کاکا محمد عمر رحمہ اللہ ( مؤسس جامعہ دارالسلام عمرآباد جنوبی ہند ) خطاب:شیخ ابوقحافہ معاذ عمری

کاکا محمد عمر رحمہ اللہ ( مؤسس جامعہ دارالسلام عمرآباد جنوبی ہند ) خطاب:شیخ ابوقحافہ معاذ عمری

جمع ترتیب واضافہ: ڈاکٹر عبدالرب ثاقب العمری، ڈڈلی

(اس مضمون کی تیاری میں مولانا حبیب الرحمن اعظمی عمری کی کتاب ’’چمن جامعہ کے باغبان ‘‘، ڈاکٹر محمد اسلم شادعمری کا PH.D کا مقالہ جو ’’نقوش جامعہ‘‘ کے نام سے چھپ چکا ہے اور علامہ حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی ﷾ کے مضامین ،مولانا سرمدی عمر کے مقالہ مطبوعہ صحیفہ عمرآبادکے 1977ء اور ڈاکٹر سمیہ بانو بنت حضرت مولانا ابوالبیان حمادعمری (بنگلور) کے مضمون سے استفادہ کیا گیا ہے۔)

یہ جامعہ اپنا فخر زمن ، یہ نازش ملک وشان وطن

یہ گل کدۂ شاداب دکن، یہ ہند کے دل کی ہے دھڑ کن !

عمرآباد نامی جنوبی ہند صوبۂ ٹاملناڈو میں واقع ایک چھوٹا سا قریہ ہے جس میں جامعہ دار السلام کے قیام کے بعد سو سال کا عرصہ بیت چکا ہے، اس کے فارغین ساری دنیا میں پھیل چکے ہیں اور دین و ملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں ، تو ایسے موقع پرنئی نسل کو مؤسس جامعہ دارالسلام عمرآباد سے روشناس کرانے کے لیے اس موضوع پر اظہار خیال کی ضرورت محسوس ہوئی ، کا کامحمد عمر کی ولادت 1864ء کو بتراپی مقام میں ہوئی جو گڑھ آمبور سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جنوبی ہند کے شمالی آرکاٹ (North Arqt) میں ایک مشہور تجارتی شہر آمبور ہے اس کے جانب شال آٹھ میل کے فاصلہ پر ایک تاریخی علاقہ گڑھ آمبور سے مشہور ہے۔ گڑھ آمبور علم دین سے مردم علاقہ تھا، صرف چند رسومات تھے جن پر وہاں کے لوگ عمل کرتے تھے۔ آج سے 300 سال قبل یہاں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اس جنگ میں نواب انور الدین خاں اور ان کے سپہ سالار محمد نجیب کی شہادت ہوئی تھی ، جن کی قبر میں گڑھ آمبور کی تاریخی مسجد کے سایے میں آج بھی موجود ہیں ۔ اگرچیکہ وہ انگریزوں کی طرف تھے، ان کے بعد ان کے بیٹے وہاں کے سربراہ ہوئے آج بھی پہاڑ کے دامن میں است قلعہ کی ٹوٹی ہوئی دیواروں کے آثار موجود ہیں، اس علاقہ میں کا کا بہاؤالدین رہتے تھے اور وہاں ایک مسجد ہے جس پر 1120 ہجری تاریخ لکھی ہے۔ لیکن 300 سال قبل بنائی گئی وہ مسجد ابھی تک مضبوط اور آباد ہے، کا کا بہاؤ الدین کے گھر ایک بچے کی ولادت ہوئی جس کا نام کا کام عمر رکھا گیا، ان کی ولادت ان کے ننھیال بتراپی میں ہوئی ان کا ننھیال بھی کا کا خاندان سے تھا۔ کا کا نیک آدمی کو کہتے تھے ممکن ہے ملیبار سے یہ خاندان یہاں منتقل ہوا ہو، کا کا کے معنی بھائی کے بھی ہیں ، ان علاقوں میں مقیم لوگوں کو لبّے کہتے ہیں ، لبّے یہ لبیب کی بگڑی ہوئی شکل ہوسکتی ہے، عقلمند لوگوں کو لبّے کہتے ہیں ! کا کا محمد عمر کی پرورش اور نشوونما گڑھ آمبور میں ہوئی ! کا کامحمد عمر نے دین اور دنیا کی بنیا دی اور ضروری تعلیم حاصل کی اور تجارت میں لگ گئے ، ان کے والد بھی تاجر تھے اور یہ بھی تا جر ہو گئے ! کا کامحمد عمر نے تجارت میں بڑا نام کمایا ، انہوں نے 18 سال کی عمر میں بھو پال کا سفر کیا اور جہاں بھی جاتے کاروبار کے ساتھ ساتھ وہاں کے علمائے کرام سے ملاقات کرتے اور ان سے علمی استفادہ کرتے اور وہاں کے دینی حالات کا جائزہ لیتے تھے! بھوپال میں مولا نانواب صدیق حسن خان سے ملاقات کی ، دہلی گئے تو شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین دہلوی سے فیض حاصل کیا، سر سید احمد خان، مولانا بشیر احمد سہسوائی، مو لا نا سلامت اللہ جیران پوری اور پنجاب میں جناب غلام قصوری سے فیض حاصل کیا ، امرتسر میں مولانا عبد اللہ غزنوی کے فرزند مولانا عبد الجبار غزنوی اور ان کے مدرسہ سے بہت متاثر ہوئے۔ تقریبا 12 سال مختلف اسفار میں ان کے دروس میں شریک رہے! کا کام عمر با قاعدہ کسی جامعہ سے فارغ نہیں تھے۔ مگر علماء کی صحبت سے انہوں نے خوب استفادہ کیا، کا کا محمد عمر مسلمانوں کے افتراق و انتشار سے بہت ہی نالاں تھے، اہل حدیث اور احناف میں منافرت تھی ، کا کاعمر چاہتے تھے کہ ایک ایسے جامعہ کا قیام عمل میں لائیں جس میں بھی مسالک کے طلبا ء آ کر پڑھیں اور تمام مسالک کے اساتذہ ان کو تعلیم دیں، اسی سلسلہ میں مولا نافقیراللہ پنجابی ، مدراسی ، بنگلوری بقول مولانا اسحاق بھٹی وہ بھی بنگلور آئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ یہ بڑے سلفی عالم تھے، ان کا عمران سے بھی بہت متاثر ہوئے ، چنانچہ اپنے اس عزم کو ظاہر کرنے کے لیے کا کاعمر نے اپنی روشن کمپنی جو مدارس میں تھی وہاں ایک میٹنگ کی جس میں انہوں نے کھل کر اپنے عزم کا اظہار کیا ، اس سلسلہ میں آپ نے استخارہ کیا، آپ کے خطاب کا خلاصہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی عمری ’’چمن جامعہ کے باغبان‘‘ اور مولانا اسلم شادعمری ’’ نقوش جامعہ‘‘ میں موجود ہے ان میں آپ کے خطاب کا خلاصہ یوں ہے:

’’میری عمر کا ایک بڑا حصہ محض دنیوی کاروبار میں صرف ہوا اور مجھ سے کوئی کام ’’حسنات جاریہ‘‘ کا نہیں ہو سکا۔ یہ محض میری غفلت تھی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے معاف فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے بے انتہا دنیوی نعمتوں سے مجھے مالا مال کیا، جس کا شکریہ کی طرح مجھ ذرۂ ناچیز سے ادا نہیں ہوسکتا۔ مگر ایک عرصے سے میرا دل مجھ کو ابھار رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ شکریہ بطور ”حسناتِ جار یہ‘‘ دنیامیں ادا کروں۔ بڑے غور وفکر کے بعد شری ہدایات کی روشنی میں ایک دینی درس گاہ کا قیام میرے شعور میں بیدار ہوا۔

اسلامی تاریخ اور علمائے کرام کی ہد ایتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحیح مذہبی تعلیم ہی ایک ایسی چیز ہے کہ وہ جس قدر عام ہوگی ، اسی قدر مذہب کو ترقی اور مسلمانوں کو عروج حاصل ہوگا اور اس کے برکس دینی تعلیم جس قدر کم ہوگی اسی قدر مسلمان ادبار وتنزل سے دوچار ہوں گے۔ بےعلمی کی وجہ سے دنیائے اسلام میں مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ عبادات، مذہبی معاشرت، حسن اخلاق اور حسن خاتمہ ان سب باتوں کی اصل صحیح مذہبی تعلیم ہے، جس کا اِجرا ہر شہر اور ہر قریے میں بے حد ضروری ہے۔ یہ بھی ایک طرح سے اشاعت اسلام کا مستحسن اور نفع بخش ذریعہ ہے۔

وہ صرف ایک مدرسہ کا قیام عمل میں لانا نہیں چاہتے تھے اس لئے کہ اس وقت برصغیر میں ہزاروں مدارس و جامعات اور دار العلوم موجود تھے بلکہ ایک منفرد مدرسہ جس میں ہرمکتب فکر کے طلبا ء پڑھیں اور ہر کتب فکر کے اساتذہ پڑھائیں ان کا مقصد تھا!

مدراس میں ’’روشن کمپنی‘‘ کے نام سے چرم کی ایک کمپنی تھی جناب کا کامحمد عمر اس کمپنی کے شراکت دار تھے اس کے بڑے بڑے 27 کارخانے تھے اور 64 اس کے برانچز تھے، کا کامحمد عمر نہ صرف اس شراکت دار تھے، بلکہ 10 سال تک 1917ء سے 1927ء تک اس کے نائب صدر رہے، پوری دنیا میں یہ کمپنی مشہورتھی اور ساری دنیا میں ان کا مال سپلائی ہوتا تھا، برصغیر کے مشہور صوبوں کے علاوہ سنگاپور، انڈونیشیا، جاپان میں تو اس کا مرکزی آفس تھا، اللہ پاک نے آپ کو بہت مال عطا فرمایا تھا، گڑھا آمبور سے متصل دو پہاڑوں کے درمیان بہت ہی وسیع زمین خریدی اور یہاں اپنا گھر اور مسجد کی تعمیر کی اور وہاں اپنوں کو غیروں کو ہندو مسلمان کو یاد کیا جو زمین نہیں خرید سکتے تھے ان کو مفت زمین دی اور جو مکان نہیں بنا سکتے تھے، ان کی مالی مدد کی اس علاقہ کو صاف کیا اس کو آباد کیا، چنانچہ یہ علاقہ ان کے نام سے ’’عمرآبا د‘‘ مشہور ہوا، مولانا سید سلیمان ندوی نے 1938ء کے ماہنامہ معارف اعظم گڑھ میں یوں رقمطراز ہیں:

’’چوتھا سفر اکتوبر 1937ء میں جامعہ کے جلسۂ تقسیم اسناد کی مناسبت سے کیا، جس میں سید صاحب بحیثیت صدر مدعو تھے۔ جامعہ کی ترقی پر خوش ہوتے ہوے ڈوب کر لکھتے ہیں:

’’اکتوبر کے اخیر میں مجھے 9 یا 10 برس کے بعد ہندوستان کے اس دور درازصوبے میں جانے کا اتفاق ہوا، جس کو مجھ سے اور مجھ کو اس سے دلی اُنس ہے، یعنی مدارس ۔ مدارس کے اس مقام میں جو آرکاٹ کے نام سے مشہور ہے، اور جو بھی ایک اسلامی حکومت کا مرکز تھا، اور جس کے کھنڈروں میں اب بھی اسلامی جاہ و جلال کی یادگاریں ہیں، اب ایک نئی اسلامی حکومت کا آفتاب نکلنے والا ہے۔ مگر یہ آفتاب سیاست کا نہیں ، بلکہ علم فن ، کتاب و سنت اور اسلامی تبلیغ و تہذیب کا ہے، اور اس کا نام جامعہ دار السلام ہے۔

1927ء دسمبر میں کا کامحمد عمر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ مولانا سید صبغت اللہ بختیاری جامعہ کے اولین اساتذہ میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ کاکامحمد اسماعیل 1958ء ان کا سن وفات ہے اور کا کامحمد عمر کے بڑے فرزند ہیں کہ لاکھوں روپوں کے کاروبار تھے مگر کا کا عمر نے اپنے بچوں کو اپنے کاروبار کے تعلق سے اتنا نہیں بتایا کہ ہر وقت مدرسہ کے متعلق سے تاکید کرتے رہے کہ اس کی فکر کریں ، اساتذہ کرام کی قدر کریں چنانچہ انہوں نے 6 دسمبر 1924ء کو مدرسۂ لطیفیہ کے سجادہ نشین مولانا جلال الدین کی صدارت میں جلسہ منعقد کیا اور دوسرے دن کے 7 دسمبر 1924ء کو اپنے گھر کے ایک حصے میں تعلیم کا آغاز کر دیا اور ایک سال گزرنے کے بعد ماہ مارچ 1924 کو مدرسہ کا سالانہ امتحان رکھا اور امتحان کے لیے پورے ملک سے چنندہ علماء کو مدعو کیا اور خود بھی ان علماء کے ساتھ ساتھ رہے اور اس امتحان کے نتیجہ سے بہت خوش تھے، اور ان کامیاب ہونے والے طلباء کی دستار بندی کی، کا کا عمر نے اتنی کثیر الجھات مصروفیات کے باوجود 3 سال تک اپنی ڈائری لکھتے رہے جس سے ان کے نظریات و خیالات واضح ہوتے ہیں، آپ نے اپنے بچے کی شفایابی کے لیے حج کو بھیجنے کا ارادہ کرلیا تھا، اس سے آپ کے عقیدہ کی مضبوطی اور دولت کا اندازہ ہوتا ہے!

آپ کی ڈائری سے آپ کی تواضع ، انکساری اور دینداری کا پتہ چلتا ہے !

کا کا بہاؤ الدین کے تین فرزند تھے: کا کاعمر ،کا کا عبدالمجید اور کا کا عبدالرزاق۔

کا کامحمد عمر کے تین فرزند تھے: کا کام اسماعیل ، کا کا محمد ابراہیم اور کا کام محمد اسحاق!

جامعہ کا نصاب بنانے کے لیے کا کا اسماعیل نے مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا انور شاہ کشمیری ،مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا سید سلیمان ندوی وغیر ہم سے مشورہ کیا ، آپ کے سب بچوں اور بچوں کے بچوں بلکہ کا کافیملی میں جامعہ کا درد پایا جاتا تھا اور الحمدللہ اب تک کا کا فیملی میں جامعہ سے قلبی تعلق باقی ہے اور جامعہ کے مفادکواپنے ہرمفاد سے زیادہ اہم جانتے تھے اور ہیں ۔

الحمد للہ! شاید بانی جامعہ کے اخلاص کا نتیجہ ہے! کا کا ابراہیم نے اپنے والد کے نام سے ایک خوبصورت باغیچہ میں ایک لائبریری ’’عمر لائبریری‘‘ کے نام سے بنائی جس میں اہم دینی ، عربی ، اردو ، فارسی، ٹمل اور انگریزی کتابیں جمع کیں۔

کا کا محمد اسماعیل کے تین فرزند کاکا رشید احمد، کا کامحمد عمر ثانی اور کاکا سعید احمد العمری ﷾، کا کامحمد عمر کے بعد جامعہ کی یہ ذمہ داری کا کا عبدالرزاق کے کاندھوں پر پڑی ، کاکا محمد اسحاق میدان عرفات میں بہت زیادہ وقت دعا کرتے رہے، جب علامہ حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی نے ان سے کہا کہ اب چانا چاہیے تو انھوں نے کہا کہ مجھے دعا کر لینے دو ، علامہ حافظ حفیظ الرحمن مدنی نے کہا کہ اب تک آپ دعا بھی کررہے تھے تو انہوں نے کہا کہ اب تک جامعہ دار السلام کے لیے دعا کرتا رہا، اب مجھے اپنے لیے دعا کرنا ہے!

اندازہ فرمایئے کہ کا کا خاندان کے ہر فرد کو جامعہ کی کتنی فکرتھی اور ہے!

جامعہ دار السلام کے اصل مناصب تین ہیں: صدر، جنرل سکریڑی اور ناظم جامعہ ! جامعہ کی تاسیس کے بعد 100 سال ہو چکے ہیں ان میں جامعہ کے صدور ہوئے ہیں ، جنرل سیکریڑی صرف 4 ہیں اور ناظم صرف 10 ہیں ،100سال کے عرصہ میں اتنے کم عہد یدار اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں اتفاق و اتحاد اور ڈسپلن تھا، اگر اس کے خلاف بات ہوتی تو پتہ نہیں کتنے صدور اور ناظمین ہوتے !جب جامعہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو یہ علا قہ غیر ذی زرع (غیر آباد) تھالیکن مؤسس جامعہ کو یقین تھا کہ الله کریم اس علاقہ کو آباد کرے گا ، چنانچہ دنیا کے مختلف حصوں سے طلبا ء کی آمد بھی جاری ہے اور اساتذہ و مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ہے!

مسجد عبا دالرحمٰن حیدرآباد دکن کے بانی جناب عبد اللہ بن عبد الرشید ہیں جو ہر وقت میرے تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں، الله تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور میرے والد مرحوم کو جنت الفردوس عطا فرمائے، جنہوں نے مجھے اس جامعہ میں پڑھنے کا موقع عنایت فرمایا۔

اللہ کریم مؤسس جامعہ حاجی محمد عمرکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے پورے سلسلہ کو جنھوں نے اس کے لیے خون پسینہ بہا یا ، اللہ ان تمام کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور آج کل اس کے ذمہ داروں کو اللہ پاک بعافیت سلامت رکھے اور ان تمام کو دارین میں جزائے خیر عطا فرمائے ۔ اسی طرح اس جامعہ کے اساتذہ کرام اور طلبا کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے اور میری اہلیہ کو بھی جو نیک کاموں میں میرا تعاون کرتی ہیں اللہ انہیں اچھا بدلہ عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین !

٭٭٭

اہلیہ کو بتا کر جانا بہتر ہے

اہلیہ کو یہ بتلانا مستحسن ہے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔

قرآن مجید میں ہے:

’’(سیدنا موسیٰ ) نے اپنے اہل خانہ سے کہا:ذرا ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے؛ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہ نمائی مل جائے۔‘‘

(سورۃ طہ:10)

تبصرہ کریں