ومشرکین کا ہے، دین اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی طرح کسی نئی روح کا جنم بھی نہیں ہوتا ہے، قیامت تک جتنی روحیں پیدا ہونے والی تھیں، وہ ساری روحیں اللہ رب العالمین نے عالم ارواح میں پیدا کر دی تھیں، عالم ارواح کا مطلب ہی ہے روحوں کی دنیا۔ وہاں جسم کا وجود نہیں تھا اور یہ دنیا جسم وروح کی دنیا ہے اب کسی نئی روح کی تخلیق ہوتی ہے نا ہی کسی کا نیا جنم ہوتا ہے۔

صلاة الفیہ ( ہزاری نماز ) کی حقیقت

شب برات میں جہاں بہت ساری بدعات و خرافات کی جاتی ہیں، انہی میں سے وہ صلاۃ بھی ہے جسے صلاۃ الفیہ کہا جاتا ہے جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ صلاۃ 100 رکعتوں پر مشتمل ہے، ہر رکعت میں 10 مرتبہ سورت الاخلاص پڑھی جاتی ہے، اس طرح اس کے پڑھنے کی تعداد ایک ہزار ہو جاتی ہے اس لئے اسے صلاۃ الفیہ کہا جاتا ہے۔ یہ صلاۃ تکمیل اسلام کے 500 سال بعد ایجاد کی گئی ہے جو عبادت نبی کریمﷺ کے زمانے میں نہیں تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تکمیل فرمادی تو اس نئی عبادت کو دین کا حصہ کیسے کہا جاسکتا ہے۔ علامہ طرطوشی﷫اپنی کتاب الحوادث والمبدع صفحہ نمبر 121-122 میں اس بدعت کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’اس بدعت کا موجد نابلس ( فلسطین کا ایک مشہور شہر) کا ابن ابی الحمراء نامی ایک شخص ہے جو سن 448 ہجری میں بیت المقدس آیا وہ بہت اچھی تلاوت کرتا تھا، وہ پندرہویں شعبان کو مسجد اقصی میں صلاۃ پڑھنے لگا، اس کی میٹھی آواز سن کر اس کے پیچھے ایک جماعت ہوگئی، پھر جب وہ اگلے سال آیا تو اس کے ساتھ بہت سارے لوگوں نے صلاۃ ادا کی اس طرح اس کی کافی شہرت ہوگئی، پھر بعد میں لوگوں نے اسے سنت کا درجہ دے دیا۔ ‘‘

یہ ہے اس بدعت کی حقیقت جو نہ آپﷺ کی سنت ہے اور نہ ہی خلفائے راشدین وصحا بہ کرام یا تابعین عظام کی بلکہ یہ ایک مجہول شخص کی ایجاد کردہ ایسی بدعت ہے جسے ہر مکتبہ فکر کے علماء کرام نے بدعت وناجائز قرار دیا ہے اور اس کی فضیلت میں جو حدیثیں بیان کی جاتی ہیں اسے تمام محد ثین عظام وعلماء کرام نے موضوع قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر یہ بڑا کرم کیا کہ دین کی تکمیل فرمادی، تکمیل دین کے بعد ہی آپﷺ کی وفات ہوئی اور آپﷺ نے ہر نیک کام کی رہنمائی فرمادی ہے، دنیا میں کوئی ایسی خیر نہیں ہے جس کی نبی کریمﷺ نے رہنمائی نہ فرمائی ہو۔ ماہ شعبان میں کئے جانے والے اعمال اگر خیر ہوتے تو آپﷺ خود اس پر عمل کرتے اور پھر اس کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے۔ آپ کے جانثار صحابہ کرام بالخصوص خلفائے راشدین عمل کرتے، جن کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی آپ ﷺ نے تلقین و وصیت فرمائی ہے۔ اب آپ ﷺ کی وفات کے بعد جو بھی عمل ایجاد کیا جائے گا وہ بدعت شمار ہوگا وہ عمل کرنے والے کے منہ پر مار دیا جائے گا۔ قرآن وحدیث میں بدعت کی مذمت میں بکثرت نصوص وارد ہیں، ایک مسلمان اگر سنت پر عمل نہیں کر سکتا، تو کم سے کم بدعت سے اجتناب اس کے لئے ضروری ہے، کیونکہ سنت پر عمل نہ کرنے سے گناہ نہیں ہوگا، البتہ بدعت کرنے سے ضرور گناہ ہوگا۔

اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو حق بات قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

٭٭٭

استاذ الاساتذہ والشعراء حضرت ابو البیان حماد العمری چل بسے

ہزاروں تلامذہ کے استاد درس نظامی اور استاد شاعری حضرت ابو البیان محمد عبد الرحمٰن خان حماد عمری گزشتہ دنوں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ وہ 75 سال مسلسل جامعہ دار السلام عمر آباد جنوبی ہند میں تعلیم دیتے رہے۔ شمسی اعتبار سے ان کی عمر 99 سال اور قمری اعتبار سے 102 سال تھی۔ تقریباً ساری زندگی وہ باہوش وحواس تھے اور ان کا حافظہ بہت ہی قوی تھا۔ آخر وقت تک وہ اپنے شاگردوں اور اپنے بچوں کو وعظ ونصیحت کرتے رہے، وہ جمعیت ابنائے قدیم جامعہ دار السلام عمر آباد کے صدر اور ماہانہ راہ اعتدال کے سرپرست رہے۔ برطانیہ میں مولانا عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، مولانا عبد الباسط عمری، مولانا محمد عبد الحق عمری مدنی، مولانا رشاد احمد اعظمی عمری، عبد الرؤف عمری ریاضی، مولانا جمال انور اعظمی مدنی اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب عمری جمعیت ابنائے قدیم میں شامل ہیں، ان تمام نے استاذِمحترم کی وفات پر یہ کہا کہ ’’آج ہم اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے یتیم محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

مسجد محمدی برمنگھم میں مولانا حفیظ اللہ خان المدنی نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثیر تعد میں لوگ شریک تھے اور بعد نماز جمعہ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے جامع مسجد ڈڈلی میں استاد مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ پڑھائی۔ جس میں بہت سے حضرات وخواتین شامل نماز جنازہ تھے۔ استاد محترم کے حق میں دعا کی گئی کہ اللہ پاک ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا

استاذ محترم سے تین دن قبل علامہ شاکر نائطی کے فرزند مولانا حافظ ظفر الحق طالب نائطی عمری، عمر آباد میں وفات پا گئے۔ ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی گئی۔

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

 

تبصرہ کریں