ماہ شعبان کے فضائل واحکام۔ خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین بن عبد العزیز آل شیخ۔ مترجم: حافظ عاطف الیاس

پہلا خطبہ:

ہر طرح کی حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو صفات کمال وجلال سے متصف ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ واحد، سب سے بڑا اور سب سے بلند ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں سلامتیاں اور برکتیں نازل فرما آپﷺ پر اور آپ کے اہل بیت پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں۔

اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (سورۃ البقرۃ: 197)

’’زاد راہ حاصل کر لو، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے پس اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو۔‘‘

اللہ کے بندو! ماہِ شعبان ایک فضیلت والا مہینہ ہے۔ دوسرے مہینوں کی طرح اس کے اوقات کو بھی اللہ کی فرمان برداری اور شریعت پر استقامت سے معمور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (سورۃ آل عمران:102)

اللہ کے بندو! وقت کو غنیمت جانو، اللہ کو راضی کرنے کے لیے پھیرتیلا پن دکھاؤ۔ یاد رکھو کہ رسول اللہﷺ کا یہی طریقہ ہے۔

آپ ﷺ کا ماہِ شعبان کا بیشر حصہ روزے میں گزار دیتے تھے۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:

«مَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ»

’’میں نے آپ ﷺ کو کسی اور مہینے میں شعبان جتنے روزے نہیں رکھتے دیکھا۔‘‘ (صحیح بخاری)

صحیح مسلم میں ہے:

«كان يَصومُ شَعبانَ كُلَّه إلَّا قَليلً »

’’آپ ﷺ شعبان کے تھوڑے سے حصے کے علاوہ شعبان کو روزوں میں گزارتے تھے۔‘‘

سلفِ صالحین اس مہینے کو قراء کا مہینہ کہتے تھے، کیونکہ اس میں قراءِ حضرات کثرت سے تلاوت کرتے تھے اور قرآن کریم کو دہرانے کے لیے وقت نکالتے تھے۔

تو اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرو، ہر طرح کی عبادت کرو، خیر کے ان کاموں میں پیش قدمی کرو جو قرآن کریم اور سنت رسول میں آئے ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، عمرہ، صدقہ، احسان اور کثرتِ تلاوت قرآن۔ وہ نیکیاں بھی کرو جن سے دوسرے مسلمان مستفید ہوتے ہیں، ضرورت مند اور محتاج فائدہ اٹھاتے ہیں اور جن میں اللہ رب العالمین کا قرب بھی نصیب ہوتا ہے۔

عَنْ أُسَامَةَ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ ‏.‏ قَالَ ‏ “‏ ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ

سیدنا اسامہ بن زید نے بیان کیا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس مہینے میں دوسرے مہینوں سے زیادہ روزے کیوں رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیونکہ اکثر لوگ اس مہینے سے غافل رہتے ہیں، حالانکہ اسی میں لوگوں کے کام پروردگارِ عالم کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور مجھے اچھا لگتا ہے کہ جب میرے کام پیش ہوں، تو میں روزے سے ہوں۔

مسلمان کو اپنی ساری زندگی اسی طریقے پر گزارنی چاہیے۔

جہاں تک اُس حدیث کی بات ہے جو سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میں آئی ہے کہ

« إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلا تَصُومُوا »

’’جب شعبان کا آدھا حصہ گزر جائے تو روزے نہ رکھا کرو۔‘‘

تو اکثر اہلِ علم اس حدیث کو ضعیف سمجھتے ہیں۔ بیان کرتے ہیں:

’’یہ حدیث سند اور متن کے لحاظ سے منکر ہے۔‘‘

جنہوں نے اسے صحیح سمجھا ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جس کے معمول میں کوئی روزے نہ ہوں بلکہ وہ شعبان کے آخری حصے میں اس احتیاط کے لیے روزے شروع کر دے کہ کہیں رمضان شروع نہ ہو گیا ہو۔ تو اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے، نیکیوں کی دوڑ میں آگے نکلو، وقت کا فائدہ اٹھاؤ، اسے نیکیاں اور قربِ الٰہی کمانے میں لگاؤ۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿ وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴾

’’دوڑ کر چلو اُ س راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ اُن خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 133)

جو باتیں ہم نے سنی ہیں، اللہ مجھے اور آپ کو ان سے برکت دے۔ میں اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

اللہ تعالیٰ کے لیے بے انتہا تعریف ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

ایک اہم اصول اور بڑا قاعدہ یہ ہے کہ اسلام میں بدعت ایجاد کرنا حرام ہے۔ اللہ کی عبادت اس کے فرامین اور رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہونی چاہیے۔ اللہ آپ کو توفیق دے، یاد رکھو کہ نصفِ شعبان کی رات میں خصوصی طور پر تہجد پڑھنا یا اس کے دن میں روزہ رکھنا ایسا کام ہے جس کی کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ہے۔ بلکہ تمام مسلکوں کے فقہاء نے وضاحت سے بیان کیا ہے کہ یہ کام بدعت ہے۔

اس حوالے سے ایک روایت آتی ہے جسے بعض اہل علم نے حسن کہا ہے کہ

اللہ جل وعلا نصفِ شعبان کی رات میں اپنے بندوں کو دیکھتا ہے، مشرکین اور کدورتیں پالنے والوں کے علاوہ تمام اہلِ زمین کو بخش دیتا ہے۔ تو اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو بھی اس میں نصفِ شعبان کی رات میں کوئی خاص عبادت کرنے کا حکم نہیں ہے۔ رہی بات ان محفلوں کی جو بعض معاشروں میں رواج پا گئی ہیں، جن میں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں، جنہیں “شعبہ” کے نام بھی جانا جاتا ہے۔ تو اگر ان محفلوں کا مقصد عبادت اور قربِ الٰہی کمانا ہو، تو یہ ایک بدترین بدعت اور ناجائز ہیں۔

تو اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو، بدعتوں سے بچو۔ یہ سراسر برائی ہیں۔ یہ اس سنت سے ہٹی ہوئی ہیں جو ہمارے دین کی بنیاد اور وہ ایسا اصول ہے کہ جس سے ہٹی ہوئی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔

مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا حکم دیا ہے جس سے ہماری زندگیوں کا پاکیزگی ملتی ہے اور آخرت سنورتی ہے۔ یہ حکم ہمارے رسول ﷺ پر درود وسلام بھیجنے کا حکم ہے۔ اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت اور صحابہ کرام پر۔

اے اللہ! ہم پر اور ہمارے کمزوروں پر رحم فرما۔ ہماری ہر بات کا خاتمہ اسی پر ہے کہ ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے، اور درود وسلام ہیں نبی کریم ﷺ پر۔

٭٭٭

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب الجواب الکافی میں مراسیلِ امام حسن بصری﷫ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ

’’خدا جب کسی قوم سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے معاملات حلیم اور بردبار لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے اور اسے فراخ دل اور سخی لوگوں کے ماتحت کر دیتا ہے؛ اور جب وہ کسی قوم سے شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے امور بے وقوف لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اسے بخیلوں کی ماتحتی میں دے دیتا ہے!‘‘

ظفر اقبال کی اہلیہ انتقال کر گئیں

جو بھی اس دنیا میں آئے ہیں ان کو ایک دن اللہ کے حکم سے جانا ہے لیکن بعض جانے والوں کی یادوں کو آسانی سے بھلا نہیں پاتے ہیں، ان ہی نیک لوگوں میں ڈڈلی کی ایک نیک وصالحہ خاتون ظفر اقبال جنجوعہ کی اہلیہ محترمہ تھیں جو اچانک داغ مفارقت دے گئیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون، إنا لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيئ عنده بأجل مسمى، فلتصبر ولتحتسب

مرحومہ کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، بڑے بیٹے حافظ اکرام ظفر جنجوعہ نے ماں کی نماز جنازہ پڑھائی، نماز سے قبل ڈاکٹر حافظ محمد عارف المکاوی اور ڈاکٹر عبد الرب ثاقب نے موت کے تعلق سے اور اس مرحومہ بہن کی خوبیوں اور نیکیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ہر خیر کے کاموں میں یہ بھی آگے ہوتیں اور کثرت سے قرآن حکیم کی تلاوت کرتی تھیں، ان کے شوہر نامدار اور بچے بچیاں بھی نیک ہیں ۔

اسی طرح ان سے چند دن پہلے باجی کی ایک رشتہ دار اور ان کی سہیلی زوجہ جناب محمد یوسف جنجوعہ بھی داغ مفارقت دی گئیں۔

دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

دعا ہے کہ اللہ کریم محترمہ برکت بی بی کو جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور ان کے پسماندگان اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے، آمین۔

سچ ہے جانے والے کبھی نہیں آتے، جانے والوں کی یاد آتی ہے۔

٭٭٭٭

تبصرہ کریں