کراماتِ اولیاء اللہ (قسط 1)۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

انبیاء کرام علیہم السلام سے جو خلاف عادت غیر معمولی کام سرزد ہوتے ہیں انہیں معجزات کہا جاتا ہے اور غیر انبیاء سے جو غیر معمولی کام سرزد ہوتے ہیں انہیں کرامات کہا جاتا ہے۔

اولیاء اللہ میں انبیاء کے بعد سب سے پہلے حضرات صحابہ کرام کا مقام ومرتبہ ہے، ان کے بعد غیر صحابہ کا مقام ومرتبہ ہے۔

صحابہ کون ہیں؟

صحابی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو ایمان کی حالت میں رسول اکرمﷺ سے ملے ہوں اور ایمان کی حالت میں انہیں موت واقع ہوئی ہو۔

اولیاء اللہ کون ہیں؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ‎0‏ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ﴾

’’ یاد رکھو! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ مغموم ہوتے ہیں، وہ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیز گار ہوئے۔‘‘ (سورۃ یونس: 62۔63)

اولیاء ولی کی جمع ہے جس کے معنیٰ لغت میں قریب کے ہیں، اس اعتبار سے اولیاء اللہ کے معنیٰ ہوں گے، وہ سچے اور مخلص مؤمن جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور معاصی سے اجتناب کر کے اللہ کا قرب حاصل کر لیا۔ اسی لیے اگلی آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی تعریف ان الفاظ سے بیان فرمائی، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ایمان وتقویٰ ہی اللہ کے قرب کی بنیاد اور اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے ہر مؤمن متقی اللہ کا ولی ہے۔ لوگ ولایت کے لیے اظہار کرامت ضروری سمجھتے ہیں اور پھر وہ اپنے بنائے ہوئے ولیوں کے لیے جھوٹی سچی کرامتیں مشہور کرتے ہیں۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ کرامت کا ولایت سے چولی دامن کا ساتھ ہے نہ اس کے لیے شرط۔ یہ ایک الگ چیز ہے اگر کسی سے کرامت ظاہر ہو جائے تو اللہ کی مشیت ہے، اس میں اس بزرگ کی مشیت شامل نہیں ہے لیکن کسی متقی مؤمن اور متبع سنت سے کرامت کا ظہور ہو یا نہ ہو۔ اس کی ولایت میں کوئی شک نہیں۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے اور غم (حزن) کا ماضی سے، مطلب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے زندگی خدا خوفی کے ساتھ گزاری ہوتی ہے اس لیے قیامت کی ہولناکیوں کا اتنا خوف ان پر نہیں ہو گا، جس طرح دوسروں کو ہو گا، بلکہ وہ اپنے ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے اللہ کی رحمت وفضل خاص کے امیدوار اور اس کے ساتھ حسن ظن رکھنے والے ہوں گے۔ اسی طرح دنیا میں وہ جو کچھ چھوڑ گئے ہوں گے، یا دنیا کی لذتیں انہیں حاصل نہ ہو سکی ہوں گی، ان پر انہیں کوئی حزن وملال نہیں ہو گا۔ ایک دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ دنیا میں جو مطلوبہ چیزیں انہیں نہ ملیں، اس پر وہ غم و حزن کا مظاہرہ نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی قضا وتقدیر ہے۔ جس سے ان کے دلوں میں کوئی ھمّ وکدر پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کے دل قضائے الٰہی پر مسرور ومطمئن رہتے ہیں۔ (احسن البیان، مطبوعہ دار السلام، لاہور)

اولیاء کے لیے اللہ کی خوشخبریاں

ان آیات کے فوراً بعد اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:

﴿لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ (سورۃ یونس: 64)

’’ان کے لیے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘

دنیا میں خوشخبری سے مراد رؤیائے صالحہ ہیں یا وہ خوش خبری ہے جو موت کے وقت فرشتے ایک مؤمن کو دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ (احسن البیان)

قرآن مجید سے کرامات کا ثبوت

ویسے تو قرآن مجید میں کرامات کے کئی واقعات ہیں، مگر ہم اختصار کے لیے صرف ایک واقعہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔ وہ واقعہ سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کا ہے کہ سیدہ مریم کی والدہ حضرت حنّا علیہا السلام حمل سے تھیں، تو انہوں نے اللہ سے یہ نذر مانی تھی کہ اے اللہ میرے پیٹ میں جو ہے میں اسے تیرے گھر بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی اور انہیں امید تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں لڑکا عطا فرمائے گا، مگر اللہ پاک نے خلاف توقع انہیں بیٹی عطا فرمائی، جس کا نام مریم رکھا گیا، نذر کے مطابق سیدہ حنّا علیہا السلام نے بی بی مریم کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وہاں کے متولیوں کے حوالہ کر دیا، ان متولیوں اور ذمہ داروں میں بی بی مریم کے خالو حضرت زکریا بھی تھے، انہوں نے مریم کی کفالت کی ذمہ داری قبول کر لی اور سیدہ مریم علیہا السلام کے لیے ایک حجرہ مختص کر دیا گیا، ان کے پاس سوائے حضرت زکریا کے اور کوئی نہیں جا سکتے تھے، حضرت زکریا جب مریم کے حجرہ میں جاتے تو وہاں بے موسم کے پھل نظر آتے تھے، تو انہیں تعجب ہوتا اور سیدہ مریم سے پوچھتے کہ یہ پھل کہاں سے آئے ہیں؟ تو ان کا جواب ہوتا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے! اس پر حضرت زکریا کو تعجب ہوتا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس لڑکی کو بے موسم کے پھل عطا فرما سکتا ہے تو مجھے بھی بے موسم کے اولاد عطا فرما سکتا ہے، کیونکہ سیدنا زکریا اور ان کی زوجہ محترمہ پر بڑھاپا طاری ہو چکا تھا، اور اولاد کی ساری امیدیں ختم ہو چکی تھیں، انہوں نے پھر سے اللہ سے اولاد کے لیے دعا مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں ایک بیٹا عطا فرمایا، اور ان کا نام بھی اللہ ہی نے منتخب فرمایا کہ یہ ’یحییٰ‘ ہے اور اس سے پہلے دنیا اس نام سے واقف نہ تھی۔ مریم اگرچیکہ ان کی بھانجی اور بہت کم عمر تھیں مگر وہ اللہ کی ولیہ تھیں کہ ان کو دیکھ کر ایک نبی کے ایمان میں اضافہ ہوا اور اولاد سے مکمل مایوسی کے بعد پھر امید کی کرن پیدا ہوئی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ‎﴾ (سورة آل عمران: 37)

’’جب کبھی زکریا ان کے حجرہ میں جاتے تو ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے تو وہ پوچھتے ، اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وہ جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہے بے شمار روزی دے۔‘‘

حدیث سے کرامت کا ثبوت

ویسے تو احادیث میں کرامت کے بہت سارے واقعات ہیں مگر اختصار کے لیے ہم صرف ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں، بنی اسرائیل میں ایک بہت ہی بڑے عابد اور زاہد آدمی تھے اور وہ ہمیشہ اللہ کی عبادت میں شب وروز گزارتے تھے، ان کا نام جریج تھا۔ مکان میں ایک بالاخانہ تھا، جس میں جریج رہتے تھے اور نیچے کے حصے میں ان کی والدہ محترمہ رہتی تھیں، ماں جب بھی نیچے سے بیٹے کو آواز دیتیں وہ عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے ماں کو جواب نہیں دیتے تھے، بالآخر تین دن مسلسل ایسا ہی ہوا ، تو ماں کے منہ سے بد دعا نکل گئی کہ اللہ تو اسے موت نہ دے جب تک کہ یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ہوا ایسا کہ اس کے آس پاس ایک چرواہا رہتا تھا، اسی نے ایک عورت سے بدکاری کی اور حمل ٹھہر گیا، جب بچہ پیدا ہوا تو اس نے جریح کا نام بتا دیا، لوگ آ کر جریح کا حجرہ گرا دیتے ہیں، جریج نے پوچھا ، کیا بات ہے، تم میرا حجرہ کیوں گرار ہےہو؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے فلاں عورت سے بدکاری کی ہے اور اس سے تمہارا بچہ پیداہوا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس عورت کو اور بچہ کو آپ کے پاس لے کر آئے، جریج نے اس بچہ سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے؟ اس بچہ نے چرواہے کا نام بتا دیا کہ وہ میرا باپ ہے۔ چنانچہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے اور جریج کو متبرک سمجھ کر چومنے لگے اور یہ فیصلہ کر لیا کہ جریج کا حجرہ سونے سے بنا دیں گے۔ جریج نے کہا کہ نہیں، جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے بنا دو۔ یہ واقعہ تفصیل سے احادیث میں موجود ہے جو جریحج کی کرامت پر دلالت کرتا ہے۔ (صحیح بخاری: 1206)

اللہ چاہے تو اولیاء اللہ سے کرامت سر زد ہوتی ہے۔ اولیاء کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کرامت کا اظہار کریں، سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ ولی شریعت محمدیﷺ پر عمل پیرا ہو، شریعت پر عمل کرنے کے بجائے وہ صرف کرامات دکھاتا رہے اور شریعت کے خلاف عمل پیرا ہو تو وہ شیطانی فعل ہے، کرامت نہیں ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے اولیاء الشیاطین رہ چکے ہیں اور آج بھی ہیں ، جس کا مقصد شرک وبدعت اور خرافات پھیلانا ہے، وہ ہندوؤں کی طرح گیرو کے کپڑے پہنتے ہیں، نشہ کرتے ہیں اور محرمات کو حلال سمجھتے ہیں۔ العیاذ باللہ

اذان کیسے شروع ہوئی؟

اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وضاحت اور جب تم نماز کے لیے اذان دیتے ہو، تو وہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ناسمجھ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

جب تمہیں جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے پکارا جائے۔ ( تو اللہ کی یاد کرنے کے لیے فوراً چلے آؤ۔)

ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں تعمیر مسجد نبوی کے بعد سوچا گیا کہ مسلمانوں کو نماز کے لیے وقت مقررہ پر کس طرح اطلاع کی جائے ، چنانچہ یہود ونصاریٰ ومجوس کے مروج طریقے سامنے آئے، جو وہ اپنی عبادت گاہوں میں لوگوں کو بلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسلام میں ان سب چیزوں کو ناپسند کیا گیا کہ عبادت الٰہی کے بلانے کے لیے گھنٹے یا ناقوس کا استعمال کیا جائے۔ یا اس کی اطلاع کے لیے آگ روشن کر دی جائے، یہ مسئلہ درپیش ہی تھا کہ ایک صحابی عبد اللہ بن زید انصاری خزرجی نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ان کو نماز کے وقتوں کی اطلاع کے لیے مروج اذان کے الفاظ سکھا رہا ہے، وہ صبح اس خواب کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کرنے آئے تو دیکھا گیا کہ حضرت عمر بن خطاب بھی دوڑے چلے آ رہے ہیں اور آپ بھی حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ خواب میں ان کو بھی ہو بہو ان ہی کلمات کی تلقین کی گئی ہے، آنحضرتﷺ ان بیانات کو سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ خواب بالکل سچے ہیں، اب یہی طریقہ رائج کر دیا گیا، یہ خواب کا واقعہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد پہلے سال ہی کا ہے، جیسا کہ حافظ نے تہذیب التہذیب میں بیان کیا ہے کہ آپﷺ نے سیدنا عبد اللہ بن زید سے فرمایا کہ تم یہ الفاظ سیدنا بلال کو سکھا دو ان کی آواز بہت بلند ہے۔ اس حدیث اور اس کے علاوہ اور بھی متعدد احادیث میں تکبیر (اقامت) کے الفاظ ایک ایک مرتبہ ادا کرنے کا ذکر ہے۔ (صحیح بخاری: 603؛ حضرت مولانا محمد داؤد راز دہلوی﷫)

اس حدیث سے سیدنا عبد اللہ بن زید اور سیدنا عمر بن خطاب کی کرامات واضح ہوئی کہ اللہ کے رسولﷺ نے ان کے خواب کو سچے خواب فرمایا اور اس کے مطابق اذان مشروع ہوئی۔

صحابہ کرام کی تواضع کے لیے سمندر نے عنبر مچھلی کو باہر پھینک دیا!

سیدنا جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بھیجا اور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو امیر بنایا تاکہ ہم قریش کے قافلہ سے ملیں اور ہمارے توشے کے لیے ایک تھیلہ کجھور کا دیا اور کچھ نہ ملا تو سیدنا ابو عبیدہ ہم کو ایک ایک کھجور ہر روز دیا کرتے تھے، سیدنا ابو الزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر سے پوچھا تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے انہوں نے کہا ، اس کو چوس لیتے تھے، بچہ کی طرح ، ‎پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے وہ ہم کو سارا دن رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے پھر اس کو پانی میں تر کر کے کھاتے، سیدنا جابر نے کہا کہ ہم سمندر کے کنارے پر گئے وہاں ایک لمبی سی موٹی چیز نمودار ہوئی، ہم اس کے پاس گئے دیکھا تو وہ ایک جانور ہے، جس کو عنبر کہتے ہیں، سیدنا ابو عبیدہ نے کہا یہ مردار ہے، پھر کہنے لگے ، نہیں ہم اللہ کے رسولﷺ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم بے قرار ہو ، بھوک سے تو کھاؤ، اس کو ۔ سیدنا جابر نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے، اس کا گوشت کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے، سیدنا جابر نے کہا تم دیکھو، ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے ، آخر سیدنا ابو عبیدہ نے ہم میں سے 13 آدمیوں کو لیا تو وہ جب اس کی پسلیوں میں سے اٹھا کر کھڑی کی ، پھر سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں وشائق بنا لیتے توشہ کے لیے (وشائق جمع وشیقہ کی، وشیقہ وہ ابلا ہوا گوشت ہے جو سفر میں رکھتے ہیں) جب ہم مدینہ پہنچے تو رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا، آپﷺ نے فرمایا:

’’وہ اللہ تعالیٰ کار زق تھا جو تمہارے لیے اس نے سمندر سے نکالا تھا، اب تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ سیدنا جابر نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ ﷺ کو بھیجا تو آپﷺ نے اسے تناول فرمایا۔

امام نووی﷫ نے کہا ، پہلے سیدنا ابو عبیدہ نے اپنے اجتہاد سے اس کو مردار کہا، پھر ان کا اجتہاد بدل گیا اور انہوں نے کہا یہ حلال ہے۔ گو مردار ہو کیونکہ وہ مضطر تھے اور مضطر کے لیے مردار بھی حلال ہے، اور حضرت ﷺنے جو اس کا گوشت مانگا تو ان کے دل کو خوش کرنے کے لیے کیونکہ وہ حلال تھا یا اس لیے کہ وہ خاص اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا تھا تو آپﷺ نے اس کو متبرک سمجھا اور اس میں دلیل ہے اس امر کی کہ آدمی کو اپنے دوست سے کوئی شئے مانگنا درست ہے اور یہ سوال حرام نہیں ہے اور اجتہاد جائز ہونے کی یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی اور اس امر کی کہ دریا کا مردہ حلال ہے خواہ وہ خود مر جائے خواہ شکار سے مر جائے اور اہل اسلام نے مچھلی کی حلت پر اجماع کیا ہے ۔ ہمارے اصحاب نے مینڈک کو حرام کیا اور مینڈک کے سوا اور جانوروں میں 3 سے زیادہ اقوال ہیں۔

صحیح قول یہ ہے کہ وہ حلال ہیں ۔ امام مالک﷫ کے نزدیک مینڈک بھی درست ہے اور امام ابو حنیفہ﷫ کے نزدیک مچھلی کے سوا اور کوئی دریا کا جانور درست نہیں ہے۔ اسی طرح وہ مچھلی جو خود مر کر پانی کے اوپر تیر آئے ، ہمارے نزدیک اور جمہور علماء کے نزدیک حلال ہے اور امام ابو حنیفہ﷫ کے نزدیک حرام ہے اور حرمت کی دلیل میں سیدنا جابر کی حدیث مروی ہے جو کہ ضعیف ہے۔ جو کہ استدلال کے لائق نہیں ہے اور ہماری دلیل صحیح ہے۔ (صحیح مسلم: 1935، مع شرح امام نووی﷫)

اس حدیث سے بھی ان 300 صحابہ کرام کی کرامت ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے کس طرح حلال جانور مچھلی عنایت فرمائی جو زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں حلال ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں