ماہ رجب کی خاص فضیلت فضائل واحکام-حافظ عمران ایوب لاہوری

لفظ رَجْبٌ اگر جیم کے ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہے ’’شرم کرنا، پھینک کر مارنا، ڈرنا اور بڑائی کرنا۔ ‘‘ اور اگر جیم کے فتحہ کے ساتھ رَجَبٌ ہو تو اس کا معنی ہے: ’’گھبرانا اور شرم کرنا ۔‘‘ (لغات الحدیث :2؍69)

اصطلاح میں رجب قمری مہینوں میں ساتویں مہینے کا نام ہے اور یہ ان چار مہینوں میں بھی شامل ہے جنہیں شریعت اِسلامیہ میں حرمت والے قرار دیا گیا ہے ۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿إنَّ عِدَّةَ الشَّهُوْرِ عِنْدَ اﷲِ اثْنَا عَشَرَ شَهراً فِیْ کِتَابِ اﷲِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰواتِ وَالاَرْضَ مِنْهَا أرْبَعة حُرُمٍ﴾(سورۃ التوبہ:36)

’’یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے روز سے ہی اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے اور ان میں چار حرمت والے ہیں ۔ ‘‘

ان چارحرمت والے مہینوں سے مراد رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام ہیں ۔ جیساکہ یہ وضاحت خود نبی کریم ﷺ نے ہی فرمائی ہے ۔

(صحیح بخاری:4662، 3197؛ صحیح مسلم:1679)

شیخ ابن عادل حنبلی﷫ نے انہی چاروں کی حرمت پراجماع بھی نقل کیا ہے۔ (تفسیر اللباب فی علوم الکتاب:10؍85)

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی معترض کہے کہ یہ چار مہینے بھی دیگر مہینوں کی مانند ہیں تو پھر انہیں دوسروں سے ممتاز کیوں کیا گیا تو اس کاجواب یہ ہے کہ شریعت میں یہ چیز بعید نہیں کیونکہ شریعت میں مکہ مکرمہ کو دیگر شہروں سے زیادہ محترم قرار دیا گیا ہے ۔ جمعہ کے دن اور عرفہ کے دن کو باقی دنوں سے زیادہ محترم کہا گیا ہے، شب قدر کو باقی راتوں پر برتری دی گئی ہے ،بعض اشخاص کو رسالت عطا کر کے دوسروں پر فوقیت دی گئی ہے تو اگر بعض مہینوں کو دوسروں کے مقابلے میں امتیازی حیثیت دی گئی ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔أیضاً

حرمت و تعظیم میں ان چار مہینوں کی تخصیص اسی طرح ہے جیسے صلاۃ وسطیٰ کی تخصیص ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاة الْوُسْطیٰ﴾ (سورۃ البقرہ:238)

’’یعنی نمازوں کی حفاظت کرو بطورِ خاص صلاۃ وسطیٰ (درمیانی نماز)کی۔ ‘‘

ان مہینوں کی حرمت کے دومفہوم ہیں ۔ ایک یہ کہ ان میں قتل و قتال حرام ہے اور دوسرا یہ کہ یہ مہینے متبرک اور قابل احترام ہیں ۔ ان میں نیکیوں کاثواب زیادہ اور برائیوں کا گناہ زیادہ لکھا جاتا ہے ۔ پہلا مفہوم کہ ان میں قتل و قتال حرام ہے ۔ شریعت اسلامیہ میں منسوخ ہو چکا ہے جبکہ دوسرا کہ یہ قابل احترام اور متبرک ہیں،ابھی بھی اسلام میں باقی ہے ۔

(معارف القرآن:4؍372؛ ٔیسر التفاسیر :2؍74)

ماہ رجب کی خاص فضیلت

ماہ رجب کی اتنی عمومی فضیلت تو ثابت ہے کہ وہ چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہونے کی وجہ سے باقی مہینوں سے زیادہ قابل احترام اور متبرک ہے، لیکن بطورِ خاص ماہ رجب کی فضیلت میں کوئی بھی روایت ثابت نہیں جیسا کہ امام شوکانی ﷫ نے نقل فرمایا ہے:

“لم يرد فی رجب علی الخصوص سنة صحيحة ولاسنة ولاضعيفة ضعفا خفيفا بل جميع ما روی فيه علی الخصوص امام موضوع مکذوب أو ضعيف شديد الضعف.”

’’خاص طور پر ماہ رجب کے متعلق کوئی صحیح حسن یا کم درجے کی ضعیف سنت وارد نہیں بلکہ اس سلسلے میں وارد تمام روایات یا تو من گھڑت اورجھوٹی ہیں یا شدید ضعیف ہیں ۔ ‘‘ (السیل الجرار:2؍143)

شیخ لاسلام امام ابن تیمیہ ﷫نے فرمایا ہے:

’’بطورِ خاص رجب کے روزے رکھنے کے متعلق تمام احادیث ضعیف بلکہ موضوع ہیں ۔ اہل علم ان میں سے کسی پربھی اعتماد نہیں کرتے ۔ ‘‘

(مجموع الفتاویٰ:20؍290)

امام ابن قیم ﷫ نے فرمایا ہے :

’’رجب کے روزے اور اس کی کچھ راتوں میں قیام کے متعلق جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ تمام جھوٹ اور بہتان ہیں ۔ ‘‘ (المنار المنیف:ص96)

حافظ ابن حجر ﷫ نے فرمایا ہے :

’’ایسی کوئی بھی صحیح اور قابل حجت حدیث وارد نہیں جو ماہ رجب میں مطلقاً روزے رکھنے یارجب کے کسی معین دن کا روزہ رکھنے یا اس کی کسی رات کے قیام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو۔ ‘‘ (تبیین العجب: ص11)

سید سابق رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:

’’رجب میں روزے رکھنا دوسرے مہینوں میں روزے رکھنے سے افضل نہیں۔ ‘‘ (فقہ السنۃ:1؍383)

اہل علم کے درج بالا اَقوال سے معلوم ہوا کہ ماہ رجب کی کوئی بھی خاص فضیلت ثابت نہیں اورجن روایات میں اس کی کوئی بھی فضیلت مروی ہے وہ تمام کذب و افترا ہیں ۔

رجب کی فضیلت کے عدم ثبوت کے ضمن میں بعض اہل علم نے یہ روایت نقل کی ہے کہ

’’رسول اللہ ﷺ نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنے کی ترغیب دلائی ہے ۔ ‘‘

اور چونکہ رجب بھی حرمت والے مہینوں میں شامل ہے ۔ اس لئے اس کے روزے اس عمومی حدیث کی وجہ سے مستحب ہوئے ۔ تو یہ واضح رہنا چاہئے کہ

یہ روایت بھی ثابت نہیں بلکہ ضعیف ہے جیسا کہ علامہ ناصر الدین البانی ﷫ نے وضاحت فرمائی ہے۔ (ضعیف أبوداؤد:2328)

ماہ رجب کی بدعات

حرمت والے مہینوں کے متعلق اللہ کا فرمان ہے:

﴿فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ أنْفُسَکُمْ﴾ (سورۃ التوبہ : 36)

’’یعنی ان مہینوں میں اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو۔ ‘‘

شیخ ابن عادل نے اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ اپنے نفسوں پر ظلم سے مراد ہے معاصی کا ارتکاب اور اطاعت کے کام ترک کر دینا۔(اللباب فی علوم الکتاب :10؍86)

تفسیر جلالین میں ہے کہ اپنے نفسوں پر ظلم سے مراد ہے ’گنا ہوں کا ارتکاب‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مہینوں میں برائی کا گناہ زیادہ ہوتا ہے۔ (تفسیر الجلالین:ص270)

امام ابوبکر الجزائری ﷫ نے بھی اس آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے ۔(تفسیر أیسر التفاسیر: 2؍74)

معلوم ہوا کہ حرمت والے مہینوں میں خصوصی طور پر گنا ہوں کے ارتکاب سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے چونکہ رجب بھی حرمت والا مہینہ ہے اس لئے اس مہینے میں بھی یہی کوشش ہونی چاہئے مگر خدا کا کرنا ایسا ہے کہ اس مہینے میں وہ گناہ تو ہوتے ہی ہیں جو دوسرے مہینوں میں کئے جاتے ہیں ۔ مزید برآں کچھ ایسے گناہ بھی کئے جاتے ہیں جو محض اسی مہینے کے ساتھ خاص ہیں ۔

رجب کے کونڈے

ماہ رجب کی بدعات میں کونڈے بھرنے کی رسم بھی شامل ہے ۔ جس کے لئے 22 رجب کا دن خاص کیا گیا ہے ۔ اس کے پس منظر میں مختلف واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک جعفر صادق اور لکڑہارن کا واقعہ بھی ہے ۔ اس میں ہے کہ جعفر صادق نے لکڑہارن سے کہا کہ جو بھی آج (یعنی 22 رجب کے روز) میرے نام کے کونڈے بھر کرتقسیم کرے گا اس کی حاجت ضرور پوری ہو گی ورنہ روز قیامت میرا گریبان پکڑلینا، چنانچہ لکڑہارن نے کونڈے بھرے تو اس کی حاجت پوری ہو گئی۔(داستان عجیب از مولانا محمود الحسن )

پہلی بات تو یہ ہے کہ

یہ قصہ ہی من گھڑت ہے کیونکہ اس کا ذکر کسی بھی مستند ماخذ میں موجود نہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ

22 رجب یا کسی بھی دن کی خاص فضیلت کا تعین رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کوئی کر ہی نہیں سکتا اور یہ واقعہ اگر بالفرض صحیح بھی تسلیم کر لیاجائے تب بھی عہد رسالت سے صدیوں بعد کا ہے ۔ اور دین عہد رسالت میں مکمل ہو گیا تھا۔ بعد کا اضافہ دین شمار نہیں ہو گا بلکہ اسے دین میں بدعت اور گمراہی کہا گیا ہے ۔

جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ہے

«کُلّ مُحْدَثة بِدْعةٌ وَکُلّ بِدْعةٍ ضَلَالةٌ»

(صحیح الجامع الصغیر للألبانى:1353)

’’دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ ‘‘

تیسری بات یہ ہے کہ

یہ رسم روافض کی ایجاد معلوم ہوتی ہے کیونکہ جعفر صادق کا قصہ تو ثابت نہیں البتہ یہ ثابت ہے کہ 22 رجب کو سیدنا امیرمعاویہ (بزرگ صحابی رسول کاتب وحی اور خلیفۃ المسلمین ) کی وفات ہوئی تھی اور شیعہ حضرات کو ان سے جو بغض و عناد ہے وہ سب پر عیاں ہے اس لئے وہ ان کی وفات کے روز بطور جشن میٹھی اشیا تقسیم کرتے لیکن جب انہوں نے محسوس کیاکہ یہ رسم سنیوں میں بھی عام ہونی چاہئے تو جعفر صادق کا من گھڑت قصہ چھپوا کر ان میں تقسیم کرا دیا اور یوں یہ رسم عام سے عام ہوتی چلی گئی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ

22 رجب کے روز کونڈے بھرنے والی رسم خود ساختہ اور جاہلانہ ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں اس لئے ہر مسلمان کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

شب معراج

رجب کی 27تاریخ کو شب معراج منائی جاتی ہے ۔ دن کوروزہ اور رات کو قیام کیا جاتا ہے ۔ محافل نعت اور مختلف دینی مجالس منعقد کی جاتی ہیں اورمساجد میں چراغاں وغیرہ کیا جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ شب معراج کی تاریخ تو کجا اس کے مہینے میں بھی اختلاف ہے ۔ کچھ نے معراج کے لئے ربیع الاوّل، کچھ نے محرم اور کچھ نے رمضان کا ذکر کیا ہے ۔ (الرحیق المختوم:ص137)

جب شب معراج کے مہینے میں ہی اختلاف ہے تو اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جاسکتا ہے ۔

دوسرے یہ کہ

اگر بالفرض یہ ثابت بھی ہو جائے کہ شب معراج 27رجب ہی ہے تب بھی اس دن کا خصوصی روزہ، قیام، محافل و مجالس اور چراغاں وغیرہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہ بات طے ہے کہ معراج مکہ میں ہوئی اور اس کے بعد تقریباً تیرہ برس نبی کریم ﷺ صحابہ میں موجود رہے ۔ اگر اس دن کوئی خاص عمل باعث برکت و فضیلت ہوتا تو سب سے پہلے اسے نبی کریم ﷺ اختیار کرتے جبکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ

اس دن کاکوئی بھی خاص عمل نہ تو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی صحابی سے ۔ تو اس دن کو بعض اعمال کے لئے خاص کرنا دین میں نئی ایجاد کردہ بدعت نہیں تو اور کیا ہے ؟

لہٰذا ایسی تمام بدعات و خرافات سے خود بھی بچنا چاہئے اور دوسروں کو بھی بچانا چاہئے ۔ نیز اگر کوئی نفلی روزہ و قیام کا اہتمام کرناہی چاہتا ہے تو اس کے لئے سنت نبوی موجود ہے ۔

آپﷺ روزانہ رات کو گیارہ رکعت قیام کیا کرتے تھے ۔ (موطأ امام مالک:243)

اور ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات کا نفلی روزہ رکھا کرتے تھے ۔ (سنن أبوداؤد: 2436)

اس لئے اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھنا چاہے یا قیام اللیل کرناچاہے تو اس سنت کو اپنائے، بدعات میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے جو کوشش و محنت کے باوجود انسان کے لئے ہلاکت کا باعث ہیں ۔

بدعات رجب سے متعلق مختلف فتاویٰ

1۔ شیخ ابن باز ﷫ نے فرمایا:

’’ رجب یا کسی بھی دوسرے مہینے میں شب معراج کی تعیین کے متعلق صحیح احادیث میں کچھ بھی مذکور نہیں اور اس رات کی تعیین میں جو کچھ بھی مروی ہے وہ محدثین کی تحقیق کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں اور اگر بالفرض اس رات کی تعیین ثابت بھی ہو جائے تب بھی مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ اسے بعض عبادات کے لئے خاص کریں یا اس میں مختلف مجالس و محافل کا انعقاد کریں کیونکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور اگر ایسا کوئی بھی کام مشروع ہوتا تو نبی ﷺ اپنے قول یا فعل کے ذریعے امت کے سامنے اس کی وضاحت ضرور فرما دیتے ۔ ‘‘ (مجموع فتاویٰ ومقالات متنوعۃ :1؍188)

2۔ شیخ صالح بن فوزان الفوزان ﷫ فرماتے ہیں:

’’ رجب کے پہلے روز روزہ رکھنا بدعت ہے شریعت کا حصہ نہیں اور نبی کریم ﷺ سے رجب میں خاص طور پر روزوں کا اہتمام ثابت نہیں ۔

لہٰذا ماہ رجب کے پہلے روز روزہ رکھنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ عمل سنت ہے، گناہ اور بدعت ہے۔‘‘ (فتاویٰ شیخ صالح الفوزان:1؍33)

3۔ سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ

رجب کے پورے مہینے کے روزے رکھنا رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ۔

لہٰذا جوبھی ایسا کرے گا وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور آپﷺ کے طریقے کی مخالفت کرے گا اور بدعت کا مرتکب ٹھہرے گا۔ (فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیہ والافتاء، رقم الفتویٰ: 5169)

4۔ شیخ ابن عثیمین﷫ سے کسی نے دریافت کیا:

’’کچھ لوگ ماہ رجب میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ رجب میں اس کی خاص فضیلت ہے تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ ‘‘

جواب میں شیخ﷫ نے فرمایا :

’’ یہ درست نہیں ۔ اگر تو وہ لوگ عبادت سمجھ کر ایسا کرتے ہیں تو یہ بدعت ہے اور اگر ان کے اموال پر سال ہی اسی مہینے پورا ہوتا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ ‘‘

(البدع والمحدثات:ص 462)

خلاصۂ کلام

درج بالا بحث سے معلوم ہوا کہ

ماہ رجب کی محض اتنی ہی فضیلت ثابت ہے کہ یہ ایک حرمت والا مہینہ ہے اس لئے اس کے احترام کا تقاضا ہے کہ اس میں خصوصی طور پر گنا ہوں سے بچنے اور عبادات بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ اس سے بڑھ کر اس مہینے کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں اور اس سلسلے میں جوکچھ بھی بیان کیا جاتا ہے وہ محض کذب و افترا ہی ہے۔

لہٰذا اس مہینے کو کسی بھی نیک عمل اور عبادت کے لئے خاص کرنا بدعت ہے خواہ وہ صلوۃ الرغائب ہو، شب معراج کی محافل و مجالس ہوں، کونڈوں کی رسم ہو یا کسی مخصوص دن کا روزہ ہو، سب ناجائز اور غیر شرعی امور ہیں ۔

اس لئے ان سے خود بھی بچنا چاہئے اور دوسروں کوبھی بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور صرف ایسے اعمال ہی اختیارکرنے چاہئیں جو سنت نبوی سے ثابت ہوں کیونکہ کامیابی صرف سنت کی اتباع میں ہی ہے ۔ واﷲ الموفق

٭٭٭

دنیا بڑی حقیر ہے

امام عبید بن عمیر المکی﷫ فرماتے ہیں:

إن الدنيا هينة على الله؛ يعطيها من يحب ومن لا يحب، ولا يعطي الإيمان إلا من يحب

’’خدا کی نگاہ میں دنیا بڑی حقیر ہے ؛ وہ دنیا اسے بھی دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے اور اسے بھی جس سے محبت نہیں کرتا ؛ لیکن ایمان وہ صرف اسی کو عطا کرتا ہے جو اسے محبوب ہو۔‘‘

(حلية الأولياء: 3؍270)

٭٭٭

تبصرہ کریں