جنیوا میں رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس (قسط 1)۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی سید المرسلین محمد وعلی آله وصحبه أجمعین

یورپ میں اسلاموفوبیا کی لہر تھمی نہیں بلکہ ہیجانی کیفیت رکھتی ہے، آئے دن قتل وغارت اور شعائر اسلام کی بےحرمتی کے واقعات ذرائع ابلاغ میں گونجتے سنائی دیتے ہیں۔ مخالفت اسلام کے اس سیلاب بلاخیز کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟

ہماری فکرنارسا کہتی ہے کہ اس مقصد کے لیے تین سطحوں پر کام درکار ہو گا۔

پہلی سطح یہ ہے کہ مسلم ادارے، تنظیمیں، مراکز و مساجد اپنی صلاحیت، قدرت، مالی وسائل کی حدود میں ان غیر مسلم مقتدر ہستیوں اور اداروں کے ساتھ بات چیت اور مفاہمت کا دروازہ کھولنے کی کوشش کریں جو کسی حد تک اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، اسے حوار بین الادیان (مذاہب کے درمیان ڈائیلاگ) کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، یا مشترکات کی تلاش کے سفر کے نام سے بھی یاد کیا جا سکتا ہے۔

دوسری سطح ذرائع ابلاغ (تقریری، تحریری، صوتی، تصویری، الیکٹرانک) پر نشر ہونے والے اسلام مخالف پروپیگنڈہ کا مؤثر جواب دینے کے لیے ایسے افراد اور اداروں کو کھڑا کیا جائے جو علمی اور تحقیقی میدان کے شناور ہوں اور دلیل کا جواب دلیل سے دے سکیں اور بے دلیل لغویات کی اصلیت کوظاہر کر سکیں۔

تیسری سطح ان حکومتی اداروں اور مجالس گفت وشنید تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرنا ہے جو قوانین اور ضوابط طے کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اپنے اس حق کو ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

رابطہ عالم اسلامی (مکہ مکرمہ) اپنے موجودہ سیکرٹری جنرل محمد عبد الکریم العیسیٰ کی پُرزور انقلابی قیادت میں اب تک کئی ایسی کانفرنسیں کر چکی ہے جو اسلام میں غلو اور معاشرے میں شرپسندی اور شدت پسندی کے رجحانات کو موضوع بحث بنا چکی ہے، لیکن خود سرزمین یورپ میں، بلکہ اس کے قلب سوئزرلینڈ میں ایک کامیاب کانفرنس کا انعقاد رابطہ کی ایک قابل فخر کوشش ہے اور پھر اس کانفرنس کا اقوام متحدہ کے سب سے قدیم ہیڈکوارٹر میں منعقد کرایا جانا ایک عظیم اقدام ہیں۔ یہ کانفرنس 18۔ 19 فروری 2020ء کو منعقد ہوئی جس کے افتتاحی اور اختتامی اجلاس سمیت آٹھ نشستوں میں 48 مقررین اور اہل علم نے اختصار وقت کا خیال رکھتے ہوئے خطابات کیے۔ ان میں تقریباً نصف 23 مدعوین نہ صرف یورپ بلکہ دنیا کے دور دراز علاقوں جیسے امریکہ، کینیڈا، ہندوستان، انڈونیشیا، جاپان اور آسٹریلیا سے بھی تشریف لائے تھے۔ ان تمام شرکاء کا جینیوا کے انٹرکانٹی ہوٹل میں ٹھہرایا جانا، بزنس کلاس میں ان کی آمدورفت کا انتظام اور پھر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں کانفرنس کا انعقاد ایک صرفِ کثیر چاہتا ہے جو سوائے سعودی عرب کی فیاضانہ شمولیت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

رابطہ کی اولین کانفرنس جس میں شرکت کا موقع ملا، رابطہ کی اس بلڈنگ میں منعقد ہوئی تھی جو رابطہ کا اولین ہیڈکوارٹر تھا، یہ عمارت عزیزیہ کے راستے میں واقع تھی اور پھر 1976ء کی وہ کانفرنس یاد آتی ہے جو رابطہ کے اس وقت کے ناظم عمومی شیخ محمد علی الحرکان کی قیادت میں نوا کشوط (موریتانیا) میں منعقد ہوئی تھی اور پھر وقتاً فوقتاً نہ صرف مکہ مکرمہ میں بلکہ دنیا بھر کے مختلف مقامات پر رابطہ کا مہمان رہا۔ بارہا مقالات پیش کیے، بحث ومباحثہ میں حصہ لیا لیکن ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی (سابق سیکرٹری جنرل) کی رابطہ سے روانگی کے بعد یہ چوتھی کانفرنس ہے جس میں بطور سامع شریک ہو رہا ہوں۔

اب آئیے جینیوا کانفرنس کی طرف کہ جس کاتذکرہ مطلوب ہے۔

یو این او (UNO) کے ہیڈکوارٹر کی عمارت ویسے ہی ایک گرانڈیل عظیم معماری تحفہ ہے، مرکزی عمارت میں داخل ہوں تو ایک اونچا سا راہداری نما پُل اسے ایک دوسری عمارت سے ملاتا ہے، جس کے کمرہ نمبر 17 میں یہ کانفرنس ہور ہی تھی۔ کمرہ (ROOM) کا لفظ ہم نے یو این او کی اپنی اصطلاح کے مطابق استعمال کیا ہے وگرنہ ہماری دانست میں اسے ہال کہا جانا چاہیے کہ جس میں قد آور اسٹیج کے سامنے نیم دائرےکی شکل میں نشستیں ترتیب دی گئی تھیں اور ہر نشست کے سامنے ڈیسک پر ایک چھوٹی سی اسکرین پیوستہ تھی کہ جس میں مقرر کو اس کی شبیہ کے ساتھ دیکھا اور سنا جا سکتا تھا اور جہاں ووٹ دینے یا اپنی بات کہنے کے لیے مائیک کا انتظام بھی موجود تھا۔

کانفرنس کا افتتاح ایک نوجوان عرب خاتون کی آواز سے ہوا جس نے افتتاحی اجلاس کے لیے سات معزز مہمانوں کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔

مجھے دوپہر میں وقفہ مأکولات کے درمیان اپنی اہلیہ کے ساتھ اس خاتون کا تعارف حاصل ہوا اور اس نے بتایا کہ وہ اصلاً لبنان کے ان عرب خاندانوں میں سے ہے جو بہت پہلے برازیل میں آباد ہو چکے تھے اور پھر آہستہ آہستہ وہ وہیں کی تہذیب وثقافت میں گھل مل گئے، اپنی روایات اکثر گنوا دیں۔ اپنی زبان بھی، کلچر بھی، دینی اقدار بھی، اس نے خود اپنی محنت سے عربی زبان کے ساتھ دوبارہ رشتہ استوار کیا ہے اور ہم خود دیکھ رہے تھے کہ وہ گو مغربی ثقافت کی پوری طرح علمبردار تھی لیکن اپنے شاندار ماضی کی روایات سے دوبارہ رشتہ استوار کرنے کی خواہشمند تھی۔

اس اجلاس میں جن معززین نے خطاب کیا ان کے نام نامی درج کیے دیتا ہوں:

a ویٹی کان (پوپ) کے نمائندے خالد پطرس عکاشہ

b آرٹ اکیڈمی جینیوا کی ڈائریکٹر سِیبیل روبرخت

c اسلامی مجلس اعلیٰ الجزائر کے صدر ڈاکٹر ابو عبد اللہ غلام اللہ

d سوئزر لینڈ کی یہودی کونسل کےسیکرٹری جنرل جان گر فنکیل

e وزارت اوقاف (مصر) اور اسلامی امور کی مجلس اعلیٰ کے صدر ڈاکٹر محمد مختار جمعہ

f مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شومی ابراہیم علّام

g رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب محمد عبد الکریم العیسیٰ

مقررین کے مقالات حاضرین کے لیے دستیاب نہیں تھے، اس لیے میں اپنے نوٹس پر انحصار کرتے ہوئے صرف انہی مقررین کے خیالات کی تلخیص پیش کروں گا جنہیں میں خود سن پایا تھا، بلکہ تلخیص کہنا درست نہ ہو گا، صرف وہ نقاط ہی درج کروں گا جو میرے نزدیک اچھوتے تھے یا کچھ اہمیت کے حامل تھے۔

جان گرفن کیل نےبتایا کہ اس کے آباؤ واجداد نازی دہشت گردی کاشکار رہے تھے، وہ خود وی آنا (آسٹریا) میں اپنے بچپن کے تلخ ایام کا حوالہ دے رہے تھے جب اسکول کے دوسرے بچوں کی طرف سے انہیں ستانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا:

Divided we fail, united we prevail

یعنی، ہم منقسم رہیں گے تو ناکام ہوں گے، متحد ہوں تو چھا جائیں گے۔‘‘

وزیر اوقاف محمد مختار جمعہ نے بتایا کہ کسی بھی معاشرے کے پھلنے پھولنے کے لیے امن کا ہونا اور رزق کی فراوانی انتہائی ضروری ہے۔ آج کل کورونا وائرس کا بڑا چرچا ہے لیکن سب سے خطرناک وائرس انتہا پسندی کاوائرس ہے اور ایسے ہی الیکٹرانک دہشت پسندی بھی۔

رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کا خطاب، کلیدی خطاب تھا، جس میں انہوں نے اس بات پر خاص طور پر زور دیا کہ اسلامی ممالک میں تعلیمی نصاب کو ان تمام عبارات سے پاک کرنا ہو گا جو نفرت اور عنصریت پیدا کر رہی ہیں اور معاشرے میں علیحدگی کے رجحان کو پروان چڑھا رہی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہر ملک میں خارجی امداد کے حصول پر پابندی عائد کی جائے اور اس بات کو نوٹ کیا جائے کہ بہت سے مراکز ایسے ہیں جو کوئی مذہبی نام نہیں رکھتے لیکن ان کی ساری کی ساری مصروفیات دین ہی سے متعلق ہوتی ہیں۔

افتتاحی اجلاس کے بعد ایک ایک گھنٹے کے دورانیے کے تین اجلاس اور ہوئے۔

پہلا اجلاس شیخ عبد المعتوق کی صدارت میں ہوا جو کہ دیوانِ امیری کے خصوصی مشیر ہیں۔ اجلاس کا مرکزی موضوع تھا:

’’افکار، نظریات اور وہ معاشرتی حالات جو انتہا پسندی کو جنم دیتے ہیں۔‘‘

مقررین حضرات جنہیں خطاب کے لیے دس دس منٹ دیے گئے وہ یہ تھے:

a رضوان السیّد، استاد علوم اسلامیہ، امریکن یونیورسٹی، بیروت

b فادر نبیل حداد، اردن کے مرکز تحقیق برائے حوار بین الادیان کے ڈائریکٹر

c ڈاکٹر انائیڈ لینڈ مین، استاد لوازن یونیورسٹی، سوئزرلینڈ

d ڈاکٹر حبکی آرلولے بروڈرڈ، فرائی برگ یونیورسٹی، سوئزرلینڈ

e ڈاکٹر ساسا سیکرلی جا، استاد بانجالوکا، یونیورسٹی ہرسی گووینا

f ڈاکٹر حسان بن علی موسیٰ، نائب صدر فتویٰ کمیٹی، سویڈن

ڈاکٹر رضوان السید نے دہشت پسند جماعتوں کے تین مراحل سے گذرنے کا ذکر کیا:

اپنی شناخت ظاہر کرنے کا مرحلہ

مسلسل آگے بڑھتے رہنے کا مرحلہ

غلبہ حاصل کرنے کا مرحلہ

انہوں نے کہا کہ علامہ شبلی نعمانی پچھلی صدی (انیسویں صدی) کے اواخر میں یہ کہہ چکے تھے کہ ہمیں ایک نئے علم کلام کی ضرورت ہے۔ پھر رضوان السید نے اشعری اور سلفی مخاصمت کا ذکر کیا اور کہا کہ ہماری توجہ دین کے تین اساسی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت پر رہنی چاہیے۔

یہ بھی کہا کہ ہم لوگ ترقی پسند ہیں اور ہم قدامت پسندوں سے خائف رہتے ہیں، ہمیں علم کلام کی تجدید مطلوب ہے۔

فادر نبیل حداد نے کہا کہ انتہا پسندی اب ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے اور انتہا پسند اپنی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے ٹیکنالوجی کے جدیدترین ذرائع اختیار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ان کی پہنچ جدید ترین مہلک ہتھیاروں تک بھی ہو چکی ہے جو کہ خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے۔ ڈاکٹر ساسا نے بتایا کہ بوسنیا میں امن کے معاہدے پر اب پچیس سال بیت چکے ہیں اور اب بوسنیا یورپی یونین میں ممبرشپ کا خواہاں ہے۔

ڈاکٹر حسان نے کافی گھن گرج کے ساتھ اپنے نقطہ نظر کو پیش کیا، کہا کہ نوجوان انتہا پسندی کے ہتھوڑے اور معاشرے سے دور کیے جانے کے رجحانات کے درمیان پس رہے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ یہ انتہا پسندی کہاں سے آتی ہے، کیا مسئلہ فلسطین کا حل نہ کیا جانا اس کے اسباب میں سے ایک سبب نہیں ہے؟ پھر دوسرے اسباب میں سے غربت، معاشرے سے بغاوت، جمہوریت اور نسل پرستی بمقابلہ سامیت (سامی النسل ہونا) کے نام پر بے انصافی کا طوفان کھڑا کرنا ہے۔

انہوں نے ایک انگریز ضرب المثل کی طرف اشارہ کیا کہ میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ تم مجھ سے محبت کرو لیکن یہ احساس ضرور دلاؤں گا کہ میں موجود ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کا کوئی باپ نہیں سوائے نفرت اور کراہیت کے، کہا کہ لوگ تعلیمی نصابوں میں اصلاح کی بات کرتے ہیں لیکن صرف مسلمانوں کی حد تک کیوں؟ کیا عیسائی نصاب تعلیم میں اصلاح کی ضرورت نہیں ہے؟

دوسرے اجلاس کا عنوان تھا: اسلاموفوبیا اور مخالفت سامیت، جو ہمارے دیرینہ دوست اور مسلم ایڈ کے رفیق جناب اقبال عبد الکریم سکرانی (لندن) کی صدارت میں ہوا۔

مقررین تھے:

a ڈاکٹر چارلس آشرسمال، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ برائے دراسات اور پالیسی بابت عالمی مخالفت سامیت، امریکہ

b ڈاکٹر الفریڈو مایولسیی، صدر یورپین مسلم لیگ، اٹلی

c ڈاکٹر جان گرفن کیل ۔ سیکرٹری جنرل C/CDسوئزر لینڈ

d ڈاکٹر محمد مشاری۔سیکرٹری جنرل کونسل برائے عالمی مسلم تنظیمات، فرانس

میں بوجوہ اس اجلاس میں شرکت نہ کر سکا لیکن آخر میں صدر مجلس کے چند کلمات سن پایا، انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے صاف صاف کہا ہے کہ اسلاموفوبیا کا پایا جانا ایک مشکل امر ہے اور یہ کہ یورپ میں اور خاص طور پر برطانیہ میں دائیں بازو کا اسلاموفوبیا کو بھڑکانے میں ایک نمایاں کردار ہے اور یہ کوئی خوش آئند بات نہیں کہ بورس جانسن (وزیر اعظم برطانیہ) اس سلسلہ میں آئے دن کچھ نہ کچھ ہانکتے رہتے ہیں۔

تیسرا اجلاس ناروے کے چیف ربائی جیڑمَیل کوئر کی صدارت میں ہوا۔

موضوع تھا: قومی تشخص اور ذہنی تحفظ کی تعمیر میں قومی تشخص کا حصہ ،اور مقررین تھے:

a سفیر مقتدر مشیل واتھیث، انسانی ٹریفکنگ کی روک تھام کے لیے مالٹا کے ساوَرَن آرڈر کے سفیر، سوئزرلینڈ

b مہاجری زین، صدر اسلامی مراکز کی یورپین تنظیم، سوئزرلینڈ

c پروفیسر بشیر جیووی۔ صدر اور بانی اموشنل ویل بینگ انسٹی ٹیوٹ، سوئزرلینڈ

d ڈاکٹر حمادی نائط شریف، استاد بورنمتھ یونیورسٹی، برطانیہ

e ڈاکٹر ابراہیم نجم، مفتی جمہوریہ مصر کے خصوصی مشیر

پہلے مقرر نے موجودہ دور کی انسانی سمگلنگ کو ماڈرن غلامی سے تعبیر کیا اور اس ضمن میں اعضاء جسم انسانی کی ٹریفکنگ کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ ویٹیکان (کیتھولک مذہب کی مرکزی عبادت گاہ) میں پوپ کی نگرانی میں ان دونوں موضوعات پر کام ہو رہا ہے۔

دوسرے مقرر بشیر جیووی تھے جو اصلاً مورشیس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اب آسٹریلیا میں قیام پذیر ہیں اور دماغی صحت کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کے حامل ہیں۔

ان کی تقریر کے مرکزی نکات یہ تھے:

1۔ انسانی خواہشات کا غلط استعمال جیسے ونڈو شاپنگ کرتے کرتے آپ دکان میں داخل ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

2۔ تبدیلی لانے کےلیے انسان کے دماغی سانچے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

3۔Push & Pull یعنی دھکیلنے اور کھینچنے، دونوں عوامل کی ضرورت ہے۔

4۔ تعلیم ہو تو بہترین سطح کی ہونی چاہیے۔

5۔ وہ ڈاکٹر جو مریض کا معاینہ کرتا ہے اور پھر غلط تشخیص کرتا ہے تو پھر وہ غلط علاج بھی تجویز کرے گا اور پھر اس کے جزوی اثرات تو ہوں گے۔

6۔ کیکڑے والا مزاج یعنی ہر شخص دوسرے کی ٹانگ گھسیٹنے میں لگا ہوا ہے۔

7۔ اعلیٰ اقدار کے حصول کے لیے چیمپیئن کی پوسٹ ہدف ہونی چاہیے۔

8۔ ’أحد‘ اتحاد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

صدر مجلس نے ان کی تائید میں کہا کہ یہ لفظ عبرانی میں أخد اور عربی میں أحد وارد ہوا ہے۔ استاد حماد نائط شریف نے یورپ میں آباد مسلمانوں کی اصناف کو گنواتے ہوئے کہا:

1۔ یورپی مسلمان جن میں بوسنیا اور کسووا کے مسلمان شامل ہیں لیکن انہیں بھی کسی گنتی میں شمار نہیں کیا جاتا۔

2۔ نَو مسلم جو کہ تقریباً بیس فیصد ہیں۔

3۔ دوسرے ممالک سے ہجرت کر کے یورپ میں آباد ہونے والے مسلمان جن میں اب ان کی اولادیں بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں کو ملازمت کے حصول میں دقت پیش آتی ہے، حقارت انگیز کلمات سے خطاب کیا جاتا ہے۔ بورس جانسن (موجودہ وزیر اعظم برطانیہ) نے نقاب پہننے والی مسلم خواتین کے بارے میں کہا تھا کہ وہ لیٹر باکس کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ساتھ برابری کا سلوک ہونا چاہیے۔

4۔ وہ لوگ جو اپنے ممالک میں ظلم وبربریت کی بنا پر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ جیسے فلسطینی یا شامی، یہ لوگ مختصر مدت کے قیام کی نیت سے آئے ہیں اور اپنے ملک کی شہریت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ کے اسلامی مراکز کو ثقافتی مراکز کا کردار ادا کرنا چاہیے اور ہمیں باہر سے فتویٰ کے حصول کے رجحان کو ترک کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر ابراہیم نجم مفتی جمہوریہ کے خصوصی مشیر ہیں اور عالمی طور پر فتویٰ جات کا تقابل کرتے ہیں، امریکہ میں تعلیم اور کام کے سلسلے میں بارہ سال مقیم رہے۔ ’ لانگ آئی لینڈ کے اسلامی مرکز کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا:

’’ انتہاء پسند اپنے ملک کے قومی ترانہ کا احترام نہیں کرتے اور ان کے ہاں قومی تشخص ہمیشہ دینی تشخص سے میل کھاتا نظر نہیں آتا ۔ وہ ابھی تک دار الاسلام اور دار الحرب کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں اور اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعہ میں غلطی کا شکار ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنی آیات کا از سرِ نو مطالعہ کریں۔

دیکھیے کہ سیدنا یوسف مصر جا کر کیسے اہل مصر کی طرح ہو گئے، گو وہ اپنے دین پر عامل رہے لیکن وہ ابنائے وطن کی خدمت میں لگے رہے۔ ایسے ہی وہ لوگ جو عہد مکی میں حبشہ ہجرت کر گئے تھے، ان میں وہ لوگ جو زیادہ دیر وہاں رہے، انہوں نے ایک جنگ میں اہل حبشہ کی مدد بھی کی۔ خود رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ (اپنے وطن) کی مدح کرتے نظر آتے ہیں اور پھر مدینہ منورہ کی۔ ایسے ہی انہوں نے یمن، عراق اور دوسرے ممالک کی مدح بھی کی۔ انہوں نے فتویٰ نویسی کے ضمن میں کہا کہ ہم عربی میں صادر فتاویٰ کا دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کرتے بلکہ دوسرے ممالک سے ایسے علماء کو مدعو کرتے ہیں جو اپنی زبان میں خود فتویٰ صادر کرتے ہیں۔

پہلے دن کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔

بدھ (19 فروری 2020ء) کی صبح دس بجے آج کے پہلے اجلاس کا آغاز ہوا، جس کی صدارت ہمارے ایک دیرینہ رفیق مصطفیٰ سیرچ سابق مفتی اعظم بوسنیہ کر رہے تھے۔ مرکزی موضوع تھا: ’’یورپ کے نوجوان اور انتہا پسندی کا خطرہ‘‘

ذیلی عنوان تھے: خاندان کا کردار، تعلیم، مذہبی اور اجتماعی امور کا نوجوان کے ذہن و دماغ پر اثر انداز ہونا۔

اجلاس کے شرکاء یہ تھے:

1۔ کجل میگنے بونڈون، ناروے کے سابق وزیر اعظم

2۔ ڈاکٹر حسنی عبدی، مرکز تحقیق و دراسات برائے عرب اور مشرق اوسط، سوئزرلینڈ

3۔ سیدہ شیارہ سلیمانی، صدر سٹارٹ ان سائٹ، سوئزرلینڈ

4۔ ڈاکٹر اسامہ محمد العباد، اسلامی جامعات کی تنظیم کے صدر، مصر

5۔ ڈاکٹر سامی فزیدی، معہد عالی برائے ثقافت اسلامیہ، جامعۃ الزیتونہ، تونس

مصطفیٰ سیرچ نے ان کلمات کے ساتھ اجلاس کا آغاز کیا کہ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک بچہ پہلے سات سال شاہانہ زندگی گزارتا ہے، اگلے سات سال نوکر ہو جاتا ہے اور اگلے سات سال مشقت کی زندگی بسر کرتا ہے اور آج کا اجلاس اسی نوجوان کی زندگی کے ان تینوں مراحل سے متعلق ہے۔

ناروے کے سابق وزیر اعظم نے یورپ میں اسلام فوبیا پر تبصرہ کرتے ہوئے ناروے کے اس قاتل نوجوان کا تذکرہ کیا، جس نے ایک جزیرہ پر سیروتفریح کے لیے آنے والے طلبہ وطالبات پر اندھا دھند گولی چلائی تھی، گویا اب اسلاموفوبیا، سائنوفوبیا (Cynophobia) یعنی کتے کے خوف کی مانند ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس قسم کے سنگین واقعات کے زیادہ تر مرتکب لوگ دائیں بازو یا بائیں بازو کے انتہا پسند ہیں جو اس بات کا اظہار کرنا چاہ رہے ہیں کہ وہ اس معاشرے سے تعلق نہیں رکھتے۔

ڈاکٹر سامی فریدی نے انتہا پسندی کے ضمن میں خوارج اور قرامطہ کا ذکر کیا اور پھر امت مسلمہ کے امہ وسط ہونے کا تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ حضرت ابو سعید خدری کی حدیث کے مطابق وسط سے مراد عدل ہے۔

اس اجلاس سے ایک اور عرب استاد نے بھی خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کی سو سے زیادہ تعریفات بیان کی گئی ہیں اور اس کا آغاز اب سے نہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے شروع ہو چکا تھا۔ اس کا علاج تو یہ ہے کہ نوجوانوں کی تہذیب وثقافت کا خیال رکھا جائے اور اسلام کی معتدل تعلیمات کو عام کیا جائے۔

آخر میں ڈاکٹر مصطفیٰ سیرچ نے اپنے صدارتی کلمات میں یہ چند نکات پیش کیے:

1۔ یورپ کو دار العقد المدنی (House of Civil Contract) کہا جائے گا۔

2۔ دہشت پسندی کا ذکر کرتے وقت یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ہم لوگ بوسنیا میں امن وسلامتی کے پیغامبر تھے، پھر بھی ہماری اجتماعی نسل کشی کی گئی۔

برلین کی دیوار تو گرا دی گئی لیکن نسل پرستی اور عنصریت کی بے شمار دوسری دیواریں کھڑ ی کر دی گئی ہیں۔ اب خود ہمارے ہاں بے شمار پناہ گزیں پہنچ گئے ہیں جو کہ یورپ کی محبت میں یہاں نہیں پہنچے ہیں بلکہ اپنے گھروں سے بے گھر کر دیے گئے ہیں، اس لیے یورپ کو ان کے لیے اپنے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں