خطبہ ’’غدیر خم‘‘ کی تشریح اور پس منظر۔ حافظ عبد الاعلیٰ درانی(بریڈ فورڈ، برطانیہ)

’’غدیر خم کا خطبہ ‘‘اہل سنت اور شیعہ کے درمیان ایک بڑا محل نزاع بنایا ہوا ہے۔ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے ۔ جسے چاہتاہے عطا فرما دیتا ہے ۔ ولکن اللہ یھدی من یشاء ۔ آج کی نشست میں ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کو بھی تحقیق و واقعات کی روشنی میں بیان کیاجائے ۔ وھو الموفق

خطبہ غدیر خم کا پس منظر

اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی کو یمن کی طرف گورنر بناکر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد سیدنا علی حضور ﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نےسیدنا علی کی جانب سے کچھ سختی محسوس کی ان میں سیدنا ابوبریدہ بھی تھے ۔ انہوں نے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر سیدنا علی پر کچھ تحفظات ظاہر کیے ۔یہ ایک روٹین کی بات تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور سیدنا علی کی تصویب وتحسین فرمائی۔ بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ’’ علی ؓکا اس سے بھی زیادہ حق تھا‘‘ مزید یہ کہ آپ تو رحمت بن کر تشریف لائے تھے ۔ محبت کا پیغام تھا۔ نفرت و کدورت کی کوئی جگہ نہ تھی۔ اس لیے آپ ﷺ نے انہیں سیدنا علی سے محبت وپیار اور اکرام برقرار رکھنےکا حکم دیا اور سیدنا علی کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا اور اس کا سبب بھی بتایا ۔ چنانچہ ان حضرات کے دل سیدنا علی کی طرف سے بالکل صاف ہوگئے۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں سیدنا علی محبوب ہوگئے۔حج کے اختتام کے ایام تھے ، فراغت کے بعد سبھی لوگ واپس چل پڑے ۔ چلتے چلتے خم نامی چشمے پر پہنچے۔ سیدنا علی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں۔ آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپ ﷺ سیدنا علی کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چنانچہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہم غدیر خم کا محل وقوع بتاتے ہیں ۔

غدیر خم کامحل وقوع

’غدیر خم‘ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے اور یہ اس وقت بمنزلہ ایک چوراہے کے تھا۔ یہاں سے مکہ سے آنے والے حجاج کے راستے الگ الگ ہوتے تھے۔ مکہ اور یمن جانے والوں کا راستہ جنوب میں جاتا تھا۔ عراق اور ہندوستان وغیرہ کو جانے والوں کا راستہ مشرق کو جاتا تھا۔ اور مغربی ممالک اور مصر وغیرہ کا راستہ مغرب کی سمت تو مدينہ شمال کی جانب تھا۔یہاں چونکہ سب اہل قافلہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہورہے تھے ۔ جب آپ ﷺحجۃ الوداع سن 10 ہجری کو مکہ سے واپس ہوئے اور اس مقام پر پہنچے تو آپﷺنے ایک خطبہ ارشاد فرمایا کیوں کہ اس کے بعد آپ کے ساتھ حج پر جانے والے صحابہ الگ الگ ہونے والے تھے۔اس لیے نبی اقدس ﷺ نے اپنی عادت مبارکہ کے تحت بوقت رخصت ان تمام قافلوں کو نصیحتیں فرمائیں ۔ان باتوں کے ضمن میں تازہ تازہ وقوع پذیر سیدنا علی سے شکایت کاواقعہ بھی تھا اس لیے آپ ﷺ نے اسے مزید کلئیر فرما دیا۔ وہ باتیں جو فرداً فرداً لوگوں سے دیگر نصیحتوں کے ساتھ ساتھ سیدنا علی کی صفائی اور محبت کے لیے کہی تھیں۔ وہ بھی دہرا دیں ۔تاکہ سب کچھ واضح ہوجائے ۔ آپﷺ نے فرمایا:

اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ “.(مسند احمد بن حنبل : 950)قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ

’’یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ سیدنا علی کو بھی دوست رکھے گا۔میں جس کا محبوب ہوں گا سیدناعلی بھی اس کا محبوب ہوگا۔اے اللہ! جو سیدنا علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے ،تو اس کا دشمن ہوجا۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد سیدنا عمر سیدنا علی سے ملے تو فرمایا۔ اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ ہر صاحب ایمان کے نزدیک ہمہ وقت محبوب بن گئے ہیں ۔ ‘‘

سیدنا عمر اور علی کے درمیان گہری محبت کا تعلق

کتنی عجیب بات ہے کہ صحابہ کرام جو قرآنی زبان میں ’’رحماء بینھم‘‘ اور’’ أشداء علی الکفار‘‘ تھے۔ قسمت معکوس والوں نے انہیں الٹ بنا کر پیش کیا۔ آپس میں ایک دوسرے كو دشمن سمجھایا گیا۔ قرآن کریم انہیں باہمی محبت و مودت کا مظہر قرار دیتا ہے ،مگریہ لوگ قرآن کے برعکس تصویر کشی کرتے ہیں۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام کے دل میں سیدنا علی کی محبت پہلے سے تھی۔جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے، آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی سیدنا علی کی محبت سے سرشار ہوگئے۔

اس خطبہ سے آں سیدنا ﷺ کامقصود یہ بتلاناتھاکہ سیدنا علی اللہ کے محبوب اورمقرب بندے ہیں ، ان سے اور میرے اہلِ بیت سے تعلق رکھنا مقتضائے ایمان ہے، اور ان سے بغض وعداوت یانفرت وکدورت ایمان کے منافی ہے۔

مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آں سیدناﷺ کا غدیرخُم میں “من کنت مولاه فعلي مولاه” ارشادفرمانا سیدنا علی کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں تھا۔ کیونکہ نبی اقدس افصح العرب تھے۔ اگر سیدنا علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا تو آپ کے پاس الفاظ کی کمی ہرگزنہ تھی۔ صاف فرما دیتے کہ علی میرے بعد خلیفہ ہوں گے ۔ بلکہ یہاں سیدنا علی کی قدر ومنزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرناتھا۔

نیز سیدنا علی کی محبت کو ایک فریضہ لازمہ کے طورپر امت کی ذمہ داری قراردینے کے لیے تھا ۔ اورالحمدللہ!اہلِ سنت اتباعِ سنت میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کواپنے ایمان کاجز سمجھتے ہیں،۔اور بلاشبہ سیدنا علی سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔

اہل تشیع نے اس حدیث سے خلافت علی پر جن امور سے دلیل پکڑی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں :

1۔حدیث کے اندر موجود لفظ ‘مولیٰ کا معنی ولی سر پرست کے ہے اور قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں۔

2۔ سیدنا علی سے تمام مومنین کی دوستی کوئی مخفی اور پیچیدہ چیز نہ تھی کہ جس کے لئے اس قدر تاکید اور بیان کی ضرورت ہوتی۔ اور اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس بے آب و گیاہ اور جلتے ہوئے بیابان میں اس عظیم قافلہ کو کڑکتی دھوپ میں روک کرایک طویل و مفصل خطبہ دیا جائے اور سب لوگوں سے اس دوستی کا اقرارلیا جائے یہ بات دلیل ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے سیدنا علی کو خلافت سونپی تھی ۔

3۔مسند احمد میں بیان ہوا ہے کہ نبی ﷺ کے اعلان کے بعد سیدنا عمر نے سیدنا علی کو ان الفاظ میں مبارک باد دی:

هنئیاً یا بن اٴبِي طالب اٴصبحتَ وَأَمسیتَ مولی کُلّ موٴمن و موٴمنةٍ

”مبارک ہو۔ اے ابن ابو طالب ! آج سے تم ہر صاحب ایمان کے مولا بن گئے ہیں۔‘‘

اس تاریخی واقعہ پرتمام لوگوں کی طرف سے خصوصاً سیدنا عمر اور سیدنا ابوبکرکا سیدنا علی کی خد مت میں مبارکباد پیش کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف خلافت کا مسئلہ تھا۔ جس کی وجہ سے تبریک و تہنیت پیش کی جارہی تھی۔

لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ یہ اس وقت صحیح ہے جب مولیٰ کے معنی صرف اور صرف حا کم اور خلیفہ کے لیے جائیں۔

اہل تشیع کے دلائل کا تجزیہ

یقیناً سیدنا علی کی دوستی تمام مومنین سے مخفی اور پیچیدہ نہیں تھی لیکن بعض واقعات کو لیکر اس وضاحت کی ضرورت پڑی کیونکہ یمن کے غزوہ میں بعض معاملات کو لیکر سیدنا علی سے متعلق بعض أصحاب کے دلوں میں بے چینی تھی جس کا ذکر انہوں نے برملا نبی کریمﷺ سے کیا اور نبی کریمﷺ نے ان کو اپنے خاص أسلوب میں سمجھایا تو ان کی سمجھ میں بھی آ گیا اور بعض روایات کے مطابق انہوں نے سیدنا علی سے اپنی محبت و مودت کا اظہار بھی کیا۔ لیکن بات چونکہ چند افراد سے نکل کر آگے بڑھ چکی تھی اس لئے ضرورت تھی کہ اس غلط فہمی کا ازالہ سب کے سامنے ہو چنانچہ سیدنا بریدہ کی روایت ہے۔

عَنْ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» (مسند احمد: 22945)

سیدنا بریدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی کے ساتھ یمن کا غزوہ کیا تو میں نے ان کے اندر کچھ سختی دیکھی تو جب میں حضورﷺ کے پاس آیا تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا اور سیدنا علی کی شان کم کرکے بیان کی۔ تو میں نے آپﷺ کے چہرے کو بدلتے ہوئے دیکھا۔آپ ﷺ نے فرمایا: اے بریدہ !کیا میں تمام مؤمنین کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ تو سیدنا بریدہ نے فرمایا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ،پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس کا میں دوست اس کا علی ( ) بھی دوست ہے ۔‘‘

جب روایات میں اس کی وجہ موجود ہے (اور اہل تشیع کے مطابق ان روایات کی اسناد متواتر ہیں) تو خودساختہ باتوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟

اسی طرح حافظ جلال الدین سیوطی﷫ نے شرح اِبن ماجہ میں امام شافعی﷫ سے نقل کیا ہے کہ یہ ولایت اسلام کی ولایت (دوستی) مراد تھی:

” وَقَالَ الشَّافِعِي: عَنى بذلك وَلَاء الْإِسْلَام، كَقَوْلِه تَعَالَى: ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْكٰفِرِيْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ﴾ [سورة محمد:11] وَقيل: سَبَب ذَلِك أن أُسَامَة قَالَ لعَلي رَضِي الله عنه: لستَ مولَايَ، إنما مولَايَ رَسُول الله ﷺ. فقال رسول الله ﷺ ذلك”. (باب اتباع السنة، جلد نمبر1)

’’ نبی کریم ﷺ نے اس حدیث مبارکہ میں اسلامی بھائی چارہ مراد لیا ہے جیسا کہ سورہ محمد آیت 11 میں ’’یہ اس وجہ سے کہ اللہ مومنین کا دوست ہے اور کافروں کا کوئی دوست نہیں۔‘‘

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا سبب ورود یہ بھی ہے کہ سیدنا اسامہ نے سیدنا علی سے کہا کہ آپ میرے دوست نہیں میرے دوست رسول اللہ ﷺ ہیں اس پر آپ ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔

یہ بات بھی مسلم ہے کہ سیدنا علی کی دوستی عام نہیں تھی بلکہ اک خاص دوستی تھی ۔ یعنی معاملہ خلافت کا تھا۔

اس کی پہلی وجہ تو یہی کہ سیدنا علی سابقین اولین میں سے ہیں جو درجہ اور رتبہ کے اعتبار سے بہت بلندی کا مقام تھا پھر سیدنا علی خاص طور پر اہل بیت میں سے ہیں جن کی پاسداری کا اقرار الگ سے آپﷺ نے کرایا تھا۔ جب معاملہ یہ ہے تو پھر یہ عام دوستی کہاں رہی؟ اس سے یہ استدلال کرنا کہ

’’جس طرح میں تمہارا رہبر و سر پرست ہوں علی بھی رہبر و سرپرست ہیں۔‘‘ بالکل غلط ہے صحیح احادیث اس کی تائید نہیں کرتیں یہ مفہوم تو متعصب ہی نکال سکتا ہے انصاف پسند سے بعید ہے ۔

مبارک باد سے خلافت ثابت نہیں ہوتی۔

نیزآپﷺ نے اپنے بہت سارے أصحاب سے متعلق خصوصی محبت اور دوستی کے وعدے اور اقرار لئے ہیں تو کیا وہ سب خلافت اور ولایت کے وعدے تھے؟

جیسا کہ مسند اَحمد کی بعض روایات سے ثابت ہے کہ اس موقع پر سیدنا علی کو سیدنا عمر نے خصوصی مبارکباد دی۔ لیکن اس سے خلافت علی پر استدلال کرنا بالکل صحیح نہیں ہے کیونکہ ایسی مبارکبادیں تو اور بھی ثابت ہیں ۔خود نبی ﷺ نے سیدنا کعب بن مالک کو ان کی توبہ کی قبولیت پر مبارکباد دی تھی۔ آیت تیمم کے نزول پر صحابہ کرام نے آل ابوبکر صدیق کو مبارکباد پیش فرمائی۔ ان کے علاوہ اور بھی مبارکبادیں ثابت ہیں، محض مبارک باد سے ’’مسئلہ خلافت ‘‘ثابت نہیں ہوتا۔ مبارکباد سے سیدنا علی کی قدر و منزلت ضرور ثابت ہوتی ہے جس کا ہمیں اقرار ہے اور اس سے مولی کے معنی زبردستی حاکم اور خلیفہ کے لینا محض غلط ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر مولی کا معنی حاکم یا خلیفہ لیا جائے تو یہ سیاق و سباق کے خلاف ہے۔ ظاہر سی بات ہے نبی کریمﷺ کی موجودگی میں سیدنا علی کا حاکم اور خلیفہ ہونا خلاف حقیقت ہے جبکہ بات نبی کریمﷺ کی موجودگی کی چل رہی ہے ۔الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے، کیا یہ عجیب بات نہیں لگتی کہ نبی کریمﷺ یہ کہیں ’’ جس کا میں والی و حاکم ہوں، علی اس کے والی و حاکم ہیں؟‘‘ لہذا مولی کا معنی والی و حاکم لینا کسی طرح مناسب نہیں ہے بلکہ اس کا وہی مفہوم ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے اور وہ دوست، مددگار وغیرہ ہے۔

اسی طرح اہل تشیع کا یہ کہنا کہ بعض روایات کے مطابق اس موقعہ پر ولایت سیدنا علی کے لیے بیعت لی گئی تھی ۔ بالکل غلط استدلال ہے۔ بیعت تحت الشجرۃ تو سیدنا عثمان کیلئے بھی لی گئی تھی ۔ لیکن وہ بیعت خلافت نہ تھی بیعت خون تھی ۔ یہاں بھی سیدنا علی کی بیعت بیعت ولایت و خلافت نہ تھی بیعت مودت و محبت تھی ۔ اس سے زیادہ وضاحت تو ان الفاظ میں تھی:

« مُرُوا أَبا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بالنَّاسِ »( صحيح بخاری: 664 جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمرکی روایت میں تفصیل موجود ہے ۔

وعن ابن عُمَر رضي اللَّه عنهما قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّه ﷺ وَجَعُهُ قيلَ لَهُ في الصَّلَاةِ، فقال: مُرُوا أَبا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بالنَّاسِ، فقالتْ عائشةُ رضي اللَّه عنها: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقيقٌ، إِذا قَرَأَ القُرآنَ غَلَبَهُ البُكاءُ، فقال: مُرُوهُ فَلْيُصَلِّ.

’’جب نبی کریمﷺ کامرض سخت ہوگیا۔نمازکے بارے میں آپ کو بتایاگیاتو فرمایا: جاؤ ابوبکر( ) کومیرا حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔سیدنا عائشہ نے عرض کیاوہ بہت نرم دل ہیں ۔ آپ کی موجودگی میں نمازنہیں پڑھاسکیں گے تو نبی ﷺ نے سختی سے فرمایا: بحث نہ کرو، ابوبکر( ) سے کہووہ نماز پڑھائیں ۔ اس سے بڑھ کر خلافت و امامت صدیقی کا کیا اعلان ہوسکتاہے؟ لیکن اس کے باجود مسلمانوں کی مجلس شوریٰ نے سیدنا ابوبکر صدیق کی خلافت کا انعقاد کیا ۔کیونکہ اسلام میں حکومت کیلئے شورائی نظام تجویز کیاگیاہے:

﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾(سورہ شوری: 38)

عید غدیر منانے کا اصل سبب

اہل تشیع بغض صحابہ میں اس واقعہ غدیر خم کو بنیاد بناکر18 ذی الحجہ کو عید کا دن قرار دیتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ اس کا حکم نہ تو نبی کریم ﷺنے دیا ہے اور نہ ہی صحابہ کرام سے اس کا ثبوت ہے۔ بلکہ سیدنا علی نے بھی کبھی اس کو بطور عید نہیں منایا۔ جبکہ اس واقعہ کے 30 سال بعد تک سیدنا علی با حیات رہے۔ 26 سال بلا خلافت اور ساڑھے 4 سال خلافت کے، کم از کم یہ خلافت کے ایام میں تو 18۔ذی الحجہ کو بطور عید مناسکتے تھے۔

ان کے بعد بھی صدیوں تک اس کو بطور عید نہیں منایا گیاالبتہ351 ہجری میں معز الدولہ نے بغداد میں سب سے پہلے اس عید کوایجادکیا، منایا اور اس کا نام ’’عید غدیر خم ‘‘رکھا۔ اور سب جانتے ہیں کہ یہ بادشاہ نہایت بد کردار اور شیعہ تھا۔

شہادتِ عثمان پر خوشی کا بہانہ

دراصل عید غدیر خم کی آڑ میں اہل تشیع شہادت سیدنا عثمان کی تاریخ پر خوشیاں مناتے ہیں کیونکہ یہی تاریخ سیدنا عثمان کی مظلومانہ شہادت کی ہے جس طرح سیدنا معاویہ کی وفات پر کونڈوں کی رسم ادا کی جاتی ہے ۔لیکن بعض نادان اہل سنت بھی ان کی چالوں سے نا واقف ہونے کی بنیاد پر ان کے ساتھ بعض دفعہ اور بعض جگہ شریک ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے معز الدولہ نے سن 351 ہجری میں اس کو عید کا دن قرار دیا اور اس کا نام عید غدیر خم رکھا ۔ اہل اسلام اس ضلالت سے بہرحال بلند اور بری ہیں ۔

خلاصہ کلام

غدیرخم کے موقع پر سیدنا علی کے بارے میں بعض اشکالات جو لوگوں کے ذہنوں میں آئے تھے انہیں صاف کرنے کیلئے سیدنا علی المرتضی کی شان بلند واضح فرمائی ۔ ان کی خلافت و امارت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

ھذا ماعندی واللہ أعلم وأحکم بالصواب

تبصرہ کریں