ماہ رجب کی بدعات۔شیخ محمد طیب سلفی

رجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے جو حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے جس میں ظلم وزیادتی فسق وفجور اور ہرطرح کی گناہوں سے روکا گیا ہے، لہٰذا اس ماہ میں احکام الٰہی کی بجا آوری کا اہتمام نیز شروفساد، شرک وکفر ،بدعات اور دیگر معصیات ربانی سے اجتناب زیادہ سے زیادہ ہونا چاہئے کیوں کہ اس ماہ کی حرمت وعزت کا یہیتقاضا ہے ، مگر حیف صد حیف مسلما ن اس حرمت والے مہینے میں خاص طور سے بہت سی بدعتوں کے مرتکب ہوتے ہیں جیسے ۔

1۔ لکھی اور ہزاری روزے

نام نہاد مسلمان اس ما ہ میں لکھی ،ہزاری اور مریم روزہ رکھتے ہیں جس کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے کہ27 تاریخ کو ایک روزہ رکھنے سے لاکھوں اور ہزاروں روزوں کا ثواب ملتا ہے، اور اگلے اور پچھلے گناہ سب معاف ہوجاتے ہیں، حالانکہ یہ روزہ بدعت ہے ،اس کا کوئی ثبوت شریعت محمدیہ قرآن وحدیث میں نہیں ہے، اس کے رکھنے رکھانے سے ثواب نہیں بلکہ عذاب کا خطرہ ہے، اللہ تعالی اس سے خوش نہیں بلکہ ناراض ہوگا ، لہٰذا مسلمانوں کو اس بدعت سے بچنا چاہئے اور مذکورہ ( من گھڑت) روزے رکھ کر اللہ کے دین متین میں زیادتی کرکے گناہ عظیم مول نہیں لینا چاہئے، ان روزوں کے ثبوت میں نام نہاد مسلمان جو احادیث پیش کرتے ہیں وہ قطعا ثابت نہیں، ان سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔

چنانچہ علامہ شوکانی﷫ نیل الاوطار میں رقمطراز ہیں:

’’روزۂ رجب کے متعلق جتنی روایات پیش کی جاتی ہیں وہ سب کی سب واہی اور غیر معتبر ہیں جس سے کوئی بھی عالم خوش نہیں ہوسکتا۔‘‘

علامہ ابن جوزی ﷫ نے ان کو موضوع اور بناوٹی کہا ہے۔

2۔ صلاة رغائب

ماہ رجب کی پہلی شب جمعہ کو نام نہاد مسلمان ایک خاص نماز ثواب جان کر پڑھتے ہیں جو صلاة رغائب کے نام سے موسوم ہے حالانکہ یہ نماز نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین اور ائمہ دین سے ثابت نہیں۔

علامہ ابن رجب﷫ فرماتے ہیں:

هذه الصلاةبدعة عندجمهورالعلماء

’’یہ نماز جمہور علماء کے نزدیک بدعت ہے۔‘‘

پھر فرماتے ہیں کہ

’’یہ بدعت پانچویں صدی ہجری میں نکلی ہے ، 400 سال تک مسلمانوں کادامن اس بدعت کی آلودگی سے پاک وصاف رہا، تعجب ہے کہ آج لوگ اس بدعت اور بے بنیاد چیز کی طرف کس قدر راغب ہیں۔ چاہے فرض نمازیں نہ پڑھیں لیکن صلوة رغا ئب قضاء نہ ہو۔ اللہ تعالی سے ڈرو ، اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو۔‘‘

3۔ جشن معراج

اسی ماہ کی 27 شب کو نام نہاد مسلمان جشن معراج مناتے ہیں جب کہ یہ ثا بت ہی نہیں کہ اسی رات معراج ہوئی۔

اس سلسلے میں فتح الباری شرح صحیح بخاری میں علماء کے 10 سے زیادہ اقوال موجود ہیں مولانا عبد الحئ حنفی لکھنوی﷫ فرماتے ہیں:

هو أمر مختلف بين المحدثين والمؤرخين

’’ معراج کی تاریخ میں محدثین ومورخین کا بہت کچھ اختلاف ہے۔‘‘

تاریخ تو ایک طرف مہینے میں بھی اختلاف ہے ، بعض کہتے ہیں کہ

ربیع الاول میں معراج ہوئی ۔

بعض کا قول ہے کہ

ربیع الثانی میں ہوئی کسی کے نزدیک رمضان میں تو کسی کے یہاں شوال میں ، یہ اختلاف معراج کے مہینے میں ہے، پھر تاریخ معراج میں اس سے بھی زیادہ اختلاف ہے۔

معراج مکہ مکرمہ میں ہوئی، بعد ازاں 10 سال آپﷺ مدینہ میں رہے ہر سال معراج اور شب معراج آتی رہی لیکن کبھی آپ نے نہ خود کوئی جشن منایا اور نہ ہی کسی کو جشن منانے کا حکم دیا ،نہ کوئی جلوس نکالا ، نہ اس رات کی کوئی خاص فضیلت بیان فرمائی ، پھر آپﷺ کے بعدنہ خلفائے اربعہ و دیگر صحابہ کرام وتابعین عظام نے جشن منایا اور نہ ہی ائمہ دین میں سے کسی کا جشن معراج منانے پر عمل ہے ، نہیں ہرگز نہیں، معلوم ہوا کہ جشن معراج منانا دین میں نئی ایجاد ہے۔

نیز اسی رات مسجدوں گھروں اور بازاروں وغیرہ میں کثرت سے چراغاں اور روشنی کرتے ہیں کھانوں کی دعوتیں ہوتی ہیں ۔

4۔نیز براق کی تصویر ایک گھوڑے کی

شکل پر بنائی جاتی ہے جس کے دو بازو ہوتے ہیں اور اس کا چہرہ خوبصورت عورت کے چہرے کی مانند ہوتا ہے۔

کونڈے

5۔ اس مہینے کی 22 تاریخ کو نام نہاد مسلمان حضرت جعفر صادق کے نام کے کونڈے کرتے ہیں جو آیت قرآنی وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ کی رو سے حرام ہے ،یعنی یہ غیر اللہ کے لئے نذر ماننے کے حکم میں ہے اس رسم کے متعلق ان لوگوں کایہ عقیدہ ہے کہ

خود حضرت جعفر صادق نے فرمایا کہ

” 22 رجب کو کونڈے کرو اور میرے توسل سے مراد طلب کرو اور جو مراد پوری نہ ہو تو قیامت میں تمہارا ہاتھ اور میرا دامن ہوگا۔‘‘

یہ سراسر افتراء اور جھوٹی بات ہے جوحضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کی گئی ہے ، کوئی ادنی مسلمان بھی ایسی لغو و لایعنی بات نہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ حضرت جعفر صادق ! یہ رسم خلاف شرع اور بدعت محدثہ ممنوعہ ہے کیونکہ نہ نبی کریمﷺ سے اس کا ثبوت ہے نہ صحابہ کرام و تابعین سے اور نہ ائمہ اسلام سے منقول ہے یہ در حقیقت شیعوں کی ایجاد واختراع ہے ۔

6۔نیز اسی مہینے کی 6 تاریخ کو اجمیر میں خوا جہ معین الدین چشتی کے مزار پر نام نہاد مسلمان عرس ومیلہ لگاتے ہیں پھر وہاں پرجو گل کھلاتے ہیں ایک موحد مسلمان کی روح اس کو دیکھ کر کانپنے لگتی ہے، وہاں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں،سجدے کرتے ہیں، قبر پر غلاف چڑھاتے ہیں ،پھول ڈالتے ہیں ،چیخ چیخ کر روتے ہیں اور اپنی حاجات ومرادیں طلب کرتے ہیں، قبر کا طواف کرتے ہیں جو کھلم کھلا شرک ہے۔

اوپر کی تشریحات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مذکورہ تمام اعمال وافعال ماہ رجب میں محض شرک وبدعت ہیں،بنا بریں ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ ان کاموں سے خود بھی بچیں اور اپنے دوست واحباب کو بھی بچنے کی تلقین کریں، اگر ا ب تک آپ نے یہ مہینہ شرک وبدعت کے زیر سایہ گزاراہے تو اب حق بات کی وضاحت کے بعد ان کاموں سے تائب ہوکر اس سال کے اور آئندہ ماہ رجب کو سلامتی کے ساتھ گزاریں۔

اللہ ہمیں اتباع سنت کی توفیق بخشے کیوں کہ دونوں جہاں کی بھلائی اتباع سنت میں مضمر ہے اور سیاہ بختی سنت سے اعراض کرنے اور منہ پھیرنے میں ہے ۔

٭٭٭

ماہ رجب کی خاص فضیلت

ماہ رجب کی اتنی عمومی فضیلت تو ثابت ہے کہ وہ چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہونے کی وجہ سے باقی مہینوں سے زیادہ قابل احترام اور متبرک ہے، لیکن بطورِ خاص ماہ رجب کی فضیلت میں کوئی بھی روایت ثابت نہیں۔

جیسا کہ امام شوکانی﷫ نے نقل فرمایا ہے کہ

“لم يرد فی رجب علی الخصوص سنة صحيحة ولاسنة ولاضعيفة ضعفا خفيفا بل جميع ما روی فيه علی الخصوص امام موضوع مکذوب أو ضعيف شديد الضعف.”

’’خاص طور پر ماہ رجب کے متعلق کوئی صحیح حسن یا کم درجے کی ضعیف سنت وارد نہیں بلکہ اس سلسلے میں وارد تمام روایات یا تو من گھڑت اورجھوٹی ہیں یا شدید ضعیف ہیں ۔ ‘‘(السیل الجرار:2؍143)

شیخ لاسلام امام ابن تیمیہ ﷫نے فرمایا ہے کہ

’’بطورِ خاص رجب کے روزے رکھنے کے متعلق تمام احادیث ضعیف بلکہ موضوع ہیں ۔ اہل علم ان میں سے کسی پربھی اعتماد نہیں کرتے ۔ ‘‘

(مجموع الفتاویٰ:20؍290)

امام ابن قیم﷫ نے فرمایا ہے کہ

’’رجب کے روزے اور اس کی کچھ راتوں میں قیام کے متعلق جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ تمام جھوٹ اور بہتان ہیں ۔ ‘‘ (المنار المنیف:ص96)

حافظ ابن حجر ﷫ نے فرمایا ہے کہ

’’ایسی کوئی بھی صحیح اور قابل حجت حدیث وارد نہیں جو ماہ رجب میں مطلقاً روزے رکھنے یارجب کے کسی معین دن کا روزہ رکھنے یا اس کی کسی رات کے قیام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو۔ ‘‘(تبیین العجب، ص11)

سید سابق ﷫ رقم طراز ہیں کہ ’’رجب میں روزے رکھنا دوسرے مہینوں میں روزے رکھنے سے افضل نہیں ۔ ‘‘ (فقہ السنۃ:1؍383)

اہل علم کے درج بالا اَقوال سے معلوم ہوا کہ ماہ رجب کی کوئی بھی خاص فضیلت ثابت نہیں اورجن روایات میں اس کی کوئی بھی فضیلت مروی ہے وہ تمام کذب وافترا ہیں ۔

رجب کی فضیلت کے عدم ثبوت کے ضمن میں بعض اہل علم نے یہ روایت نقل کی ہے کہ

’’رسول اللہ ﷺ نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنے کی ترغیب دلائی ہے ۔ ‘‘

اور چونکہ رجب بھی حرمت والے مہینوں میں شامل ہے ۔ اس لئے اس کے روزے اس عمومی حدیث کی وجہ سے مستحب ہوئے ۔

تو یہ واضح رہنا چاہئے کہ یہ روایت بھی ثابت نہیں بلکہ ضعیف ہے جیسا کہ علامہ ناصر الدین البانی ﷫نے وضاحت فرمائی ہے ۔ (ضعیف أبوداؤد:2328)

٭٭٭

تبصرہ کریں