ماہ رمضان کے نیک اعمال کی حفاظت کرنا بےحدضروری ہے-مولانامحمد عبدالحفیظ اسلامی

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ 0 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴾ (سورة البقرہ: 264۔265)

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو خلوص نیت کا حکم اور ریاکاری سے بچنے کی تعلیم دے رہاہے۔آیات کی ترجمانی یوں ہے:

’’اے ایمان والو! اپنے صداقت کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو، جواپنا مال محض لوگوں کو دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جو زور کامینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں۔

بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کیلئے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہوجائے تو دوگنا پھل لائے اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اس کیلئے کافی ہوجائے۔ تم جو کچھ کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے۔“

رضائے الٰہی

حقیقت میں اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ سارے انسان صرف اور صرف واحد لا شریک کی بندگی اختیار کریں اور جو کچھ بھی مال صدقہ خیرات کریں صرف اسی ذات باری تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کیلئے کریں جو حقیقت میں اس کا بدلہ آخرت میں عطا کرتا ہے لیکن دنیا میں بھی اس کے ثمرات اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ غرضیکہ آیات مبارکہ میں خاص طور پر اس گروہ کا نام لے کر ہدایت کی جارہی ہے جو اللہ پر ایمان لا کر نبی کریم ﷺ کی رسالت کا اقرار کرچکا اور آخرت کو حق جانا جزاء و سزا کے دیئے جانے کو سچا تسلیم کیا ہو ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ ’’اے ایمان والو‘‘ کے بہترین نام سے پکارتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں یعنی اے پیارے بندو تم نے تمام معبودان باطل سے اپنا ناطہ توڑے ہوئے مجھ سے رشتہ جوڑ لیا ہے اور جس طرح تم میری ہی عبادت کررہے ہو (یعنی نماز پڑھتے ہو)اسی طرح مال خرچ کرنے کے معاملے میں بھی تمہیں احتیاط کرنی چاہئے یعنی تم جو کچھ مال خر چ کرو صرف میری رضا و خوشنودی تمہارے پیش نظر رہنی چاہئے، جو لوگ اس کے خلاف عمل کرتے ہیں وہ دراصل اپنے مال کو یوں ہی ضائع کرتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ان کاایمان اللہ پر نہیں ہے اور یہ آخرت میں ملنے والے اجر کے منکر ہیں لیکن اللہ پر ایمان اور آخرت کے اجر پر یقین رکھنے والے میرے بندو تم منکرین کے نقش قدم پر ہرگز نہ چلنا کیونکہ ان کا یہ طرز عمل رضائے الٰہی سے دور اور خسران آخرت کا باعث ہے۔

ریاکاری اور اس کا نتیجہ

مضمون کے آغاز میں جو آیات پیش کی گئیں ہیں ان میں اللہ عزوجل نے دو طرح کے اعمال اور اس کے نتائج بیان فرمائے ہیں۔

پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ جو صدقات احسان جتاکر،دکھ پہنچاکر اور محض نام نمود،شہرت کی خاطر ادا کئے جائیں گے یہ سب کے سب عنداللہ نا مقبول ہوں گے یعنی صدقہ،خیر خیرات کرنے کا منشاء اگر کسی کا یہ ہوکہ لوگ مجھے ہمیشہ سلام کرتے رہیں جی حضوری کرتے ہوئے ہر دم میرا کہا مانیں اور لوگوں کے سامنے میری تعریف کریں اور مجھے اونچے القاب سے نوازیں،قوم و برادری میں میری واہ واہ ہو،اگر اس طرح کا کوئی جذبہ کار فرما رہا تو یہ بات اللہ پراور آخرت پر ایمان رکھنے کے منافی ہے۔ اور یہ ریاکاری ہے جسے اللہ تعالیٰ ہر گز پسند نہیں فرماتے۔ ایک شخص صدقہ خیر خیرات خوب کرتا ہے اور دنیا کی تمام دولت کو لٹا دیتا ہے لیکن اس میں ریاکاری اور شہرت کا حصول و جذبہ پایا جائے تو اس کی مثال یوں بیان کی جارہی ہے کہ

’’ایک چٹان،جس پر مٹی کی تہ جمی ہوئی تھی اس پر جب زو رکا مینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی۔

مولانا شبیر احمد عثمانی ﷫ نے اس کی تشریح یوں بیان کی ہے کہ

’’اگر کسی نے دانا بویا ایسے پتھر پر کہ جس پر کہ تھوڑی سی مٹی نظر آتی تھی جب مینہ برسا تو بالکل صاف رہ گیا۔ اب اس پر دانا کیا اگے گا۔ ایسے ہی صدقات میں ریاکاروں کو کیا ثواب ملے گا۔‘‘ (القران الکریم و ترجمہ معانیہ و تفسیر، صفحہ 65 حاشیہ 5 مطبوعہ سعودی عرب )

ریا سے متعلق ارشادات نبیﷺ

1۔ اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کو اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم)

2۔ جو اپنے کو مشہور کروائے، خدائے تعالیٰ قیامت کے دن اس کو رسوا کرے گا۔(صحیح بخاری)

3۔ ذرا سا دکھاوا (ریا) بھی شرک ہے۔ (ابن ماجہ)

4۔ جس نے دکھاوے کیلئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا جس نے دکھاوے کیلئے روزے رکھے اس نے شرک کیا جس نے دکھاوے کیلئے صدقہ دیا اس نے شرک کیا۔ (مسند احمد)

5۔ بڑا خوف تمہارے متعلق جس کا مجھے ڈر ہے شرک اصغر ہے (صحابہ کرام نے) پوچھا شرک اصغر کیا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دکھاوے کیلئے عمل کرنا۔‘‘ (مسند احمد) (بحوالہ کتاب اسوہ حسنہ از مولانا صفتور الرحمن صابؒر بانی ادارہ اہل سنت الجماعت سلطان شاہی داروغہ گلی، حیدرآباد دکن)

اللہ کے ناشکرے

آیات مبارکہ میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو اور آگے کے فقرے میں صدقات کوضائع کرنے و الوں کی حالت بیان کی گئی پھر فرمایا:

’’کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کادستور نہیں۔‘‘

قرآن مجید میں لفظ کافر کئی جگہ استعمال ہوا ہے اور قرآن، کافر اس شخص کو کہتا ہے جو کفر کی روش اختیار کرتا ہے اور کفر کی روش کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً خدا کا انکارکرنا، رسالت کا انکار کرنا، انبیاء ﷩ کو جھٹلانا، نبی کریم ﷺ کو اللہ کا آخری نبی نہ ماننا، اللہ کے ساتھ اس کی ذات صفات، اختیار اور اس کے حقوق میں کسی اور مخلوق کو دخیل و شریک کرنا یہ ساری چیزیں کفر کی روش اختیار کرنے میں داخل ہیں۔ لیکن آیت مذکورہ بالا میں، لفظ کافر جواستعمال ہوا ہے یہ نا شکرے اور منکر نعمت کے سلسلہ میں ہے۔ اور اللہ کا دستور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نا شکرے و احسان فراموش لوگوں کو راہ حق نہیں دکھاتے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ہدایت ان لوگوں کو فرماتے ہیں جو طالب ہدایت ہوں اور رضائے الٰہی کا راستہ ان لوگوں کو دیکھایا جاتا ہے جو خوشنودی رب کیلئے فکر مند رہتے ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ

نافرمانی و بغاوت اور خدا کے ساتھ شرک کرنا اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو استعمال کرنا اور اپنی شب و روز کی زندگی میں ناشکری کی روش وغیرہ یہ ایسے امراض ہیں جس سے عقل کی بصارت ختم ہوجاتی ہے۔

جس کی وجہ سے سیدھی راہ دکھائی نہیں دیتی اللہ بے نیاز ہے یعنی، جو رضائے الٰہی کا طالب نہیں اسے زبردستی رضا کا راستہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ لفظ ’’کافر‘‘ پر اعتراض کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنی شب و روز کی زندگی کا جائزہ لیں اوریہ دیکھیں کہ قرآن جن برائیوں کو گنا کر اور پوری صورتحال بیان کرتے ہوئے لفظ ’’کافر‘‘ کا استعمال کررہا ہے، حق بجانب ہے یا نہیں؟

اخلاص نیت اور اس کا ثمرہ

ریاکاری اور اس کے نقصانات کو خود انسان کے اپنے تجربہ و مشاہدہ کی روشنی میں سمجھانے کے بعد اللہ رب العزت نے اخلاص نیت اور اس کی برکت کو ایک بہترین مثال دے کر سمجھا رہے ہیں کہ

’’جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہوجائے تو دوگنا پھل لائے اور اگر بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اس کیلئے کافی ہوجائے۔

یعنی جو خیرات صداقت محض اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی اور صرف اللہ کی طرف سے حصول ثواب کی نیت سے ادا کئے جائیں گے ان کی مثال یوں دی جارہی ہے کہ بلند خطہ کی بہترین زمین پر جو باغ لگا ہوگا وہ عمدہ پھل لالے گا یعنی جب زور کی بارش ہوگی تو پھل بھی اضافہ لگیں گے اگر خوب بارش نہ بھی ہوئی تو صرف ایک پھوار بھی کافی ہوجائے گی یعنی پھل بہرحال آکر ہی رہیں گے۔

ریاکاری اور رضائے الٰہی پر نظر

آیات کے اختتام پر اللہ تعالیٰ ایک حقیقت کو کھول کر یوں ارشاد فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام اعمال پر اچھی طرح نظر رکھے ہوئے ہیں یعنی اس کے بندے اپنی زندگی میں جو کچھ اعمال کرتے ہیں اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یعنی جس نیت و ارادہ کے ساتھ اعمال کئے جارہے ہیںاور کس کو خوش کرنے کیلئے انجام دیئے جارہے ہیں ان تمام احوال سے اللہ تعالیٰ انتہائی باخبر ہیں۔

صدقات کے دو فائدے

صدقہ کے سلسلہ میں ایک حدیث شریف یوں آئی ہے کہ سیدنا انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’صدقہ کرنا اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی)

اس حدیث میں دو اہم بنیادی باتیں بیان ہوئی ہیں، پہلی بات کاتعلق دنیا سے ہے۔

دوسری بات کا معاملہ آخرت کی ابدی زندگی سے ہے اللہ کے غصب کو ٹھنڈا کرنے کا مطب یہ ہے کہ

اہل ایمان سے جو کچھ بھی نافرمانیاں انجانے میں ہوجایا کرتی ہیں۔ اگر اخلاص کے ساتھ صدقات ادا کرتے رہیں تو اس کے بدل میں اللہ تبارک تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے دنیا میں ایسے بندوں کو تمام آفات و بلیات سے محفوظ فرمادیتے ہیں۔ اور بری موت سے بچانے کا مطلب یہ ہے کہ

اگر صدقات صرف رضائے الٰہی اور حصول آخرت کے پیش نظر ادا کئے جائیں تو اس کے صلہ میں حق سبحانہ تعالیٰ ایسے نیک بندے کو مرتے وقت کلمہ توحید اس کی زبان پر جاری فرمادیتے ہیں۔

ظاہر بات ہے کہ جو بندہ اس دنیا سے انتقال کرتے وقت اپنے عقیدے میں خدا کی توحید لے کر جائے گا تو یقینا اس کیلئے آخرت کی کامیابی ہوگی۔

حاصل کلام:

حاصل کلام یہ کہ جو شخص دوزخ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا۔ اس نے بڑی کامیابی پالی۔ لہٰذا ان آیات مبارکہ میں ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ جو بھی نیک اعمال انجام دیئے جائیں یہ سب کہ سب اللہ کی خوشنودی و رضا کیلئے ہوں اور اللہ ہی سے اس کا اجر طلب کرنے کی نیت ہو تو انشاء اللہ ہمارا اور ساری کائنات کا رب عظیم ہمیں دنیا کی عزت عطا کرے گا اور آخرت میں جنت میں پہنچادے گا جو متقیوں اور پرہیزگاروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔

اب ماہ صیام ؍رمضان المبارک کے موقع پر اہل ایمان کے درمیان نیکیوں اور خیر خیرات کی ایک عظیم بہار ساری دنیا میں نظر آتی ہے یہ ایک اچھی علامت ہے ؛ لیکن ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کو پاک صاف کرنا اور صرف اللہ کی رضا وخوشنودی کو پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے ،ورنہ سارے اعمال صرف دنیا کو دکھانے کی حد تک ہوکر رہ جائیں گے اور الٹا ریاکاری اور دکھاوے کا وبال پڑے گا جو بہت سنگین جرم ہے ؛ یہ بات خوب یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو خوش کرنا اور انکی رضا حاصل کر نے کی کوشیش کرنہ شرک کی تعریف میں آتا ہے جسکی ہرگز معافی نہیں ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں