کسی کو کافر، فاسق یا بدعتی قرار دینا! احمد بن ناصر الطیار۔ ترجمہ: حافظ فیض اللہ ناصر

٭ امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی صفات کے منکر کو اسی وقت ہی کافر قرار دیا جائے جب معلوم ہوکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان علم میں آ جانے کے باوجود انکار کر دیا۔ یہ سراسر معاندانہ رویہ ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی توفیق مانگتے ہیں۔ اگر وہ اعتراف کرے کہ یہ حق ہے لیکن میں اس کے معانی کو گہرائی سے سمجھ رہا ہوں؛ تویہ احسن عمل ہے ۔ اور اگر وہ اس پر ایمان لائے اور اس سب کی تاویل کرے، یا اس کے کچھ حصے کی تاویل کرے، تو یہ معروف طریقہ ہے۔ (سیر ا علا م النبلاء (تھذیب):3؍ 1164)

٭ زاھر بن احمد سرخسی بیان کرتے ہیں کہ جب ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ کی موت کا وقت قریب آیا اور وہ بغداد میرے گھر میں موجود تھے ، انہوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس آیا تو کہنے لگے: مجھ پر گواہ رہنا کہ میں نے کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کی، اس لیے سبھی ایک ہی معبود کے ماننے والے ہیں اور ان کا باہمی اختلاف صرف عبارات کا اختلاف ہے۔

اس طرح کا فرمان ہمارے شیخ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ سے منقول ہے ، جب وہ اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں تھے تو فرماتے تھے: میں نے اُمت مسلمہ میں سے کسی ایک بھی شخص کی تکفیر نہیں کی۔ اور فرماتے: نبی کریم ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے کہ:

((لَا یُحافِظُ عَلیَ الُوُ ضُوئِ اِلَّا مُومِنٌ)) ’’وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کرتا ہے ۔‘‘(صحیح ابن حبان؛1037)

لہٰذا جو شخص وضو کے اہتمام کے ساتھ نمازوں کی پابندی کرتا ؛ وہ مسلمان ہے۔ سیراعلام النبلاء (تہذیب ): 3؍ 1174)

٭ امام ذہبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: جس طرح عہد نبوی میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ جو اپنی نسبت تو نبی ﷺ کی صحبت اور دین کی طرف کرتے تھے جبکہ باطنی طور پر وہ پکے منافق تھے اور آپ ﷺ کو بھی ان کا علم نہیں تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تذکرہ فرمایا ہے: ﴿وَمِن اَھلِ المَدِینَۃِ مَرَدُ وا عَلیَ النِّفَاقِ لَا تَعلَمُھُم نَحنُ نَعلَمُھُم سَنُعذّ ِ بُھُم مَّرَّتَینِ ثُّمَّ یُرَ دُّون َ اِلی عَذَاب ِ عَظِیم﴾ (التوبہ:101)

’’مدینہ کے باشندوں میں سے کچھ لوگ منافق ہیں، جو نفاق میں طاق(پختہ )ہو چکے ہیں، آپ کو ان کا علم نہیں ہے ، انہیں ہم ہی جانتے ہیں، عنقریب ہم ان کو دو ہرا عذاب دیں گے، پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لو ٹا دئیے جائیں گے۔‘‘

جب سید البشر ﷺ بھی ان منافقین سے لاعلم رہے ، حالانکہ وہ کئی سال آپ کے ساتھ ہی مدینہ رہے، تو آپ ﷺ کے بعد آنے والے اہل علم کا ایسے لوگوں سے واقف و باخبر ہونا با لا ولیٰ ناممکن ہے۔ لہٰذا کوئی بھی شخص کسی کو کافر قرار دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرے یہ کسی طرح بھی مناسب اور جائز عمل نہیں ہے ، البتہ اگر کوئی واضح دلیل مل جائے اور شرعی حجت قائم ہو جائے تو پھر ہی تکفیر کی اجازت ہے ۔ ورنہ یہ اسی طرح ناجائز ہے جس طرح ایسے شخص سے دوستی رکھنا ناجائز ہے جس کی گمراہی واضح اور اس کا زندیق ہونا بے نقاب ہو چکا ہو۔ چنانچہ نہ یہ جائز ہے اور نہ ہی وہ جائز ہے، بلکہ معتدل راہ یہ ہے کہ جس شخص کو مسلمان لوگ نیک اور اچھا سمجھتے ہوں اس کو ویسا ہی سمجھا جائے ، کیونکہ مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہوتے ہیں۔ جب تک ساری اُمت کسی کو گمراہ قرار دینے پر اکٹھی نہ ہو جائے۔ دوسرا وہ شخص کہ جس کو تمام مسلمان فاجر، منافق یا باطل کا حمایتی سمجھتے ہوں تو اسے ایسا ہی شمار کیا جائے گا ۔ تیسرا وہ شخص کہ جسے اُمت کا ایک گروہ گمراہ قرار دیتا ہو، دوسرا گروہ اس کو اچھا سمجھتا ہو اور اس کا احترام کرتا ہو، جبکہ تیسرا گروہ اس کے بارے میں توقف اختیار کرتا ہو اور اس پر کسی بھی قسم کا حکم لگانے سے اجتناب کرتا ہو، تو ایسے شخص سے اعراض ہی مناسب ہے ، اس کے لیے استغفار کیا جائے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے، کیونکہ اس کے مسلمان ہونے کے متعلق حتمی اور یقینی رائے موجود ہوتی ہے جبکہ اس کی گمراہی مشکوک ہوتی ہے۔ اس طریقے سے آپ کا دِل مومنوں کے بارے میں بدگمانی اور بغض کا شکار ہونے سے بھی محفوظ اور پاک صاف رہتا ہے۔

یاد رکھیں!صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سو ا ایک قبلے کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنے والے ، خواہ وہ مومن ہوں یا فاسق ، سُنی ہوں یا بدعتی، کسی ایک شخص کے متعلق ایسا اجماعی موقف نہیں اپنا سکتے کہ وہ نجات یافتہ اور سعادت مند ہے اور نہ ہی سبھی کسی ایک مسلمان کے متعلق ایسی رائے پر اکٹھے ہو سکتے ہیں کہ وہ بد بخت اور ہلاک ہونے والا ہے ۔ آپ سیدنا صدیق اکبرؓ کا معاملہ ہی دیکھ لیجئے کہ ان پر بھی تمام لوگوں کا ایک سا موقف نہیں ہے اسی طرح سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علی ؓ ، سیدنا ابن زبیرؓ کا معاملہ ہے۔

ایسے ہی حجاج ، مامون ، بشرالمریسی ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی ، امام بخاری ، امام نسائی کے بارے میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یعنی آج تک کسی کے متعلق خیر اور شر میں سے کسی ایک فیصلے پر سبھی لوگ اکٹھے نہیں ہوئے۔ جو نیکی و تقویٰ میں کامل ہو اس کے متعلق بھی کچھ جاہل ، بدعتی ، متعصب اور رافضی لوگ غلط رائے اپنا لیتے ہیں اور مذمت کرنے لگتے ہیں اسی طرح اگر کوئی شخص بہت بڑا بدعتی ، جہمی اور رافضی ہو تو اس کے ہم فکر لوگ اس کو اچھا اور بھلا ہی سمجھتے ہیں اس کا دفاع اور تائید کرتے ہیںاور اس کی ہفوات اپنی جہالت کی بناء پر دین کا درجہ دینے لگتے ہیں البتہ ایسے شخص کے متعلق معتبر بات انہی لوگوں کی ہو گی جو علم و و َرع سے متصف ہوں اور جہالت و خواہش پرستی سے پاک ہوں۔ (سیر اعلام النبلاء (تہذیب ): 3؍ 1158، 1159)

تبصرہ کریں