خوف وخشیت ایمان وعبادت۔ سید حسین مدنی، حیدر آباد

اللہ سے خوف کے اسباب

دل میں اللہ کا خوف پیدا ہونا بڑی ہی سعادت مندی کی بات ہے، اسی لیے اس کے حصول کی ہر ممکن کوشش کرتے رہنی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ اسباب بھی اختیار کرنے چاہیے، جن میں سے مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ اللہ کی معرفت اور اس کے اسمائے حسنیٰ وصفات علیا کا گہرا علم رکھنا۔ (سورہ فاطر: 28؛ سورۂ آل عمران:28، 30؛ سورۂ لقمان: 33؛ سورۂ فاطر: 5؛ سورۃ الحدید: 14)

2۔ اللہ کے حضور کھڑے رہنے اور جوابدہی کا تصور کرنا۔ (سورۃ النازعات: 40، 41؛ سورۃ الرحمن: 46)

3۔ وعیدوں کی آیات واحادیث کا مطالعہ کرنا۔ (سورۂ ق: 45؛ سورۂ ابراہیم: 14)

4۔ کثرت کے ساتھ اذکار کا اہتمام کرنا۔ (الکہف: 28)

5۔ نفس کا محاسبہ اور تزکیہ کرتے رہنا۔وغیرہ۔ (بعض نے کہا کہ محبت بھی خوف کے اسباب میں سے ہے ، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ سے سچی محبت ہوگی تو اس بات کا خوف لگا رہے گا کہ کہیں یہ تعلق ٹوٹ نہ جائے اور بعض نے کہا کہ سچی اُمید بھی خوف کے اسباب میں سے ہے ، کیونکہ جس سے آس لگی رہے گی اس کے حسن سلوک سے محرومی کا ڈر بھی لاحق رہے گا۔

اوربعض نے خوف زدہ کو لاحق ہونے والی تکلیف کے اعتبار سے یا خوف زدہ جس سے محبت کرتا ہے اسے لاحق ہونے والی تکلیف کے اعتبار سے خوف کے اسباب بیان کیے ہیں ۔

اور پہلی قسم کے لیے سیدنا موسیٰ کے خوف کی مثال دی۔

اور دوسری قسم کے لیے سیدنا یوسف کے تئیں سیدنا یعقوب کے خوف کی مثال دی کہ کہیں انہيں بھیڑیا نہ کھالے۔

٭ اللہ سے خوف کے آثار وثمار

اللہ سے خوف کے بڑے نمایاں اثرات وبرکات ہیں، جن میں سے كچھ درج ذیل ہیں:

1۔ دل میں اللہ کی عظمت وقدرت اور اس کے جلال وکمال کا خیال آنا۔

2۔اخلاص وللہیت اختیار کرنا۔ (سورۃ الدہر: 9، 10؛ سورۃ النور: 37)

3۔اطاعت پر استقامت اور اس کی جانب سبقت کرنا۔ (سورۃ المؤمنون: 57۔61)

4۔قرآن مجید سے کما حقہ استفادہ کرنا۔ (الأنعام: 51)

5۔نفس کی پاگیزگی اور خیر کے کاموں میں بالیدگی ہونا۔

6۔اللہ کی طرف رجوع ہونا۔

7۔ایمان کا عمدہ اور پختہ ہونا۔ (الأنفال: 2۔4)

8۔ضلالت سے بچنا اور ہدایت کا ملنا۔ (سورۃ الزمر:23)

9۔زمین پر تمکنت اور وزن وقار کا حاصل ہونا۔ (سورۂ ابراہیم: 13۔14)

10۔دوسروں پر ظلم وزیادتی سے اجتناب کرنا۔

11۔روزقیامت عرش کا سایہ نصیب ہونا۔ (صحیح بخاری: 660)

12۔جہنم کی آگ سے یقینی طور پر بچنا۔ (جامع ترمذی: 1633، بسند صحیح)

13۔آخرت میں امن حاصل ہونا۔ (صحیح ابن حبان: 640)

14۔دنیوی واخروی کام یابی سے سرفراز ہونا۔ (سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 1802) اور یہ حدیث شواہد اور مجموع طرق کے پیش نظر حسن ہے۔)

٭اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے کے اعتبار سے لوگوں کے درجات

بعض نے کہا کہ عوام الناس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور یہ ڈر انہيں جنت وجہنم اور جزا وسزا پر ایمان کی وجہ سے حاصل ہوتاہے اور علمائے کرام (اللہ کے عذاب سے قبل) اللہ (ہی) سے ڈرتے ہیں ، جن کے لیے یہ تین کلمات کافی ہیں:

﴿وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ﴾ (سورۂ آل عمران: 28)

’’اور اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے۔ ‘‘

بعض لوگوں نے اس مكمل قول کو امام ابن قدامہ﷫ کی جانب منسوب کیا ، لیکن مجھے یہ قول ان کی کتابوں میں نہیں مل سكا۔

بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے کے اعتبار سے لوگوں کے پانچ درجے ہیں:

1۔ سب سے اعلیٰ اور پہلا درجہ ایسے افراد کا ہے جنہیں اللہ کے خوف نے خیر وبھلائی کے کاموں میں سبقت کرنے پر ابھارا ہو، جو فرائض ونوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوں اور حرام کاموں سے بچتے رہتے ہوں۔ (سورۃ المؤمنون: 57۔61؛ سورۃ الزمر: 9)

2۔ دوسرا درجہ ایسے افراد کا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے خوف نے حرام کاموں سے بچایا ہو اور (صرف) فرائض کی ادائی پر ابھارا ہو۔

3۔ تیسرا درجہ ایسے افراد کا ہے جن کے دل میں خوف الٰہی رہتا ہے لیکن اپنے متعلق اور دوسروں کے متعلق غفلت برتتے ہیں اور زیادتی کر بیٹھتے ہیں۔

4۔ چوتھا درجہ ایسے افراد کا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو چکے ہوں اور گناہوں میں حد سے آگے بڑھ گئے ہوں۔

5۔ پانچواں درجہ ایسے مشرکین کا ہے، جنہوں نے خوف عبادت کو غیر اللہ سے وابستہ رکھا ہو۔ (الخوف والرجاء لعبد العزیز الداخل ، درس من ملتقی أهل التفسیر)

٭اللہ تعالیٰ کا خوف اور سلف صالحین

جس میں جس قدر اللہ سے خوف کے اسباب پائے جائیں گے اسی قدر اس کے دل میں اللہ کا خوف زیادہ ہوگا، جیسا کہ نبی ﷺ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے متعلق علم رکھنے والے تھے اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والے بھی تھے۔ (صحیح بخاری: 5063)

اسی لیےصحابۂ کرام نبی ﷺ سے بحالت نماز شدت سے رونے کی آواز محسوس کیا کرتے تھے۔

(سنن ابو داؤد: 904)

صحابۂ کرام میں سیدنا ابن مسعود جب بازار کی جانب نکلتے ، لوہاروں کے پاس سے گزر ہوتا اور دہکتی ہوئی آگ پر نظر پڑتی تو بے اختیار زار وقطار رونے لگتے۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ: 35523)

سیدنا ابو رجاء نے ایک جگہ کی جانب اشارہ کیا اور فرمایاکہ یہ جگہ سیدنا ابن عباس کے آنسوؤں کی وجہ سے گھاس کی سوکھی پٹی کی طرح ہوچکی تھی۔

(مصنف ابن أبی شیبۃ: 35522)

محارب بن دثارنے فرمایا کہ سیدنا ابن عمر دوران نماز رو رہے تھے ، جب سلام پھیرا تو فرمایا کہ یہ سورج بھی اللہ کے خوف سے روتا ہے ، لہٰذا تم بھی رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو تکلفاً ہی سہی مگررؤو۔ (مختصر قیام اللیل وقیام رمضان وکتاب الوتر للمحمد بن نصر المروزي، باب البکاء عند)

مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ایک آنسو رونا میرے نزدیک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ (سابقہ حوالہ)

سیدنا طاوس﷫ نے کعبۃ اللہ کے طواف کے دوران روئے، جس پر سیدنا عمرو بن دینار کو بڑا تعجب ہوا، وجہ دریافت کی، تو فرمایا: اس گھر کے رب کی قسم! بے شک یہ چاند اللہ تعالیٰ کے خوف سے روتا ہے جب کہ اس کا کوئی گناہ نہیں، (یعنی تب تو مجھے بدرجۂ اَولی رونا چاہیے، کیونکہ انسان غلطیوں کا مجسم رہتا ہے)۔ (الدر المنثور من التفسیر بالمأثور، تفسیر سورة الحج: 18)

مومن خوف اور امید کے درمیان

امام ابن تیمیہ ﷫ نے فرمایا کہ

’’مومن کے لیے خوف اور امید ایک (ساتھ) رہنی چاہیے، کیونکہ جب کبھی ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر غالب آجائے گا، تو مؤمن کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔

خوف کے غالب آنے کی وجہ سے مؤمن مایوسی کا شکار ہوجاتاہے اور امید کے غالب آنے کی وجہ سے اللہ کے مکر سے بے خوف ہوجاتا ہے اور اس مسئلے میں فضیل بن عیاض﷫ کا موقف بھی یہی ہے۔

(المستدرك علی مجموع الفتاوی ، السلوك، الخوف والرجاء…)

امام ابن قیم﷫ نے فرمایاکہ

’’سلف صالحین نے صحت مندی کی حالت میں اُمید پر خوف کو غالب رکھنا پسند کیا اور دنیا سے رحلت کے وقت خوف پر اُمید کو غالب رکھنا پسند کیا ۔‘‘

اور کسی نے کہا کہ امید اور خوف کا اعتدال کے ساتھ رہنا اور محبت کا غالب آنا بہت بہتر ہے، کیونکہ محبت سواری کی طرح ہے ، امید اسے پیچھے سے ہانکنے والی ہے، خوف اسے (آگے سے )قابو میں رکھنے والا ہے ، اور اللہ ہی اپنے فضل وکرم سے اسے منزل مقصود تک پہنچانے والا ہے۔ (مدارج السالکین بین منازل إیاك نعبد وإیاك نستعین، فصل منزلة الإشفاق)

تبصرہ کریں