کراماتِ اولیاء اللہ(قسط 3)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

خواب میں اذان کی تعلیم

ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں تعمیر مسجد نبوی کے بعد سوچا گیا کہ مسلمانوں کو نماز کے لیے وقت مقررہ پر کس طرح اطلاع کی جائے، چنانچہ یہود ونصاریٰ ومجوس کے مروجہ طریقے سامنے آئے جو وہ اپنی عبادت گاہوں میں لوگوں کے بلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اسلام میں ان سب چیزوں کو ناپسند کیا گیا کہ عبادت الٰہی کے لیے بلانے کے لیے گھنٹے یا ناموس کا استعمال کیا جائے، یا اس کی اطلاع کے لیے آگ روشن کر دی جائے، یہ مسئلہ درپیش ہی تھا کہ ایک صحابی عبد اللہ بن زید انصاری خزرجی نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص ان کو نماز کے وقتوں کی اطلاع کے لیے مروجہ اذان کے الفاظ سکھا رہے ہیں، وہ صبح اس خواب کو آنحضرتﷺ کی خدمت میں پیش کرنے آئے تو دیکھا گیا کہ سیدنا عمر بھی دوڑے چلے آر ہے ہیں اور آپ بھی حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ خواب میں ان کو بھی ہو بہو ان ہی کلمات کی تلقین کی گئی ہے، نبی کریمﷺ ان بیانات کو سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ خواب بالکل سچے ہیں، اب یہی طریقہ رائج کر دیا گیا، یہ خواب کا واقعہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد پہلے سال ہی کا ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر﷫ نے تہذیب التہذیب میں بیان کیا ہے کہ آپ‎ﷺ نے سیدنا عبد اللہ بن زید سے فرمایا کہ تم یہ الفاظ سیدنا بلال کو سکھا دو، ان کی آواز بہت بلند ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاذن: 603)

اس حدیث سے سیدنا عبد اللہ بن زید بن عبد رب اور سیدنا عمر کی کرامات ثابت ہوتی ہیں کہ کس طرح خواب میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو فرشتے کے ذریعے اذان کی تعلیم دی۔

سیدنا ابو مامہ الباہلی کا خواب میں سیراب ہونا!

سیدنا ابو اسامہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میرے لیے شہادت کی دعا فرما ئیے تو آپﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان کو سلامت اور غنیمت عطا فرمایا، چنانچہ ہم غزوہ میں شریک ہوئے اور سلامت رہے اور مال غنیمت حاصل کیے۔ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! آپ مجھے کسی عمل کا حکم دیجیے، آپﷺ نے فرمایا کہ تم روزے رکھا کرو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے، چنانچہ سیدنا ابوامامہ ان کی بیوی اور ان کا خادم روزے رکھا کرتے تھے۔ سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے مجھے باہلہ کی طرف بھیجا، چنانچہ میں وہاں پہنچا تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا، میں نے کہا اسی کھانے (خون) سے منع کرنے کے لیے آیا ہوں تو ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا اور واپس کر دیا، میں وہاں سے نکل گیا اور میں بھوکا اور پیاسا تھا، چنانچہ میں سو گیا۔ میرے خواب میں مجھے درود پیش کیا گیا ، میں نے پی لیا اور سیراب ہو گیا اور میرا پیٹ بھر گیا، لوگوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایک معزز آدمی آیا اور تم نے اس کو لوٹا دیا، انہوں نے کھانا اور پانی لے آئے، میں نے کہا مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلایا اور پلایا ہے، انہوں نے میرا حال دیکھا تو وہ سب کے سب ایمان قبول کر لیے۔ سیدنا ابو امامہ الباہلی‎ کثرت سے صدقہ وخیرات کرتے تھے، ایک دفعہ ان کے پاس صرف 3 دینار تھے اور یکے بعد دیگر 3 سائل آئے، انہوں نے ہر ایک کو ایک ایک دینار دیا اور شام کے کھانے کے لیے کچھ بھی پیسے نہ تھے چنانچہ انہوں نے شام کا کھانا ادھار لیا، واپس گھر آ کر کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے تکیہ کے نیچے اللہ عزوجل نے 300 دینار پہنچا دیا، اس پر اہل خانہ اللہ کا شکر ادا کیا۔ (سیر اعلام النبلاء: 3؍359)

سیدنا ابو امامہ الباہلی کی کرامت بلکہ کرامات ملاحظہ فرمائیں کہ اللہ پاک نے کس طرح ان کو حرام کھانے سے بچا کر خواب میں سیراب کر دیا جو دیکھنے والوں کے لیے ایمان لانے کا سبب بنے اور صدقہ کے صلہ میں اللہ کریم نے کسی طرح نقد برکت عطا فرمائی اور تین دینار صدقہ کرنے پر 300 دینار ان کے تکیہ کے نیچے پہنچا دیے۔ یہ تو دنیا کا اجر وثواب ہے اور آخرت کا اجر وثواب تو محفوظ ہے جو اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان شاء اللہ

سیدنا خبیب بن عدی کی نعش کو زمین نے اپنے اندر چھپا لیا

رسول اکرمﷺ سے چند مشرکوں اور کفار نے چند دین کے داعیوں کو ان کے پاس بھیجنے کی خواہش کی، آپﷺ نے چند صحابہ کو ان کی طرف بھیجا، لیکن انہوں نے راستے ہی میں دھوکے دیا اور ان پاکباز ہستیوں کو مار پیٹ شروع کر دی اور سیدنا خبیب اور زید بن دثنہ کو پکڑ کر انہیں فروخت کر دیا اور ان لوگوں نے انہیں خریدا جن کے اقارب کو مسلمانوں نے جنگ بدر میں قتل کر دیا تھا اور حرمت کے مہینے رجب، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم کے گزرنے کے بعد مقام تنعیم میں ان دونوں صحابہ کو بے دردی سے شہید کر دیا ۔ ایک بدبخت نے پوچھا کہ کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہاری جگہ رسول اکرمﷺ ہوں اور تم اس سولی سے چھوٹ جاؤ؟ تو ان دونوں صحابہ نے یہی جواب دیا کہ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہماری جان بچ جائے اور اس کے بدلہ میں سیدنا محمدﷺ کے پائے مبارک میں ایک کانٹا تک چبھے!

سولی پر چڑھائے جانے سے قبل سیدنا خبیب نے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت چاہی جو ان کو مل گئی اورسولی پر چڑھنے کے بعد سیدنا خبیب نے چند اشعار کہے جس میں اپنی اولو العزمی اور مشرکین وکفار کے لیے بد دعا کی، سولی دینے کے بعد اللہ کے رسولﷺ نے سیدہ امیہ بن ضمری سے فرمایا کہ تم ان کی نعش کو مدینہ لا سکتے ہو؟ چنانچہ اس کے لیے وہ روانہ ہوئے اور رات کی تاریکی میں درخت پر چڑھ کر ان کی نقش کی رسی کو کاٹا، ان کا جسد اطہر زمین پر گرا جب وہ درخت سے اترے تو زمین پر نقش نہیں تھی۔ گویا کہ زمین شق ہو کر ان کو اپنے اندر سمولی ہے۔ (خلاصہ، سیر اعلام النبلاء: 1؍ 246)

اس موقع پر سیدنا خبیب بن عدی نے جو اشعار کہے میرے استاذ محترم علامہ ابو البیان حماد العمری مدظلہم العالی نے اردو زبان میں ان کا ترجمہ کیا ہے، آپ بھی ملاحظہ فرمائیے:

مولانا حماد کا منظوم ترجمہ

پر ہول سماں اور یہ تنعیم کا میدان

اللہ تری شان ہے اللہ تری شان

ہر سمت سے اعداء نے مجھے گھیر لیا ہے

ہیں حملہ کناں مجھ پہ بہ سازو سروسامان

سینوں میں بھڑک اٹھی عداوت کی چھپی آگ

جس آگ سے بن جاتا ہے انسان بھی شیطان

ہیں میرے لیے دارو رسن طوق وسلاسل

اور جرم مرا صرف یہی، میں ہوں مسلمان

اعداء ہیں کہ لائے ہیں زن وطفل و جواں کو

سینوں میں لیے بیٹھے ہیں سب بغض کا طوفان

سولی کا مجھے خوف نہ پھانسی کا مجھے ڈر

ہے روح مری بہرہ ور لذت ایمان

ہے کفر اُدھر اور اِدھر مرگ شہادت

ہے میرے لیے کفر سے تو موت ہی آسان

آنکھوں سے رواں اشک مسرت ہیں مسلسل

اللہ کےر ستے میں نکلتی ہے مری جان

واللہ میں دشمن سے کبھی دب نہیں سکتا

اور مرگ شہادت سے نہیں ہوں میں ہراسان

اک جان کا کیا غم؟ جو ہوں سو جاں بھی مرے پاس

اللہ پہ، اللہ کے محبوبؐ پہ قربان

کیوں موت سے گھبراؤں بہرحال ہے مرنا

پرآتش دوزخ کا مجھے خوف ہے ہر آن

تیغوں کے یہ زخم اور یہ نیزوں کے کچو کے

فردوس درآغوش ہیں اور خلد بدامان

کرتا ہے مرے عزم وتوکل کی جو وہ جانچ

بخشے گا مجھے صبر کی توفیق بھی رحمان

کیا غم ہے مرے گوشت کے اڑتے ہیں جو پرزے

اب عیش دو روزہ کی مجھے آس نہ ارمان

اس غربت وکربت کی ہے اللہ سے فریاد

ہرحال میں ہے صرف وہی میرا نگہبان

ہر چند کہ میں نرغۂ اعداء میں گھرا ہوں

لیکن نہیں ہو گا متزلزل مرا ایمان

جینے کی مجھے فکر نہ مرنے کا کوئی غم

جیتا بھی تھا، مرتا بھی ہوں میں بن کے مسلمان

چاہے کسی پہلو پہ گروں راہِ خدا میں

ہو جائے گی حاصل مجھے خوشنودئ رحمان

اللہ نے چاہا تو ہر ایک جزوِ بدن سے

ابلے گا زبس خیر کا برکات کا طوفان

پیش آئی ہے، جب مجھ کو بلا راہِ خدا میں

حیران ہوں میں اس پہ ذرا بھی، نہ پریشان

(ماخوذ: از مولانا ابو البیان حماد عمری، شخصیت اور ادبی کارنامے؛ مقالہ پی ایچ ڈی، محمد عمری، ایم اے ، پی ایچ ڈی)

 

تبصرہ کریں