کراماتِ اولیاء اللہ(قسط 2)۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

سیدنا اسید بن حضیر کے رات کے وقت سورۃ البقرہ پڑھنے پر فرشتوں کا نزول فرمانا

سیدنا اسید بن حضیر نے بیان کیا کہ

رات کے وقت وہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا، اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا، پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا، اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا، تیسری مرتبہ انہوں نے جب تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا، ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے، اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا، صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریمﷺ سے بیان کیا، نبی کریمﷺ نے فرمایا:

اے اسید بن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے تو بہتر تھا، انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا، میں نے سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا ، پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے، پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا، نبی کریمﷺنے فرمایا:

تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیزتھی؟ سیدنا اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے، اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں!

اس سے سورۂ بقرہ کی فضیلت ثابت ہوئی اور سیدنا اسید بن حضیر کی کرامت بھی کہ ان کی تلاوت سننے کے لیے فرشتے آسمان سے زمین پر آ گئے تھے۔ (صحیح بخاری: 5018)

سیدنا سعد بن ابی وقاص کی بد دعا ابو سعدہ کے لیے

سیدنا جابر بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ

اہل کوفہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص کی سیدنا عمر فاروق سے شکایت کی، اس لیے سیدنا عمر نے ان کو علیحدہ کر کے سیدنا عمار کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے، چنانچہ سیدنا عمر نے ان کو بلا بھیجا، آپ نے ان سے پوچھا کہ اے ابو اسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو، اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں تو انہیں نبی کریمﷺ کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا، عشاء کی نماز پڑھاتا تو اس کی دو پہلی رکعات میں قراءت لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا، سیدنا عمر نے فرمایا کہ

اے ابو اسحاق! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی پھر آپ نے سیدنا سعد کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا، قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا، سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بن عبس میں گئے تو ایک شخص نے جس کا نام سیدنا اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابو سعدہ تھی کھڑا ہوا، اس نے کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو سنیے سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل وانصاف کرتے تھے، سیدنا سعد نے یہ سن کر فرمایا کہ

اللہ کی قسم! میں تمہاری اس بات پر تین دعائیں کرتا ہوں، اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا ونمود کے لیے کھڑا ہوا ہے، تو اس کی عمر دراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔‘‘

اس کے بعد وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ

جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد کی بد دعا لگ گئی ، عبد المالک نے کہا کہ

میں نے اسے دیکھا اس کی بھوئیں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھیں، لیکن اب بھی وہ راستوں میں لڑکیوں کو چھیڑنا۔

تشریح:

سیدنا سعد نے نماز کی جو تفصیل بیان کی اور اس کو نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کیا، اسی سے باب کے جملہ مقاصد ثابت ہو گئے، سیدنا سعد بن ابی وقاص عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، یہ مستجاب الدعوات تھے۔ نبی کریمﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی تھی۔ عہدِ فاروقی میں یہ کوفہ کے گورنر تھے، مگر کوفہ والوں کی بے وفائی مشہور ہے، انہوں نے سیدنا سعد کے خلاف جھوٹی شکایتیں کیں، آخر سیدنا عمر نے وہاں کے حالات کا اندازہ فرما کر سیدنا عمار کو نماز پڑھانے کے لیے اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود کو بیت المال کی حفاظت کے لیے مقرر فرمایا، سیدنا سعد کی فضیلت کے لیے یہ کافی ہے کہ جنگ احد میں انہوں نے نبی کریمﷺ کے بچاؤ کے لیے بے نظیر جرأت کاثبوت دیا، جس سے خوش ہو کر نبی کریمﷺ نے فرمایا، اے سعد! تیرا چلا، تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، یہ فضیلت کسی اور صحابی کو نصیب نہیں ہوئی، جنگ ایران میں انہوں نے شجاعت کے وہ جو ہر دکھلائے، جن سے اسلامی تاریخ بھرپور ہے، سارے ایران پر اسلامی پر چم لہرا دیا، رستم ثانی کو میدان کار زار میں بڑی آسانی سے مار لیا، جو اکیلا ہزار آدمیوں کے مقابلہ پر سمجھا جاتا تھا۔ سیدنا سعد نے اسامہ بن قتادہ کوفی کے حق میں بد دعا کی جس نے آپ پر الزامات لگائے تھے، اللہ تعالیٰ نے سیدنا سعد کی دعا قبول کی اور وہ نتیجہ ہوا جس یہاں ذکر موجود ہے، معلوم ہوا کہ کسی پر ناحق کوئی الزام لگانابہت بڑا گناہ ہے، ایسی حالت میں مظلوم کی بد دعا سے ڈرنا، ایمان کی خاصیت ہے۔

(صحیح بخاری، کتاب الاذان، 755، ترجمہ وتشریح ازمولانا محمد داؤد راز﷫)

یہ سیدنا سعد بن ابی وقاص کی کرامت ہے کہ ان کی بد دعا سے ابو سعدہ کو تینوں ذلتوں سے دوچار ہونا پڑا اور انہیں اسی کا یقین تھا اور وہ خود لوگوں سے اس حقیقت کا اعتراف کرتے تھے۔

شیطان نے سیدنا ابو ہریرہ کو آیۃ الکرسی کی فضیلت بتلائی جس پر اللہ کے رسولﷺ نے تصدیق فرما دی!

سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان کی زکوۃ (صدقہ فطر) کی حفاظت کیلئے مقررفرمایا تو ایک رات کو ایک آنے والا آیا اور اس نے (اپنے کپڑے میں )کھانے والی چیزیں بھرنا شروع کردیں ،میں نے اسے پکڑلیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔اس نے کہا کہ مجھے چھوڑدو،میں محتاج،عیال دار اور سخت حاجت مند ہوں۔میں نے اسے چھوڑدیا ۔صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’ابوہریرہ ! اپنے رات کے قیدی کا حال تو سناؤ؟‘‘ میں نےعرض کی ،اے اللہ کے رسولﷺ ! جب اس نے کہا کہ وہ سخت حاجت منداور عیال دار ہے تو میں نے رحم کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ۔

آپﷺ نے فرمایا:

’’اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور پھرآئے گا۔‘‘اب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ واقعی دوبارہ آئے گا،کیونکہ رسول اللہ ﷺنے یہ خبردے دی تھی کہ وہ دوبارہ آئے گل ،سومیں چوکنا رہا ،چنانچہ وہ آیا اور اس نے (اپنے کپڑے میں )خوراک ڈالنا شروع کردی ۔میں نے اسے پکڑلیا اور کہا کہ تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔کہنے لگا مجھے چھوڑدو میں بہت محتاج ہوں اور مجھ پر اہل وعیال کی ذمہ داری کا بوجھ ہے ،اب میں آئندہ نہیں آؤں گا۔میں نے رحم کھاتے ہوئے اسے پھر چھوڑ دیا۔

صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ابوہریرہ ! اپنے قیدی کا حال سناؤ؟‘‘ میں نے عرض کی ،اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے سخت حاجت اور اہل وعیال کی ذمہ داری کے بوجھ کا ذکر کیا تو میں نے ترس کھاتے ہوئے اسے پھرچھوڑ دیا۔آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے،وہ پھر آئے گا۔‘‘

میں نےتیسری بار اس کی گھات لگائی تو وہ پھرآیا اور اس نے (اپنے کپڑے میں )کھانے کی اشیاء ڈالنا شروع کر دیں۔میں نے اسے پکڑلیا اور کہا، اب میں تجھے ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔بس یہ تیسری اور آخری دفعہ ہے ،تو روز کہتا ہے کہ اب نہیں آئے گا لیکن وعدہ کرنے کے باوجود پھر آجاتا ہے ۔

اس نے کہا مجھے چھوڑ دو ،میں تمھیں کچھ ایسے کلمات سکھادیتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع دے گا۔میں نے کہا: وہ کیا کلمات ہیں ؟ کہنے لگا:

جب بستر پر آؤ تو آیت الکرسی (اَلله لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ)سے لے کرآخر تک پڑھ لیا کرو ساری رات اللہ کی طرف سے ایک محافظ تمہاری حفاظت کرتا رہے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہ آسکے گا۔میں نے اسے چھوڑ دیا ۔

صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’اپنے رات کی قیدی کا حال سناؤ؟‘‘میں نےعرض کی ،اے اللہ کی رسول ﷺ !اس نےکہا تھا کہ وہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھائے گا جن سےاللہ تعالیٰ مجھے نفع دے گاتو (یہ سن کر ) میں نے اسے پھرچھوڑ دیا ۔آپ ﷺ نے فرمایا:

’’وہ کلمات کیا ہیں ؟‘‘میں نےعرض کی،اس نے مجھ سے کہا کہ جب بستر پر آؤ تو اول سے آخر تک مکمل آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تو اس سے ساری رات اللہ تعالی کی طرف سے ایک محافظ تمہاری حفاظت کرے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آ سکے گا۔

اب صحابہ کرام خیروبھلائی کے سیکھنے کے حددرجہ شائق تھے۔یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’اس نے تم سے بات تو سچی کی ہے حالانکہ وہ خود تو جھوٹا ہے،اے ابوہریرہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم تین راتیں کس سے باتیں کرتے رہے ہو؟‘

‘میں نے عرض کی ،نہیں ،تو رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے بتایا’’وہ شیطان تھا۔‘‘ (صحیح بخاری ،کتاب الوکالۃ)

تشریح:

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ نے صدقہ کی کھجور میں ہاتھ کا نشان دیکھا تھا جیسے اس میں سے اٹھا کر لے گیا ہو، انہوں نے نبی کریمﷺ سے اس کی شکایت کی، آپﷺ نے فرمایا:

کیا تو اس کو پکڑنا چاہتا ہے؟ تو یوں کہہ! سبحان من سخرك لمحمد ﷺ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے تجھ کو محمدﷺ کے تابع کر دیا ہے۔)

سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ

میں نے یہی کہا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ میرے سامنے کھڑا ہوا ہے، میں نے اس کو پکڑ لیا۔ (وحیدی)

سیدنا معاذ بن جبل کی روایت میں اتنا زیادہ ہے اور آمن الرسول سے اخیر سورہ تک۔ اس میں یوں ہے کہ صدقہ کی کھجور نبی کریمﷺ نے میری حفاظت میں دی تھی، میں جو دیکھوں تو روز بروز وہ کم ہو رہی ہے، میں نے نبی کریمﷺ سے اس کاشکوہ کیا، آپﷺ نے فرمایا:

’’یہ شیطان کا کام ہے، پھر میں اس کوتاکتا رہا، وہ ہاتھی کی صورت میں نمودار ہوا، جب دروازے کے قریب پہنچا تو دروازوں میں سے صورت بدل کر اندر چلا آیا اور کھجوروں کے پاس آ کر اس کے لقمے لگانے لگا، میں نے اپنے کپڑے مضبوط باندھے اور اس کی کمر پکڑی، میں نے کہا:

اللہ کے دشمن تو نے صدقہ کی کھجور اڑا دی، دوسرے لوگ تجھ سے زیادہ اس کے حق دار تھے، میں تجھے پکڑ کر نبی کریمﷺ کے پاس لے جاؤں گا، وہاں تیری خوب فضیحت ہو گی۔ ‘‘

ایک روایت میں یوں ہے کہ

میں نے پوچھا تو میرے گھر میں کھجور کھانے کے لیے کیوں گھسا ، کہنے لگا میں بوڑھا، محتاج ، عیال دار ہوں اور نصیبین سے آر ہا ہوں، اگر مجھے کہیں اور کچھ مل جاتا تو میں تیرے پاس نہ آتا، اور ہم تمہارے ہی شہر میں رہاکرتے تھے، یہاں تک کہ تمہارے پیغمبر صاحب ہوئے، جب ان پر دو آیتیں اتری تو ہم بھاگ گئے۔ اگر تو مجھ کو چھوڑ دے تو میں وہ آیتیں تجھ کو سکھلا دوں گا۔ میں نے کہا، اچھا، پھر اس نے آیۃ الکرسی اور آمن الرسول سے سورۃ البقرہ کے اخیر تک بتلائی۔ (فتح)

سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب سے یوں روایت ہے کہ

میرے کھجور کا ایک تھیلا تھا، اس میں سے روزکھجور کم ہو رہی تھی، ایک دن میں نے دیکھا، ایک جوان خوبصورت لڑکا وہاں مو جود ہے، میں نے پوچھا تو آدمی ہے یا جن ہے، وہ کہنے لگا میں جن ہوں، میں نے اس سے پوچھا، ہم تم سے کیسے بچیں؟ اس نے کہا کہ آیت الکرسی پڑھ کر، پھر نبی کریمﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپﷺ نے فرمایا:

’’ اس خبیث نے سچ کہا، معلوم ہوا، جس کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس میں شیطان شریک ہو جاتے ہیں، اورشیطان کا دیکھنا ممکن ہے جب وہ اپنی صورت بدل لے۔‘‘ (وحیدی)

حافظ صاحب فرماتے ہیں:

اس حدیث میں بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے ایک یہ کہ شیطان ایسی باتیں بھی جانتا ہے جن سے مؤمن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور کبھی حکمت کی باتیں فاجر کے منہ سے بھی نکل جاتی ہیں، وہ خود تو ان سےفائدہ نہیں اٹھاتا مگر دوسرے سے سبق حاصل کر سکتے ہیں اور نفع حاصل کر سکتے ہیں اور بعض آدمی کچھ اچھی بات جانتے ہیں، مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے اور بعض کافر ایسی قابل تصدیق بات کہہ دیتے ہیں جیسے اہل ایمان مگر وہ کافر اس سے مؤمن نہیں ہو جاتے اور بعض دفعہ جھوٹوں کی بھی تصدیق کی جا سکتی ہے اور شیطان کی شان بھی یہ ہے کہ

اسے جھوٹا کہا جائے اور یہ کہ جسے کسی چیز کی حفاظت پر مامور کیا جائے اسے وکیل کہا جاتا ہے اور یہ کہ جنات انسانی غذائیں کھاتے ہیں اور وہ انسانوں کے سامنے ظاہر بھی ہو سکتے ہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ جو مذکور ہوئی اور یہ بھی کہ وہ انسانی زبانوں میں کلام بھی کر سکتے ہیں اور وہ چوری بھی کر سکتے ہیں اور دھوکہ بازی بھی کر سکتے ہین، اس میں آیۃ الکرسی اورآخر سورۃ البقرہ کی بھی فضیلت ہے اور یہ بھی کہ شیطان اس غذا کو حاصل کر لیتے ہیں جس پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا۔ (صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ: 2311؛ ترجمہ وتشریح مولانا محمد داؤد راز﷫)

اس حدیث سے سیدنا ابو ہریرہ اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو ایوب انصاری کی کرامتیں واضح ہوئی ہیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں