خطبہ حج۔ خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد بن سعید

ہر طرح کی حمد وثناء اللہ ہی کے لیے ہے، جو بڑی عزت والا ہے اور بہت دینے والا ہے، اللہ تعالی نے اجتماعیت کو نجات کا ذریعہ اور تفرقہ بازی کو باعث عذاب بنایا ہے۔ اس نے اتحاد و اتفاق کا حکم دیا ہے اور متحد ہونے کی تلقین فرمائی ہے۔ تفرقہ بازی اور اختلافات کو بڑھانے والی چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ہم اسی سے امید رکھتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ ‎﴾

’’تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 163)

میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے اتحاد واتفاق اور اجتماعیت کا حکم دیا، تنازعات سے منع فرمایا۔ اللہ نے آپ ﷺ کے ذریعے دلوں کو جوڑا اور لوگوں کے احوال کو درست کیا۔ آپ ﷺ کو رسالت کی تبلیغ کر کے اس امانت کو ادا کرنے کا حکم دیافرمان الٰہی ہے :

﴿ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ﴾

’’آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ‘‘(سورة الاعراف: 158)

اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت اور صحابہ کرام پر بھی بہت سلامتی نازل ہو۔

بعد ازاں! اے مسلمانو! اللہ سے ڈرو، اس کی فرمانبرداری کرو، اس کی شریعت کی پابندی کرو، جو حدود اس نے متعین کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، تاکہ تم اصلاح کرنے والے اور دنیا وآخرت میں کامیاب ہونے والے بن جاؤ۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾

’’یہ حدیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ (ﷺ) کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔‘‘ (سورۃ النساء: 13)

شریعتِ کی پابندی کا اہم ترین پہلو ہے کہ عبادت کسی بھی صورت میں غیر اللہ کے لئے نہ کی جائے۔ اللہ کا فرمان ہے:

﴿ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

’’حکمرانی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی درست دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘(سورۃ یوسف: 40)

جو اہلِ توحید میں سے ہوگا، وہی ہدایت پر ہو گا، وہی کامیاب ہوگا اور اسی کی آخرت بہتر ہوگی۔ اللہ تعالی کافرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ﴾

’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اے لوگو ، صرف اللہ کی عبادت کرو اورطاغوت سے بچو ۔ بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی، تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ (سورۃ النحل: 36)

اسی طرح کلمہ توحید پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

﴿ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۘ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾

’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے ۔ اسی کا حکم ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (سورۃ القصص: 88)

اسی طرح محمد ﷺ کی رسالت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: ﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ﴾

’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘‘ (سورۃ محمد: 29)

ایک جگہ فرمایا:

﴿ مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴾

’’(لوگو) محمد تم میں سے کسی کے پاب نہیں ہیں ، لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے واﻻ ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب: 40)

کلمۂ توحید کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کو حق تسلیم کیا جائے، جن چیزوں کا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے، ان کی پابندی کی جائے، جن سے آپ ﷺ نے روکا ہے، ان سے بچا جائے اور اللہ کی عبادت صرف اس طریقے سے کی جائے جو آپ ﷺ نے بتایا ہے۔

یادر ہے کہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے میں سے اولین چیز پانچ نمازیں ادا کرنا ہے، پھر زکوٰۃہے، جسے فقراء اور مساکین کی مدد کرنے کے لئے ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے مختلف مفادات پر خرچ ہونے والا مال بھی صدقہ ہی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ﴾

’’اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو ۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 43)

احکامِ الٰہی میں رمضان کے روزے رکھنا بھی شامل ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ﴾

’’ تم میں سے جو شخص رمضان کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے‘‘ (سورۃ البقرہ: 185)

اسی طرح حجِ بیت اللہ بھی اللہ کا حکم ہے۔ فرمایا:

﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا‎﴾(سورۃ آل عمران: 97)

’’ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کے ماننے سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام د نیا والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘

یہ اسلام کے پانچ ارکان ہیں، جنہیں بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:

“الإسلامُ أن تشهدَ أن لا إلهَ إلا اللهُ وأن محمدًا رسولُ اللهِ، وتقيمَ الصلاةَ، وتؤتِي الزكاةَ، وتحجَّ البيتَ” (صحيح مسلم: 8)

’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکٰوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔‘‘

اسی طرح ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اللہ کے فرشتوں پر، اللہ کی کتابوں پر، اللہ کے رسولوں پر، یوم آخرت پر اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھو۔

جبکہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت یوں کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہیں تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔

اے بیت اللہ کے حاجیو! حج کے موقع پر جو خطبہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا، اس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

“يا أيُّها النّاسُ، ألا إنّ ربَّكم واحدٌ، وإنّ أباكم واحدٌ، ألا لا فَضْلَ لِعَربيٍّ على أعجَميٍّ، ولا لعَجَميٍّ على عرَبيٍّ، ولا أحمَرَ على أسوَدَ، ولا أسوَدَ على أحمَرَ إلّا بالتَّقْوى، ألا هل بلَّغتُ؟ إنّ دماءَكم وأموالَكم عليكم حرامٌ كحُرمةِ يومِكم هذا في بلدِكم هذا” (حلية الأولياء: 3/100، السلسلة الصحيحة: 2700)

’’اے لوگو! آپ کا رب بھی ایک ہے اور آپ کا الٰہ بھی ایک ہے۔ سنو! کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، یا کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری نہیں ۔ تم میں معزز ترین وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ سنو! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ اللہ نے تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے یوں محترم رکھی ہیں، جیسے اس مہینے اور اس شہر میں اس دن کو محترم رکھا ہے۔

زبانوں رنگوں اور برادریوں کا اختلاف کسی لڑائی جھگڑے کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ تو کائنات میں اللہ تبارک و تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ﴾

’’اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا بھی ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورۃ الروم: 22)

بہت سی آیات اور احادیث میں اس چیز کی تاکید کی گئی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اور اتحاد اتفاق کے ساتھ رہیں، اجتماعیت کا حکم دیا گیا ہے، محبت اور الفت قائم رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، تنازعہ، اختلافات اور جھگڑوں سے دور رہنے کا کہا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ﴾

’’اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پھر تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 103)

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

“يَرضى لكم أنْ تَعبُدوه ولا تُشرِكوا به شيئًا، وأنْ تَعتَصِموا بحبلِ اللهِ جميعًا ولا تَفَرَّقوا” (صحيح مسلم: 1715)

’’اللہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، وہ یہ بھی پسند کرتا ہے تم سب مل کر اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور اختلافات میں نہ پڑو۔‘‘

اسی لئے اللہ تبارک و تعالی نے اپنے نبی کریم ﷺ پر مہربانی فرما کر صحابہ کرام کو آپ ﷺ کے گرد اکٹھا فرما دیا۔ فرمایا:

﴿هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ0 وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾

’’ وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ذریعے اور اہلِ ایمان کے ذریعے طاقت بخشی، اور اسی نے مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ جو زمین میں ہے خرچ کر ڈالتے تو بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان محبت پیدا فرما دی۔ بیشک وہ بڑے غلبہ والا حکمت والا ہے، ‘‘ (سورۃ الانفال: 62۔63)

اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اختلافات سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾

’’بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ انہیں ان کے اعمال کی خبر دے دے گا‘‘ (سورۃ الانعام: 159)

اسی طرح:

﴿ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴾(سورۃ آل عمران: 105)

’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔‘‘

اتحاد واتفاق کو اتنی اہمیت اس لئے دی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت کے فوائد اسی پر منحصر ہیں۔ یہ موجود ہو، تو ہی گناہوں سے بچا جاسکتا ہے، نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں تعاون ہو سکتا ہے، اسی کے ساتھ نصرت ملتی ہے اور اسی کے ساتھ باطل کا قلع قمع ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اور گھات لگا کر بیٹھے حاسدوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

ہاں، مگر جب اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں تو لوگوں کے دلوں میں نفرتیں پیداہو جاتی ہیں، خواہش پرستی نظر آنے لگتی ہے، مخالفت میں لوگ ایک دوسرے کے مقابل آ جاتے ہیں، حرام طریقوں سے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے، ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھایا جاتا ہے، لوگ حرام کا رخ کرنے لگتے ہیں۔ امت کے لئے تعمیر و ترقی کی راہ پر چلنا مشکل اور نیکیوں پر قائم رہنا دشوار ہو جاتا ہے، رسول اکرم ﷺ کا فرمان:

“مثلُ المؤمنين في توادِّهم وتراحمِهم وتعاطفِهم كمثلِ الجسدِ الواحدِ إذا اشتكى منه عضوٌ تداعى له سائرُ الجسدِ بالحمى والسهرِ” (صحيح بخاری: 6011)

’’مسلمانوں کی باہمی مودت، محبت اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی ہے، جس کا ایک حصہ بیمار ہو جائے تو سارا جسم بے تابی اور بخار میں رہتا ہے‘‘

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“المُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كالبُنْيانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا” (صحيح بخاری: 6026)

’’مومنوں کے باہمی تعلق کی مثال ایک دیوار کی ہے، جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا ہے۔‘‘

اجتماعیت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے، جو اسے چھوڑتا ہے اس کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔

اجتماعیت کی اہمیت دیکھنی ہو تو ان اثرات کو دیکھ لینا چاہیے جو تفرقہ بازی اور اختلافات کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ خواہ وہ معاشرتی سطح پر ہوں یا خاندانی اور افراد کی سطح پر ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ‎﴾(سورۃ البقرہ: 176)

’’مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے۔‘‘

اسی لئے شریعت نے یہ اہتمام کیا ہے کہ تخریب کاری اور معاشرتی تباہی کے تمام راستوں کو بند کیا جائے، جو سماج کو برباد کر دیتے ہیں۔ اسلام نے معاشرے کے گرد ایسا مضبوط حصار قائم کیا ہے کہ جو معاشرتی بنیادوں کو کھوکھلا ہونے سے روکتا ہے اور معاشرتی بنیاد کو خرابی سے بچاتا ہے۔ اس تحفظ کا اہتمام خاندانی اور افراد کی سطح پر ہی نہیں بلکہ ملکی اور عالمی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالی نے اختلافات کی صورت میں مسلمانوں کو کتاب و سنت کی طرف لوٹنے کا حکم دیا:

اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾

’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور اپنے ولی امر کی ۔ اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بہت اچھا ہے۔‘‘ (سورۃ النساء: 59)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴾

’’اور جس جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں (10)‘‘ (سورۃ الشوریٰ: 10)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ۙ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾

’’اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وه اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان والوں کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے ‘‘ (سورۃ النحل: 64)

اللہ تعالیٰ نے اچھے اخلاق اپنانے، اچھا برتاؤ کرنے اور دوسروں کے ساتھ نرمی اور رحمت والا معاملہ کرنے کی کی تلقین فرمائی ہے۔ فرمایا:

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ﴾

’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 159)

اسی طرح صبر وتحمل اختیار کرنے اور دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرنے کی بھی تلقین کی ہے۔ فرمایا:

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (سورۃ الانفال: 46)

’’اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾ (سورۃ آل عمران: 133)

’’اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے‘‘

اتحاد و اتفاق کے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ نے معاشرتی، خاندانی اور ایمانی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں صلہ رحمی کا حکم دیا، زوجین، والدین، بیٹوں اور بیٹیوں کے حقوق بیان کئے، رشتہ داروں، قرابت داروں اور مسکینوں کے ساتھ احسان والا معاملہ کرنے کی تلقین کی۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ﴾

’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں سے بھی اچھائی کرو اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر سے بھی ، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، ان سے نیکی کیا کرو، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا فخر کرنے والا ہو ۔‘‘ (سورۃ النساء: 36)

حدیث میں آتا ہے:

“لا يؤمنُ أحدُكم حتى يحبَّ لأخيه ما يحبُّ لنفسِه” (صحيح البخاري: 13)

’’تم میں سے کوئی صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کیلئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے‘‘

شریعتِ اسلامیہ نے نیک کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ﴾

’’نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناه اور ظالم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔‘‘ (سورۃ النساء: 2)

نازیبا اندازِ گفتگو سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:

﴿وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوًّا مُّبِينًا﴾ (سورۃ الاسراء: 53)

’’اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات کیا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘

شریعت میں افواہوں اور معاشرے میں پھیلنے والی سنسنی خیز خبروں کی پیروی سے روکا گیا ہے، جن کا مقصد اجتماعیت کو ختم کرنا ہو۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾

’’ اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ ۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 6)

اس لیے اہل اسلام کو ان مذموم حملوں سے بچنا چاہیے جو مختلف ذرائع اور طرح طرح کے طریقوں سے کیے جاتے ہیں اور جن کا مقصد اتحاد و اتفاق کو پاش پاش کرنا اور معاشرے کے ایک حصہ کو دوسرے کے خلاف بھرنا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی عبادات تجویز فرمائی ہیں جن کی ادائیگی کے لیے اجتماعیت ضروری ہے، جیسا کہ آپ کی یہ عبادت جس کی ادائیگی کے لیے آپ میدانِ عرفات میں اکٹھے ہوئے ہیں، اسی طرح آپ جمعہ اور جماعت کی نماز کے لیے بھی اکٹھے ہوتے ہیں ۔

اجتماعیت کو فروغ دینے کا کا ایک اہم ذریعہ وہ بھی ہے جس کی طرف شریعت نے بھی اشارہ کیا ہے اور جو معاشرتی فلاح و بہبود سے متعلق ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شریعت میں زکوٰۃ ادا کرنے، صدقات دینے، وقف کرنے اور خیرات کرنے کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾

’’اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور سفارش ہو گی۔ اور کافر ہی ظالم ہیں ۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 254)

جو لوگ لڑائی یا جھگڑے کا شکار ہو جاتے ہیں یا ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں، شریعتِ اسلامیہ نے انہیں یاد دلایا کہ وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ایسے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی ترغیب دلائی گئی۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ‎﴾

’’یاد رکھو، سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘ (سورۃ الحجرات: 10)

امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کی تربیت بھی اتحاد و اتفاق کی بنیاد پر کرے۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ (سورۃ الانبیاء: 92)

’’یہ تمہاری امّت حقیقت میں ایک ہی امّت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

﴿ وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴾

’’یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔‘‘ (سورۃ الانعام: 153)

اسی طرح شریعت اسلامیہ میں حاکم کی اطاعت کا حکم بھی آیا ہے۔ یہ بھی اس لیے کہ اتحاد و اتفاق کا مقصد پورا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ وکا فرمان ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ﴾

’’ااے لوگو جو ایمان لائے ہوئے، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔‘‘ (سورۃ النساء: 59)

اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“على المرءِ المسلمِ الطّاعةُ فيما أحبَّ وكرِه، إلّا أن يُؤمرَ بمعصيةٍ” (صحيح بخاری: 7144)

’’مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند چیزوں میں ولی امر کی اطاعت کرے، جب تک اسے کسی گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔‘‘

ولی امرکی اطاعت کی ایک شکل یہ ہے کہ لوگوں کو حکمرانوں کے قریب کیا جائے اور سمع واطاعت کی تلقین کی جائے، اسی طرح ملک اور قوم کے مفاد میں حکمرانوں کا ہاتھ بٹایا جائے اور ان کے لیے دعا بھی کی جائے۔

اگرچہ اتحاد واتفاق کو قائم رکھنے اور اختلافات سے دور رہنے کا حکم ہر وقت اور ہر جگہ کے لیے ہے، مگر حج کے دوران اس کی تاکیدِ مزید کی جاتی ہے، کیونکہ یہاں حج کے مناسک ادا کیے جاتے ہیں۔ حاجی کو ایسے تمام کاموں سے بچنا چاہیے جو اسے عبادت سے دور کر دیں، بلکہ اسے عبادت الٰہی میں اپنا سارا وقت لگانا چاہیے۔ ایسی تمام چیزوں سے دور رہنا چاہیے جو دیگر حجاج ، رحمٰن کے مہمانوں کے سکون واطمینان میں خلل پیدا کرتی ہوں۔

اے مسلمانو: اے بااثر شخصیات! امت کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اسے اتحاد و اتفاق کی طرف لانے کی کوشش کرو، فتنوں کو ختم کرو، فتنہ پروروں کا منہ بند کرو، نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کو یاد رکھو:

“يَسِّرُوا ولا تُعَسِّرُوا، وبَشِّرُوا، ولا تُنَفِّرُوا” (صحيح بخاری: 69)

’’آسانیاں پیدا کرو کرو، لوگوں کے لیے مشکلات پیدا نہ کرو، خوشخبریاں دو اور لوگوں کو متنفر نہ کرو۔‘‘

اسی طرح آپ ﷺ کے اس فرمان کو بھی یاد رکھو:

“وتَطاوَعا ولا تَخْتَلِفا” (صحيح مسلم: 1733)

’’مل جل کر رہو اور جھگڑوں سے بچو۔‘‘

جو لوگ جھگڑوں کا شکار ہیں، انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے، ایک دوسرے کی جانوں کی حفاظت کرنی چاہیے، معاشرے کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ﴾

’’اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 9)

یاد رکھو کہ حق کے معاملے میں کسی کے تابع ہونا باطل میں قائد بننے سے بہتر ہے۔ جو اللہ کے لیے کسی چیز کو ترک کرتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔

اے بیت اللہ کے حاجیو! میدانِ عرفات میں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد سیدنا بلال کو اذان اور اقامت کہنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر بلال کو اقامت کہنے کا کہا اور عصر کی دو رکعتیں ادا کیں۔ ہم بھی ان شاءاللہ ایسا ہی کریں گے۔

پھر آپ ﷺ عرفات کے میدان میں غروب آفتاب تک اپنی اونٹنی پر رہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ نے مزدلفہ کا رخ کیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تحمل مزاجی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

“أيُّها النّاسُ علَيْكُم بالسَّكِينَةِ فإنّ البِرَّ ليسَ بالإيضاعِ” (صحيح البخاري: 1671)

’’اے لوگو! سکینت اور وقار اختیار کرو، کیونکہ جلد بازی کرنا کوئی نیکی نہیں ہے‘‘

مزدلفہ پہنچ کر آپ ﷺ نے جمع اور قصر کرتے ہوئے مغرب کی تین رکعتیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں اور پھر رات بھر مزدلفہ میں رہے۔ اول وقت میں فجر ادا کی، پھر روشنی پھیلنے تک محوِ دعا رہے، جس کے بعد منیٰ کی طرف چل پڑے، جہاں آپ ﷺ نے طلوع آفتاب کے بعد جمرہ عقبہ پر سات کنکریاں ماریں۔ پھر آپ ﷺ نے قربانی کے جانور کو ذبح کیا اور اپنا سر منڈوایا اور پھر طواف افاضہ کیا۔ ایامِ تشریق کے دوران آپ ﷺ نے منیٰ میں ہی رہے، اللہ کا ذکر کرتے رہے، روزانہ سورج ڈھلنے کے بعد تینوں جمراتکو کنکریاں مارتے، چھوٹے اور درمیانے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا کرتے جبکہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا نہ کرتے۔ جن کا کوئی عذر ہوتا انہیں نبی ﷺ نے منیٰ میں ٹھہرنے سے رخصت دے دی۔ سنت یہ ہے کہ تیرہویں تاریخ تک منیٰ میں رہا جائے اور یہی افضل بھی ہے، البتہ آپ ﷺ نے بارہ تاریخ کو منیٰ سے رخصت ہو جانے کی اجازت دی تھی۔ حج کے بعد آپ ﷺ نے واپسی کا سفر شروع کرنے سے پہلے طواف وداع کیا۔

اے بیت اللہ کے حاجیو! آپ ایک انتہائی مبارک دن اور فضیلت والی جگہ میں موجود ہیں ، جہاں گناہوں کی معافی اور دعاؤں کی قبولیت کی بہت امید ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج میں عرفات کے دن روزہ نہیں رکھا تھا، تاکہ خوب ذکر اذکار اور دعا کر سکیں۔ تو اپنے پروردگار سے کثرت سے دعائیں کرو، اپنے لیے بھی، اپنے پیاروں کے لیے بھی اور ان لوگوں کے لئے بھی بھی جن کے آپ کے ذمے ہیں کچھ حقوق ہیں۔ سب مسلمانوں کے لئے دعا کرو کہ اللہ ان کے احوال کو درست کرے اور انہیں اتحاد واتفاق نصیب فرمائے۔

اپنے محسنوں کے لیے دعا کرنا نہ بھولو جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

“من صنع إليكم معروفًا فكافئوه فإن لم تجدوا ما تكافئونه فادعوا له حتى تروا أنكم قد كافأتموهُ” (سنن أبي داوود: 1672)

’’جو آپ کے ساتھ کوئی نیکی کرے، اس کو بدلہ دو اور اگر تم اسے بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ، تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ آپ کو لگے کہ آپ نے اس کا قرض چکا دیا ہے۔‘‘

مسلمانوں کے ساتھ بھلا کرنے اور ان پر بہت بڑا احسان کرنے والوں میں وہ لوگ سر فہرست ہیں جو حرمین شریفین کی خدمت اور رحمان کے مہمانوں کی آسانی کے لیے اپنی نیندیں قربان کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں اولین نام خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد د شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے ساتھ ساتھ کام کرنے والے ہیں۔ تو اللہ سے ان کے لیے دعائیں کیجئے۔

اے زندہ و جاوید! یا ذالجلال والاکرام۔ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو خادم حرمین شریفین کو کامیاب فرما۔ اے اللہ! خیر کے ہر کام میں تو اس کی مدد اور نصرت فرما۔ اے اللہ! مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کو بڑھانے کے لئے جو خدمات وہ سر انجام دے رہے ہیں، ان پر انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔ اے اللہ! ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو برکت عطا فرما۔ اس کے ذریعے خادم حرمین کو تقویت عطا فرما۔ اسے اتحاد واتفاق کا ذریعہ بنا۔

اے اللہ حجاج کرام کا حج قبول فرما۔ ان کے معاملات آسان فرما۔ برا چاہنے والوں کے شر سے انہیں محفوظ فرما۔

اے اللہ!ان کے گناہ معاف کر کے اور ان کی حاجت مکمل کر کے انہیں ان کے ملکوں تک سلامتی کے ساتھ لوٹا دے۔

اے اللہ! مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں، مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو معاف فرما، انہیں اتحاد و اتفاق نصیب فرما۔ ان کے دلوں کی اصلاح فرما۔ ان کے معاملات کو سنبھال لے۔ انہیں ان کے ملکوں میں امن نصیب فرما۔ انہیں حق پر اکٹھا فرما۔ ان کی جانوں کی حفاظت فرما۔ انہیں ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! انہیں اچھے کاموں اور اچھی باتوں کی توفیق عطا فرما۔

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ *‏ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ *‏ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (الصافات: 180-182)

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں اور سلام ہے رسولوں پر اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘

تبصرہ کریں