خوف وخشیت ایمان وعبادت۔ سید حسین مدنی، حیدر آباد

بندہ مختلف شکلوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت انجام دیتا ہے، جن میں بدنی، مالی اور زبانی عبادات کے ساتھ ساتھ قلبی عبادات بھی داخل ہیں اور ان قلبی عبادات میں محبت کی طرح خوف وخشیت بھی شامل ہے۔

در اصل خوف دل کا ایسا چراغ ہے جس کے ذریعے انسان ہر خیر وشر پر نظر رکھ سکتا ہے اور جس دل سے رخصت ہو جائے تو وہ دل اجڑ و بگڑ جاتا ہے، بلکہ گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ( مدارج السالكين بين منازل ایاک نعبدوایاک نستعین فصل منزلة الخوف)

واضح رہے کہ خوف کا تعلق دل سے ہے، جس میں اگر بہتری و سدھار آ جائے تو سارے کا سارا جسم بہتر اور سیدھارہے گا اور اگر اس میں بگاڑ وفساد آ جائے تو نتیجتاً سارا جسم اس سے متاثر ہوجائے گا۔

خوف وخشیت کا لغوی و اصطلاحی معنیٰ

خوف کا لغوی معنی ڈر اور گھبراہٹ ہے ۔ (معجم مقاييس اللغة كتاب الخاء خوف) جو امن کے بمقابل استعمال ہوتا ہے اور اصطلاح میں کسی پسندیدہ شے کے فوت ہونے کے خدشے یا کسی نا پسندیدہ شے کے واقع ہونے کے اندیشے کی وجہ سے دلی بے چینی و بے قراری خوف کہلاتی ہے، جو کبھی اپنے لیے ہوتی ہے تو بھی کسی اور کے لیے ہوتی ہے۔

خوف وخشیت کبھی ہم معنی استعمال ہوتے ہیں، تو کبھی خشیت خوف کی بہ نسبت خاص طور پر استعمال کی جاتی ہے اور جس وقت ان دونوں کے درمیان فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے تو خوف کا تعلق بندوں سے ہوتا ہے جب کہ خشیت کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے جس کی بنیا دعلم اور تقویٰ پر رہتی ہے۔

(مدارج السالكين بين منازل إیاك نعبد وإیاك نستعین، فصل منزلة الخوف، والتعريفات للجرجاني، باب الخاء والخشية من الله تعالی فضلها وثمارها لبدر عبدالحمید هميسه، وتاج الخشية لصالح المغامسي)

( قرآن مجید میں خوف بھی اس کے لا زمی معنوں قتل نا کامی آزمائش سورة النساءآیت نمبر 3، جنگ و جدال سورة الأحزاب آیت نمبر19، علم وعرفان سورة البقرة آیت نمبر 182 نقص، سورۃ نحل آیت نمبر 47 وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ )

بعض اہل علم نے کہا کہ خوف حقیقت میں انسان کے لیے ایک امتحان ہے ۔ ( سورة البقرة:155)

جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسے آزماتا اور دیکھتا ہے کہ بندہ صبر کرتا ہے یا ناشکری اور بے صبری پر آمادہ ہوجاتا ہے۔

خوف وخشیت ایمان وعبادت

امام بر بہاری ﷫نے فرمایا کہ خوف جیسے کسی اور (بہتر ) ذریعے سے کسی نے اللہ کی عبادت نہیں کی۔ (شرح السنة الخوف من الله)

یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف اس کی سب سے افضل عبادت ہے، جسے اس نے قرآن میں انسان کے ایمان کے ساتھ وابستہ رکھا اور فرمایا:

﴿إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ( سورة آل عمران:175)

’’یہ ( خبر دینے والا ) صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، لہٰذ اتم ان (کافروں) سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔‘‘

مزید فرمایا:

﴿أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ ( سورة التو بہ:13)

’’کیاتم ان سے ڈرتے ہو؟ حالانکہ اللہ ہی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو اگر تم ایمان والے ہو۔‘‘

سابقہ دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے خوف وخشیت کو حقیقی اور کامل ایمان کے لیے بطور شرط بیان کیا بلکہ اس کا حکم بھی دیا، بنابر یں احکام الہیہ کی تعمیل عین عبادت کہلاتی ہے جو بہرحال تقوی کی صفت بلک خصوصیت (سور ة ل نفال:2) اور دین کا ایک افضل حصہ ہے۔ (الخوف من الله لأمين الشقاوى)

امام ابن قیم ﷫ نے فر مایا کہ خوف عبادت کا ایک عظیم مرتبہ ہے، جو دل کے لیے انتہائی مفید ترین ہے، اسے (اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے) ہر کسی پر فرض کیا اور اسے اختیار کرنے والوں کی قرآن مجید میں ستائش کی ۔ (مدارج السالكين بين منازل ایاک نعبدوایاک نستعین فصل منزلة الخوف) کیونکہ سنگ دل بھی خوف الٰہی سے ہم کنار ہونے کے بعد موم ہوجاتا ہے ، اس کے برعکس جو دل خوف الٰہی سے عاری ہووہ پتھر یا پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔

خوف وخشیت ایمان و عبادت ہونے کی وضاحت کے بعد توجہ طلب بات یہ ہے کہ انسان جس سے خوف کھاتا ہے اس سے دور بھاگتا ہے لیکن جب اللہ کا خوف اپنے اندر رکھتا ہے تو اس سے قریب ترین ہوجاتا ہے۔

(مدارج السالكين بين منازل إیاك نعبد وإیاك نستعین فصل منزلة الخوف)

خوف کی قسمیں:

مختلف اہل علم نے خوف کی متعددقسمیں بیان کی ہیں، جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ خوف عبادت۔ (خوف سِرّ)

2۔ خوف طبیعت۔ (فطری/طبعی/ جبلی خوف ۔

3۔ لوگوں کا خوف

4۔ اللہ کی وعیدوں کا خوف۔

آیات میں خوف عبادت کا تذکرہ ہو چکا ۔ ( سورة آل عمران: 175؛ سورة التو بہ: 13؛ سورۃ ہود: 53-56 ؛ سورة لأنعام: 80-81 ؛ سورة النحل: 49۔54؛ سورة الأنبیاء: 25۔29؛ 89۔90؛ سورة المؤمنون: 57۔60 ؛ سورة البقرة: 40-41 ؛ سورة المائدة: 44 ؛ سورة الاحزاب:39)

جو اگر غیر اللہ کے لیے بجالایا جائے تو شرک اکبر ہو گا۔ (شرح ثلاثة الأصول لابن العثيمين، أنواع العبادة، النوع الثانى الخوف )

یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اس لیے خاص ہونا چاہیے کیونکہ ساری مخلوق متفقہ طور پر کسی کا فائدہ کرنا چاہیں تب بھی اس کا اتنا ہی فائدہ ہوگا جتنا اس کے مقدر میں لکھا ہوگا اور اگر کسی کا نقصان کرنا چاہیں تب بھی اتنانی نقصان ہو گا جتنا اس کی قسمت میں لکھا ہوگا۔

فطری خوف کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں رہتا، بلکہ اس کا تعلق ایک ظاہر شئے سے رہتا ہے جس کا نقصان دہ ہونا عام طور پرمشہور اور یقینی ہو جیسے ہی انسان کاکسی درندے، آگ، دشمن وغیرہ سے عقیدت مندی کے بغیر فطری طور پر خوف کھانا۔

واضح رہے کہ فطری خوف مذمت و ملامت کی وجہ نہیں کیونکہ یہ کبھی انبیاء کو بھی لاحق ہوا جیسا کہ اژدھے کو دیکھنے کے بعد اور قتل خطا کے بعد سیدنا موسی نے خوف محسوس کیا۔ ( سورة القصص: 18-33 ؛ سوره طہ: 21)

اور فرشتوں کو دوسری شکل میں دیکھ کر سیدنا داؤد، ، سیدنا ابراہیم اور سیدتا لوط نے بھی خوف محسوس کیا۔ (سورہ ہود: 70؛ سورة العنكبوت: 33 ؛ سور ہ ص: 22 ؛ سورة الذاریات: 28)

تیسری قسم لوگوں سے خوف کی ہے جو نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے میں رکاوٹ بنتا ہے، جس کے متعلق رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے آپ کو ہر گز حقیر نہ سمجھے، صحابہ کرام نے پوچھا کہ کوئی کیسے اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے؟ تو فر مایا کہ کوئی ایسا کام دیکھتا ہے جس پر اسے اللہ کی خاطر کہنا چاہیے تھا، لیکن کہتا نہیں، پھر جب یہ موقع ضائع کرنے کے بعد اللہ سے ملے گا تو پوچھے گا کہ ( اللہ کی خاطر کہنے سے )کس نے تمھیں روکا؟ جواب دے گا کہ لوگوں کا خوف، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، تجھے تو مجھ ہی سے زیادہ ڈرنا چاہیے تھا۔ (إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة، كتاب الفتن، باب الأمر بالمعروف ۔۔۔ بروایت ابوسعید منی ح:7402؛ امام بوصیری ﷫ نے کہا کہ اس حدیث کو امام ابو داود الطياسی ﷫ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔)

امام سفیان ثوری ﷫ نے فرمایا کہ جب کسی کی تعریف اس کے ساتھ رہنے والے تمام افراد کریں تو وہ برا آدمی ہے، اس پر لوگوں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو فرمایا کہ وہ لوگوں کو برائی کرتے دیکھتا ہے اور انھیں روکتا نہیں، بلکہ ان سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملتا ہے۔ (حلية الأولياء، وطبقات الأصفياء، ذكر طوائف من جماهير النساك والعباد، سفيان الثوري)

چوتھی قسم اللہ کی وعیدوں کا خوف ہے، جیسے اللہ کے سامنے کھڑے رہنے سے خوف زدہ رہنا، ( سورہ ابراہیم: 13-14 ؛ سورة الرحمن: 46) قیامت کے دن سے ڈرنا ( سورۃ الدہر: 7) عمل کرنے کے بعد قبول نہ ہونے کا ثواب سے محروم ہونے کا ڈرلگا رہنا۔ (سورة المؤمنون: 60)عمومی طور پر اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہنا۔ ( سورة الاسراء: 56-57) وغیرہ۔ (بعض اہل علم نے خصوصیت کے ساتھ اللہ کی ناراضگی کے خوف، دنیوی و اخروی عذاب کے خوف اور ثواب فوت ہونے کے خوف کے اعتبار سے خوف کی تین قسمیں بیان کی ہیں، جبکہ بعض نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 128کی روشنی میں لاپرواہ شوہر سے عورت کے خوف، اور سورۃ النساء کی آیت نمبر 9 کے تحت بڑوں کا بچوں کے متعلق خوف وغیرہ کی تفصیلی قسمیں بیان کی ہیں۔)

٭٭٭

علامہ سعدی ﷫ نے فرمایا:

“جميع الاعمال متوقفة في صحتها وقبولها على التوحيد.”(القول السدید فی مقاصد التوحید: 36)

تمام اعمال کی صحت اور قبولیت توحید پر موقوف ہے۔

اعمال کی اصلاح کے لئے عقائد کی اصلاح ضروری ہے، اگر عقیدہ فاسد ہو تو عمل بھی فاسد ہوگا، بہت سارے کلمہ گو مسلمان شرکیہ امور میں مبتلا ہیں، جبکہ شرک ایسا عظیم ترین گناہ ہے جو تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔ حدیث قدسی ہے:

’’مشرک آدمی دنیا میں عبادات میں خوب محنت کرتا ہے مگر عقیدے کے فساد کی وجہ سے اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘

لہٰذا ہماری زندگی میں عمل سے پہلے اپنے عقیدے کی اصلاح کریں، خالص توحید پر قائم رہیں، کفر وشرک اور بدعات وخرافات سے دور رہیں، عمل میں اخلاص پیدا کریں، ریا ونمود سے بچیں، سنت نبوی ﷺ کے مطابق عمل کریں، تاکہ ہماری محنت آخرت میں ضائع نہ ہو اور ہم کامیاب ہو سکیں۔

تبصرہ کریں