جرابوں پر مسح کی مسنون رعایت۔ حافظ عبدالاعلیٰ درانی، بریڈ فورڈ

بریڈفورڈ 3 سے محمد صادق صاحب پوچھتے ہیں :

کیا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں ۔کیونکہ کچھ عرصہ سے جب سے میں نے کتاب وسنت والا مسلک حقہ قبول کیا اور اس سنت پر عمل کرنا شروع کیا ہے تومیرے اکثر سابقہ جماعتی دوست واحباب دیگر سنتوں پر عمل پیرا ہونے سے بہت چڑچڑاتے اورمجھے سخت سست کہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے تم نے فقہ کی خلاف ورزی کرتے ہو ۔یا یہ کہ مسح صرف چمڑے کے موزوں پر کیا جاسکتاہے ۔اونی یا سوتی جرابوں پر مسح کرناجائز نہیں ہے ۔کچھ کا کہنا ہے کہ تم نے دین کو اپنے لیے آسان بنا رکھا ہے بلکہ اپنی مرضی کا بنا رکھا ہے کہ جو کام مشکل ہے یعنی وضو میں پاؤں کو دھونا وہ تو تم چھوڑ دیتے ہوئے اور جو آسان کام ہے یعنی جرابوں پر مسح کرنا اسے تم اختیار کرلیتے ہو ۔ کسی کا کہنا ہے جرابوں پر مسح نہ کرنے پر تو علماء کا اتفاق ہے یہ تم نے نیا مسئلہ کہاں سے نکال لیاہے؟ یایہ کہ جب گرم پانی پاؤں دھونے کیلئے موجود و مہیا ہے تو پھر مسح پر اصرار کیوں کرتے ہو ۔یا مسح تو بحالت مجبوری ہی کیا جاسکتاہے عام حالات میں مسح کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں ۔کسی دوست کا فتویٰ ہے کہ جرابوں پر مسح کرنے سے وضو ناقص رہ جاتاہے ۔اسی لیے ہمارے علماء ایسے شخص (اہلحدیث علماء) کے پیچھے نماز پڑھنا روا نہیں سمجھتے کیونکہ ان کا وضو ناقص رہ جاتاہے کیونکہ وہ مسح کے قائل و فاعل ہیں۔غرضیکہ جتنے منہ اتنی ہی باتیں میں انہیں بتاتا ہوں کہ جرابوں پر مسح کرنا سنت نبوی سے ثابت ہے مگر وہ اس قسم کی بات سننے کے رواد ار ہی نہیں ہوتے ۔آپ سے گزارش ہے کہ جرابوں پر مسح کے موضوع پر صحیح احادیث اورعمل صحابہ و تابعین ، اجتہادات فقہاء کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرماویں کہ کیا واقعی امام ابوحنیفہ کے نزدیک مسح علی الجوربین ناجائز اور قابل نفرت ہے:

} الجواب: جرابوں پر مسح کرنا رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل سے بطریق صحیح احادیث سے ثابت ہے اورجرابوں پر مسح نہ کرنے کے بارے میں کوئی بھی دلیل ثابت نہیں ہے ۔ سنت مصطفوی کے علاوہ متعدد جلیل القدر صحابہؓ سے بھی جرابوں پرمسح کرنا ثابت ہے ، جن کی تعداد تیرہ تک پہنچتی ہے ۔ کسی ایک صحابی سے بھی اس کی مخالفت مروی نہیں ہے ۔ امام ابوداؤد نے جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں مستقل باب باندھا ہے اور اس باب میں حدیث مغیرہ نقل کرنے کے بعد اس کی تائید میں فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے حضرت علی ، عبداللہ بن مسعود ، براء بن عاذب ، انس بن مالک ، ابوامامہ سہل بن سعد ، عمرو بن حریث نے جرابوں پرمسح کیا ہے ۔ اسی طرح عمر بن خطاب ، ابن عباس، عمار بن یاسر ، ہلال بن عبداللہ بن ابی اوفٰی اورابن عمر سے نقلاً اور فعلاً جرابوں پر مسح کرنا مروی ہے:

قَالَ اَبُوْدَاؤدُ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ وَابْنُ مَسْعُوْدٍ وَالْبَرَائِ بْنِ عَاذِبٍ وَاَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَاَبُوْ اُمَامَۃَ وَ سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَ عَمْرُو بْنُ حُرَیْثٍ وَرُوِیَ اَیْضًا عَنْ عَمَّارٍ وَ بِلَالٍ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی وَابْنُ عُمَرْ( ابوداود ج1باب مسح علی الجوربین)

٭ امام ابن حزم الاندلسی نے الملحلّٰی میں حضرت علی ، ابن عمر اور انس بن مالک وغیرھم کا عمل بھی ثابت کیا ہے کہ یہ سب حضرات جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے۔

٭تہذیب السنن میں ابن قیم فرماتے ہیںکہ امام احمد بن حنبل جرابوں پر مسح کو سنت جانتے ہیں کیونکہ یہ اصحاب رسول سے ثابت ہے اورقیاساً بھی ۔ کیونکہ موزوں اورجرابوں پر مسح کرنے کاایک ہی حکم ہے۔اوران میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا،۔ نہ ہی حکما موزوں اورجرابوں میں مسح میں کوئی فرق ہے۔ لہذا موزوں اورجرابوں دونوں پر مسح کرنے پر اکثر اہل علم کا قول ہے ۔تابعین میں سے سفیان ثوری ، ابن مبارک ، عطا،حسن بصری، سعید بن مسیب بھی جرابوں پر مسح کے قائل ہیں ۔

٭ امام ابوحنیفہ کے اصحاب میں سے ابویوسف اور محمد موٹی جرابوں پر مسح کے قائل ہیں ۔ امام ابوحنیفہ ابتدائً موٹی جرابوں پر بھی مسح کے قائل نہ تھے لیکن اپنی وفات سے تین یا سات روز قبل اس کے جواز کے قائل ہوگئے تھے ۔بلکہ انہوں نے خود بھی مسح کیااور اپنی عیادت کیلئے آنے والوں کو اپنے اس رجوع سے آگاہ کرتے رہے ۔کہ اب میں وہ کچھ کررہاہوں جس سے پہلے منع کیا کرتاتھا۔

وَکَانَ اَبُوْحَنِیْفَة لَایَجُوْزُ الْمَسْحُ عَلَی الْجَوْرَبِ الثِّخِّیْنٍ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی الْجَوَازِ قَبْلَ مَوْتِہٖ بِثَلَاثَۃٍ اَوْ بِسَبْعَۃٍ وَمَسَحَ عَلَی جَوْرَبَیْہِ الثِّخِّیْنِ فِیْ مَرَضِہٖ وَقَالَ لِعُوَّادِه فَعَلْتُ مَا کُنْتُ اَنْہِیْ عَنْہُ

معالم السنن للخطابی ج1 ص 121 ، فقہ السنۃ ج1 ص 61 وتہذیب السنن لابن قیم)

السید سابق فقہ السنۃ میں فرماتے ہیں:
یَجُوْزُ الْمَسْحُ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَقَدْ رُوِیَ ذَالِکَ عَنْ کَثِیْرٍ مِّنَ الصَّحَابَۃِ(جرابوں پر مسح جائز ہے۔ اس ضمن میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے روایات موجود ہیں ۔

ان میں سے چند روایات پیش کی جاتی ہیں:

عمل نبوی ؐسے جرابوں پر مسح کا ثبوت

٭حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو فرمایا اوراپنی جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا:

عَنْ مُغِیْرَۃَ بْنِ شُعْبۃَؓ قَالَ تَوَضَّأَ النَّبِیُّ ﷺ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ (ابوداود حدیث 159، ترمذی ج 1 ص 29 ، ابن ماجہ حدیث 559، احمد ج3ص252

امام طحاوی حنفی اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

مَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْنِ تَحْتَھُمَا جَوْرَبَیْنِ وَکَانَ قَاصِدًا بِمَسْحِہٖ ذَالِکَ اِلٰی جَوْرَبَیْہِ لَا نَعْلَیْہِ وَ جَوْرَبَاہُ لَوْ کَانَا عَلَیْہِ بِلَا نَعْلَیْنِ جَازَ لَہٗ اَنْ یَّمْسَحَ عَلَیْھِمَا مَکَانَ مَسْحِہٖ ذَالِکَ مَسْحاً اَرَادَ بِہٖ اَلْجَوْرَبَانِ ۔

یعنی آپ نے جوتوں پر مسح کیا ان کے نیچے جرابیں تھیں اور آپ کا ارادہ اس کے ساتھ جرابوں کا مسح کرنے کا ہی تھانہ کہ جوتوں کایعنی آپ کی مراد جوتوں پر مسح کرنا نہیں تھی۔اگر آپ کی جرابیں بغیر جوتے کے بھی ہوتیں تو ان پر مسح کرنا جائزہے ۔ اس سے مراد آپ کی جرابوں پر مسح کرنے کی تھی(شرح معانی الآثارج1 ص 76)

٭ حضرت بلال ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ موزوں اور جرابوں پر مسح کیا کرتے تھے اس حدیث کو طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔مزید یہ کہ حنفیہ کی مشہور و متداول کتاب الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ میں ہے کہ اس حدیث کو طبرانی نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ۔ جن میں سے ایک کے سب راوی ثقہ ہیں۔

٭ حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے وضو کرتے ہوئے جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا: اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ (ابن ماجہ ج1حدیث 560 و بیہقی)

اس پر امام ابن قدامہ فرماتے ہیں:

وَالظَّاھِرُ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺاِنَّمَا مَسَحَ عَلٰی سِیُوْرِ النَّعْلِ الَّتِیْ عَلٰی ظَاھِرِ الْقَدَمِ فَاَمَّا اَسْفَلَہٗ وَعَقِبَہٗ فَلَا یَسُنُّ مَسْحُہٗ مِنَ الْخَلَفِ فَکَذَالِکَ النَّعْلُ۔

یعنی جوتیوں پر مسح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی جوتی کے تسموں پر مسح کیا جوپاؤں کے ظاہری حصے پر ہوتے ہیں اس کے نچلے اور پچھلے حصے پرمسح کرنا خلف سے ثابت نہیں (المغنی ج1 ص 182 مسئلہ 428)

٭حضرت ابوموسی کی دوسری روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ نے میری موجودگی میں اپنی جرابوں اور جوتیوں پر مسح کیا اور عمامے پر بھی (یاد رہے کہ جوتیوں سے مراد چپل نما تسموں والی جوتی ہے ، نبی ﷺ کی نعلین کے دوتسمے تھے وَلَقَدْ کَانَ لِنَعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ سِیَرَانِ اس شکل کی جوتی پر مسح کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے ۔کہ آنحضور ﷺ نے جرابوں والے پاؤں کو چپل نما جوتوں میں رکھے ہوئے مسح فرمایا۔ امام ابن قدامہ المغنی میں فرماتے ہیں کہ حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی جوتیوں کے تسموں اور جرابوں پر مسح فرمایا

وَالظَّاھِرُ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺاِنَّمَا مَسَحَ عَلٰی سِیُوْرِ النَّعْلِ الَّتِیْ عَلٰی ظَاھِرِ الْقَدَمِ فَعَلیٰ ھٰذَا الْمُرَادُ مَسَحَ عَلٰی سِیُوْرِ نَعْلَیْہِ وَظَاہِرُ الْجَوْرَبَیْنِ اللَّتَیْنِ فِیْھِمَا قَدَمَاہُ

اس سے معلوم ہوا کہ جن جوتوں میں پاؤں ڈھکے رہیں ان پر مسح نہیں ہوسکتا اسی طرح اگر سر پر پگڑی ہو اور اسے اتارا نہ جائے تو اس پر بھی مسح کیا جاسکتا ہے جس طرح موزوں پر مسح کرنا مرفوع احادیث سے ثابت ہے ۔ اسی طرح جرابوں پر مسح کرنا بھی مرفوع احادیث ہی سے ثابت ہے ۔یہ تو حضور ﷺ کے عمل سے ثابت ہوا ۔

جرابوں پرمسح کرنے کاارشاد

اب آپ کا حکم بھی ملاحظہ فرمائیے حضرت ثوبان ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کہیں بھیجی انہیں سفر میں سردی لگی واپس آکر انہوں نے سردی کی شکایت کی تو آپ نے عماموں اور تساخین پر مسح کرنے کا حکم دیا ۔

بَعَثَ رَسوُلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً فَاَصَابَھُمُ الْبَرَدُ فَلَمَّا قَدِمُوْا عَلَی النَّبِیِّ ﷺ شَکَوْا اِلَیْہِ مَا اَصَابَھُمْ مِنَ الْبَرَدِ فَاَمَرَھُمْ اَنْ یَّمْسَحُوْا عَلَی الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخَیْنِ ۔ (احمد ج5 ص 277، ابو داود حدیث 146وحاکم فی المستدرک وصحہ الذھبی )

’’ تساخین‘‘ کہتے ہیں جو چیز پاؤں کو گرمی پہنچائے خواہ وہ چمڑے کے موزے ہوں یا سوتی یا اونی جرابیں ہوں امام ابن ارسلان فرماتے ہیں :

اَصْلُ ذَالِکَ کُلُّ مَا یُسْخِنُ بِہِ الْقَدَمُ مِنْ خُفِّ وَجَوْرَبٍ وَنَحْوِھِمَا

(عون المعبود شرح ابی داودج1 ص 56)

امام ابن قدامہ المغنی میں فرماتے ہیں:

وَلِاَنَّ الصَّحَابَۃَ مَسَحُوْا عَلَی الْجَوَارِبِ وَلَمْ یَظْھَرْ لَھُمْ مُخَالِفٌ فِیْ عَصَرِھِمْ فَکَانَ اِجْمَاعًا (ج1ص 151مسئلہ 426)

چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا اور دور صحابہ میں کسی سے اس کی مخالفت منقول نہیں ہوئی لہذا یہ متفق علیہ مسئلہ ہوا۔ اس حدیث سے بات بالکل صاف ہوگئی کہ ہر وہ چیز جس سے پاؤں کو سردی سے بچایا جائے اس پر مسح کرنا جائز ہے ۔اس لیے موزوں پر مسح ماننا اور جرابوں کے مسح سے انکار کرنا بے دلیل ہے ۔

لغت عرب سے جورب کا معنی

٭قاموس میں ہے کہ جورب لفافۃ الرجل جو چیز لفافے کی طرح پاؤں میں پہنی جائے وہ جورب ہے علامہ عینی لکھتے ہیں : وَھُوَ یُتَّخَذُ مِنْ غَزْلٍ الصُّوْفِ الْمَفْتُوْلِ یُلْبَسُ فِی الْقَدَمِ اِلٰی مَافَوْقَ الْکَعْبِ۔ ’’جورب بٹے ہوئے اون سے بنتی ہے جسے پاؤں میں ٹخنے سے اوپر تک پہنا جاتا ہے ‘‘

٭ علامہ سیوطی قوت الغتدی میں لکھتے ہیں جورب عربی میں پاؤں کو ڈھانپنے کیلئے اون سے بنی ہوئی جراب کو کہتے ہیں ۔

٭ عارضۃ الاحوذی میں امام ابوبکر شارح ترمذی فرماتے ہیں:

اَلْجَوْرَبُ غُشَائَ الْقَدَمُ مِنْ صُوْفٍ

پاؤں کو ڈھانپنے کیلئے اون سے بنائی جاتی ہے ۔

٭ عمدۃ الرعایۃ میں ہے:

قَدْ یَکُوْنُ مِنَ الْکِرْبَاسِ وَمِنَ الشَّعْرِ یعنی جرابیں روئی اور بالوں سے بنائی جاتی ہیں۔

٭غایۃ المقصود (شرح ابوداود از علامہ شمس الرحمن ڈیانوی ) میں ہے ۔

اِنَّ الْجَوْرَبَ یُتَّخَذُ مِنَ الْاَدِیْمِ وَکَذَا مِنَ الصُّوْفِ وَکَذَا مِنَ الْقُطْنِ وَیُقَالُ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنَ ھٰذَا اَنَّہٗ جَوْرَبٌ۔

یعنی جورب چمڑے ، اون اور سوت کی بھی ہوتی ہے اور ہرایک کو جراب ہی کہا جاتا ہے ۔مندرجہ بالا لغات اور شروح احادیث سے بڑی وضاحت سے ثابت ہوا کہ ہر وہ چیز جس سے پاؤں کو ڈھانپا جائے خواہ وہ چمڑے سے بنی ہو جیسے موزے یا اون یا سوت سے بنی ہو اسے جراب کہا جائے گا اور اس پر مسح کیا جاسکے گا۔

عدم مسح پر اجماع کا باطل دعوی

سائل کی یہ بات کہ بعض معترضین کہتے ہیں کہ جرابوں پر مسح نہ کرنے پر علما کا اجماع ہے یہ دعوی بلا دلیل ہے۔ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ،لفافۃ الرجل یعنی موزوں اور جرابوں پر مسح کرنا جائز ہوا اور اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔ جو آدمی اجماع کا دعوی کرتا ہے وہ علم کے بغیر بات کرتا ہے ۔وہ تو دس مشہور علماء سے بھی ثابت نہیں کرسکتا۔چہ جائیکہ اس پر اجماع ثابت کرے۔ جو شخص الفاظ نبوی پر غور کرتا ہے اور قیاس کا حق ادا کرسکتاہے وہ جان سکتا ہے کہ اس بارے میں رخصت کا میدان بہت وسیع ہے اور یہ ہماری شریعت کے محاسن میں سے ہے ۔

وَمَنْ اِدَّعٰی فِیْ شَیْئٍ مِّنْ ذَالِکَ اِجْمَاعٌ فَلَیْسَ مَعَہٗ اِلَّا عَدَمُ الْعِلْمِ وَلَا یُمْکِنُہُ اَنْ یَّنْقَلَ الْمَنْعُ عَنْ عَشَرَۃِ مِّنَ الْعُلَمَائِ الْمَشْہُوْرِیْنَ فَضْلًا عَنِ الْاِجْمَاعِ …الی ان قال… فَمَنْ تَدَبَّرَ اَلْفَاظُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ وَاَعْطَی الْقِیَاسَ حَقَّہٗ عَلِمَ اَنَّ الرُّخْصَۃَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ وَاسِعَۃً وَاَنَّ ذَالِکَ مِنْ مَحَاسِنِ الشَّرِیْعَۃِ وَمِنَ الْحَنِیْفِیَّۃِ السَّمْحَۃِ الَّتِیْ بُعِثَ بِھَا…انتہیٰ (فقہ السنۃ)

اس کے برعکس جرابوں پر مسح ایک اجماعی مسئلہ ہے ۔

اصحاب رسولؓ کا عمل

٭ تہذیب السنن امام ابن قیم میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی جرابوں پر مع چپل کے اوپر کے تسموں پر مسح کیا۔

اَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَسَحَ عَلٰی سِیُوْرِ النَّعْلِ الَّتِیْ عَلَی ظَاہِرِ الْقَدَمِ مَعَ الْجَوْرَبِ

٭ محلی ابن حزم میں حضرت علیؓ کے بارے میں کعب بن عبداللہ کا بیان ہے کہ حضرت علی نے وضو کرتے ہوئے جرابوں پر مسح کیا۔

رَأَیْتُ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ بَالَ فَمَسَحَ عَلٰی جَوْرَبَیْہِ وَنَعْلَیْہِ

٭ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں بھی یہی الفاظ محلی میں ذکر ہوئے۔

اَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَمْسَحُ عَلٰی جَوْرَبَیْہِ وَنَعْلَیْہِ

٭امام ابن حزم نے ابن انس کے بارے میں ذکر کیا کہ انہوں نے وضو کرتے ہوئے اپنی ٹوپی ا ور سیاہ رنگ کی جرابوں پر مسح کیا اور پھر نماز پڑھی۔

فَمَسَحَ عَلَی الْقَلَنْسَوَۃِ وَعَلَی الْجَوْرَبَیْنِ لَہٗ مِنْ خَزٍّ عَرَبِیِّ اَسْوَدٍ ثُمَّ صَلّیٰ (محلی )

ان ساری تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا سنت نبوی کے علاوہ عمل صحابہ کرام سے بھی صحیح سند سے ثابت ہے۔

٭ فقہائے مشہورین میں امام مالک امام شافعی اور احمد بن حنبل تو جرابوں پر مسح کے قائل و فاعل ہیں ۔امام ابوحنیفہ کے بارے میں جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ ان کے اصحاب میں سے ابویوسف اور محمد بن حسن شیبانی صرف موٹی جرابوں پر مسح کے قائل تھے (ہدایہ ج1ص 60) لیکن ابتدا میں امام ابوحنیفہ موٹی جرابوں پر بھی مسح کے قائل نہ تھے لیکن ان کا آخری فتوی اور عمل اسی پر تھا ۔ معلوم نہیں فقہائے حنفیہ کس دلیل کی بنا پر اس کی مخالفت کے قائل ہیں ۔ شاید کوئی حنفی عالم امام ابوحنیفہؒ کے اس آخری فتوے کے خلاف کچھ ثابت کرسکے ۔ اورایساہرگز نہیں ہوگا۔جس طرح کہ رفع یدین ، آمین بالجہر، فاتحہ خلف الامام پر ان کے پاس کوئی معقول دلیل نہیں ہے ۔اسی طرح ان کے پاس جرابوں پر مسح کی مخالفت میں بھی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اس لیے اس مسئلہ میں اتنا تشدد روا رکھنا جائز نہیں ہے جس کی نشاندھی سوال میں کی گئی ہے۔

رہی یہ بات کہ گرم پانی موجود ہے اس لیے پاؤں دھونا مسح کرنے سے افضل ہے بے دلیل بات ہے کونسی چیزافضل ہے اور کونسی غیر افضل ہے اس کا فیصلہ کرنا شارع علیہ السلام کا منصب ہے۔ اس لحاظ سے کسی بھی روایت سے ہمیں یہ بات نہیں ملتی کہ مسح کرنا غیر افضل ہے۔ اللہ تعالی نے دین کو آسان بنایا اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے نہ کہ بنی اسرائیل کی طرح آسان پر عمل چھوڑ کرمشکل راستہ اختیار کیا جائے۔ جنہیں اللہ تعالی نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا وہ رنگ ڈھنگ پوچھنے لگ گئے یوں ایک آسان حکم کو خود ہی مشکل بنا ڈالا۔آیت وضو سورۃ المائدہ میں وضو کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تم پر تنگی نہیں کرنا چاہتا جو لوگ جرابوں پر مسح کرنے کے قائل نہیں ہیں وہ سخت سردی میں بھی سنت پر عمل سے محروم ہوکر مشکل میں پڑتے ہیں حالانکہ ان میں کوئی خیر ہے نہ تقویٰ بلکہ سنت بنی اسرائیل پر عمل ہے اس ملک میں بالخصوص کام کے دوران یا حالت سفر میں پاؤں دھونا ویسے ہی مشکل اور بعض دفعہ ناممکن ہوتا ہے، یوں بھی سینک میں پاؤں دھونے سے نفرت کی جاتی ہے کم ازکم ایسے ہی موقع پر مسلمان اس گنجائش سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اس طرح بروقت نماز بھی ادا کرسکتا ہے ۔ ان حضرات کا اس شدت سے تعصب ظاہر کرنا مستحسن نہیں ہے ۔جبکہ امام ابوحنیفہ نے جرابوں پر مسح کیا تو ان کی تقلید کرنے والے حضرات سے جرابوں پر مسح کرنے والوں سے عداوت رکھنا عجیب ہے ۔سلف سالحین کی فقہی مسائل میںاختلاف کے باوجود فریق مخالف کے ادب واحترام میں فرق نہیں آنے دیتے تھے جرابوں پر مسح سنت سے بڑی مضبوط دلیل کے ساتھ ثابت ہے ۔ اگر کوئی دینی رعایت سے فائدہ نہ اٹھانا چاہے تو اس کی مرضی مگر اس سنت پر عمل کرنے والوں کے بارے میں تعصب اور نفرت نہیں رکھنی چاہیئے ۔ علما ء کا فرض ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں میں اعتدال اور میانہ روی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ سائل نے جن مشکلات کا اظہار کیا ہے ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ رخصت و راحت پر عمل پیرا ہونے والوں کیلئے اس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ناگزیر ہے اس لیے ان سے گھبرانا نہیں چاہیئے جبکہ آپ کا سنت پر عمل کرنے کا جذبہ بہت ہی لائق تحسین ہے اگر اللہ قبول فرمالے تو نجات کیلئے بس کرتا ہے .

بلبل را ہمیں شود کہ قافیہ گل است وبس

بدقسمتی سے مسلمان کہلانے والوں میں کثیر تعداد ان لوگوں کی ہے جو اپنے آپ کو کہلاتے تو اہل سنت ہیں مگر سنت پر عمل کرنے کی توفیق حاصل نہیں الٹا سنت اور اس پر عمل پیرا لوگوں سے نفرت کرتے ہیں یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہے اس صورتحال پر اللہ سے استغفار کرنا چاہیئے ۔

جرابوں پر مسح کے دیگر احکام

٭ مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں اور بائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیاں پانی سے تر کرکے دونوں پاؤں کے پنجوں سے شروع کرکے ٹخنوں کے اوپر تک کھینچ کر لیجائیں تو مسح ہوجائے گا۔

٭ مسح صرف انہی جرابوں یا موزوں پر کیا جاسکتا ہے جنہیں وضو یا غسل کے بعد پہنا گیا ہو ۔ جیسا کہ حدیث مغیرہ میں کہ میں نے نبی ﷺ کو وضو کرایا ۔ جب موزے اتارنے لگا تو آپ نے فرمایا رہنے دو میں نے انہیں وضو کرکے پہنا ہے ۔دَعْھُمَا فَاِنِّیْ اَدْخَلْتُھُمَا طَاھِرَتَیْنِ (متفق علیہ)

٭ اگر موزوں اور جرابوں پر کچھ سوراخ ہوں لیکن عموما وہ پہنی جاتی ہوں تو ان پر مسح کرنا جائز ہے۔ امام سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کے موزے بھی عام لوگوں کی طرح سوراخوں سے بچے نہیں ہوتے تھے ۔اگر سوراخوں والے موزوں یا جرابوں پر مسح کرنا جائز نہ ہوتا تو روایتوں میں اس کا ذکر آتا۔

قَالَ الثَّوْرِیُّ کَانَتْ خِفَافُ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ لَا تَسْلِمُ مِنَ الْخَرُوْقِ کَخِفَافِ النَّاسِ فَلَوْ کَانَ فِیْ ذَالِکَ خَطَرٌ لَوَرَدَ وَنُقِلَ عَنْھُمْ.(الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ج1ص 128)

٭ مسح کیلئے اس طرح کی شرائط لگا ناکہ جراب اتنی موٹی اور مضبوط ہو جنہیں پہن کر اگر تین چار میل پیدل چلا جائے تو پھٹے نہیں یا یہ کہ اس پر پانی کے قطرات ڈالیں جائیں اور پاؤں گیلا نہ ہو وغیرہ، بڑی ہی مضحکہ خیز باتیں ہیں۔ اس قسم کی غیر معقول شرائط کیلئے اللہ و رسول ﷺ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ عام جراب جسے انسان اپنے پاؤں کو سردی اور گردو غبار سے بچانے کیلئے پہنتا ہو اس پر مسح جائز ہے۔ خواہ مخواہ تکلفات میں پڑنا بنی اسرائیلیوں کی طرح اپنے اوپر خود تنگی کرنا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’ اللہ ہرگز نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے بلکہ وہ تمہارے لیے دین کو آسان بنانا اور تم کو پاک کرنا چاہتاہے تاکہ تم پر اپنی نعمت پوری کرے ۔

{مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلٰکِن یُّرِیْدُ لِیُطَہِّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ}

صحیح بخاری میں حضرت ابوھریرۃؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دین آسان ہے اس میں آسانیاں ہی آسانیاں ہیں ۔(بخاری حدیث39)

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ ھٰذَا الدِّیْنَ یُسْرٌ

سخت سردی کا موسم ہو اور جرابیں پہنی ہوئی ہیں انہیں اتارکرپنجوقتہ نماز کیلئے پانچ ٹائم آپ پاؤں دھوئیں جبکہ شریعت مطہرہ میں مسح کی سہولت موجود ہو۔ اس سے بڑی ناشکرگزاری کیا ہوسکتی ہے ؟ اور بنی اسرائیلیوں کے طریقے کی پیروی ہے جنہیں ایک سادہ سا حکم دیا انہوں نے خود ہی اسے مشکل بنا لیا۔

٭ مسح صرف جرابوں یا موزوں کے اوپر والے حصے پر کیا جائے حضرت علی کی مشہور روایت ہے کہ اگر دین رائے صرف قیاس اور رائے پر مبنی ہوتا تو مسح اوپر کی بجائے تلووں پر کیا جاتاکیونکہ گرد و غبار نیچے سے لگتا ہے۔

لَوْ کَانَ الدِّیْنُ بِالرَّأیِ لَکَانَ اَسْفَلِ الْخُفِّ اَوْلٰی بِالْمَسْحِ مِنْ اَعْلَاہُ(ابوداود، دارقطنی)

٭ مسح کا وقت مقیم کیلئے ایک رات دن اور مسافر کیلئے تین رات دن تک رخصت ہے۔(ترمذی ونسائی)

عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ اَلْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ (ابوداؤد باب التوقیت فی المسح حدیث 175)

یاد رہے کہ جرابوں پر پر موزوں والے احکام صادر ہوتے ہیں۔ یعنی جتنی مدت مسح کی موزوں کی ہے اتنی ہی مدت جرابوں پر مسح کی ہے ۔یہی قول صحابہ ، تابعین اور مابعد کے فقہاء مثلاً سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی، ا حمد ، اسحاق بن راہویہ وغیرہ کاہے:

ھُوَقَوْلُ الْعُلَمَائِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ﷺ وَالتَّابِعِیْنَ وَمَنْ بَعْدَھُمْ مِنَ الْفُقَہَائِ مِثْلَ السُّفْیَانَ الثَّوْرِیِّ وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِیِّ وَاَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَاِسْحَاقُ بْنُ رَاہْوَیْہِ قَالُوْا یَمْسَحُ الْمُقِیْمُ یَوْمًا وَّلَیْلَۃً وَالْمُسَافِرُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ وَلَیَالِیْھِنَّ ۔عون المعبود شرح سنن ابی داود ج1 ص 132)

٭ وضو یا غسل کے بعد جرابیں پہن لی جائیں تو اس کے بعد اتنی مدت تک مسح کیا جاسکتا ہے مدت پوری ہونے یا احتلام یا حیض نفاس اور غسل جنابت کی ضرورت لاحق ہوجانے سے مسح ختم ہوجاتا ہے ۔

حضرت صفوان بن عسال کی روایت ہے کہ دوران سفر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیاکہ ہم اپنے موزے تین دن اورتین رات پہنے رکھیں اور پاخانہ و پیشاب اور سوتے وقت نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔

عَنْ صَفْوَانِ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَأمُرُنَا اِذَا کُنَّا سَفَرًا اَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَۃَ اَیاَّمٍ وَلیاَلِیْھِنَّ اِلاَّ مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ اَوْبَوْلٍ وَنَوْمٍ

(نسائی حدیث 158 ترمذی حدیث 96۔اس حدیث کو ترمذی اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے)

واللہ اعلم واحکم بالصواب

تبصرہ کریں