کیا پانی پر دم کرنا جائز نہیں؟۔ حافظ صلاح الدین یوسف

نبی کریم ﷺ نے کھانے پینے کی چیزوں پر پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح الجامع بحوالہ، طبرانی کبیر: 6750)

آپﷺ کا اپنا عمل بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ آپ نہ کھانے والی چیز میں پھونک مارتے تھے، نہ پینے والی چیز میں ۔ (سنن ابن ماجہ: 3288)

اس سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء کہتے ہیں کہ پانی پر دم کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ دم کا مطلب ہی یہ ہے کہ کچھ پڑھ کر اس پر پھونک ماری جائے جبکہ کھانے پینے والا چیزوں پر پھونک مارنا منع ہے۔ لہٰذا پانی پر دم کرنا نا جا ئز ٹھہرا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نبیﷺ سے بطور خاص پانی پر دم کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ لیکن آپ سے دموں کی جو صورتیں ثابت ہیں یا آپ کی موجودگی میں صحابہ کرام نے جو دم کیے جن کی آپ ﷺ نے تائید فرمائی ، ان سے پانی پر دم کرنے کا جواز بھی نکل آتا ہے۔ اس سلسلے میں حسب ذیل پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے۔

1۔ نبی کریمﷺ نے دموں کی عام اجازت دی ہے، صرف ایک شرط عائد کی ہے کہ وہ شرکیہ نہ ہوں۔ فرمایا:

«اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ» (صحیح مسلم:2200)

’’تم مجھ پر اپنے دم پیش کرو، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ جن روایات میں دم کو «تمائم» (تعویذات) کو اور «تِوَله» (ایسا عمل جو میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ) کو شرک کہا گیا ہے۔ (سنن ابو داؤد: 3883) تو اس سے وہ دم (رُقیٰ) مراد ہیں جو شرکیہ کلمات پر مبنی ہوں، جیسے ان میں غیراللہ سے استغاثہ یا استعاذہ کیا گیا ہو، مثلاً:

فرشتوں کے یا انبیاء کے، یا جنات وغیرہ کے نام ان میں ہوں۔ لیکن اگر وہ دم قرآنی آیات ، یا اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات پر مبنی ہوں یا ان میں اللہ سے دعاء واستعاذہ کیا گیا ہو یا وہ مسنون اور معروف اذ کار کے ساتھ ہوں ، تو ایسے دم شرک نہیں، بلکہ وہ بعض علماء کے نزدیک تو مستحب ہیں اور بعض کے نزدیک جائز۔ یعنی ایسے دموں کے جواز میں تو کوئی شک نہیں۔

2۔ نبی ﷺ معوذ تین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ۔ دونوں سورتیں ) پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے اور پھر ان ہاتھوں کو اپنے چہرے اور اپنے جسم پر پھیر لیتے تھے اور سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ کا مرض الموت شدت اختیار کر گیا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھوں کو خود اپنے جسم پر پھیرنا مشکل ہوگیا تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ کے ہاتھوں پر پھونک مارتی اور پھر ان ہاتھوں کو آپ کے جسم پر ملتی ۔

امام بخاری﷫ نے یہ حدیث اپنے صحیح میں درج کی ہے اور اس پر باب باندھا ہے: «باب الرقي بالقرآن والمعوذات» ’’قرآن کریم اور معوذات کے ساتھ دم کرنے کا بیان‘‘ جس سے امام بخاری﷫ کا یہ استدلال واضح ہے کہ قرآن کریم اور معوذات کے ساتھ دم کرنا جائز ہے اور اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر﷫ کہتے ہیں:

”علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ تین شرطوں کے ساتھ دم کرنا جائز ہے:

1۔وہ دم اللہ تعالیٰ کے کلام یا اس کے اسماء و صفات کے ساتھ ہو۔

2۔ عربی زبان میں ہو اور اگر کسی اور زبان میں ہوتو اس کے معنی واضح ہوں۔

3۔ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ دم بذات خود مؤثرنہیں جب تک اللہ کی مشیت نہ ہو ، یعنی مؤثر حقیقی اللہ ہی ہے۔ ‘‘ (فتح الباری: 5735، ج 10 ص: 240)

3۔ نبی کریم ﷺ سے اور بعض صحابہ کرام سے دم کر کے مریض پر پھونک مارنے کا ثبوت احادیث میں موجود ہے جس کے لیے نفث اور تفل کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جیسے نبیﷺ کی بابت آتا ہے کہ آپ سیدنا ثابت بن کی بیمار پرسی کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے ، تو ۔ آپ نے یہ پڑھ کر «أذهب البأس رب الناس ۔ عن ثابت بن قيس بن شاس» ’’اے لوگوں کے رب! ثابت بن قیس سے تکلیف دور فرمادے۔‘‘

بطحان وادی سے تھوڑی سی مٹی لی اور اسے ایک برتن میں ڈال کر اس پر پانی چھٹر کا ، پھر پانی ملی ہوئی مٹی کو ثابت بن قیس کے اوپر ڈالا ۔ (سنن ابو داؤد: 3885)

ایک دوسری روایت میں سیدہ عاشہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ جب ایسے مریض کو دیکھتے جسے کوئی تکلیف ہوتی یا کوئی پھوڑا پھنسی ہوتی یا کوئی زخم ہوتا، تو نبیﷺاپنی سبا بہ انگلی کو زمین پر رکھ کر اٹھا لیتے اور یہ دعا پڑھتے:

«بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا»

’’اللہ کے نام سے، یہ ہماری زمین کی مٹی ہے، ہم میں سے بعض کے لعابِ دہن ( تھوک ) کے ساتھ اس کے ذریعے سے ہمارے رب کے حکم سے ہمارے بیماروں کو شفاء عطا ہو ۔“ (صحیح مسلم: 2193)

اس روایت میں صراحت ہے کہ آپ ﷺ اپنی انگشت مبارک میں مٹی لگاتے اور «بريقة بعضنا» کے لفظ سے استدلال کرتے ہوئے حافظ ابن حجر﷫ نے کہا ہے کہ آپ دم کرتے وقت تھوکتے بھی تھے یعنی تھوک کے باریک ذرات شامل کرتے تھے۔ (فتح الباری:10؍256)

امام نووی  فرماتے ہیں:

’’حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی سبابہ انگلی پر اپنا لعاب ِ دہن ( تھوک) لگاتے، پھر اس کو مٹی پر رکھتے جس سے کچھ مٹی آپ کی انگلی پر لگ جاتی، پھر آپ اس انگلی کو بیماری والی جگہ پر یا زخمی آدمی پر ملتے اور مذکورہ دم پڑھتے۔ ‘‘ (حوالہ مذکور)

امام قرطبی  کہتے ہیں: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر قسم کی تکلیف میں دم کرنا جائز ہے اور نبیﷺ کا اپنی سبابہ انگلی کو مٹی پر رکھنا اور پھر اسے مریض پر رکھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دم کے وقت ایسا کرنا مستحب ہے۔ آگے چل کر مزید کہتے ہیں:

”تھوک (یا پھونک ) اور انگلی کو زمین پر، مٹی لگانے کے لیے رکھنا، یہ بذات خود کوئی مؤثر چیز میں نہیں، بلکہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ اور آثار رسول سے تبرک حاصل کرنے کے قبیل سے ہے۔‘‘ (حوالہ مذکور)

قاضی عیاض﷫ لکھتے ہیں:

” فائدة النفث التبرك بتلك الرطوبة أو الهواء الذي ماسه الذكر كما يتبرك بغسالة ما يكتب من الذكر”

’’پھونک مارنے کا فائدہ اس رطوبت (تَری) یا ہواسے برکت حاصل کرنا ہے جس کو اللہ کے ذکر نے مَس کرلیا جیسے اللہ کے ذکر کو ( کاغذ یا پلیٹ وغیرہ میں) لکھ کر، پھر اسے پانی میں ڈال کر اس کے دھونے سے تبرک حاصل کیا جا تا ہے۔‘‘

4۔ نبیﷺ کے زمانے میں بعض صحابہ کرام نے بھی دم کرنے کا یہی طریقہ اختیار کیا تھا جو مؤثر ثابت ہوا تھا اور نبی ﷺ نے بھی اس کی تحسین و تائید ہی فرمائی تھی ۔ جیسے مشہور واقعہ ہے کہ کچھ صحابہ کرام سفر میں کسی قبیلے کے پاس ٹھہرے، اس قبیلے کے لوگوں نے ان صحابہ کی مہمان نوازی نہیں کی ، اتفاق سے قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، کچھ لوگ صحابہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ اس طرح کا معاملہ ہے، کیا آپ لوگوں کے پاس اس کا کوئی علاج یا دم ہے؟ صحابہ نے کہا: تم نے ہم مسافروں کی مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے جب تک تم کوئی معاوضہ مقرر نہیں کر لیتے ہم کچھ نہیں کریں گے، انھوں نے کچھ بکریاں دینے کا وعدہ کر لیا، چنانچہ ایک صحابی نے سورۂ فاتحہ کا دم شروع کر دیا، وہ سورۂ فاتحہ پڑھتا اور اس پر تھوک کے ساتھ پھونک مارتا، حتی کہ وہ سردار ٹھیک ہو گیا۔

صحابہ کرام یہ بکریاں لے کر نبیﷺکے پاس آئے اور آپ سے اس کی بابت پوچھا، تو آپﷺ ہنسے اور فرمایا:

«وَمَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ» (صحيح بخاری: 5736)

’’ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ دم ہے؟ یہ بکریاں لے لو اور ان میں میرا حصہ بھی رکھو۔“

حافظ ابن حجر ﷫ لکھتے ہیں:

“وفيها أنه قرأ بفاتحة الكتاب وتفل ولم ينكر ذلك فكان ذلك حجة.”

”اس قصے میں ہے کہ صحابی نے سورۂ فاتحہ پڑھی اور پڑھ کر تھوکا اور اس پر نکیر (مخالفت) نہیں کی گئی ہیں یہ واقعہ حجت بن گیا۔ ‘‘

5۔ امام بخاری﷫ ملے نے ایک باب باندھا ہے: “باب النفث في الرقية” دم میں پھونک مارنا، اور اس کے تحت انہوں نے تین حدیثیں نقل کی ہیں جن میں دم پڑھ کر پھونک مارنے (نفث) کا حکم ہے یا آپ کے عمل کا ذکر ہے، اسی میں صحابہ کرام کا مذکورہ واقعہ بھی درج ہے۔

حافظ ابن حجر ﷫کرتے ہیں:

’’امام بخاری ﷫ کا مقصود اس باب سے ان لوگوں کا رد کرنا ہے جو پھونک مارنے کو مطلقاً مکروہ قرار دیتے ہیں اور ان لوگوں کا بھی رد کرنا ہے جو خاص طور پر قراءت قرآن کے وقت پھونک مارنے کو برا سمجھتے ہیں ۔‘‘

حافظ ابن حجر ﷫ مزید لکھتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ نفث میں تھوک کے باریک ذرات ہوتے ہیں : «أن فيه ريقا خفيفا» آگے جا کر پھر لکھتے ہیں:

“وقد قدمت أن النفث دون التفل، وإذا جاز التفل جاز النفث بطريق الأولی.”

’’میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ نفث ( پھونک ) تفل (تھوک) سے کم تر ہے اور جب (دم میں ) تھوکنا جائز ہے، تو پھونک مارنا تو بطریق اولیٰ جائز ہوگا ۔‘‘

مذکورہ مقدمات کا خلا صہ حسب ذیل ہے:

1۔ نبیﷺ نے سوائے شرکیہ دموں کے ہرقسم کے دم کو جائز قرار دیا ہے، وہ قرآنی کلمات کے ساتھ ہوں یا اسماء و صفات الہٰیہ کے ساتھ ہوں ۔ یا مسنون ومشروع اذ کار کے ساتھ ہوں۔

2۔ نبیﷺ معوذات پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے اور پھر انہیں اپنے چہرے اور جسم پر پھیر لیتے تھے۔

3۔ نبیﷺ نے اپنی انگشت مبارک کو اپنے لعاب دہن (تھوک ) سے تر کر کے اس پر مٹی لگائی اور پھر دم کر کے اس مٹی کو مریض پر یامریض کے درد والے حصے پر لگا دیا۔

4۔ صحابہ کرام نے سورہ فاتحہ کا دم کر کے مریض پر تھوکا جس سے مریض ٹھیک ہوگیا، آپ نے اس عمل کی تاکید فرمائی۔

5۔ دم کر کے نفث ( پھونک مارنے ) کا نبی ﷺ نے حکم بھی دیا ہے اور اس پر آپ نے عمل بھی کیا ہے۔ ان مقدمات پر غور کر کے اگر یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ پانی پر بھی دم کر کے اگر اس پر نفث یعنی پھونکا جائے ، تو ایسا کرنا جائز ہوگا، کیونکہ اول تو دم کرنے کے بعد نفث میں شفاء کی تا تیر اللہ کے حکم سے پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسرے، کھانے پینے کی چیز میں پھونک مارنے کی جو ممانعت آئی ہے، اس کے لیے نفخ کا لفظ استعمال ہوا ہے، اور دموں کے لیے ہر جگہ نفث کا لفظ آیا ہے۔

اس لیے نفث اور نفخ میں فرق کرنا ضروری ہے، لغوی اعتبار سے بھی اس فرق کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ مصباح اللغات میں ہے:

’’نفخ، منہ سے پھونک مارنا۔‘‘

اور نفث کے معنی لکھے ہیں :

’’ منہ سے پھوک مارنا اور تفل کے معنی ہیں : ’’ تھوکنا ۔ گو یا دم کر کے نفث کرنا یعنی تھوک کے باریک ذرات مریض پر پھینکنا اس میں اللہ نے شفاء رکھی ہے۔ یہ عمل اگر پانی پر کیا جائے تو پانی اللہ کے حکم سے شفاء کا ذریعہ بن سکتا ہے، چینی یا آٹے پر کیا جائے تو اس کے ذریعے سے بھی اگر اللہ چاہے تو شفاء ہوسکتی ہے۔ یہ نفخ سے مختلف عمل ہے۔ نفخ (یعنی کھانے پینے کی چیز میں یوں ہی پھونک مارنا) یقیناً ممنوع ہے ، لیکن نفث ، ایک با بر کت عمل ہے، ذکرِ الہٰی سے اس میں اللہ کے حکم سے شفا کی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔

سیدہ عائشہ کے ایک اثر سے بھی ہمارے اس موقف کی تائید ہوتی ہے، ۔ شرح السنہ میں ہے:

“روي عن عائشة انها كانت لا ترى بأسا أن يعود فى الماء ثم يعالج به المريض.”

”سیده عائشہ سے مروی ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں کہ پانی میں تعوذ (منقول دم ) پڑھا جائے اور پھر اس پانی کے ذریعے سے مریض کا علاج کیا جائے۔ (شرح السنة: 12؍166)

سیدہ عائشہ سے ایک اور اثر منقول ہے:

“كانت عائشة تقرأ بالمعوذتين في إناء ثم تأمر أن يصب على المريض.”

سیدہ عائشہ کسی برتن میں معوذتین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ) سورتیں پڑھتیں ، پھر حکم دیتیں کہ اس برتن (کے پانی) کو مریض پر انڈیل دیا جائے۔ (تفسير القرطبی، سورة الاسراء:20؍318)

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزيز بن باز ﷫جو اپنے علمی مقام و مرتبت اور قوت استنباط و تفقہ میں اس دور میں بلاشبہ آية من آیات اللہ کے مصداق تھے، وہ فرماتے ہیں:

“وكذالك الرقية في الماء لا بأس بها، وذلك بأن يقرءه فى الماء ويشربه المريض أويصب عليه.”

’’اسی طرح پانی میں دم کرنے میں کوئی حرج نہیں، بایں طور کہ پانی میں پڑھا جائے اور مریض اسے پی لے یا اسے اس پر انڈیل دیا جائے ۔‘‘

هذا ما عندی والله اعلم بالصواب

٭٭٭

رحمت الٰہی

علامہ سعدی ﷫فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا عظیم سبب یہ ہے کہ بندہ مخلوق کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرے۔‘‘

(بهجة قلوب الابرار: 269)

تبصرہ کریں