ماہِ رمضان کورونا وائرس کے سایہ میں۔محمد عبد الہادی العمری

آج سے ٹھیک ایک سال قبل کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ مارچ 2020ء ساری دنیا کے لیے ایک آزمائش کا پیغام، انوکھی بیماری اور انجانا خوف لے کر طلوع ہوا، لوگ اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ دنیا کا پہیہ جام ہو گیا۔ جدید ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی سست پڑ گئی۔ اپنے، بیگانے، قریبی ہمسایہ، سب پرائے دکھائی دینے لگے۔ تب ہی تو سلام کرنے میں تذبذب، مصافحہ کرنے میں تامل ہوتا تھا، بیماری اور موت کا خوف، ایسا کہ گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے تردد ہو رہا تھا کہ کہیں باہر دیکھتے ہوئے خود ہی انجانی بیماری کا شکار نہ ہو جائیں۔

ٹی وی یا ریڈیو آن کیجیے تو ہر طرف موت کی خبریں، لاشیں بے گوروکفن سرد خانوں میں پڑی ہوئی، کوئی قریب جانے اور تجہیز وتکفین میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار نہیں، موت کی اطلاع کے ساتھ ہی جہاں غمگساروں اور ہمدردی کاوہ ہجوم امنڈ پڑتا تھا، اب متعلقین کی جانب سے ہی اعلان کیا جانے لگا کہ شخصی حاضری یا جنازہ میں شرکت کی زحمت نہ کیجیے، بس دور سے ہی بذریعہ فون اپنے جذبات یا ہمدردی کا اظہار کافی ہے اور اگر لواحقین کا دینی پس منظر ہو تو اس میں مزید اتنا اضافہ کہ دعا کر دیجیے۔

مساجد کے دروازے بند، نماز جنازہ پر قدغن، قبرستان جائیے تو گیٹ پر پہرے دار ایسی جانچ پڑتال اور گنتی کرے کہ گویا ہم قبرستان نہیں، ہیرے جواہرات کی دوکان میں داخل ہو رہے ہیں، آنے والے افراد کا میت کے ساتھ تعلق کا تعین، اور پھر قبرستان کے اندر داخل ہونے اور دفن کرنے کے آداب اور مشروط اجازت، اگر دوران گنتی مرنے والے کی اولاد یا پس ماندگان کا نمبر مقررہ عدد سے تجاوز کر رہا ہو تو بے مروتی سے گیٹ کے باہر ہی روک دیا جاتا کہ نماز جنازہ یا مراسم تدفین میں شرکت سے محرومی پر افسوس کرتے ہوئے قبرستان کے باہر انتظار کیجیے، اور قبرستان کے احاطہ میں ایسا سناٹا اور ہو کا عالم کہ اندر جانے والوں کا دل حلق میں اٹک اٹک کر رہ جائے۔ تازہ قبروں کی تعداد میں اضافہ اس تیزی سے کہ ہر ایک کو خود اپنی موت سامنے دکھائی دینے لگے۔ برمنگھم شہر کا سب سے بڑا قبرستان چند ہی دنوں میں تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگا۔ مزید لاشوں کو بےگوروکفن چھوڑنے کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر متبادل جگہ کونسل کی جانب سے فراہم کر دی گئی جو کہ بہت سوں کے لیے غیر مانوس اور دور افتادہ تھی۔

بعض نوجوانوں کے جذبہ ایثار اور دلیری کو سلام کہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کردوسروں کی تجہیز وتکفین میں نمایاں دکھائی دے رہے تھے، انہیں فرمانِ الٰہی پر بلا کا یقین کہ موت کا وقت مقرر ہے، کوئی مقررہ وقت سے ایک لمحہ پہلے مر نہیں سکتا اور نہ ہی ایک لمحہ کے لیے مزید زندگی پا سکتا ہے، ایسے خوفناک ماحول میں جہاں قریبی قریب جاتے ہوئے خوفزدہ تھے لیکن یہ رضا کار آگے بڑھ بڑھ کر غسل، کفن اور نماز جنازہ کا اہتمام کر رہے تھے۔

آج ایک سال بعد مارچ کا مہینہ لوٹ کر آیا، گویا اسی ہیبت ناک صورتحال میں ہم نے بارہ مہینے کاٹ دیے۔ درمیان میں عارضی طور پر لاک ڈاؤن کے قوانین میں نرمی کی گئی لیکن یہ بہت ہی وقتی ثابت ہوئی۔

یہ ایک ایسی وبا ہے کہ ایک برس گزرنے اور لاکھوں اموات کے باوجود ابھی تک اس کی حقیقت سے عوام تو عوام، خاص الخواص کو بھی شکوک و شبہات ہیں، حتیٰ کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملک امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ اس بیماری کے متعلق اپنے شبہات کا برملا اظہار کرتے رہے، انتخابی مہم کے دوران اپنے حریف جوبائیڈان کی احتیاطی تدابیر اور ماسک کے استعمال کے خلاف انہیں نشانہ تضحیک بناتے رہے۔

ان ہی نازک حالات میں گزشتہ رمضان کی آمد کا اعلان ہوا۔ رمضان کا مہینہ ایک مسلمان کے لیے ذکر واذکار اجر و ثواب، توبہ و استغفار، رجوع الی اللہ اور تعلق بالقرآن کے اعتبار سے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کے اس دور پُرفتن میں بھی رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مسلم دنیا میں ایمان وعمل کی بہار دکھائی دینے لگتی ہے۔ مردہ ضمیر اور مردہ دلوں میں بھی تقویٰ اور پرہیزگاری کے آثار محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی عذر شرعی یا قلت ایمان کی وجہ سے روزے نہ بھی رکھتے ہوں مگر ایمانی جھونکوں کے اثرات ان تک بھی کچھ ایسے پہنچتے ہیں کہ کم ازکم ظاہری طور پر وہ بھی روزہ داروں کی نقل کرتے دکھائی دیتے ہیں، پبلک مقامات پر کھانے پینے اور معاصی سے احتراز کرنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم نے رمضان کا آغاز حسرت ویاس اور بیم ورجا کے ساتھ کیا کہ مسجدوں کےدروازے بند، حرمین شریفین جہاں رمضان میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی عوام کے لیے بند، تکمیل ضابطہ کے لیے ائمہ، مؤذنین اور چند کارگذاروں کو داخلہ اور صلاۃ کی اجازت اور اب بارہ ماہ گزرنے کے باوجود بھی صورتحال میں نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی ، مساجد اور حرمین میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے اور کرواتے ہوئے محدود تعداد میں لوگوں کو داخلہ کی مشروط اجازت دی گئی۔ جن گھروں میں حفاظ یا علماء تھے انہوں نے اس طویل دورانیہ میں اپنے ہی گھروں کو مصلیٰ بنا لیا۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے تذکرہ میں یہ اہم نکتہ بیان ہوا ہے کہ حالات سے جب مجبور ہو گئے تو انہیں گھروں کو ہی قبلہ بنا لینے کا حکم دیا گیا۔

﴿وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾  (سورۃ یونس: 87)

یہاں تو پابندیاں ایسی کہ اولاد، والدین کی زیارت سے محروم،قریبی بیگانے اور اپنے پرائے دکھائی دینے لگے، لاک ڈاؤن کا عملی تجربہ لوگوں کو پہلی مرتبہ ہو رہا تھا، یہاں تک کہ عید کا دن جو بجھے دلوں کو نئی توانائی بخشتا ہے۔ مرجھائے چہروں پر کچھ دیر کے لیے سہی فرحت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ انسان زندگی کی کلفتیں بھلا کر عید گاہ میں دوسروں کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ بغلگیر ہوتا ہے، مگر اس سال اس حسرت کے ساتھ گزر گیا کہ قریب رہتے ہوئے بھی دوری ہی رہی اور ہاسپٹلز میں صورتحال قابو سے باہر ایسی ہوئی کہ بیشتر مریضوں کو علاج معالجہ سے معذرت کی جانے لگی کہ اس وقت ترجیح اول صرف کورونا سے متاثرین ہیں اور پھر فوری آپریشن کے متقاضی بیمار بھی پیچھے دھکیل دیے گئے۔ ہمارے لیے فرمانِ نبویﷺ میں اہم ہدایت ہے کہ اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو:

«خُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سَقَمِكَ» (جامع ترمذى: 2333)

یعنی صحت وتندرستی کے ایام میں نیک کام کر لو کہ بیماری میں پچھتاوا اور ندامت نہ ہو اور دنیا کی عشرت سے زیادہ آخرت کی کامیابی کو اپنی ترجیح بناؤ۔ کچھ لوگ اس وبا سے خوفزدہ ہو کر یا لاک ڈاؤن سے اکتا کر عارضی نقل مکانی کر کے خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک سے پس ماندہ اور غریب ممالک میں گوشہ عافیت تلاش کرتے ہوئے نظر آئے اور پس ماندہ ممالک جو کبھی ان خوشحال ممالک کے پاسپورٹس کو دور سے ہی دیکھ کر داخلہ کی اجازت دے دیا کرتے، نہ ان کے لیے پیشگی ویزا کی شرط اور نہ ہی کوئی اجازت درکار تھی، اب وہ استفسار کر رہے ہیں کہ کیوں ہمارے ملک آنا چاہتے ہو، کتنے دن قیام کرو گے اور کہاں پڑاؤ ڈالو گے وغیرہ وغیرہ ؟؟ لیکن کیا کسی دوسرے علاقہ یا ملک جا کر موت سے بچنا ممکن ہے، موت کا اہلکار، کیا وہاں نہیں پہنچے گا:

﴿أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ﴾

’’جہاں کہیں بھی رہو موت تمہیں دبوج لے گی وقت مقررہ پر۔‘‘ (سورة النساء: 78)

اسی اضطرابی اور غیر یقینی حالت میں رمضان نے دوبارہ دستک دی ہے۔ حساس اور غیورمسلمان تڑپ کر رہ گئے کہ رمضان دلوں کی بستیاں آباد کرنے کا مہینہ، خطا ونسیان سے پر بندوں کے لیے توبہ اور اصلاح کا مہینہ، بے عملی کی انسانی کھیتیوں کی روحانی آبیاری کا مہینہ پھر سے آ پہنچا مگر اب تو حالت یہ ہے کہ بہت سوں کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں، جو کبھی خاندان اور محفل کی شان ہوا کرتے، جو مساجد اور مجالس کی جان سمجھے جاتے وہ آج آسودہ خاک ہیں، اتنی اموات کہ موت کی خبر سے انسیت سی ہونے لگی ہے کہ ہر دن نئی خبر یعنی کسی کی موت کا گویا انتظار!

قرآن نے اسی حقیقت کی طرف ہمیں متنبہ کیا ہے کہ لوگوں کے حساب کی گھڑی قریب آ پہنچی ہے لیکن وہ منہ موڑ کر خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں:

﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ ﴾ (سورة الانبياء: 1)

پھر کیا ہو گا کہ موت کے ساتھ معاملہ ختم کر دیا جائے گا۔ نہیں، ایک نئی زندگی ابدی اور دائمی زندگی کا آغاز جس کا تمام تر دارومدار اس عارضی دنیوی زندگی کے اعمال پر منحصر ہو گا اور اللہ قادر مطلق کا وعدہ ہے کہ یہ ہو کر رہے گا۔

﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ﴾ (سورة الانبياء: 104)

یہ وعدہ حق ہو کر رہے گا۔ دنیا کی رنگینیاں اور عشرت سامانیاں تمہیں یوم آخر سے غافل نہ کر دیں۔

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ﴾ (سورة فاطر: 5)

’’ایسا نہ ہو کہ جب نامۂ اعمال آگے رکھا جائے تو ندامت سے چلانے لگیں کہ زندگی کا کوئی راز مخفی نہیں، ہر چھوٹی بڑی بات اس میں درج ہے۔ اب کیا ہو گا:

﴿ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾ (سورة الكهف: 49)

انسان خوداپنے نامۂ اعمال کو دیکھ کر شرمندگی اور افسوس سے خود اپنے ہاتھ چبا ڈالے گا کہ کاش میں رسول ﷺ کی پیروی کیا ہوتا، کاش میں ارشادات نبوی کے مطابق زندگی بسر کیا ہوتا، کاش میں فلاں اور فلاں کے پیچھے نہ چلتا۔

کاش میں دنیا کے بجائے آخرت کو بنانے کی فکر کرتا۔ (سورۃ الفرقان: 27)

فرمانِ نبویﷺ ہے کہ تم دنیا کی زندگی ایسے بسر کرو جیسے ایک مسافر سرراہ کسی جگہ کچھ دیر سستانے کے لیے رکتا ہے۔ تازہ دم ہوتے ہی آگے چل پڑتا ہے، اس عارضی اسٹیشن کو اپنی منزل نہیں سمجھتا۔ اسی طرح یہ دنیا بھی مؤمن کی منزل نہیں:

«كُنْ في الدُّنْيا كأَنَّكَ غريبٌ، أَوْ عَابِرُ سبيلٍ» (صحيح بخارى: 6416)

دنیا کا گزارہ تو فرمان نبویﷺ کی روشنی میں یوں بھی ہو سکتا ہے کہ صبح کی آنکھ کھلی تو گردونواح کا ماحول پر امن، جسم تندرست اور گھر میں بقدر کفاف ایک روز کی غذا میسر ہو تو گویا کہ دنیا کا حصہ تمہیں مل گیا، اب آخرت کی فکر کرو۔

«مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيرِهَا» (جامع ترمذی: 2346)

ہمیں نہیں معلوم کہ اس حیات مستعار کے کتنے دن باقی رہ گئے، ہم نے بہت سوں کی سفر آخرت پر روانگی کی اطلاع دی اور اب کون ہماری اطلاع کب دینے والا ہے، جسم وجان کا رشتہ کب ٹوٹنے والا ہے، اٹھو خواب غفلت سے جاگو، نیند بہت ہو گئی، خالی جھولی کچھ نیکیوں سے بھر لو، دنیا، دھن دولت اسباب عیش اور متاع آرام سے نظریں پھیر کر قبر، حساب محشر کے لیے کچھ ذخیرہ کر لو کہ ادھر پروانہ اجل آیا اور ادھر دوسری دنیا کا حساب کھل گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تاکید فرمائی ، لذتوں کا خاتمہ کرنے والی موت کو ہر دم یاد رکھو: «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ» (جامع ترمذى: 2307)

ادھر عارضی دنیا کا حساب بند ہوا، ادھر دائمی دنیا کا حساب جاری ہوا لیکن دوسری دنیا کے حساب میں کچھ ہو گا تب وہی اندوختہ کام آئے گا۔ قبر کے تنگ وتاریک گڑھے میں منکر نکیر کے جوابات وہی دے سکے گا، جس نے ہدایت ربانی کے مطابق زندگی بسر کی ہو گی اور ایسے ہی باعمل لوگوں کے حق میں قبر جنت کی کیاری ثابت ہو گی، ورنہ آگ کا گڑھا، قطع نظر اس بات سے کہ کسے کس قبرستان میں جگہ ملی اور کسے کس خاک میں دبایا گیا، اور یہیں سے میدان محشر میں حاضری ہو گی، اس محشر کی گھڑی کا اگر انسان ہلکا سا تصور ہی کر لے کہ جب وہ اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ تمام تر قوت والے قادر مطلق رب العالمین کے حضور پیش ہو گا، جس کی ہولناکی کو دیکھ کر وہ چاہے گا کہ اگر بس چلے تودنیا کے قریب ترین اور عزیز ترین رشتہ داروں کو عذاب میں جھونک کر اگر خود کو عذاب سے بچانا ممکن ہو تو کر گذروں، مگر یہ ممکن نہیں، یہاں تو ہر ایک کو اسی چیز کا بدلہ ملے گا جو وہ عارضی دنیا میں کرتا رہا۔

﴿يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ ‎0‏ وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ 0‏ وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ 0‏ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ ﴾ (المعارج: 11-12)

اَللهم إِنَّا نَسْئَلُكُ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

الٰہی! ہمارے لیے دنیا اور آخرت میں عافیت عطا فرمائے اور اس رمضان کو گزشتہ رمضان سے بہتر بنائے۔

شب قدر

تازہ ہو جاتا ہے ایمان ویقیں آج کی رات

شاد وخرم نہ ہوں کیوں اہل زمیں آج کی رات ہے                                                                                        جو مائل بہ کرم عرشِ نشیں آج کی رات

حاملِ دین بنے سرورِ دیں آج کی رات                                                                                        جن پہ نازل ہوا قرآنِ مبیں آج کی رات

آج کی رات پہ قربان ہزاروں راتیں                                                                                        صرف اک رات بس اک رات نہیں آج کی رات

بزمِ دنیا میں فرشتوں کی جماعت لےکر                                                                                        رونق افروز ہیں جبریلؑ امیں آج کی رات

لیلۃ القدر ملی ہے تو غنیمت سمجھو                                                                                        کیا ہر انسان کو ملتی ہے کہیں آج کی رات

مری شہہ رگ سے ہے نزدیک مگر اے مولا                                                                                        آمرے اور قریں اور قریں آج کی رات

پوچھتے کیا ہو شب قدر کی قدر وقیمت                                                                                        آسماں بن گئی یہ سطحِ زمیں آج کی رات

خیر وبرکت بھی ہے انوار کی بارش بھی ہے                                                                                        کتنی پُرکیف ہے اور کتنی حسیں آج کی رات

روزہ داروں کی مسرّت کو بڑھانے کے لیے                                                                                        کھل گئے ہیں درِ فردوسِ بریں آج کی رات

آج کی رات شب قدر جو کہلاتی ہے                                                                                        ہر خذف ریزہ ہے اک درّ ثمیں آج کی رات

روح کو ملتی ہے بالیدگئ فکر ونظر                                                                                        تازہ ہو جاتا ہے ایمان ویقیں آج کی رات

بھر گیا گوہر مقصود سے دامانِ طلب                                                                                        شادماں ہو گیا ہر قلب حزیں آج کی رات

آج کی رات ہر اک ذرّہ ہے جو سربہ سجود                                                                                        خودبخود جھک گئی میری بھی جبیں آج کی رات

چاند سورج کو ضیا بخشی ہے جس نے حماد

خانۂ دل میں مکیں ہے وہ حسیں آج کی رات

حضرت ابو البیان حماد عمری

تبصرہ کریں