جنیوا میں رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس (قسط 2) ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مفتی جمہوریہ مصر نے اس پر گرہ لگائی کہ یورپ کے مسلمان ایک ’عقیدہ مواطنہ‘ (معاہدہ وطنیت) کا استحقاق رکھتے ہیں اور انہیں اس معاہدے کی پابندی کرتے رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ سَیرچ سابق مفتی بوسنیا سے میں نے ایک نجی گفتگو میں سوال کیا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں بچوں کے تین مراحل کا بطور حدیث جس مقولہ کا ذکر کیا ہے تو اس کی کوئی سند ہے تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ بات ایک خطیب سے خطبہ جمعہ میں سنی تھی اور یقیناً اس کا کسی کتب حدیث میں ذکر ہو گا۔ میں نے کہا کہ میں اس کے بارے میں بحث وتمحیص کے بعد کچھ عرض کر سکوں گا۔

بدھ کے دن دوسرے اجلاس کا عنوان تھا:

مذہبی آزادی

صدر جلسہ تھے ڈاکٹر غالب بن الشیخ الحسینی، صدر مؤسسہ اسلامیہ، فرانس اور مقررین تھے:

 ڈاکٹر کرٹس ویلٹن گادی، امریکہ میں ’ادیان کے درمیان ڈائیلاگ‘ کے سینئر ایڈوائزر

 شیخ علی الامین، عضو مجلس الشیوخ (سینیٹ) لبنان

 سٹیون سلوکم، مصنف اور امن کے پیغامبر۔ امریکہ

 ڈاکٹر فرحان احمد نظامی، ڈائریکٹر آکسفورڈ سنٹر برائے دراسات اسلامیہ

 عبد الصمد بن الحسان الیزیدی، سیکرٹری جنرل مرکزی مجلس المسلمین، جرمنی

پہلے مقرر نے یہ چند باتیں کہیں:

مذہبی آزادی ایک انتہائی ضروری امر ہے، یہ کتنا معیوب ہے کہ ایک شوہر اپنی بیوی کو اس لیے قتل کر دے کہ اس نے ایک دوسرا دین اپنا لیا ہے۔

مذہبی آزادی کے ضمن میں کہا جائے گا کہ اس کا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ دین کی آبیاری کا کام کریں لیکن دین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ حکومتوں کا مالک بن کر بیٹھ جائے۔ امریکی صدر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی شخص کو امریکا آنے سے اسے اس لیے روک دے کہ وہ کسی خاص دین کا حامل ہے۔

ڈاکٹر سٹیون نے مذہبی آزادی کے ضمن میں کہا کہ بطور مثال عرض کرتا ہوں کہ میں جیسے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوا۔ چرچ جاتا رہا تو وہاں دوسرے عیسائی فرقوں کےبارے میں نفرت کرنا سیکھی۔ میرا میل جول کسی دوسرے یہودی، مسلم یا سکھ بچے سے نہیں ہوتا، اسلام کے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا جاتا اور اگر بتایا جاتا ہے تو صرف یہ کہ اسلام ایک ناقص دین ہے۔ پھر جب شادی کا وقت آتا ہے تو میرے لیے ایک غیر مسیحی عورت سے شادی کرنا ناقابل تصور ہے۔ پھر میں اپنے بچوں کو عیسائی عقائد کے مطابق تربیت دیتا ہوں تو کیا میں اس طریقے سے مذہبی آزادی سکھا سکوں گا۔

میری اپنی رہائش سیتاگو (کیلی فورنیا) میں ہے۔ ایک سال قبل یہاں ایک انیس سالہ نوجوان نے ایک گروپ پر گولی چلائی تھی۔ اس سے قبل وہ ایک مسجد پر حملہ بھی کر چکا ہے۔ میری چھوٹی بیٹی اب تیس سال کی ہو چکی ہے، وہ ساری دنیا کے احوال دیکھتی رہتی ہے۔

اب ہم حوار بین الادیان (مذاہب کے مابین ڈائیلاگ) کی میٹنگ میں جاتے ہیں، میں اپنے بچوں کو مسلمانوں اور یہودیوں کے گھروں میں جانے پر آمادہ کرتا ہوں۔ جمعہ کے دن ہم کسی مسجد میں چلے جاتے ہیں، صف میں کھڑے ہو کر ’اللہ اکبر‘ بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح ہم یہودیوں کے تہوار جیسے یوم کپور، پاس أوَور وغیرہ میں بھی شرکت کرتے ہیں، ان کے سوالات کے جوابات بھی دیتے ہیں اور میرے نزدیک مذہبی آزادی کا یہی تصور ہے اور اسی کو تعددیت (Pluralism) کا نام دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فرحان نظامی نے عقیدہ توحید کو وحدت انسانیت سے جوڑتے ہوئے اس آیت کا حوالہ دیا:

﴿وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا۔‘‘

اور یہ کہ ’’ ہم نےہر امت کے پاس ایک رسول بھیجا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ مذہبی آزادی کے پانچ ستون ہیں:

1. عقیدے کی آزادی جس پر اللہ کا یہ قول ﴿لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ﴾ دلالت کرتا ہے۔

2. اخلاقی اقدار کی پاسداری

3. عدالت کے سامنے مساوات

4. مدنیّت (شہریت) کا شعور

5. پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک

جرمنی کے عبد الصمد بن الحسان یزیدی نے بھی ﴿لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ﴾ سے استدلال پیش کیا، انہوں نے چند مسائل کا تذکرہ کیا اور پھر جرمنی قوم کا جواب بھی:

1۔ کیا مذہبی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزادی کے ساتھ ایک دین چھوڑ کر دوسرا دین اپنا سکتا ہے؟ 96 فیصد جرمن اس کے حق میں ہیں۔

2۔ کیا دینی علامات جیسے عمامہ، حجاب، صلیب کے اظہار میں حکومت مداخلت کر سکتی ہے؟ 40 فیصد جرمن اس کے حق میں ہیں۔

اور اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ جرمن عدالتوں میں حجاب کے حوالے سے مقدمات پیش کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ایک باحجاب خاتون کو اسکول میں تدریس سے منع کیا گیا حالانکہ اس سے قبل اس کی ماں کے حجاب سے کسی کو کوئی شکایت نہ تھی اور کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ مذہبی آزادی کے دو پہلو ہیں، ایک ظاہری اور ایک باطنی، جس میں اول الذکر ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ 2015ء میں جب پناہ گزینوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ گئی تو معاشرے میں خوف کی فضا نے جنم لینا شروع کر دیا اور اس کے نتیجے میں فاشزم کی طرف رجحان میں اضافہ ہو گیا اور تشدد سے قبل تشدد بڑھانے کی بات کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں مسلمانوں پر زیادتیوں کے اعداد وشمار پہلی مرتبہ پیش کیے گئے تو یہ بات عیاں ہوئی کہ روزانہ کی بنیاد پر مسلمانوں اور ان کی مساجد پر حملے کیے جاتے ہیں، ایسے ملفوف بھیجے جاتے ہیں جن میں دھمکیاں دی جاتی ہیں، بلکہ بعض ملفوف دھماکہ خیز کیمیاوی مواد پر بھی مشتمل ہوتے ہیں، چند دن قبل اس سلسلہ میں چار مساجد کو خالی کرایا گیا اور اب ایک ایسے گروپ کا بھی انکشاف ہوا ہے جو کرائسٹ چرچ (نیوز لینڈ) میں ہونے والے خونی حادثے کی مانند مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ آخر اس کا علاج کیا ہے؟

ہم کہیں گے کہ وطنیت میں اشتراک کا شعور اجاگر کرنا چاہیے اور مقام شکر ہے کہ کئی تنظیمیں اس ہدف کو لے کر آگے بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ 21 مارچ کو ادیان ابراہیمی کا عالمی دن منانا چاہیے۔

لبنانی شیعہ عالم الشیخ الامین نے قرآنی آیات کے تناظر میں سورۃ البقرہ کی اس آیت سے اپنے خطاب کا آغاز کیا:

﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾ (سورة البقره: 213)

’’ لوگ ایک ہی امت تھے تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا، خوشخبری دینے کے لیے اور ڈرانے کے لیے اور ان کے ساتھ وہ کتاب بھیجی جو حق پر مشتمل تھی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر سکیں ان تمام امور میں جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا۔

یہ اختلاف کرنے والے وہی لوگ تھے جنہیں یہ کتاب دی گئی تھی اور انہوں نے کھلی کھلی نشانیوں کے آجانے کے بعد صرف سرکشی کی خاطر اختلاف کیا تھا۔ تو اللہ نے اپنے اذن سے ایمان لانے والوں کو ہدایت دی ، ان تمام چیزوں میں جن میں انہوں نے بابت حق اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔‘‘

چونکہ مقصد آزمائش ہے، اس لیے اس تعددیت کا ختم کرنا مقصود نہیں ہے۔

اور اسی لیے فرمایا:

﴿ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ﴾ (سورة البقرة: 256)

’’دین میں جبر نہیں ہے۔‘‘

اور ارشاد فرمایا:

﴿أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ﴾ (يونس: 99)

’’ کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مؤمن بن جائیں۔‘‘

اور کہا:

﴿فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ﴾ (الكهف: 29)

’’ تو جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے وہ انکار کر دے۔‘‘

اور اس سنت الٰہی کا کون انکار کر سکتا ہے کہ

﴿لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ﴾

’’ہر ایک کے لیے تم میں سے ہم نے ایک شریعت بنائی ہے اور ایک طریقہ۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 48)

اور کہا:

﴿وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ﴾

’’ اور ہم نے تمہیں بنا دیا قوم اور قبیلہ تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔‘‘(سورۃ الحجرات: 13)

اور دوسری بات یہ سمجھائی کہ بنی نوع انسان کی بنیاد مساوات ہے۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

«كُلُّكُمْ مِنْ آدَمَ وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ»

’’ تم میں سے ہر شخص آدم سے ہے اور آدم مٹی سے ہے۔‘‘

انہوں نے اس ضمن میں عہد قدیم (بائبل) کا بھی حوالہ دیا، خود قرآن نے بھی اس بات پر زور دیا ہے۔ فرمایا:

﴿هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا﴾ (سورة هود: 61)

’’وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں زمین سے اٹھایا اور اس میں آباد کیا۔‘‘

تیسری بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کے عیب سے چشم پوشی کی جائے اور درگزر کرنے (یعنی تسامح) کا راستہ اپنایا جائے۔

حدیث نبوی ﷺ ہے کہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔‘‘

اللہ کےر سول ﷺ نے فرمایا کہ حسن معاملات ہی دین ہے۔ اور فرمایا کہ تمام مخلوق اللہ کی عیال داری میں ہیں۔

پھر انجیل کا حوالہ دیتے ہوئے موصوف نے کہا کہ لوگوں سے ویسے ہی سلوک کرو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔

قرآن میں ارشاد ہوا:

﴿هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ﴾ (سورة الرحمٰن: 60)

’’ کیا احسان کا بدلہ احسان نہیں ہے؟‘‘

کیا خوب شعر ہے:

مادمت محترماً حقي فأنت أخي

آمنت بالله أم آمنت بالحجر

’’ جب تک تم میرے حق کا احترام کرتے رہو گے تو تم میرے بھائی ہو، چاہے تم اللہ پر ایمان لاؤ یا پتھر پر۔‘‘

چوتھی: بات یہ ہے کہ ایک معاشرے کی بنیاد تربیت پر قائم ہے، ایسی تربیت جس میں روحانی اور انسانی اقدار جلوہ خیز ہوں۔

انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام مسیح کے اس قول پر کیا۔

طُوبَى لِصَانِعِي السَّلاَمِ

’’سلام ہو ان پر جو امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

چھٹے اجلاس کا عنوان تھا:

’’مذہبی اور ثقافتی ثنویت اور برداشت کا کلچر‘‘

رئیس مجلس تھے مراکش کے ڈاکٹر سالم بن محمد بن الملک، ڈائریکٹر جنرل ISESCO

(اسلامی، تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم)

اور اس میں خطاب کرنے والے تھے:

1. ڈاکٹر شالوم اور ہام سوٹن ڈراپ ، ہالینڈ کے انسانی اقدار کی انسٹی ٹیوٹ کے ایک یہودی ربائی۔

2. فادر میٹرو سوو دانیال : روسی کلیسہ کے نمائندے

3. ڈاکٹر زاہد پرویز، صدر مارک فیلڈ ادارہ برائے تعلیم عالی، لیسٹر، برطانیہ

4. پادری وٹوریو لاناری، نائب صدر Saint Egidio ، اٹلی

5. ڈاکٹر موسیٰ ابو رمضان، استاد سٹرائبرس یونیورسٹی، فرانس

6. فادر فادی ڈایو، صدر ادیان فاؤنڈیشن، لبنان

7. ڈاکٹر ارمانڈو برناردینی، صدر IFIIF (عالمی فاؤنڈیشن برائے کثیر مذہبی وثقافتی تعلیم)، اٹلی

میں اس اجلاس کے بالاستیعاب نوٹس نہ لے سکا۔ چند مقررین کے ملفوظات انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے یہودی ربائی نے بتایا کہ ان کی ولادت 1943ء کی ہے اور میں جو آج زندہ ہوں تو اس وجہ سے کہ نازی فوجی نے مجھے دودھ پیتا بچہ دیکھ کرچھوڑ دیا تھا۔

روسی کلیسا سے تعلق رکھنے والے پادری نے کہا :

تم اپنے بچے کو باہر جاتے وقت ہدایت کرتے ہو کہ بیٹے: سڑک پار کرنا ہو تو سرخ نشان کے وقت کبھی پار نہ کرنا۔ جب بتی سبز ہو جائے تب پار کرنا اور بالکل یونہی ہماری زندگی میں بھی اللہ کی طرف سے سرخ اور سبز نشانات دیے گئے ہیں جن کی پابندی کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو تورات کے احکام عشرہ کی تعلیم دینا چاہیے۔

ڈاکٹر زاہد پرویز کا یو کے اسلامک مشن سے گہرا تعلق ہے اور اب وہ پروفیسر خورشید احمد کےقائم کردہ ادارے مارک فیلڈ برائے تعلیم عالی کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے کی تعلیمی خصوصیات اور برطانوی یونیورسٹیوں سے ان کے الحاق کے بارے میں بتایا۔

اٹلی کے فادر ارمانڈو نے کہا کہ ہر چھ یورپین افراد میں سے ایک یہ کہتا نظر آئے گا کہ مسلمان عورت کو حجاب نہیں لینا چاہیے، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ عیسائی ننوں کے بارے میں کیا خیال ہے، کیا وہ ایسا ہی حجاب نہیں لیتیں؟

انہوں نے کہا: یہ درست ہے کہ اسلامی ممالک میں خواتین مختلف انداز کے حجاب لیتی ہیں اور وہ صرف اس لیے کہ قرآن شرم وحیا کے التزام پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صلیبی جنگوں کے دوران یورپ کے عیسائی، اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے فلسطین پہنچے تھے لیکن وہ مسلمانوں کی طہارت وصفائی کی عادت سے متاثر ہو کر لوٹے جس کا التزام وہ پنج وقتہ نماز سے قبل کرتے ہیں۔

بدھ 19 فروری 2020ء کو بعد ظہر آخری اجلاس تھا ، جس میں مندرجہ ذیل مقتدر حضرات نے خطاب کیا:

1. ایلن شیرو دکور۔ امریکہ کے خصوصی سفیر برائے انسداد مخالفت سامی ازم

2. ڈاکٹر محمد ہدایت نور واحد، ڈپٹی اسپیکر عوامی مجلس شوریٰ، انڈونیشیا

3. صدر کجیل میگنے بونڈوک، سابق وزیر اعظم ناروے، صدر اوسلوسنٹر برائے امن اور انسانی حقوق، ناروے

4. مسز امیزابیل مورت، صدر ملی مجلس، سوئز لینڈ

5. ڈاکٹر محمد عبد الکریم عیسیٰ، سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ

سب سے پہلے مقرر امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے مدعو کیے گئے تھے۔ انہوں نے خود ہی اپنا تعارف کرایا کہ میرا تعلق عراق سے ہے، مذہباً یہودی ہوں۔ ہمارے لوگ صدیوں سے بلاد عرب میں مسلمان حکمرانوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کیا اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا وہاں بسے رہنا باہمی بقا کا بہترین مظاہرہ تھا۔ یہود کے اولین مدرسہ کے استاد ایک مسلمان حکومت کے پروردہ تھے۔ اپنے بارے میں مزید بتایا کہ عراق کے دور استبداد میں میرے والد کو گرفتار کر لیا گیا۔ میری والدہ ان سے ملاقات کے لیے جیل گئیں تو انہوں نے میری والدہ سے کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے بچوں کے ساتھ یہاں سے ہجرت کر جاؤ، ہماری والدہ ہمیں ایران لے آئیں لیکن ہمیں وہاں بڑی اذیت سے گزرنا پڑا اور میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہم اپنے معاشروں کے لیے کس قسم کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تو رواداری اور محبت کا پیغامبر ہونا چاہیے تھا، پھر ہمارا مختصر سا خاندان امریکہ میں پناہ گزیں ہوا اور آج میں امریکی صدر کی جانب سے آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ میں سامیت (Semitism) اور تشدد پسند تنظیموں کے خلاف جدوجہد کے ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہا ہوں۔

ناروے کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کو آپس میں قریب لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بعض لوگ انتہا پسندی، تشدد، خودکش دھماکوں اور اندھا دھند قتل وغارت کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں، ان کے اسباب تک پہنچنا ہو گا اور ان اسباب کے ازالے ہی سے غیر انسانی رویوں کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔

کہا کہ جب انسانیت کی تحقیر کی جائے، انہیں طویل عرصے تک دبا کر رکھا جائے یا ان کے مذہبی عقائد کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو پھر بغاوت کے جذبات کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ ایک دوسری بات یہ ہے کہ جسے ہم نے کئی تجربات کی روشنی میں اخذ کیا ہے کہ جب نوجوانوں میں یہ شعور جاگزیں ہو جاتا ہے کہ ہمیں اجنبی سمجھا جا رہا ہے اور ہمیں سوسائٹی سے لاتعلق رکھا جا رہا ہے تو ان کے ذہنوں میں منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ سب باتیں چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کا تدارک تعلیم اور مذاہب کے مابین بات چیت سے نکالا جا سکتا ہے۔

بلقان کی ریاستوں میں جو کچھ ہوا وہ اس کی نمایاں مثال ہے، وہاں مذہب کو بہت بری طرح استعمال کیا گیا۔

ہمیں انسانی تعلقات پر مبنی ہر ایک سوسائٹی کو پروان چڑھانا ہو گا جہاں تمام طبقات برابری کی سطح پر جی سکیں۔ ہمیں انسانیت پر مبنی ایک سوسائٹی قائم کرنا ہو گی۔

سوئزرلینڈ کی ملی مجلس کی صدر خاتون نے اس طرح خطاب کیا کہ ان کی بغل میں ایک دراز قد سوِس لیڈی اپنے قومی لباس میں کھڑی رہی۔ اس کے سر کا ترچھا تاج نمایاں تھا۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کی بات کی، کہا کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو پوری آزادی ہونی چاہیے کہ وہ جو چاہے لباس پہنیں، خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں بشمول مذہبی امامت چاہے وہ مسجد کی ہو یا کنیسہ کی یا معبد یہود کی، نمائندگی ہونی چاہیے۔

آخر میں رابطہ عالم اسلامی کی سیکرٹری جنرل نے اپنے کلیدی خطاب میں خاندان کے مرکزی کردار کی بات کی۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے روکنے کی اہمیت کو جتلایا۔

کہا کہ یہ کانفرنس کئی باتوں میں امتیازی حیثیت رکھتی ہے، یہاں سیاسی، دینی اور فکری اعتبار سے اعلیٰ شخصیتوں نے خطاب کیا۔ نوجوانوں کو انتہا پسند افکار سے دور رکھنے کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور نوجوانوں کے مسائل، ان کی مشکلات اور ان کا مداوا کرنے پر غور کیا گیا۔

اور پھر رابطہ کی روایات کے مطابق کانفرنس کا جاری کردہ کمیونیکے میزبان خاتون نے پیش کیا جو خود لبنان سے تعلق رکھتی ہیں لیکن برازیل میں آباد ہیں۔ یہ 33 دفعات پر مشتمل ایک دستاویز تھی۔

ہم ہر دفعہ کا خلاصہ عنوان کی شکل میں اور ان میں سے چند ایسی دفعات کا پورا متن پیش کر رہے ہیں جو ہمارے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

اعلان جنیوا

1. بابت نصاب مدارس

أ ۔ بنی نوع انسان میں اختلاف کا پایا جانا

ب۔ دین، فکر، تہذیب، جنس کی بنیاد پر معرکہ آرائی کا غلط ہونا۔

ج۔ بچوں کی تعلیمی نصاب سے وہ تمام عبارات اور تاریخی واقعات حذف کر دیے جائیں جو نفرت اور معرکہ آرائی کا سبب بن سکتے ہوں۔

د۔ بنی نوع انسان میں عدل کی بنیاد پر مساوات کا ہونا۔

ر۔ بنی نوع انسان میں دو طرفہ بنیاد پر اکرام و احترام کا ہونا

ز۔ طلبہ منفی نظریات سے کیسے پرہیز کریں۔

س۔ ہر اس نظریے کا انکار جو نفرت، عنصریت، علیحدگی اور کنارہ کشی کی دعوت دیتا ہو۔

2. خاندان کی اقدار کا تحفظ

3. دینی، ثقافتی اور جنس کے انسانی مابین اختلافات کو پاٹنے کے لیے پروگرام کا وضع کرنا۔

4. اکثریت کی ثقافت اور کثافت ارضی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دوسرے ابناء وطن کے انسانی حقوق کا خیال رکھنا۔

5. دینی اور فکری تنظیموں کا انتہا پسندی اور تشدد پر مبنی نظریات کا رد کرنا۔

6. انتہا پسندی اور تشدد کے خاتمے کے لیے قانون سازی اور اقوام متحدہ کو اس بات کی دعوت کہ وہ الیکٹرانک تشدد پسندی کو جرم قرار دے اور سوشل میڈیا سے متعلق تمام کمپنیوں کو ایسے پروگرام حذف کرنے کا پابند کرے جو ان دونوں چیزوں پر ابھارتے ہوں۔

7. دینی اور فکری حلقہ جات کو جذبات کے بجائے منطقی اور امر واقعی کی طرف بلانے کی دعوت

8. ایسے فتاویٰ اور دینی افکار کو اپنے اپنے حلقوں سے ایکسپورٹ کرنے کے رجحان کی اس بنیاد پر نفی کی جائے کہ فتاوی اور واعظانہ ارشادات زبان، مکان اور احوال کے اختلاف سے بدلتے رہتے ہیں اور وہ اس لیے کہ ادیان تمام عالم کے لیے رحمت بن کر آئے ہیں۔ وہ شفقت کرنا سکھاتے ہیں اور ان اچھی چیزوں کو قابل عمل لانا چاہتے ہیں جن سے لوگوں کے حالات سدھر جائیں اور یہ کہ یہ بات امن اور سلامتی قائم کرنے کے لیے ایک بنیادی قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔

9. ہر اس بیرونی امداد کو روک دیا جائے جو دینی بنیاد پر اندرونی تنظیموں کو دی جا رہی ہو۔

10. دین سے وابستہ اشخاص کو ان کے اپنے علاقائی ماحول سے باہر تدریب یعنی تعلیم اور حصول تجربہ کے لیے نہ بھیجا جائے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے باہر سے ماہر افراد کو بلایا جائے۔

11. دینی مراکز پر کسی قسم کی بیرونی سرپرستی کے رجحان کو روکا جائے۔ ان میں وہ مراکز بھی شامل ہیں جو کوئی مذہبی نام تو نہیں رکھتے لیکن مذہبی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان مراکز پر لازم ہے کہ وہ انتہا پسندی پر مشتمل افکار کی بیخ کنی اور ابناء وطن کے درمیان صلح جوئی کے رجحان کو قائم رکھیں۔

12. جنیوا میں بین الادیان ڈائیلاگ اور بین الممالک تعاون اور دوستی قائم کرنے کی غرض سے ایک عالمی مرکز کا قیام

13. ایسی قانون سازی کہ جس کی رو سے کسی مذہب کے پیروکاروں یا کسی جنس کے خلاف محاذ آرائی ہوتی ہو تو اسے روکا جائے اور اس ضمن میں اسلاموفوبیا اور تحریک مخالفت سامی ازم بھی شامل ہیں۔

14. دینی قیادتوں کو نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے مثبت پروگراموں کے وضع کرنے پر ابھارنا۔

15. مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے اور دین میں جبر کی گنجائش نہیں ہے۔

16. بعض پیروکاران مذہب کی غلط کاریاں اس مذہب کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

17. بامقصد ڈائیلاگ کے لیے ان اقدار کی پاسداری ضروری ہے جو اپنے اندر توسع اور دوسروں کے لیے گنجائش رکھتے ہوں۔

18. انسان خود بداخلاق اور عنصریت پسند نہیں پیدا کیا گیا لیکن تعلیمی، خاندانی، اجتماعی اور سیاسی ماحول کی سلبیات اسے ایسا بنا دیتی ہیں۔

19. مذاہب کی تحقیر ایک طویل تاریخ رکھتی ہے جس کا مقابلہ ان کے غلط اسالیب کی نفی سے کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح بین الادیان مکالمے اور باہمی احترام سے کیا جا سکتا ہے، تہذیبوں کے درمیان معرکہ آرائی ناکامی کی طرف لے جائے گی اور اس میں حکومتوں اور معاشروں کا اپنا نقصان ہے۔

20. دینی، فکری، اجتماعی اور قانونی اداروں کو حکومتی اور پرائیویٹ دونوں سطح پر اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ مختلف تہذیبوں کے درمیان الفت اور میانہ روی قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایسے عملی اقدامات کریں جو سنجیدگی اور حقیقۃً اثر پذیری کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

21. یہ بند ان توصیات سے متعلق ہے جو مطلوبہ اقدامات کو ظاہر کرتا ہے:

1. اقوام اور ملل کے درمیان دوستی اور تعاون کی راہیں استوار کرنا۔

2. بلوغت تک بچوں کے کردار کی تشکیل کے لیے بھرپورتعلیم کا انتظام۔

3. دینی کردار: جذبات کے ابھار اور ادراک کی کمی کے مابین

4. بچوں اور نوجوانوں کے کردار کی تشکیل میں خاندان کا کردار

5. تہذیب بحیثیت گہوارہ امن

6. اسلاموفوبیا کا تجزیہ اور علاج

7. جدید نازی ازم اور مخالفت سامی ازم، تجزیہ اور علاج

8. متدین نوجوانوں کے تہذیبی کردار کو اجاگر کرنا۔

9. متدین نوجوانوں کی انتہا پسندی کے اسباب اور ان کا علاج۔

10. تشدد پسندی کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

11. مذہبی آزادیوں کے ساتھ تعامل کرتے وقت ان کی تشخیص میں غلطیوں کا ادراک

12. مثالی اور حقیقی کردار کا ادراک

13. متدین نوجوانوں کے نظریات اور افکار میں غلطیوں کی نشاندہی اور ان کا علاج

14. انتہا پسندی سے جنگ دو قوتوں کے بین بین، خفیف اور شدید

15. مسلم نوجوانوں کے تدیّن کا مطالعہ برائے ازالہ منفی سوچ

16. ’غُربت اور کارنر کیا جانا‘ انتہا پسندی (سادہ اور پرتشدد) بحیثیت سبب، اس کی تشخیص کی جائے اور پھر علاج بھی۔

17. ان اسباب کا جائزہ لیا جائے جو پچھلے دس سالوں میں انتہا پسندی کو ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور جن کا علاج دینی نصوص اور تاریخی واقعات سے کیا جانا مطلوب تھا۔

18. تین اقدامات بابت: پرتشدد انتہا پسندی کا میڈیا میں استعمال کیے جانے کا مقابلہ

19. انتہا پسندی (سادہ اور پرتشدد) کے مطالعہ میں صحیح مقیاس کیا ہو، اس کا بھرپور احاطہ کیسے کیا جائے۔

20. انتہا پسندی (سادہ اور پرتشدد) کے مقابلے میں ذمہ داریوں کی تقسیم، ان کی حد بندی اور ان کے نتائج کے بارے میں قیاس آرائی

21. انتہاء پسندی (سادہ اور پرتشدد) کے مقابلے کے لیے ایک آئیڈیل پُر امن تعامل سے بھرپور اقدام اور اس ضمن میں ان قانونی اور اجتماعی فروق کا خیال رکھا جائے جو مختلف ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔

22. ان تمام بین الاقوامی اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو پرتشدد انتہا پسندی اور شدت پسندی کے مقابلے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

23. مشترک اقدار کا مطالعہ

24. امن قائم کرنے کی غرض سے دینی خطاب کیا ہو۔

25. یورپ اور اسلام

26. یورپ میں وزارتیں برائے اندراج (یعنی معاشرے میں کیسے ضم ہوا جائے۔)

27. اسلاموفوبیا اور سامی ازم کی مخالفت

28. دینی تشخص اور وطنی تشخص کا جائزہ دونوں مفاہیم کے لحاظ سے:

ایک ٹکراؤ کا اور دوسرے اندارج کا

22. اس ضمن میں باقی اقدامات کا مزید مطالعہ کیے جانے کے بعد اسے اگلی کانفرنس میں زیر بحث لایا جائے۔

23. کانفرنس کی ادارت ایک کمیٹی برائے تنسیق قائم کرے جو ان تمام قرار دادوں اور سفارشات کا جائزہ لیتی رہے جو اس کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں اور ان کے بارے میں باقاعدہ رپورٹ پیش کرتی رہے۔

نوٹ: کاتب مقالہ کا اس کانفرنس میں پیش کردہ تمام آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ص ح)

إعلان جنيف

لتحصين الشباب ضد أفكار التطرف والعنف

وتعزيز الحريات الدينية وقيم التسامح

ومحاربة الكراهية والتهميش

في يومي الثلاثاء والأربعاء الموافق 18 ـ 19 فبراير 2020 انعقد في مقر الأمم المتحدة بجنيف المؤتمر الدولي لمبادرات تحصين الشباب ضد أفكار التطرف والعنف وآليات تفعليها الذي دعا إليه معالي الأمين العام لرابطة العالم الإسلامي الشيخ الدكتور محمد بن عبد الكريم العيسى.

وحضر المؤتمر عدد كبير من المهتمين بموضوع المؤتمر من كبار المسؤولين الحكوميين والأهليين حول العالم “دينين وسياسيين ومفكرين وأمنيين مع أكاديميين ممارسين من علماء التربية والنفس والاجتماع”.

وحضر المؤتمر قيادات دينية وسياسية بارزة شمل رؤوساء حكومات ورؤوساء برلمانات وعدد من البرلمانيين والوزراء المســـؤولين عن ملفات التطرف والعنف والإرهاب والحريات الدينية ومكافحة الكراهية والتهميش من عموم دول العالم.

وقد تناولت محاور المؤتمر عدداً من المبادرات المهمة في موضوعه والموضوعات ذات الصلة به، تحدث فيها الضيوف المدعوون عبر حوارات مفتوحة وساعد على ذلك التحضير المسبق والجيد من قبل المستكتبين لمبادرات المؤتمر حيث أثروا حلقات النقاش بمعلومات وأفكار ومقترحات في غاية الأهمية تمثل في كثير منها “حلقاتٍ مفقودةً” في التشخيص والتحليل الدقيق لعدد من المشكلات ذات الصلة بموضوع المؤتمر مع تقديم المقترحات المهمة لحلولها.

وقد أصدر المؤتمر التوصيات والقرارات التالية:

1ـ حث مؤسسات التعليم حول العالم على إيجاد مناهج دراسية “ذات أنشطة تفاعلية” يقوم عليها معلمون مدربون تختص بصياغة عقول الأطفال وصغار الشباب صياغة سليمة (باعتبار ذلك مهماً في تحقيق الاستقرار والوئام والتنمية المجتمعية، والسمعة الوطنية بخاصة، ومستقبل السلام الإنساني بعامة)، على أن تُرَكِّزَ تلك المناهج التفاعلية على ما يلي:

أ ـ ترسيخ القناعة بحتمية الاختلاف والتنوع والتعدد بين الناس، وأنها في إطارها الإيجابي تُمَثل إثراء للبشرية تُعزز من قدراتهم ووحدتهم.

ب ـ ترسيخ القناعة بأن الصدام الديني والإثني والفكري والحضاري يمثل مخاطرة كبيرة تطال الأمن الوطني والسِّلْم العالمي، والوئام بين الأمم والشعوب بشكل عام، والمجتمعات الوطنية بشكل خاص، مع تعزيز هذا الترسيخ بشواهد من التاريخ الإنساني.

ج ـ تنقية مناهج تعليم الأطفال وصغار الشباب من أي نصوص أو وقائع تاريخية من شأنها أن تؤجج الصراع والكراهية وتثير العداء والعنصرية.

د ـ التأكيد على المساواة العادلة بين البشر، وأن التفضيل بينهم هو بما لدى كل منهم من قيم وإبداع ونفع للإنسانية، وأن هذا لايتعارض مع الخصوصية الوطنية باعتباره أولوية في الولاء والنفع والتضحية.

هـ ـ التأكيد على أهمية الاحترام المتبادل بين كافة التنوع البشري باعتباره أرضية مهمة لسلام ووئام الأمم والمجتمعات.

و ـ إكساب الطلاب مهارات الحوار وكيفية التعامل مع الأفكار والممارسات السلبية، مع التأكيد على أهمية قيمة السماحة والتسامح.

ز ـ التأكيد على رفض أي فكر يدعو إلى الكراهية والعنصرية والإقصاء والتهميش تحت أي ذريعة.

2ـ قيام الجهات المسؤولة في كل دولة بإيجاد البرامج الفعالة لتعزيز دور الأسرة في صياغة عقلية الأطفال وصغار الشباب صياغة سلمية.

3ـ قيام الجهات المسؤولة في كل دَوْلةٍ بإيجاد البرامج الفعَّالة وبناء الشراكات المتعددة لردم سلبيات الفجوة الدينية والثقافية والإثنية في دول التنوع التي تُعاني من إشكاليةٍ أو تهديدٍ في موضوع الاندماج.

4ـ سنُّ التشريعات التي تكفل منع خطاب الكراهية والعنصرية والتهميش، مع أحقية قيام الدولة الوطنية بعمل الاحتياطات التي تمنع أي أسلوب يستهدف ثقافتها أو تغيير ديمغرافيتها الوطنية التي شكلتها الأكثرية دون أن يمس هذا الحق بحقوق المواطنة بخاصة وحقوق الإنسان بعامة.

5ـ قيام المؤسسات الدينية والفكرية بما يجب عليها من التصدي لأفكار التطرف والعنف والإرهاب وذلك بالدخول في تفاصيل أيديولوجيتها وتفكيكها بعمق ووضوح.

6ـ سن التشريعات التي تكفل منع أي أسلوب يقوم بتحريض العواطف المجردة عن الوعي نحو التطرف والعنف والإرهاب، ودعوة الأمم المتحدة لاتخاذ إجراءات أكثر فعالية لتجريم الإرهاب الإلكتروني وإلزام شركات التواصل الاجتماعي بإلغاء الحسابات التي تشمل على محتويات مخصصة للتحريض على العنف أو الإرهاب.

7ـ دعوة كافة منصات التأثير الديني والفكري بأن تقدم خطاباً يتجاوز مخاطبة المشاعر والعواطف والروح إلى مخاطبة المنطق والواقع.

8ـ منع تصدير الفتاوى والأفكار الدينية خارج ظرفيتها المكانية على أساس أن الفكر الديني المستنير يراعي تغير الفتاوى والمواعظ بحسب الزمان والمكان والأحوال؛ فالأديان جاءت رحمة للعالمين وبالرفق بهم وتحقيق مصالحهم التي تستقيم بها أحوالهم، وأن هذا الأمر يمثل قاعدة مهمة في تحقيق السلام والوئام.

9ـ منع أي تمويل ديني يأتي من الخارج لصالح جهات داخلية معينة.

10ـ منع تدريب رجال الدين خارج ظريفتهم المكانية أو استقدام مدربين من الخارج.

11 ـ منع أي وصاية خارجية على أي من المراكز الدينية بما في ذلك المراكز التي تأخذ اسماً غير ديني وتمارس أعمالاً دينية، وعلى تلك المراكز أن تقوم ببرامج فعالة في مواجهة أفكار التطرف الديني، وأن تكون فعالة كذلك في تعزيز الوئام الوطني.

12ـ يوصي المؤتمر بإنشاء مركز للتواصل الحضاري في جنيف ليكون منصة عالمية للحوار وتعزيز الصداقة والتعاون بين الأمم والشعوب وردم سلبيات الفجوات الدينية والثقافية والإثنية من خلال قاعدة المشتركات الدينية بخاصة والإنسانية بعامة التي تكفل لعالمنا العيش بسلام ووئام، وأن يُمثل في المركز التنوع الديني والإثني وغيره.

13ـ سن التشريعات لمنع أي أسلوب من أساليب معاداة أتباع الأديان والأعراق أو التحريض عليها ومن ذلك الإسلاموفوبيا ومعاداة السامية.

14ـ حث القادة الدينيين على تنظيم فعاليات شبابية للحوار والعمل على المشتركات الدينية والإنسانية لدعم جهود السلام العالمي والوئام الديني والإثني وتعزيز التحالف الحضاري.

15 ـ الحرية الدينية حق إنساني لا يجوز الإكراه فيه ولا مصادرته ولا ممارسة أي أسلوب من أساليب الإساءة والتهميش بسببه؛ فلا إكراه في الدين.

16ـ الممارساتُ الخاطئةُ لبعض أتباع الأديان لا تُعَبِّر عن الأديان.

17ـ القِيَمُ بانفتاحها وتسامحها ومنطقها الحضاري هي المنتصرُ الحقيقيُّ في الحوار الموضوعي.

18 ـ الإنسان لم يُخلق شريراً ولا عنصرياً ولا كارهاً لكن سلبيات البيئة التعليمية والأسرية والمجتمعية، وسلبيات المساجلات السياسية هي التي تصنع تلك الأخلاق السلبية.

19ـ ازدراء الأديان ممارسة عبثية لها تاريخ طويل تتم مواجهته على الدوام باستهجان أساليبها.

مع التأكيد على أهمية الحوار بين أتباع الأديان، واحترام الرأي والتدين في الإطار الأخلاقي.

ولم يَعُدْ هذا الازدراء إلا بالصدام الحضاري وبتصعيد التطرف من الجانبين، والخاسر في ذلك الجميع، مع تهديد أمن الدول والمجتمعات من خلال ردود فعل التطرف العنيف.

20 ـ حث “القيادات الدينية” و”المؤسسات الفكرية والاجتماعية والحقوقية ـ الأممية والحكومية والأهلية ـ ذات الصلة والاهتمام”، على أن تخطو شعارات ومبادرات التسامح وتحالف الحضارات خطوات عملية من خلال برامج دولية مشتركة تتسم بالفعالية والجدية وأن تتجاوز الاستحقاقات الحقوقية الواجبة إلى المعنى الحقيقي للسماحة والتسامح والتحالف الحضاري من خلال أثر ملموس يمكن تقويمه وقياس نتائجه.

21 ـ التوصية ـ من حيث المبدأ العام ـ بتبني المبادرات التالية وفق آلياتها التنفيذية المقترحة:

أ ـ مبادرة: الصداقة والتعاون بين الأمم والشعوب ” من أجل عالم أكثر تفاهماً وسلاماً … ومجتمعات أكثر وئاماً واندماجاً”.

ب ـ مبادرة: التعليم الشامل للتكوين السلوكي في مرحلة ما قبل البلوغ.

ج ـ مبادرة: السلوك الديني ” بين تصعيد العاطفة وضعف الوعي”.

د ـ مبادرة: الأسرة كحاضن ومكوِّن رئيسي للأطفال وصغار الشباب.

هـ ـ مبادرة: سلام الحضارات.

و ـ مبادرة: الإسلاموفوبيا “التشخيص والتحليل والمعالجة”.

ز ـ مبادرة: النازيون الجدد ومعاداة السامية “التشخيص والتحليل والمعالجة”.

ح ـ مبادرة: صياغة السلوك الحضاري لدى الشباب المتدين.

ط ـ مبادرة: أسباب ومعالجة تطرف الشباب المتدين.

ي ـ مبادرة: كيف نقضي على العنف والإرهاب؟

ك ـ مبادرة: أخطاء وتداعيات في تشخيص ومعالجة الحريات الدينية.

ل ـ مبادرة: المثالية والواقعية.

م ـ مبادرة: أخطاء في تفكير الشباب المتدين وعلاجها

ن ـ مبادرة: بين القوة الناعمة والقوة الصلبة في محاربة التطرف العنيف.

س ـ مبادرة: تفكيك سلبيات العقل الجمعي ” دراسة في حالة تدين الشباب المسلم”.

ع ـ مبادرة: “التهميش والفقر” كأسباب للتطرف والتطرف العنيف “التشخيص والتحليل والمعالجة”.

ف ـ مبادرة: ” معالجة استدلالات التطرف بالنصوص الدينية والوقائع التاريخية”، تضمنت المبادرة تحليل أسباب عدم فعالية جهود مكافحة التطرف فكرياً في السنوات العشر الأخيرة.

ص ـ ثلاث مبادرات تتعلق بـ: ” معالجة توظيف التطرف العنيف للإعلام الجديد”.

ق ـ مبادرة: “الإحصاءات والقياسات الصحيحة في دراسات التطرف والتطرف العنيف”.

ر ـ مبادرة: ” توزيع المسؤولية وتحديد المهام وقياس النتائج في حالات مكافحة التطرف والتطرف العنيف”.

ش ـ مبادرة: ” التعامل الأمني المثالي في مواجهة حالات التطرف والتطرف العنيف” راعت هذه المبادرة التفاوت التشريعي والاجتماعي بين الدول.

ت ـ مبادرة: ” تقويم الجهود الأممية في محاربة التطرف العنيف والإرهاب”.

ث ـ مبادرة: ” القيم المشتركة”.

خ ـ مبادرة: “الخطاب الديني الصانع للسلام”.

ذ ـ مبادرة: ” أوروبا والإسلام”.

ض ـ مبادرة: ” وزارات الاندماج في أوروبا”.

ظ ـ مبادرة: ” لماذا الخوف من الإسلام ولماذا معاداة السامية”.

غ ـ مبادرة: “الهوية الدينية والهوية الوطنية بين مفهوميّ التعارض والتكامل”

22 ـ إحالة بقية المبادرات إلى المزيد من الدراسة والتقويم ومن ثم عرضها في الملتقى الثاني للمؤتمر.

23 ـ تقوم إدارة المؤتمر بتشكيل لجنة “تنسيقية” لمتابعة تفعيل قرارات وتوصيات المؤتمر، وتقديم تقرير دوري حول ذلك.

تبصرہ کریں