جامع الترمذی، مختصر تعارف اور خصوصیات۔ محمد عبد الہادی العمری

اللہ عزوجل نے آخری نبی محمد بن عبد اللہ ﷺ کو اسوۂ حسنہ بنا کر بھیجا: ﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ہمارے اعمال اس وقت تک صالح نہیں بن سکتے جب تک سنت کے مطابق انجام نہ پائیں، چونکہ سنت معیارِ حق ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخری نبیﷺ کی سنت کی بھی  حفاظت فرمائی۔ اس کی حفاظت کے لیے ایسی شخصیات  پیدا فرمائیں جن کی ذہانت، قوت حافظہ، ضرب المثل، حصول علم کی راہ میں جن کی قربانیاں بے مثال، دیانت و امانت، ورع، تقویٰ اور عمل کرنے کا شوق اپنے دور میں فقید المثال رہا ہے۔

ان اولوالعزم ہستیوں نے جمع وترتیب احادیث کی راہ میں ایسے کارنامے انجام دیے کہ مستشرقین کو گواہی دینی پڑی: ” ليفتخر المسلمون على علم حديثهم ماشاؤوا” رسول اللہﷺ کے علاوہ دنیا میں کوئی دوسری ایسی شخصیت نہیں گزری جس کے شب و روز  کے اقوال و اعمال کو ایسے محفوظ کیا گیا ہو جیسے کہ رسول اللہﷺ کی زندگی کو محفوظ کر دیا گیا، ہر دور میں اس علم پر زور دیا گیا، خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عموماً پیش آمدہ مسائل میں کبار صحابہ سے استفسار کیا کرتے کہ اس مسئلہ میں کسی نےر سول اللہﷺ کا کوئی فرمان سنا ہے۔

اگر جواب ہاں میں ملتا تو خلیفہ اول کا فیصلہ بھی اسی کے مطابق ہوتا، خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت  کی ابتداء میں پابندی لگا رکھی تھی کہ سینئر صحابہ کسی خاص ضرورت کے بغیر مدینہ منورہ سے باہر نہ جائیں تاکہ کسی مسئلہ میں  ہنگامی مشورہ کی ضرورت پیش آ جائے تو محافظین سنت کی جماعت موجود رہے اور اسی  کے مطابق فیصلے کیے جاتے رہے۔ سنت کے مطابق حکومتی معاملات، قضاء وعدلیہ کے مسائل وغیرہ کے حل کرنے کا یہی سلسلہ چلتا رہا، یہ سنت پر عمل اور حفاظت کا بہترین طریقہ تھا، حتیٰ کہ حضرت عمر بن العزیز رضی اللہ عنہ جنہیں تاریخ اسلام میں خلفاء راشدین کے بعد نہایت نمایاں حیثیت حاصل ہے جن کی وفات 101ھ میں ہوئی، انہوں نے احادیث کو جمع کرنے کا پہلی صدی ہجری میں ہی حکم جاری کیا تھا، یوں ابتداء ہی سے اس علم پر بہت زور دیا گیا۔ لہٰذا دوسری صدی ہجری کے آغاز میں ہی حدیث کے مختلف مجموعے وجود میں آئے، صحیفہ صادقہ ہمام بن منبہ 132ھ، مجموعہ سعید بن ابی عروبہ  156ھ،  ربیع بن صبیح 160ھ، مؤطا امام مالک بن انس 179ھ وغیرہ وغیرہ۔ پھر مختلف کتابیں مرتب ہوئیں، ان میں کتب ستہ کو خاص اہمیت حاصل ہے، اگرچہ اس کے علاوہ احادیث کی بہت سی کتابیں ہیں اور ہر کتاب کی اپنی خصوصیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ  ان  تمام محدثین اور علماء کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ جنہوں نے بڑی  جانفشانی سے گلشن حدیث کی باغبانی کی، ان کی مساعی جمیلہ کی بدولت ہر دور میں رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور احکام کو سمجھنے کے آسان مواقع میسر آ سکے۔

اس وقت  ہم مشہور کتاب ترمذی کے بارے   میں اظہار خیال کر رہے ہیں، لہٰذا ہماری بات اسی کتاب تک محدود ہو گی۔ حدیث کی اس کتاب کا تعارف  اور اس کی چند خصوصیات سے پہلے صاحب کتاب امام ترمذی رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی چند سطریں پڑھ لیجیے:

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذی وفات 279ھ ، صاحب تقویٰ، فہم وبصیرت سے مالا مال،  حفظ واتقان میں یکتا تھے۔ امام صاحب کی ذہانت اور ذکاوت کے واقعات بہت زیادہ ہیں، وقت کے مشاہیر علم وفن نے شاندار الفاظ میں امام ترمذی رحمہ اللہ کی تعریف وتوصیف کی۔ آپ امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگرد تھے، کسب فیض کے بعد جب اپنے علاقہ کو روانہ ہو رہے تھے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے ہونہار شاگرد کے متعلق جو کلمات خیر کہے وہی ان کی شان بلکہ استاذ اور شاگرد دونوں کی عظمت بڑھانے کے لیے کافی ہیں۔

“لقد استفدت منك أكثر ما استفدت مني.”  ’’یعنی تم مجھ سے جتنا مستفید ہو سکے ہو میں اس سے زیادہ تم سے مستفید ہوا ہوں۔‘‘ اس توصیفی جملہ میں ایک طرف امام ترمذی رحمہ اللہ کی شان چھلک رہی ہے تو دوسری طرف  خود امام بخاری رحمہ اللہ کی تواضع اور اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کا بے لوث جذبہ، کہنے والوں نے یہاں تک کہا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے پیچھے خراسان میں کوئی شاگرد ایسا نہ چھوڑا جو علم، حفظ احادیث اورزہد و ورع میں امام ترمذی رحمہ اللہ کے ہم پلہ ہو۔

استاذ اور شاگرد دونوں کی کتابوں میں متعدد وجوہات سے مماثلت پائی جاتی ہے کہ صرف احادیث کا ذخیرہ اکٹھا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ دونوں بزرگوں نے احادیث کو مسائل زندگی سے قریب تر کرنے کی ایسی کوشش کی کہ بیشتر مسائل اور الجھنوں کا حل حدیث میں دکھائی دے سکے۔

علم وعمل کا یہ روشن ستارہ اپنے پیچھے مختلف قیمتی کتابوں کے علاوہ جامع ترمذی جیسی بیش بہا کتاب چھوڑ کر 279ھ غروب ہو گیا اور اس کتاب سے متلاشیان حق ہر دور میں استفادہ کرتے رہے اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ان کے نامۂ اعمال کو وزنی اور ہماری پیاس بجھاتا رہے گا۔

ترمذی کے دور مشہور نام ہیں: جامع الترمذی، سنن الترمذی ، جامع اور سنن میں معمولی سا فرق کیا گیا کہ ’جامع‘ اس میں زیادہ جامعیت اور شمولیت ہے، اس سے مراد حدیث کی وہ کتاب جس میں مسائل عبادت کے علاوہ ایمان وعقائد، زہد، آداب، رقاق، مناقب اور فضائل وغیرہ کی احادیث  بھی مذکور ہوں اور سنن میں عموماً مسائل عبادت پر زور ہوتا ہے، ضمناً دوسرے امور بھی ہو سکتے ہیں، ترمذی کا شمار کتب حدیث میں چوتھے نمبر پر ہے، اس میں متنوع  عنوانات پر مشتمل چھیالیس (46) کتابیں اور تین  ہزار   نو سو چھپن (3956) احادیث ہیں۔

شیخ الاسلام ابو اسماعیل رحمہ اللہ نے کہا کہ عوام کے لیے جامع ترمذی صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے مقابلے میں زیادہ مفید ہے کیونکہ بخاری ومسلم سے درست استفادہ  اہل علم اور ماہرین کر سکتے ہیں جبکہ ترمذی سے عام لوگ بھی مستفید ہوسکتے ہیں۔  اس کا اسلوب عام فہم اور آسان ہے۔

شاید اس لیے اس کتاب کے بارے یہاں تک کہا گیا کہ جس گھر میں یہ کتاب ہو گویا کہ وہاں نبی کریمﷺ خود تشریف فرما ہیں اورمسائل بتا رہے ہیں۔

معنوی لحاظ سے یہ بات درست ہو سکتی ہے، مگر امام ترمذی رحمہ اللہ کے حوالہ سے یہ کہنا کہ انہوں نے خود ہی اپنی تصنیف کے متعلق یہ کہا ہو گا محل نظر ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس قول کی امام ترمذی رحمہ اللہ کی طرف  نسبت پر عدم اطمینان کا اظہار ہے۔

یہ حدیث اور فقہ یعنی فقہ السنہ کا گویا مجموعہ ہے، اس میں روایت اور درایت کی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

امام ترمذی رحمہ اللہ ایک عنوان کے تحت حدیث ذکر کر کے اس کی سند کا درجہ بھی بتاتے ہیں اور حسب ضرورت راویوں پر جرح وتعدیل کے اصولوں کے مطابق گفتگو بھی کرتے ہیں، بسا اوقات یہ گفتگو چند جملوں میں کی ہے اور کبھی کئی سطروں میں اس پر بحث کی ہے۔

بعض راوی کنیت اور القاب سے مشہور ہوتے ہیں ان کے ساتھ ان کے ناموں کی صراحت کردی گئی تاکہ کوئی مغالطہ نہ ہونے پائے اور حسب ضرورت کسی کے نام کے ساتھ اس کی کنیت کی وضاحت کی گئی۔

عنوان کے مطابق ایک حدیث ذکر کر کے اسی مضمون کی اگر کئی احادیث ہوں تو ان کی طرف بھی مختصر اشارات کر دیے گئے  کہ اس موضوع کی فلاں فلاں صحابی سے مزید احادیث مروی ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جو اشارات کئے ہیں کہ اور بھی احادیث اسی عنوان کی پائی جاتی ہیں، بعد میں آنے والے علماء نے ان مشار الیہ احادیث کو بھی الگ سے جمع کرنے کی کوشش کی ہے، جیسے علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ  اللباب فیما استخرج الإمام في الباب،  اس طرح مزید کئی حدیث کے مجموعے وجود میں آئے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ اپنی کتاب میں عموماً احادیث کی تکرار نہیں کرتے اور نہ ہی ایک عنوان کے تحت ایک سے زیادہ احادیث ذکر کرتے ہیں، سوائے کسی خاص سبب کے، یوں یہ کتاب مختصر اور جامع ہوئی۔

ایک نہایت اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک حدیث ذکر  کر کے ،  صحابہ، تابعین اور کبار علماء  وفقہاء کے نام بھی ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے اسی حدیث کے مطابق اپنی رائے یا فتویٰ دیا ہے۔ اس سے مزید اطمینان ہو جاتا ہے کہ یہ اتنی معروف اور متداول حدیث ہے کہ اس کے مطابق مختلف علماء کا عمل اور فتویٰ بھی ہے۔ اس سے ملتی جلتی صفت صحیح بخاری میں تعلیقات کی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے پوری کتاب میں سوائے دو احادیث کے  کوئی ایسی حدیث  ذکر  نہیں  کی جس  کے مطابق  اہل علم کا فتویٰ  یا عمل نہ ہو۔ ان دونوں احادیث کے مطابق بھی فتویٰ ہے۔ لہٰذا  کوئی بھی ایسی حدیث کتاب  میں درج نہیں جس پر  علماء کا فتویٰ نہ ہو۔

فقہاءِ اربعہ کے اقوال پر زور اور تقلید پر اصرار کے نظریہ پر بھی روک لگتی ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے متعدد فقہاء کے نام حسب موقع  ذکر کیے ہیں۔ یوں دینی مسائل کو چار ائمہ میں محصور کرنا، علمی، تاریخی اور واقعاتی  کسی بھی اعتبار سے درست نہیں، گو کہ ان چاروں گرامی قدر بزرگوں  کا مقام ومرتبہ  معروف ومسلم ہے لیکن علم وفہم کی دنیا اس سے وسیع تر ہے۔

اہمیت حدیث صحیح پر عمل کرنے کی ہے نہ کہ کسی کی مجرد رائے یا فتویٰ پر، قطع نظر اس بات سے کہ وہ اپنے دور یاعلاقہ کی کتنی ہی معتبر شخصیت ہو، علماء ربانی نے ہر دور میں اپنے تلامذہ  میں یہی بیج بویا کہ حق جہاں سے بھی اور جب بھی ملے قبول کر لو۔

احادیث پر تحقیق وتنقیح کا سلسلہ ہر زمانہ میں چلتا رہا اور آج بھی جاری ہے، مختلف ماہرین نے میدان تحقیق میں گرانقدر  خدمات انجام دیں تاکہ اس مبارک علمی ورثہ میں کوئی آمیزش نہ ہونے پائے۔ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ و وسائل  میں حیرت انگیز ترقی ہوئی، ایک بٹن دبا کر ایک عنوان کی مختلف احادیث  ایک جگہ دیکھی جا سکتی ہیں، مطلوبہ حدیث کے ساتھ ہی اس کی سند کا صحت وضعف کے اعتبار سے درجہ بھی واضح ہو تو قاری کے لیے نہایت آسانی ہو گی کہ زیر بحث مسئلہ میں  مذکورہ  درجہ کی حدیث سے کس حد تک استفادہ ممکن ہے۔ دورِ حاضر  میں مختلف  علماء نے خاص محنت کی ہے، جس میں علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ  کو امتیازی حیثیت حاصل  ہے اور ساری  صحیح احادیث کو فقہی تر تیب کے ساتھ ایک جگہ جمع کرنےکا بڑا کارنامہ ڈاکٹر شیخ محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ کے حصہ میں آیا۔ الجامع الکل کا پہلا ایڈیشن  مکتبہ دار السلام  ریاض نے شائع کیا اور دوسرا ایڈیشن لاہور سے محترم  مولانا ابن بشیر الحسینوی نے اپنی نگرانی میں چھاپ کر علمی دنیا کو نایاب  تحفہ دیا۔ ٹیکنالوجی کی اس ترقی کے بعد طالب علم کو کسی مخصوص عالم کی رائے کا مقید کرنا آسان نہیں رہا۔

ترمذی کا گہرائی سے مطالعہ قاری کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے، دینی مسائل میں توسع اور یسر کا پہلو غالب ہے۔ کسی ایک رائے پر اصرار مناسب نہیں اور نہ ہی کسی خاص مسلک کا تعصب درست ہے، گویا اختلافات  کی کڑی دھوپ  میں یہ کتاب اعتدال کی ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتی ہے۔

آخر میں کتاب العلل کا اہم اضافہ ہے،  اہل علم جانتے ہیں کہ فن حدیث کا یہ مشکل عنوان  ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس میں اپنے کچھ اصول بیان کیے ہیں اور کچھ وضاحتیں بھی کی ہیں گویا  اس کی حیثیت  ایک طرح سے کتاب کے مقدمہ کی بھی ہو گئی۔ بجائے بار بار  وضاحتیں کرنے کے ایک دفعہ  انہوں نے بیان کر دیا کہ کس جملہ اور اصطلاح کا وہ کیا معنیٰ لیتے ہیں اور کس لقب  یا کنیت سے ان کی مراد کون راوی  ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی لوگوں کے لیے فن علت کی طرف رہنمائی بھی کر دی گئی۔

اس کتاب  کی شاید اہمیت اور عظمت کے سبب ہی مختلف علماء نے ہر دور میں اس میں گہری دلچسپی لی، مختلف ممالک کے دینی مدارس  کے نصاب میں یہ داخل ہے۔ اس کی مختلف شرحیں لکھی گئیں۔ ان میں علامہ الشیخ عبد الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ کی شرح تحفۃ الاحوذی جو کہ عربی زبان میں ہے۔  عالم اسلام میں اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں