ماہ رمضان احادیث کے سایہ میں۔ عبد الہادی العمری

رمضان کی آمد آمد ہے، اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کے فیوض وبرکات ایمان، صحت وسلامتی کے ساتھ عطا فرمائے۔

رمضان کا مہینہ ذکرو اذکار، توبہ واستغفار، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی اور تعلق بالقرآن کے اعتبار سے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے۔ بے حس اور مردہ دل انسانوں میں بھی اس ماہ تقویٰ اور پرہیزگاری کے آثار نمودار ہونے لگتے ہیں۔ اس کی آمد کے ساتھ ہی جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازےبند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ یعنی حصول جنت کے ذرائع اور امکانات مختلف عبادات اور متنوع اعمال صالحہ کی شکل میں متوفر ہوتے ہیں، جبکہ معاصی اور منکرات کے خطرات گھٹ جاتے ہیں، کمزور ایمان کا شخص بھی ماہ مقدس میں گناہوں کے ارتکاب سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ عام دنوں میں وہ ان برائیوں پر دیدہ دلیری سے عمل پیراہ ہوتا ہو گا۔ تقویٰ اور نیکیوں کی باد بہاری کچھ ایسی چلتی ہے کہ شیاطین کی سرگرمیاں مانند پڑ جاتی ہیں۔ فرمان ِ نبویﷺ ہے:

«إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ» (صحیح مسلم: 1079)

یقیناً قابل ملامت ہے وہ شخص جو موسم بہار میں رہتے ہوئے اپنی جھولی نیکیوں سے بھر نہ سکے،گویا کوئی دریا کے کنارہ بیٹھ کر پیاسا رہ جائے۔ رسول رحمتﷺ نے فرمایا:

’’اس شخص کی ناک خاک آلودہ ہو جس کی زندگی میں رمضان آیا اور چلا گیا لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے۔‘‘

«وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ » (جامع ترمذى: 3545)

اس ماہِ مبارک کا ہر حصہ حصول ثواب کے امکانات سے پر ہے، اس کی راتیں نورانی، دن پر فشانی، اس کی ہر گھڑی رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا سبب ہے۔ اس کی اہم اوربڑی عبادت صوم رمضان ہے جو ارکان اسلام میں سے ایک ہے۔

«بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ» (صحیح بخاری: 8؛ صحیح مسلم: 16)

کسی بھی عبادت کی بجاآوری کے لیے اتنا حکم ہی کافی ہے کہ وہ مسلمان پر فرض ہے، پھر ہم عمل کرنے کے پابند ہوں گے لیکن صوم رمضان کی حیثیت صرف فرض کی بجاآوری کی نہیں، اس عمل میں ہمارے لیے بے حساب ثواب کی بشارت بھی دی گئی، اللہ عزوجل نے دیگر عبادات کے مقابلہ میں اس کی نسبت خود اپنی طرف کی ہے کہ آدمی کے ہر عمل کا ثواب مقرر ہے لیکن صائم کو خود رب تعالیٰ نوازے گا اس کے خزانے بے شمار ، اس کی جود وسخا بے حساب۔

«كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ » (صحیح بخاری: 1904)

روزہ دار کے لیے مزید بشارت دی گئی کہ جو ایمان اور رضاء الٰہی کے لیے روزہ رکھے گا، اس کے گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے۔

«وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» (صحیح بخاری: 1901؛ صحیح مسلم: 760)

روزِ قیامت جب نفسی نفسی کا عالم ہو گا، ایسے روزہ دار کو مکمل اعزاز واکرام کے ساتھ خصوصی دروازہ ریان سے جنت میں لے جایا جائے گا، اس گیٹ سے روزہ داروں کے علاوہ کسی اور کو گذرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ»(صحیح بخاری: 1896؛ صحیح مسلم: 1152)

روزہ دار دو قسم کی خوشیوں سے سرفراز ہو گا۔ رمضان میں ہر روزہ ظاہری خوشی جب وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں افطار کے وقت اپنے سامنے دیکھے ، دن بھر کی بھوک پیاس کے بعد شکم سیری کا موقع ملے اور اپنے خالق کا شکر بجا لاتے ہوئے سنت کے مطابق اس کی زبان سے یہ کلمات ادا ہوں:

«ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» (سنن ابو داؤد: 2357)

کہ پیاس بجھی، رگیں تروتازہ ہوئیں اور ان شاء اللہ اجر وثواب پکا ہو گیا۔‘‘

روزہ دار کو دوسری مسرت اس وقت ہو گی جب وہ اپنے رب سے ملے گا۔ اسے انعام واکرام سے نوازا جائے گا۔

«وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ» (صحیح مسلم: 1151)

ماہِ مبارک کے دن اجر وثواب سے پر ویسے ہی راتیں بھی نیکیوں سے بھری ہوئی، قیام اللیل تراویح یا تہجد کا اہتمام دن بھر کی تکان کے باوجود ایک مؤمن شوق اور رغبت کے ساتھ اس اضافی صلاۃ میں حصہ لیتا ہے۔ ایسے شب بیدار، اطاعت گذار، بندوں کے لیے بشارت دی گئی کہ جس نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ راتوں میں قیام کیا، اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ » (صحیح بخاری: 2009؛ صحیح مسلم: 759)

اسی شب بیداری، ذکر واذکار، توبہ وانابت کے ذریعہ ہی لیلۃ القدر کی تلاش کا بھی حکم دیا گیا کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔

«تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ» (صحیح بخاری: 2017؛ صحیح مسلم: 1169)

یہ عظمتوں والی رات جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں ملائکہ اور جبریل امین نازل ہوتے ہیں۔

﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴾ (سورة القدر: 1)

اسی رات کی تلاش میں رسول اللہﷺ اعتکاف فرمایا کرتے، اپنی دیگر مصروفیات ترک کر کے مکمل یکسوئی کے ساتھ مسجد میں قیام فرماتے، ظاہر ہے آپﷺ کا کوئی کام دینی دائرہ سے خارج نہیں تھا، نہ ہی آپ کے مشاغل دنیا داری کے لیے تھےلیکن خود کو دس روز کے لیے مسجد میں محصور کر لینا یہ بتا رہا ہے کہ مکمل یکسوئی کے ساتھ شب وروز عبادت میں گذارنا خصوصاً انفرادی عبادت میں جس کی بڑی اہمیت ہے، ضرورت اور حالات کے مطابق اعمال صالحہ ترجیحی بنیادوں پر انجام دیے جانے چاہیے۔

أَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ (صحیح بخاری: 2025؛ صحیح مسلم: 1171)

یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ مبارک میں رحمت اللعالمینﷺ سید الملائکہ جبریل امین کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے، کتنی بابرکت مجلس ہو گی جس میں سید المرسلین خاتم النبیینﷺ اور سید الملائکہ کے درمیان دورہ قرآن ہو رہا ہو۔ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» (صحیح بخاری: 5027)

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ 0‏ لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ ‎﴾ (سورۃ فاطر: 29۔30)

اس ہدایت نامہ ربانی کو سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ گائیڈ بک ہے صراط مستقیم کا روڈ میپ ہے۔

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ﴾ (سورة البقرة: 185)

یہ دنیا میں عزت وسرفراز کا ذریعہ ہے، جو اس کی قدر کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا فرمائے گا ورنہ رسوا کرے دیے جائیں گے:

« إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ» (صحیح مسلم: 817)

اور یہی وہ کتاب ہے جو اپنی قدر کرنے والوں کی آخرت میں شفاعت کرے گی۔

« اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ » (صحىح مسلم: 804)

اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد پر بھی ابھارا گیا، صلاۃ کے ساتھ عموماً انفاق کا ذکر کیا گیا۔ سورۃ البقرہ کے شروع ہی میں اہل ایمان کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (سورة البقرة:3)

اور پھر متعدد بار اس کو دہرایا گیا۔

حصول درجات کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کو ضروری قرار دیا گیا:

﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ (سورة آل عمران: 92)

رسول اللہﷺ کے مزاج میں سخاوت رچی بسی تھی، لیکن رمضان میں انفاق کا یہ عالم گویا ہوا کے تیز جھونکے چل رہے ہوں۔

«أنَ النَّبِيُّ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ » (صحیح بخاری: 1902)

انفاق کے تین بڑی قسمیں ہیں:

عام صدقات، زکوٰۃ، صدقۃ الفطر، عام صدقہ وخیرات کی بہت ترغیب دی گئی۔ اس کی کوئی حد اور قید نہیں، کتنا اور کب دیا جائے، اس کی بھی پابندی نہیں۔ یومیہ، ہفت روزہ، ماہانہ یا سالانہ، اسے ہم پر چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک فرمایا گیا کہ ایک کھجورکے ذریعہ بھی تم جہنم کی آگ سے بچ سکتے ہو۔ یہاں مقدار سے زیادہ اہمیت اخلاص کی ہے:

«اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ» (صحیح بخاری: 1417؛ صحیح مسلم: 1016)

زکوٰۃ: یہ صاحب استطاعت پر فرض، بنیادی ارکان اسلام میں شامل ہے۔ مقدار کی حد اور شرائط اور خرچ کی مدیں ’مصارف‘ مقرر ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ جمع شدہ مال پر ڈھائی فیصد دینی ہو گی۔ لیکن اگر رمضان سے رمضان کا حساب کر لیا جائے تو حرج نہیں۔ اس لیے کہ رمضان میں طبیعت حصول اجر کی طرف زیادہ مائل رہتی ہے۔ یوں اپنے مال کا حساب کر کے زکوٰۃ دینے میں آسانی ہو سکتی ہے، ورنہ عام دنوں میں خرچ کرتے ہوئے نفس پر گرانی محسوس ہو گی اگرچیکہ دولت دی ہوئی اللہ کی ہے، اسی کے حکم پر خرچ کی جاتی ہے تاہم انسان میں حرص خصوصاً مال کے مسئلہ میں زیادہ پائی جاتی ہے حالانکہ زکوٰۃکی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے عذاب کی سخت وعید ہے کہ اسی دولت کے ذریعہ ان کے جسموں کو داغا جائے گا پھر بھی انسان سستی کرجاتا ہے۔

﴿يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ‎﴾ (سورة التوبہ: 35)

زکوٰۃ کی رقم کہاں خرچ کی جائے یہ بھی اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا ، سورۃ توبہ آیت 60 میں ۔ زکوٰۃ خرچ کرنے کا اختیار تو اللہ تعالیٰ نے نبی کو بھی نہیں دیا، اس کے مصارف کی تفصیل خود ہی بتا دے، اس کی آٹھ مدیں ہیں۔

لیکن دیکھا جاتا ہے کہ مصارف زکوٰۃ میں سخت کوتاہیاں ہوتی ہیں کہ کہاں خرچ کی جائے اور کیسے!

ایک کوتاہی ان لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے جو زکوٰۃ جمع کرتے ہیں، انفرادی سطح پر یا اجتماعی چیریٹی اور خیراتی اداروں کی طرف سے، یہاں یہ کہاوت صادق آتی ہے کہ

’’مال مفت را دل بے رحم‘‘ حالانکہ آیت مذکورہ میں اتنی باریکی سے ان مدوں کا ذکر کیا گیا کہ فقیر اور مسکین کو الگ الگ حیثیت دی گئی جبکہ دونوں میں ایک حد تک مماثلت اور قربت پائی جاتی ہے، یعنی زکوٰۃ کی رقم کوئی اپنی صوابدید پر خرچ نہیں کر سکتا بلکہ مذکورہ آٹھ مدوں ہی میں خرچ کی جا سکتی ہے۔ ایک اورمد جس میں بے اعتدالی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ ہے ’العاملین‘ ایسے لوگ جو مال زکوٰۃ جمع کرنے اس کی آمد وخرچ پر مامور ہوتے ہیں، ان کی تنخواہ زکوٰۃ سے ادا کی جا سکتی ہے لیکن یہ ادائیگی کتنی ہو یہ خود ہم پر چھوڑ دیا گیا۔ مگر یہاں بے اعتدالی عام ہے حتی کہ بعض عاملین کی تنخواہیں یا کمیشن اور اخراجات کی مد میں مجموعی رقم کا ستر سے اسی فیصد تک وصول کیا جاتا ہے یوں اگر کوئی 100 پاؤنڈ زکوٰۃ جمع کروائے تو 20 سے 30 پاؤنڈ ہی مستحق تک پہنچ پائیں گے۔ باقی اخراجات اور کمیشن کی مد میں!

یہ نہایت بے انصافی ہے ہاں یہاں ایک دوسری بھی حقیقت ہے کہ کچھ لوگ صد فی صد مستحقین تک پہنچاتے ہیں،وہ اپنا سفر خرچ تک وصول نہیں کرتے، فجزاہم اللہ خیرا

لیکن ایسے سعادت مند متقیوں کی تعداد بہت کم ہے۔

ایک اور مد جس میں عموماً بے احتیاطی ہوتی ہے وہ ہے ’فی سبیل اللہ‘ مصارف زکوٰۃ کی یہ ساتویں مد ہے، اس کے مفہوم میں افراط وتفریط پایا جاتا ہے، کچھ علماء کی رائے ہے کہ اس سے مراد وہ مجاہدین ہیں جو قتال میں حصہ لے رہے ہوں اور وہ تقریباً مسکین ہوں، تب زکوٰۃکے مستحق ہوں گے، یا زیادہ سے زیادہ اس حاجی مد کی مدد کی جا سکتی ہے جو دوران سفر زادِ سفر سے محروم ہو گیا ہو کیونکہ ایک حدیث میں حج کو بھی فی سبیل اللہ کہا گیا۔

دوسری رائے یہ ہے کہ ہر دینی کام میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے وہ سب فی سبیل اللہ کے مصداق سمجھے جائیں گے۔ یہ رائے زیادہ جچتی نہیں، ورنہ آٹھ مدوں کے تذکرہ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، صرف ایک ہی مد میں سبھوں کا احاطہ ممکن تھا۔ لیکن مذکورہ آیت میں ایسےنہیں کیا گیا۔ کچھ علماء درمیانی رائے رکھتے ہیں جو اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر مصروف ہیں جیسے دعوتی امور۔

اس میں بھی زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے کیونکہ قتال میں حصہ لینے کا بنیادی مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے اور اس کی مختلف شکلیں ضرورت اور حالات کے لحاظ سے ہو سکتی ہے۔ یعنی مقصد سامنے رکھتے ہوئے اس دائرہ کو ضروری حد تک وسعت دی گئی اور یہی رائے زیادہ متوازن دکھائی دیتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کیا کسی کا تعاون کرنے یا کارِ خیر میں حصہ لینے کے لیے صرف زکوٰۃ ہی ایک ذریعہ ہے کہ ہر بھلا کام اس سے نمٹایا جائے، نہیں اس کے لیے عام صدقہ وخیرات کی ترغیب دی گئی ہے، لہٰذ اموال زکوٰۃ میں بے جا تصرف کی گنجائش نہیں۔

صدۃ الفطر: اختتام رمضان نماز عید سے قبل ہر مسلمان پر فطرانہ کی ادائیگی ضروری ہے، ایک صاع اناج (یعنی پونے تین کلو تقریباً) یہ گھر کے ہر بچہ، بڑا مرد ور عورت پر فرض ہے، جس کی ادائیگی نماز عید سے پہلے ہونی چاہیے۔

فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ (صحیح بخاری: 1503)

فطرانہ کی ادائیگی کا پہلا فائدہ خود روزہ دار کو ہو گا ، یہ صدقہ دوران روزہ سرزد ہونے والی لغزشوں اور کوتاہیوں کی تلافی کا ذریعہ بنے گا اور دوسرا فائدہ غریبوں کے لیے روزہ عید شکم سیری کے ساتھ خوشی میں شامل ہونے کا سبب ۔

فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنْ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنْ الصَّدَقَاتِ(سنن ابو داؤد: 1909)

چونکہ فطرہ میں اناج کی ادائیگی مسنون ہے اور برطانیہ میں رہنے والوں کے لیے بسا اوقات یہ مشکل پیش آتی ہے کہ یہاں ایسے غریبوں کو جو اناج کے حقیقی محتاج ہوں، تلاش کیا جائے، اس کا آسان اور عملی حل یہ ہے کہ یہاں سے فطرانہ کی رقم جمع کر کے پس ماندہ علاقوں کو بھیج دی جائے، اس شرط کے ساتھ کہ وہاں کوئی شخص اس رقم سے اناج خرید کر غریبوں تک بروقت پہنچا دے ، یوں فطرانہ کی ادائیگی میں دینے اور پہنچانے والوں کے لیےس ہولت ہو گی۔ اس مسئلہ میں بھی کچھ لوگ یہ بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ اناج کے بجائے اگر غریب کو نقد رقم دے دی جائے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق اشیاء خرید سکے گا۔ بظاہر یہ بات مناسب لگتی ہے لیکن یہاں بھی یہ نکتہ ذہنوں سے اوجھل ہو رہا ہے کہ غریب کی مدد کے لیے کیا صرف فطرانہ ہی ہے کہ اس تدبیر کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ نہیں، اس کی دیگر ضروریات کے لیے اگر وہ مستحق ہوتو عام صدقہ اور زکوٰۃ کا نظم بھی ہے، دیگر ضروریات وہاں سے حل ہو سکتی ہیں، لہٰذا فطرہ مسنون طریقہ کے مطابق بشکل اناج ہی ادا کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ مسنون طریقے سے رمضان گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭٭٭

استقبالِ رمضان

مسلمانو! اٹھو اب ماہِ رمضان آنے والا ہے

کرو تیاریاں روزوں کی شعباں جانے والا ہے

کرو رمضاں کا استقبال تم بے حد مسرت سے

کرو روزوں کا استقبال تم سچی محبت سے

کرو تم ذہن و دل کو پاک پاکیزہ مہینہ ہے

منور کر لو ظاہر اورباطن گر قرینہ ہے

ہر ایک لمحہ غنیمت ہے خزانہ جمع کر لیجیے

مہینہ صبر کا ہے غصہ قلعہ قمع کر لیجیے

مسلمانو! کرو رمضان کی روحانی تیاری

بہ الفاظ دگر جسمانی ونورانی تیاری

مہینہ ہے یہ قرآں کا تلاوت کیجیے قرآں کی

مہینہ ہے یہ تقوے کا یہ ہے پہچان رمضاں کی

ہے شھرِ احتساب اس میں کریں ہم احتساب اپنا

نجاتِ اُخروی کے واسطے کر لیں حساب اپنا

اسی میں ہم زکوٰۃ وصدقہ وعطیات دیتے ہیں

جو دیتے ہیں کسی کو واسطے حسنات دیتے ہیں

سحر افطار کرتے ہیں مساکین اور فقراء بھی

ہے منظر روح پرور کیا کبھی لوگوں نے سوچا بھی

بہت خوش ہو کے بچے ہمارے روزے رکھتے ہیں

ہر اک سے آگے بڑھنے کی مسلسل سعی کرتے ہیں

قیامِ لیل سے سب مسجدیں بُقعہ سی لگتی ہیں

بہ وقتِ فطر واللہ نور کا ھالہ سی لگتی ہیں

خدا شاہد ہے بڑھ جاتی ہیں اس میں رونقیں بے حد

کہ ہو جاتی ہیں ہر مؤمن کے دل میں عظمتیں بے حد

سبھی بچتےہیں کھانے پینے سے اور خواہشوں سے بھی

برائی کے ہر اک پہلو سے بدتر عادتوں سے بھی

بہ کثرت توبہ استغفار کرتے ہیں گناہوں سے

دلوں میں نور رہتا ہے دعاؤں اور آہوں سے

یقیناً ہے مہینہ برکت وغفران کا لوگو!

شیاطین لعیں کے واسطے زندان کا لوگو!

رکھتا ہے آخری عشرہ بھی اس کااجر بے پایاں

شب قدر اس میں ہے جس پر ہزاروں ماہ ہیں قرباں

دعاؤں کا مہینہ ہے کرو اس میں دعائیں تم

برائے مغفرت کرتے رہو ہر وقت آہیں تم

برائے امتِ مرحوم بھی اس میں دعا کیجیے

بڑی پابندی سے یہ کام بھی صبح ومساء کیجیے

خوشی میں ماہِ رمضاں کی ہے شامل بندۂ ثاقب

کرم ہے تیرا بےپایاں میری تقدیر کے کاتب!

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

تبصرہ کریں