کاہنوں اور نجومیوں سے بچئے- خطبہ جمعہ بیت اللہ

ہر طرح کی حمد وثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ ہم اسی کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں، اسی پر بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں اور اسی سے معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفس کے شر سے اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے اہل بیت پر۔ اے اللہ! رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘

اے مسلمانو! صحیح عقیدے کی ایک بنیادی چیز یہ پختہ یقین ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾

’’اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا، اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

اے مومنو! اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص بہت بڑا جھوٹا اور دجال ہے جو علمِ غیب کا دعویٰ کرتا ہے، چاہے وہ کاہن ہو، نجومی ہو، ستاروں کو جاننے والا ہو، ہاتھوں کی لکیریں پڑھنے والا ہو، شگون نکالنے والے ہوں یا کپ گھمانے والے ہوں۔ ایسے بہت سے لوگ جھوٹ اور فریب کا سہار لیتے ہوئے زمینی حادثات کو مستقبل کی خبروں سے جوڑتے ہیں، یا ایسی چیزوں کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کرتے جو انسانوں سے چھپی ہوئی ہیں، جیسا کہ بعض میڈیائی چینلز پر بھی ہمیں نظر آتا ہے کہ بعض لوگ ستاروں کے احول بتا رہے ہوتے ہیں، ان کی باتیں جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں، طرح طرح کی شعبدہ بازی ان کی بنیاد ہوتی ہے اور یہی کاہنوں اور نجومیوں کا کام ہوتا ہے۔ ان کی باتوں کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، نہ شریعت میں ان کی کوئی گنجائش ہے۔

شریعت کے علماء متفق ہیں کہ یہ چیزیں حرام ہیں، انہیں استعمال کرنا اور انہیں سننا نا جائز ہے، کجا یہ کہ انہیں درست سمجھا جائے یا انہیں تسلیم کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنِ اقتبَسَ شعبةً من النجوم.»

’’جس نے ستاروں کے علم کا کوئی حصہ سیکھا۔‘‘

ایک دوسری روایت میں ہے:

«مَنِ اقتبَسَ علمًا من النجوم فقد اقتبس شعبةً من السحر، زاد ما زاد.»

’’جس نے علمِ نجوم کا کوئی حصہ سیکھا تو اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا، وہ جتنا سیکھے گا، اتنا جادو ہی سیکھے گا۔‘‘

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں فرمایا:

«من قال: مُطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافرٌ بي، مؤمنٌ بالكوكب.»

’’جو یہ کہے: ہم پر فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر یقین رکھنے والا ہے۔‘‘

جب سیدنا علی خارجیوں سے جنگ کرنے کے لیے نکلنے لگے تو تمام نجومی اس بات پر متفق تھے کہ آپ کو شکست ہو گی، کیونکہ وہ برج عقرب (Scorpio) میں نکلے تھے، جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس پر سیدنا علی نے ان سے کہا:

“بل نسافر ثقةً بالله وتوكلًا على الله -جل وعلا-، وتكذيبًا لقول المنجمين.”

’’ہم اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے اور نجومیوں کو جھٹلاتے ہوئے سفر شروع کریں گے۔‘‘

پھر آپ نے سفر کیا، اپنے لشکر کے ساتھ فتح پائی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نصرت اور کامیابی سے نوازا۔ اسی طرح جنگ عموریہ میں تمام نجومی اس بات پر متفق تھے کہ خلیفہ معتصم جیت نہیں سکیں گے۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان کی بات کو جھٹلایا، اللہ پر بھروسہ کیا اور نکل گئے، تو تب بھی مسلمانوں کو فتح ملی تھی۔ اسی پر ابو تمام نے اپنا مشہور قصیدہ کہا تھا:

الــسيف أصــدق إنباءً من الكتب

في حَــدِّه الحَدُّ بينَ الـجِدِّ واللَّعِبِ

’’شمشیر، نجومیوں کے صحیفوں سے زیادہ صادق ہے، اس کی دھار پر حق واضح ہو جاتا ہے اور کھیل کود کی فضول باتوں سے بھی پردہ ہٹ جاتا ہے۔‘‘

پھر ان کے جھوٹ اور فریب کو بیان کرتے ہوئے کہا:

أين الــرواية، بل أين النجــوم وما

صاغوه من زخرف فيها ومن كذب

تـــخرُّصًا وأحــــاديثًا مــــلفَّقةً

ليست بنبع إذا عـــدت ولا غرب

لــو بيَّنَتْ قــطُّ أمرًا قـبل موقعه

لم يَخْفَ ما حلَّ بالأوثان والصُّلُبِ

’’کہاں ہے ان کی روایتیں؟ بلکہ کہاں گئے ان کے ستارے اور ان کے جھوٹ سے لبریز خوبصورت الفاظ، جس میں یہ گھڑی ہوئی بے بنیاد باتیں بیان کرتے تھے ، جنہیں پرکھنے پر پتا چلا کہ نہ تو ان میں کوئی سچ ہے نہ کوئی طاقت۔ اگر ان کی باتوں میں مستقبل کے کسی واقعے کی خبر دینے کی سکت ہوتی ، تو ان سے یہ تو نہ چھپتا کہ اس جنگ میں بتوں اور مورتیوں کا کیا حال ہونے والا ہے۔‘‘

ایسے واقعات کہ جن میں نجومیوں کی باتیں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ایسے مواقع کہ جنہوں نے ان کی فریب کاری کا پردہ فاش کیا، ان کے بارے میں اہل علم بیان کرتے ہیں:

“لو جمعناها لقام منها عدة أسفار”

’’اگر ہم انہیں جمع کریں تو کئی کتابیں بن جائیں۔‘‘

یعنی: یہ سب روایات ایک کتاب میں نہیں آ سکتیں، بلکہ ان کے لیے بہت سی کتابیں لکھنا پڑیں گی، تاکہ ان ساری روایات کو جمع کیا جا سکے۔

اللہ کے بندو! کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کاموں یا فیصلوں میں ان فضول باتوں کے پیچھے لگ جائے، مگر منہ کے بل بری طرح نہ گرے، اس کی امیدیں الٹی نہ پڑیں، کیونکہ جو غیر اللہ کو سہارا بناتا ہے، کسی اور پر بھروسہ کرتا ہے، معاملات کو چلانے کے لیے کسی مخلوق پر اعتماد کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے یا اس کی وجہ سے اسے ایسا نقصان پہنچاتا ہے جو اس کی امیدوں کے بالکل خلاف ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث نبوی میں آیا ہے:

«مَنْ تعلَّق شيئًا وُكِلَ إليه» (رواه أحمد)

جو کوئی تعویذ یا منکا گلے میں لٹکاتا ہے، وہ اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔‘‘

اسلام نے بیان کیا ہے کہ ستاروں کا اصل مقصد آسمان کو زینت بخشنا ہے، اسی طرح انہیں ایسی نشانیاں بتایا گیا ہے کہ جن سے لوگ جہاتِ اربعہ کا تعین کرتے ہیں، کھیتی باڑی کے مہینے معلوم کرتے ہیں، موسموں کا پتہ لگاتے ہیں۔ رہی بات ان چیزوں کی جن میں بھٹکے ہوئے خیالات شامل ہوں، جو انسان کو غیر اللہ پر بھروسہ کرنے پر اکسائیں، مالک کائنات سے انسان کی توجہ پھیریں، کہ جو ساری مخلوقات کے معاملات چلانے والا ہے، ساری کائنات کی نگہبانی کرتا ہے، تو یہ دین حقیقی اور عقیدۂ سلیمہ کی واضح خلاف ورزی ہے۔

اللہ کے بندو! تو ان علوم سے بچو اور ان لوگوں سے چوکنے رہو کہ جن سے اکثر بے وقوف لوگ متاثر ہو جاتے ہیں، توہّم پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ایسے عقائد کے قائل ہو جاتے ہیں جو نہ کسی علم صحیح پر مبنی ہیں اور نہ کسی شرعی دلیل پر قائم ہیں۔ اس طرح علم تاثیر پر یقین رکھنا بھی کھلا کفر اور واضح دلائل کا انکار ہے۔ اس عقیدے کا معنیٰ یہ ہے کہ ستارے مختلف چیزوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، حادثات خود برپا کرتے ہیں، جیسے جنگیں اور مختلف برائیاں پیدا کرتے ہیں۔ یہ اعتقاد شرکیہ اعتقاد ہے جو تمام اہل علم کے اتفاق سے ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اسی طرح جو شخص ستاروں یا اور چیزوں کو سبب سمجھتا ہے اور ان کی حرکت، آمد ورفت اور تبدیلیوں سے حادثات کا اندازہ لگاتا ہے، اور غیب جاننے کا دعویٰ کرتا ہے یا ایسی چیزوں کا علم رکھنے کا مدعی ہوتا ہے جو ابھی واقع نہیں ہوئیں، جیسا کہ ستاروں کی گردش سے کائناتی حادثات کا اندازہ لگانا، تو یہ سراسر کفر ہے، کیونکہ اس میں علمِ غیب کا دعویٰ شامل ہے، حالانکہ غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ دعویٰ کرنے والا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کو جھٹلانے والا ہے۔

اے مسلمانو! جو نجومی، شعبدہ باز اور کاہن غیب کے علم کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں، بے وقوفوں کے مال ہتھیانے اور عقیدے برباد کرنے کے لیے ان کی عقلوں سے کھیلتے ہیں، ان کے پاس جانا، یا ان سے کوئی بات پوچھنا واضح اور قطعی نصوص کی بنیاد پر حرام ہے۔ امام مسلم﷫ نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أتى عرَّافًا فسأله عن شيء لم تُقبَل له صلاةٌ أربعينَ ليلةً.»

’’جو کسی مستقبل کی خبری بتانے کے دعویٰ دار کے پاس جا کر اس سے کچھ پوچھ لےچالیس دنوں تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔‘‘

تو اے مسلمان! ان کے پاس جانے یا ان سے کچھ پوچھنے سے بچ جا۔ اس کی حرمت انتہائی سخت اور گناہ بہت زیادہ ہے۔

جو غیب کے کسی بھی حصے کو جاننے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ کاہن یا عراف شمار ہوتا ہے، یا کم از کم معنیٰ کے لحاظ سے ان کے مشابہ ہوتا ہے، اس لیے اہلِ علم اسے انہی میں شمار کرتے ہیں۔ امام مسلم﷫ نے اپنی صحیح کتاب میں سیدنا معاویہ بن حکم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

«قلتُ: يا رسول الله، أمور كنا نصنعها في الجاهليَّة؛ كنا نأتي الكهان؟ قال: فلا تأتوا الكهان.»

’’میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جاہلیت میں ہم کچھ کام کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ ہم کاہنوں کے پاس جا یا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔‘‘

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«ليسوا بشيء. قالوا: يا رسول الله، فإنهم يحدثون أحيانًا بالشيء يكون حقًّا؟ قال رسول الله ﷺ: تلك الكلمة من الحق، يخطفها الجِنِّيُّ فيُقِرُّها في أُذُن وليِّه قرَّ الدجاجةِ، فيخلطون فيها أكثرَ من مئة كذبة»

’’ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی ہمیں ایسی بات بتاتے ہیں جو بالکل سچی ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ سچ ہوتا ہے جو ایک جن چرا لیتا ہے، پھر اپنے انسانی دوست کے کان میں یوں ڈالتا ہے جیسے مرغی چونچ مارتی ہے، پھر وہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتا ہے۔‘‘

اسی طرح سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

«إن الملائكة تنزل في العنان، وهو السحاب، فتذكر الأمرَ قُضي في السماء، فتسترق الشياطينُ السمعَ فتسمعه، فتُوحِيه إلى الكُهَّان، فيكذبون معها مئة كذبة، من عند أنفسهم.»

’’فرشتے بادلوں میں اترتے ہیں، اور آسمان میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں بات کرتے ہیں، شیطان ان کی کوئی بات چرا لیتے ہیں اور کاہنوں کو جا کر بتا دیتے ہیں۔ وہ اس میں سو جھوٹ خود سے ملا لیتے ہیں۔‘‘

اے مسلمانو! جو کاہنوں کو سچا سمجھ لیتا ہے، تو اس کا یہ عمل اسے ان کا شریک بنا دیتا ہے، کیونکہ وہ ان کی باتوں کی حقانیت کی گواہی دینے لگتا ہے۔ اس لیے مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایسے دعوے کو غلط جانے جس میں مستقبل کی خبریں جاننے کا دعویٰ موجود ہو۔ کیونکہ غیب کو جاننا صرف اللہ کی خاصیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«من أتى عرَّافًا أو كاهنًا فسأله فصدَّقه بما يقول، فقد كفَر بما أنزل على محمد.» (أخرجه أحمد وأبو داود، والترمذي، والحاكم)

’’جو کسی مستقبل کی خبریں بتانے کے دعوے دار کے پاس گیا، پھر اس نے اس سے کچھ پوچھا اور اس کی بتائی ہوئی بات کو سچ تصور کر لیا، تو اس نے محمد ﷺ پر نازل کردہ تعلیمات کا انکار کر دیا۔‘‘

تو اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اپنے دین کو بچاؤ، اپنے عقیدے کی حفاظت کرو۔ نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرو، تاکہ کامیابی اور کامرانی سے سرفراز ہو جاؤ۔

میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمارے عقیدے کی حفاظت فرمائے۔ ہمیں سنت کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ سے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ وہی بردبار اور عظیم ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی آسمانوں اور زمین کا اور عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نبی کریمﷺ ہیں۔ اے اللہ! قیامت تک جاری رہنے والی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو! ہر چیز اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔ ہر چیز اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر شے کا حقیقی محرک اللہ کی تقدیر ہے۔ اسے مستقبل کی ہر چیز کا علم ہے، اسی لیے تو وہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔ کائنات میں کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوتا۔ کوئی خیر یا شر اس کی مرضی کےخلاف نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمیں اللہ پر یقین رکھنا چاہیے، اس کے علم پر، جو ہر چیز پر محیط ہے، جو سب سے قدیم اور ازلی ہے۔ ہمیں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہونے والی ہر چیز کو لوح محفوظ میں تحریر کر رکھا ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی نافذ ہونے والی مشیت پر ایمان رکھنا چاہیے، اس قدرتِ شاملہ کو ماننا چاہیے، وہ جو چاہتا ہے، وہ ہو جاتا ہے، جو وہ نہیں چاہتا، وہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ اسی نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور وہی ان کے معاملات کو چلا رہا ہے۔ ہمارا لازمی فریضہ ہے کہ ہم ان عظیم معانی پر ایمان رکھیں، اپنے پروردگار پر بھروسہ کریں، اپنے معاملات اس کے سپرد کر دیں، اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی تقدیر اور فیصلوں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں۔ اپنے پروردگار پر بھروسے کے معاملے میں سچائی اپنائیں، بھلائیاں اور اچھائیاں کمانے کیلئے بھی صدق دل سے اسی کی طرف متوجہ ہوں، برائیوں اور نقصانات سے بچنے کیلئے بھی اسی کا رخ کریں۔ ہمارا پروردگار وعدہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾

’’جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔‘‘

یعنی: اس کے لیے کافی ہو جانے والا ہے۔ جو صحیح معنوں میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہو، اور صحیح عقیدہ اختیار کرنے والا ہو اس کا دل سکون میں رہتا ہے، نفس کو اطمینان رہتا ہے، وہ دنیا وآخرت میں سعادت کما لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو زبانوں اور دلوں سے پڑھو:

﴿مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَامُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾

’’اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں وہ زبردست اور حکیم ہے۔‘‘

اسی طرح ہمیں ان اسباب کو بھی اپنانا چاہیے جو شریعت میں جائز ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آسمان وزمین کے خالق پر بھروسہ بھی کرنا چاہیے، اس کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھنا چاہیے، صرف اسی سے جڑے رہنا چاہیے، تاکہ ہم ہر خیر، کامیابی اور کامرانی کی راہ پا لیں۔

﴿وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾

’’جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا۔‘‘

اے مسلمانو! ہمارے رب کے نزدیک بہترین اور پاکیزہ ترین اعمال میں سے ایک ہے کہ ہمارے پیارے نبی اور سردار محمد ﷺ پر کثرت سے درود وسلام بھیجا جائے۔ اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر۔

اے اللہ! مسلمان مردوں اور عورتوں کو معاف فرما۔ اے اللہ ! مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما، چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ اے اللہ! مسلمانوں کے فوت شدگان کی مغفرت فرما! جو تیری وحدانیت کی، اور تیرے نبی کی نبوت کی گواہی دیتے ہوئے فوت ہو ئے۔ اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ان پر اپنی رضا مندی نازل فرما۔ اے اللہ! ان کے گناہوں کو معاف فرما! اے اللہ! ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ! اے رب ذو الجلال! ان پر اپنی خوشنودی نازل فرما! اے اللہ! ہمیں راضی کر دے اور ہم سے راضی ہو جا۔ اے اللہ ہماری اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما، آگے اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے اور اوپر کی جانب سے، نیچے سے آنے والے عذاب سے ہم تیری عظمت کی پناہ میں آتے ہیں۔ یا اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے لیے سلامتی اور عافیت لکھ دے۔ اے رب ذو الجلال! اے اللہ!

﴿آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی! اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا!‘‘

اے اللہ! ہم تجھ سے ہدایت اور راست بازی کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں سیدھی راہ دکھا، ہمیں اپنے نفس کے شر سے بچا، اے اللہ! ہمارے حکمران کو کامیاب فرما۔ اے اللہ! اسے صحت وعافیت عطا فرما! اے اللہ! اسے لمبی عمر اور نیک کاموں والا بنا۔ اے اللہ! اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! اسے کامیاب فرما اور اس کی آرا درست فرما! اے اللہ! خیر کے ہر کام میں اس کی مدد فرما! اے رب ذو الجلال! اسے ہر نیکی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں ان کی رعایا کی فلاح وبہبود ہو۔

اے اللہ! مسلمانوں کو نیکی پر اکٹھا فرما! اے اللہ! انہیں حق وپرہیز گاری پر اکٹھا فرما! اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے نفس کو پرہیز گار بنا۔ اسے پاکیزہ فرما! تو ہی اسے بہترین طریقے سے پاک کرنے والا ہے۔ اے اللہ! ہمیں ہر نیکی کا ذریعہ اور اس کی ابتدا کرنے والا بنا، اے رب ذو الجلال! ہمیں ہر برائی کو ختم کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو مسلمانوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی وہ اپنی ذات سے کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جو مسلمانوں کے لیے وہی پسند کرتے ہیں جو اپنے لیے کرتے ہیں۔ اے زندہ وجاوید! اے اللہ! اے بے نیاز! اے قابل تعریف! اے اللہ! ہم پر بارشیں برسا! اے اللہ! ہم پر بارشیں برسا! اے اللہ! ہم تیری رحمت کے فقیر ہیں۔ اے اللہ! ہمارے ملک پر بارشیں برسا! اے اللہ! سارے مسلمانوں کو بارشیں نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم پر بارشیں نازل فرما! اے اللہ! ہم تیری حمد وثنا بیان کرتے ہیں، کہ تو ہم پر بارش کی نعمت نازل کی ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے مزید مانگتے ہیں، اے اللہ! تو بے نیاز ہے! ہم تجھ سے مزید مانگتے ہیں۔ اے رب ذو الجلال! اے زندہ وجاوید! اے رب ذو الجلال!

اللہ کے بندو!

﴿اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا 0 وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا﴾

’’اللہ کو کثرت سے یاد کرو ۔ صبح وشام اس کی تسبیح کرو۔‘‘

تبصرہ کریں