کیا حدیث اور سنت ایک ہی چیز ہے؟ فضل الرحمٰن

بعض لوگ سادے لوگوں کے دلوں سے حدیث سے محبت اور اہمیت کم کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ حدیث اور چیز ہے اور سنت اور ۔

اور یہاں تک کہنے کی جرأت کر جاتے ہیں کہ سنت تو دین ہے مگر حدیث دین نہیں ہے ۔۔۔

آئیے اس سے متعلق درست منہج کو جانتے ہیں۔

اہل علم کے نزدیک لفظ سنت ایک جامع لفظ ہے اس کے کئی ایک معانی ہیں ان میں سے ایک ’الطریقہ المسلوکہ‘ یعنی ایسا راستہ جس پر چلا جائے کا ہے۔ اس مفہوم میں سنت سے مراد پورا دین ہے۔

 قرآن مجید اور حدیث  میں یہ لفظ اچھے اور بُرے دونوں معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ نے مجرموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ  وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ﴾

’’کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے، پہلی قومیں بھی اسی سنت( روش ، عادت ) پرچلی آرہی ہیں۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ملعون لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو پکڑ لو اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کر دو اور فرمایا کہ یہ اللہ کی سنت ( طریقہ ) ہے ۔

﴿سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا﴾

’’گزشتہ لوگوں میں اللہ کی یہی سنت (طریقہ) جاری رہی ہے اور آپ اللہ کی اس سنت (طریقہ) میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ ‘‘

اسی طرح صحیح بخاری میں لفظ سنۃ الجاھلیۃ استعمال ہوا ہے : 

«أبغضُ الناس إلى الله ثلاثة: ملحدٌ في الحرم، ومبتغٍ في الإسلام سنةَ الجاهلية، ومطَّلبُ دم امرئٍ بغير حقٍّ لِيُهَرِيقَ دمه»

’’جو لوگ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ناپسند ہیں ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اسلام میں جاہلیت کی سنت ( طریقہ ) تلاش کرتا ہے۔‘‘

اسی طرح یہ لفظ بدعت کے مقابلے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

الوجیز فی اصول الفقہ الاسلامی میں سنت کی مبحث میں سنت کی تعریف اس طرح کی گئی ہے ، 

“تعريف السنة لغة: هي الطريقة والعادة، حسنة كانت أم سيئة.”( القاموس المحيط: 4 ؍236) ومنه قوله تعالى:﴿سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا﴾  [الإسراء: 77] ومنه قول رسول الله ﷺ: «من سنَّ في الإِسلام سُنّة حسنة فله أجرُها وأجرُ من عَمِل بها من بعده من غير أن يَنْقُصَ من أجورهم شيء، ومن سَنَّ في الإِسلام سُنة سيئة كان عليه وزرُها ووزرُ من عَمِلَ بها من بعده من غير أن يَنْقص من أوزارهم شيء.»  ( رواه مسلم عن جرير، ورواه الترمذي والنسائي وابن ماجه) ، ومن قولهﷺ : «لتتَبِعُنَّ سنَنَ من كانَ قبلكم شِبرًا بشِبرٍ وذِراعًا بذراع» (رواه الشيخان عن أبي سعيد الخدري)

تعريف السنة اصطلاحًا: عرف علماء الأصول السنة بأنها: “ما نقل عن رسول ﷺ من قول أو فعل أو تقرير.” (إرشاد الفحول: 33)

فالسنة إما أن تكون قولية أو فعلية أو تقريرية. (الوجیز في أصول الفقه الإسلامي المبحث الثانی فی السنة الشریفة: ص185)

’’عربی لغت کی مشہور اور مستند کتاب القاموس المحیط میں سنت کا لغوی معنی طریقہ اورعادت  ، اچھا ہو یا برا بیان ہوا ہے۔ اور اسی لغوی معنی پر صاحب کتاب الوجیز فی اصول الفقہ نے دلیل قران مجید کی یہ آیت مبارکہ دی ہے،  ’’ ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے ان میں یہی ہماری سنت (طریقہ) رہی ہے اور ہماری اس سنت  (طریقہ ) میں آپ تبدیلی نہیں پائیں گے ۔‘‘ ( سورہ بنی اسرائیل : 77)

اور اسی لغوی معنی پر حدیث رسول ﷺ  كا ایک ٹکڑا پیش کیا کہ  ”جس نے اسلام میں آ کر اچھی سنت  (یعنی طریقہ وغیرہ) جاری کی اس کے لئے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ عمل کریں (اس کی دیکھا دیکھی) ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا کچھ ثواب گھٹے اور جس نے اسلام میں آ کر بری سنت  ( چال ، طریقہ، عادت وغیرہ ) ڈالی اس کے اوپر اس کے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد عمل کریں بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا بار کچھ گھٹے۔“ (صحیح مسلم کتاب العلم : 1017 اور ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ)

اورسنت کے  اسی لغوی معنی طریقہ و عادت کے متعلق یہ حدیث رسول بھی بیان کی ،   نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”تم لوگ پہلی امتوں کی سنتوں (طریقوں) کی قدم بقدم پیروی کرو گے۔

( صحيح بخاری وصحيح  مسلم )

اور سنت کا اصطلاحی معنیٰ بیان کرتے ہوئے کہا کہ علماء  اصول (فقہ ) کے نزدیک سنت سے مراد ہر وہ چیز ہے جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہے چاہے وہ قول ہو، فعل ہو یا تقریر (تقریر کا معنی یہ ہے کہ کسی صحابی نے آپ کے سامنے کوئی عمل کیا یا بات کہی اور آپ ﷺ اس پر خاموش رہے یا اس کو درست کہا) پس سنت قولی ، فعلی اور تقریری ہو سکتی ہے۔

سنت اور حدیث دونوں ایک معنیٰ میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

 تعريف السنة عند (المحدِّثين)

محدثین کے نزدیک سنت کی تعریف:

ما أُثِرَ عن النَّبي ﷺ من قولٍ، أو فِعْلٍ، أو تقريرٍ، أو صِفةٍ خَلْقِيَّةٍ، أو سِيرةٍ سواء كان قبل البعثة أو بعدها (السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي، د.مصطفى السباعي: 47)

’’سنت ہر اس چیز  (حکم ) کو کہتے جو نبی ﷺ سے ماثور ہو آپ کے قول، فعل، تقریر، صفت خلقی (پیدائشی )،  یا سیرت سے چاہے وہ بعثت سے پہلے کی ہو یا بعد کی ہو ۔ ‘‘

“وهذا التَّعريف للسُّنة – عند المحدِّثين – ينطبق تماماً على الحديث، فهُما مترادفان، يُوضع أحدهما مكان الآخر.” (السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي:ص47)

’’محدثین کے نزدیک سنت کی یہ تعریف حدیث پر پورے طریقے سے منطبق ہوتی ہے پس یہ دونوں (سنت اور حدیث ) مترادف لفظ ہیں ، ہر ایک کو دوسرے کی جگہ پر رکھا جاسکتا ہے۔ ‘‘

محدثین کے نزدیک ہر حدیث سنت ہے اور ہر سنت حدیث ہے۔

تعريف السُّنة عند (الأصوليين):

ما صُدر عن النَّبي ﷺ غير القرآن الكريم، من قولٍ أو فِعلٍ أو تقريرٍ، مِمَّا يصلح أن يكون دليلاً لِحُكمٍ شرعي. [الإحكام في أصول الأحكام، علي بن محمد الآمدي:1/227) ؛ إرشاد الفحول إلی تحقيق علم الأصول، محمد بن علي الشوكاني: 29)

’’اصول فقہ کے علماء کے نزدیک سنت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو قرآن مجید کے علاوہ نبی کریم ﷺ سے آئی ہو آپ کے اقوال، افعال ، تقریرات  سے جو حکم شرعی پر دلیل بننے کی صلاحیت رکھتی ہو یعنی  صحیح یا حسن درجے کی ہو۔ (تقریر اس چیز (حکم ، بات ، عمل ) کو کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے کسی نے کوئی بات کہی یا عمل کیا اور آپ نے اس کو درست کہا یا آپ خاموش رہے )‘‘

تعريف السُّنة عند (الفقهاء)

كلُّ ما ثبت عن النبي ﷺ، ولم يكن فرضاً أو واجباً؛ كالمندوب والمُستحب والتَّطوع والنَّفل. (إرشاد الفحول إلی تحقيق علم الأصول، محمد بن علي الشوكاني: 33)

’’فقہاء کے نزدیک سنت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو نبی ﷺ سے ثابت ہو اور وہ فرض و واجب نہ ہو۔‘‘

سب سے جامع اور معنی و مفہوم کے اعتبار سے  وسعت والی سنت کی تعریف محدثین کی ہے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ سنت حجت ہے اور حدیث حجت نہیں باطل اور فضول قول ہے۔صحیح حدیث اسی طرح دین و شریعت ہے جس طرح قران مجید دین و شریعت ہے ۔ واللہ اعلم

٭٭٭

تبصرہ کریں