جھوٹی مقدمہ سازی، اثرات و علاج۔ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین بن عبد العزیز آل الشیخ

پہلا خطبہ

ہر طرح کی تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ اسی نے بندوں کے لیے پاکیزہ چیزوں کو جائز ٹھہرایا ہے، بری اور ہلاکت خیز چیزوں کو حرام کیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی زمین وآسمان کا پروردگار ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے، رسول اور ساری مخلوقات میں افضل ترین ہستی ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر، جو سب ہی پرہیزگار اور عزت وشرف والے تھے۔

بعدازاں! اے مسلمانو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اسی سے خوشیاں ملتی ہیں اور برکتیں نصیب ہوتی ہیں۔

﴿ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ‎0 وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ﴾

’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 2 -3)

اے مسلمانو! عدالتوں میں کچھ رجحان بڑی کثرت سے نظر آتے ہیں جو مسلمانوں کو کسی صورت بھی زیب نہیں دیتے، کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسے رجحانوں کا حصہ بنے، دعویٰ دائر کرنے کے حق سے ناجائز فائدہ اٹھائے، یا وکالت میں اپنی مہارت کو غلط استعمال کرے۔ ان رجحانوں میں سے ایک: جھوٹے دعووں کی کثرت ہے، جو بالکل بے بنیاد ہوتے ہیں، بلکہ جھوٹ اور باطل کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ﴾

’’اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 188)

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دوسروں کی چیز کا دعویٰ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے، اور وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔‘‘ (صحیح مسلم)

قرآن وحدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور اہل علم بھی اس بات پر متفق ہیں کہ قاضی کے فیصلے کے بعد بھی کسی کے لیے دوسرے کی چیز لینا جائز نہیں ہو جاتا ہے۔ بلکہ وہ صرف ایسی چیز ہی لے سکتا ہے جس کا وہ حقیقی مالک یا مستحق ہو۔

اللہ کے بندو! عدالتوں میں ایک اور گھناؤنا رجحان بھی پایا جاتا ہے، یہ جھوٹی گواہیوں کا رجحان ہے، جس کا مقصد ناجائز طور پر اپنے بھائی کا حق مارنا ہے، بلند وبرتر اللہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

’’رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ اُن سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ اُن کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 77)

بہت سے بزرگوں نے اس سے مراد جھوٹی قسم لی ہے۔ جس کا مقصد کسی مسلمان کا حق کھانا ہو۔ ہمارے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص جان بوجھ کر کسی مسلمان کا مال کھانے کے لیے جھوٹی قسم کھاتا ہے، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔‘‘ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

’’قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق ہتھیانے والے کے لیے اللہ جنت حرام کر دیتا ہے اور جہنم میں داخلہ لازمی ٹھہرا دیتا ہے۔‘‘ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! چاہے وہ چیز چھوٹی موٹی ہی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’چاہے وہ پیلو کی ایک مسواک ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (صحیح مسلم)

فرمایا: ’’قسم کھا کر‘‘ یعنی: جھوٹی قسم کھا کر۔

اسلامی بھائیو! ایک اور رجحان بھی لوگوں کے دین اور دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہے، جو افراد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور معاشروں کوبھی، یہ جھوٹی گواہی دینے میں تساہل کا رجحان ہے۔ کچھ لوگ دنیاوی فوائد کمانے کے لیے گواہیاں دیتے ہیں، اور کچھ تعاون کے طور پر اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو فائدہ پہنچانے کے لیے گواہی دے دیتے ہیں، وہ اپنے تئیں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ، حالانکہ یہ سب کام بہت بڑے گناہ، اور سنگین خطائیں ہیں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ‎﴾

’’جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔‘‘ (سورۃ الحج: 30)

رسول اللہ ﷺ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی شخص کو قتل کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔‘‘ ( صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

اس زمرے میں وہ گواہیاں بھی آ جاتی ہیں جو نا انصافی سے کام لیتے ہوئے کسی کے حق میں دی جائیں، تاکہ وہ ملکی قانون کے مطابق حکومتی املاک کا کچھ حصہ قابو میں کر لے، جیسے زمین وغیرہ یا مال کی کوئی اور شکل۔

اے مسلمانو! عدالتوں میں ایک اور رجحان بھی نظر آتا ہے، جس سے مسلمان کو بچنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ مثلًا آپ اپنے کسی مقروض کو جانتے ہیں، آپ اس کی مجبوری سے بھی واقف ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ وہ کچھ وجوہات کی بنیاد پر ادائیگی نہیں کر سکتا، پھر بھی آپ موقع کا فائدہ اٹھائیں، عدالتوں کے ذریعے اس سے ادائیگی کا مطالبہ کریں اور اسے رسوا کریں۔ ایسی صورتحال میں آپ کا فرض تو یہ بنتا ہے کہ آپ اللہ کے اس ارشاد پر عمل کریں:

﴿وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

’’تمہارا قرض دار تنگ دست ہو، تو ہاتھ کھلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صدقہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 280)

سعید بن جبیر ﷫ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں: آیت میں ہے:

﴿وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

’’ اور جو صدقہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 280)

فرماتے ہیں:

’’اس میں اجر زیادہ ہے، مگر جو صدقہ نہیں کرے گا، وہ گناہ گار نہیں ہے، ہاں! اگر کوئی کسی مجبور کو جیل میں بھجواتا ہے تو وہ گناہ گار ہے۔‘‘ بہت سے بزرگوں نے یہی موقف اپنایا ہے۔

لہٰذا! اگر آپ نے کسی کو قرض دیا ہے اور آپ اس کی مجبوری سے واقف ہیں، جانتے ہیں کہ وہ ادائیگی نہیں کر سکتا، تو اسی ہدایت پر عمل کرو، خیر کثیر بھی حاصل کرو گے اور اجر عظیم بھی پاؤ گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب کسی مجبور کو دیکھتا تو اپنے بندوں سے کہتا: اس سے درگزر گرو، تاکہ اللہ ہم سے بھی درگزر کرے۔ پھر اللہ نے بھی اس سے درگزر کیا” (اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

’’جسے یہ پسند ہو کہ روز قیامت کی مصیبت سے اللہ اسے بچا لے، تو وہ تنگ دستوں کی مشکلیں آسان کرے یا انہیں معاف کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم )

ایک حدیث ہے، جس کی تائید شریعت کے اصولوں سے بھی ہوتی اور بعض اہل علم نے اسے صحیح بھی کہا ہے۔ جو (سنن امام احمد ، اور سنن ابن ماجہ) میں آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو کسی تنگ دست کو وقت ادائیگی کے بعد مہلت دیتا ہے، اسے ہر دن کے بدلے دگنی رقم کے برابر صدقے کا اجر ملتا ہے۔‘‘ یہ بہت بڑا اجر ہے، اللہ تعالیٰ بہت دینے والا اور علم رکھنے والا ہے۔

اے مسلمانو! اسی طرح مسلمانوں کے لیے ایک اور کام بھی حرام ہے، بلکہ بڑے گناہوں میں سے ہے، یعنی ادائیگی سے بے وجہ ٹال مٹول کر کے قرض دینے والے کو عدالت کا رخ کرنے پر مجبور کرنا۔ ادائیگی کا وقت آنے کے بعد صاحب حیثیت کے لیے مزید تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مال دار کی ٹال مٹول ظلم ہے۔‘‘ ( صحیح بخاری)

اے مسلمانو! کچھ مسلمان بہنوں میں بھی ایک برائی عام ہو رہی ہے، وہ عدالت میں آ کر خواہ مخواہ خلع کا مطالبہ کرنے لگتی ہیں، حالانکہ کوئی ایسی معتبر وجہ بھی نہیں ہوتی جس کا علاج علیحدگی کے بغیر ممکن نہ ہو۔ وہ صرف شادی کے بندھن سے آزاد ہونا چاہتی ہیں۔ صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو بیوی اپنے شوہر سے بغیر کسی وجہ کے طلاق مانگے، اس کے لیے جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔‘‘ ایسی صورتحال میں بیوی کے اس مطالبے کو ابن حجر ہیثمی نے بڑا گناہ شمار کیا ہے۔

اللہ کے بندو! ایک بدترین رجحان اور انتہائی برا رویہ یہ بھی ہے کہ الگ ہونے والے جوڑوں میں سے بعض لوگ اپنے ساتھی کو حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ کام نہ تو شریعت کی روسے درست ہے، نہ اخلاق کی روسے اور نہ ہی انسانی طبع ان کی اجازت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ﴾

’’ اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 237)

بلند وبرتر الٰہ کا فرمان ہے:

﴿لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ﴾

’’نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 233)

ایک قابل اعتماد فقہی قاعدہ یہ بھی ہے کہ شریعت کی رو سے کسی جائز حق کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے دوسروں کو ستایا نہ جائے۔ مطلقہ کے شرعی حقوق کی ادائیگی میں ٹال مٹول درست نہیں ہے۔ جیسے حق مہر کےبقایا جات، یا خلوت کے بغیر علیحدگی کی صورت میں عائد ہونے والا حق مہر کا حصہ، یا رجعی طلاق کی صورت میں شوہر کے گھر میں رہنے کا حق، اس کے اخراجات کی ادائیگی، اسی طرح تیسری طلاق کے بعد بھی حاملہ عورت کا وضع حمل تک کے خرچے کے ادائیگی۔ یہ حقوق تو شریعت کے طے شدہ ہیں، ان سے چھوٹ کے راستوں کی تلاش میں نہیں رہنا چاہیے۔ بیوی کو حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے بہت سی برائیاں سامنے آتی ہیں۔ یہ حقوق بھی شریعت میں مقرر ہیں اور شریعت کا علم رکھنے والا ہر شخص انہیں جانتا ہے۔

اے مسلمانو! ایک رجحان یہ بھی ہے کہ بیوی کو اپنے جائز اور شرعی حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرنے پر مجبور کرنا بھی ہے۔ جیسے بعد از طلاق اولاد ماں کے زیر کفالت ہونے کی صورت میں ان کا خرچہ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:

’’انسان کا اتنا گناہ ہی بہت ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو بے سہارا چھوڑ دے۔‘‘ (اسے امام نووی نے صحیح کہا ہے) اس لیے ہر ایک کا فرض ہے کہ اپنے ذمے آنے والے تمام حقوق ٹھیک طرح ادا کرے۔ خوش دلی اور رضامندی کے ساتھ ایسے طریقے سے ادا کرے کہ کو جھگڑا یا لڑائی بھی نہ ہو اور کسی کو حقوق کے مطالبے کے لیے عدالت کا رخ کرنے کی ضرورت بھی نہ رہے۔ مسلمان تو ان حقوق کی ادائیگی اللہ کا حق سمجھتے ہوئے کرتا ہے، اس کے لیے اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا پڑتی، بلکہ وہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے انہیں ادا کرتا ہے۔ ان کی ادائیگی بھی ایک عبادت سمجھتا ہے۔ بلند وبرتر اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ﴾

’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ ‘‘ (سورۃ الطلاق: 1)

میں اپنی بات اسی پر ختم کرتا ہوں۔ میں اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ اور غلطی کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی میرے لیے، اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے معافی معانگو۔ یقینًا! وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تعریف بس اللہ ہی کے لیے ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرما آپ ﷺ پر، اہل بیت پر اور صحابہ کرام پر۔ اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر۔

اللہ کے بندو! جو عدالتوں کو جانتا ہے اور ان میں اولاد کی نگہداشت اور ان سے ملاقات کے حوالے سے آنے والے مقدمے دیکھتا ہے، اسے بعض لوگوں کے رویوں پر سخت افسوس ہوتا ہے، جو دوسرے فریق کو نقصان پہنچانے کے لیے اولاد کو استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ فرض یہ ہے کہ وہ حدود اللہ کی پاسداری کریں اور اولاد کی مصلحت کو مد نظر رکھیں، ان کے لیے پر سکون جگہ فراہم کرنے کی اور محفوظ جگہ دینے کی کوشش کریں۔ ماں اور باپ، دونوں کو مل کر اولاد کے دلوں میں پیار، سکون اور اطمینان ڈالنے کی کوشش کریں۔ اور یہ چیز صرف تب ہی ممکن ہو سکتی ہے جب ذاتی مفادات کو نظر انداز کر دیا جائے، اور بچوں کے مفادات کو مقدم رکھا جائے، تاکہ انہیں نفسیاتی اور معاشرتی امن کا احساس ہو اور وہ بہترین پرورش پا سکیں۔ اللہ پاک کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ﴾

’’آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: 237)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جو کسی ماں سے اس کا بیٹا جدا کرتا ہے، اللہ اسے اپنے پیاروں سے جدا کر دے گا۔‘‘

اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم کام کا حکم دیا ہے۔ جس سے آپ کے نفس کو پاکیزگی ملتی ہے، اور احوال بہتر ہوتے ہیں۔ یہ کام نبی اکرم ﷺ پر کثرت سے دورد وسلام بھیجنا ہے۔ اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں نازل فرما، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ پر اے اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین عظام سے بھی راضی ہو جا۔ اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر استقامت کے ساتھ چلنے والوں پر۔

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ0 وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ0‏ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (سورۃ الصافات: 180 -181)

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں ۔ اور سلام ہے مرسلین پر ۔‘‘

اور ہماری ہر بات کا خاتمہ اسی پر ہے کہ ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں