لاک ڈاؤن مثبت فوائد۔ شفیق الرحمٰن شاہین

کرونا وائرس نے چند دنوں کے اندر پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ جدید ٹیکنالوجی، وسیع انتظامات ، میڈیکل سائنس کی ترقی سب ناکام ہوگئے اور ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘ کے مصداق اکثرممالک میں حالات بدتر ہوتے چلے گئے ۔ یورپ کے اندر رہنے والے مسلمانوں کیلئے یہ ایک چیلنج تھا کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں مساجد بند ہوئیں اور خصوصاً ایسے حالات میں جب رمضان بالکل قریب تھا ایک عجیب کیفیت کا عالم تھا اچانک مساجد بند ہونے سے مسلمانوں کو ذہنی طور پر روحانی اور جسمانی تکلیف برداشت کرنا پڑی۔کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کی خبروں نے لوگوں کو ایک اَن دیکھے خوف میں مبتلا کردیا ۔ لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ رب العالمین کے فیصلے انسانیت کو جھنجوڑنے کیلئے ہوتے ہیں، تکلیف کے بعد آسانی، اور بیماری و عسرت یا آسانیوں میں رب سے تعلق کو مضبوط بنانے کیلئے  یہ  مواقع ہوتے ہیں کہ انسان اپنے رب کی طرف واپس لوٹ آئے اور سمجھ لے اس کے رب کی پکڑ بہت سخت ہے ۔  ایسے مشکل حالات میں خصوصاً مسلمان سمجھ لیتا ہے جس کا تذکرہ حدیث مبارکہ میں ایسے ہوتا ہے:

«وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْر، وَ أَنَّ الفَرجَ مَعَ الکَرْبِ وَ أَنَّ مَعَ العُسْرِ یُسْراً»

’’جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے، یقیناً ہر پریشانی کے ساتھ خوشحالی ضرور ہے۔یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ضرور ہے۔‘‘ (جامع ترمذی:2516 )

لاک ڈاؤن کے اس عرصہ میں امت مسلمہ کے اندر مساجد خصوصاً بیت اللہ میں معتمرین کی بندش سے دکھ محسوس کیا گیا، لیکن نبی کریمﷺ  کا فرمان گرامی قدر بھی سامنے آتا ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو﷠ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں میں سے کسی شخص کو بھی اس کے جسم میں کوئی آزمائش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان محافظ فرشتوں کو حکم دیتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں کہ میرے بندے کیلئے اس طرح عمل لکھ دو جس طرح وہ اس وقت عمل کرتا تھا جب وہ تندرست تھا جب تک وہ میری گرفت میں رہے۔‘‘ (مسنداحمد:6825 )

٭لاک ڈاؤن میں تعلق باللہ کے عظیم مناظر دیکھنے کو ملے، قریباً ہرمسلمان پے درپے اموات، بیماری، اور وائرس کے انجانے خوف سے اس احساس سے مبتلا ہوا کہ جس طرح میرے اردگرد یہ حالات ہیں شاید کہیں یہ مصیبت مجھے نہ گھیر لے، دعاؤں کی کثرت،نماز کی پابندی سے رب سے تعلق مضبوط ہونا شروع ہوا ، اور الحمدللہ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جو بلامبالغہ ہزارہا افراد میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔

٭سب سے بڑا مسئلہ نماز باجماعت کی ادائیگی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے گھروں کے اندر جماعت کرانا شروع کردی اور کئی گھروں میں دو تین فیمیلیز اکھٹی ہوکر نمازجمعہ کا بھی اہتمام کر رہی ہیں ، کئی ہمارے طلبہ گھروں میں خطبہ جمعہ کا فریضہ بھی انجام دینے لگے اور ماشاء اللہ مسلسل پریکٹس سے ان میں کئی ایک خطیب بن چکے ہیں۔

٭رمضان المبارک میں یورپی مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا دکھ اور تکلیف دہ بات نمازتراویح سے دوری تھی۔ رمضان المبارک میں مساجد کی رونق، عبادات، سحروافطار کی رونقیں اپنے عروج پر ہوتی تھیں ۔ لاک ڈاؤن میں مساجد بند ہوئیں تو اہل اسلام نے گھروں کو مساجد بنا لیا تقریباً اکثر گھروں میں نماز تراویح کی جماعت ہورہی تھی۔ حفظ کے طلبہ اور حفاظ کرام اپنی فیمیلیز کو نمازتراویح میں امامت کروا رہے ہیں۔ جس ایریا میں ایک مسجد بند ہوئی وہاں قریباً ہر سٹریٹ میں نماز تراویح باجماعت ہورہی ہے، جس میں گھر کے تمام لوگ شریک ہیں ۔ 

٭رمضان المبارک میں جہاں روزوں کی ادائیگی کے ساتھ دوسری عبادات ہو رہی ہیں رمضان گزرنے کے بعد ایک بہترین عمل یہ دیکھنے میں آیا کہ بہت سارے احباب نے شوال کے روزے بھی رکھے تو ان کے ہمراہ ان کے بچوں نے بھی شوال کے روزے رکھے۔ یہ ایک ایسی لہر تھی کہ جس کا کبھی تصور ہی کرسکتے تھے ۔

٭سب سے اہم مسئلہ طلبہ وطالبات کی تعلیم کا تھا ، جہاں دیگر تعلیمی اداروں نے اپنے طلبہ کیلئے آن لائن کلاسز شروع کیں وہاں مساجد و مدارس نے بھی آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا ، اور اس کے فوائد دور رس ملے جہاں طلبہ کو ون ٹو ون ٹیچر سے بات کرنے، اور سبق سیکھنے کا زیادہ موقع ملا۔ والدین کی گھروں میں موجودگی سے بچوں کی تعلیمی صلاحیت مزید بہتر ہوئی اور والدین کی اکثریت نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

٭آن لائن کلاسز اور جدید ٹیکنالوجی سے جہاں طلبہ وطالبات نے فائدہ اٹھایا وہاں بڑے بھی اس میدان میں پیچھے نہ رہے ، اور الحمدللہ بہت سارے بھائیوں نے آن لائن کلاسز کے زریعہ اپنے قرآن کی تصحیح کی ۔دعائیں یاد کیں ۔ دینی باتوں کو سیکھا شاید مساجد میں دوسروں کے سامنے وہ اس فائدہ کو عام حالات میں حاصل نہ کرسکتے تھے ۔

٭لاک ڈاؤن کا ایک بڑا فائدہ فیملی جوائن سسٹم میں بہتری کا نظرآیا ۔قبل ازیں مصروفیات کی وجہ سے فیمیلز کا مل کر بیٹھنا ایک دوسرے کی موجودگی اور دکھ سکھ کو محسوس کرنا بہت کم ہوگیا تھا ، لیکن لاک ڈاؤن میں فیمیلیز ہمہ وقت اکھٹی رہیں جس سے باہمی تعلق، محبت والفت میں اضافہ ہوا ، جس کے اثرات بہترین انداز میں دیکھے جارہے ہیں ۔

٭ لاک ڈاؤن میں سب سے اہم فائدہ شادیوں میں نظر آیا جہاں کم اخراجات سے بہترین شادیاں انجام پائیں ، ہزارہاپاؤنڈز کے بے مقصد اخراجات سے لوگ بچ گئے اور اکثریت اس پر مطمئن نظر آئی اور نہ بلانے پر شکوہ شکایات بھی کم نظر آئے کیونکہ ایسی مجبوری تھی جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ لوگ خود جانے سے بچ رہے ہیں تاکہ ہم اس وبا سے محفوظ رہ سکیں ۔سنت پر عمل ہوا، مہندی اور دیگر فضول رسومات پر فضول خرچی سے بچ گئے ، ان شاء اللہ اس کے اثرات مکمل طور پر زندگی میں ان گھروں میں نظر آئیں گے ۔

٭ بہت سارے غیرشرعی اعمال اور اخراجات ہمیں کسی کی وفات پر بھی نظر آتے تھے ، لاک ڈاؤن میں ہونے والی اموات کے جنازہ، تعزیت اور تدفین میں کم افراد کی شرکت نے ان اعمال سے لوگوں کو دور کیا اور کھانے کے اخراجات ، اور کئی رسوم سے بھی بچ گئے ۔ ایک مسلمان کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نمازجنازہ میں کم افراد کی شرکت سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ اصل بات ایمان کی ہے اگر موت کلمہ توحید پر ہوئی ہے تو یہی سب سے اعلیٰ ہے ، حضرت عثمان غنی ﷜ جیسے عظیم اور جلیل القدر صحابی کی نمازجنازہ صرف چند افراد نے ادا کی تھی، آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’ چار مسلمان جس مسلمان کی تعریف کریں اور اچھی شہادت دیں، اللہ اس کو ضرور جنت میں داخل کرے گا ۔ ہم نے  عرض کیا اور تین ، آپﷺ نے فرمایا:تین بھی ، ہم نے عرض کیا اور دو۔ آپﷺ نے فرمایا: دو بھی۔‘‘ (صحیح بخاری، با ب ثناء الناس علی المیت)

٭ لاک ڈاؤن میں ایک دوسرے سے ہمدردی کا جذبہ بھی عجب انداز میں نظر آیا ، کیونکہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر لوگوں کے حالات کا علم ہوا ، دوسروں کی مجبوریوں کا احساس ہوا۔اور حسب توفیق لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ۔ جو لوگ شاپنگ کیلئے نہیں جاسکتے تھے ۔ وائرس کا شکار تھے ، احباب نے ان کی ضروری اشیاء گھروں میں دہلیز تک ان کو پہنچائیں ۔ اور یہ مسلمانوں کا باہمی تعاون نہیں تھا  بلکہ مسلمانوں نے غیرمسلموں کیلئے بھی یہ خدمات انجام دیکر ثابت کیا کہ اسلام انسانیت کو تسکین پہنچانے والا مذہب ہے ۔

٭ گھریلو اخراجات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی کیونکہ باہر جانے ، غیرضروری شاپنگ، پارٹیز ، کھانے، کپڑوں کی خریداری سے دوری کی وجہ سے اخراجات بہت کم ہوگئے ، اور ایک یہ بھی احساس ہوا کہ ہم ان چیزوں کے بغیر بھی رہ سکتے ہیں ۔

٭ماحولیات کے شعبہ میں بھی خاطرخواہ بہتری نظرآئی، سڑکوں پر گاڑیوں کی کمی ہونے سے پولشن میں واضح کمی دیکھنے کو ملی۔اور بلاضرورت باہر نہ نکلنے سے پٹرول وغیرہ کے اخراجات میں بھی کمی ہوئی۔

٭مساجد کی تعمیرومرمت ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ ہمہ وقت مساجد آباد ہونے سے تعمیر ومرمت،  رنگ وروغن، صفائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن الحمدللہ لاک ڈاؤن سے اکثر مساجد کی انتظامیہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور مساجد کی نئے سرے سے درستگی مرمت اور صفائی کا اہتمام کیا ۔

٭رب العالمین سے امید ہے کہ اس وبا سے بہت جلد نجات ملے گی اور ہمیں اپنے غلطیوں، کوتاہیوں  پر غور وفکر اور توبہ کا جو موقع ملا اس سے سبق سیکھ کر ہم آئندہ زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے، مساجد کو آباد کریں گے سستی وکاہلی سے ہٹ کر دین کیلئے جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں