خود نوشت سوانح حیات، جامعہ مدینہ کا ایک تعلیمی سال۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مجھے اپنے کاغذات اور کاپیوں میں ایک جیبی ڈائری بھی ہاتھ آئی۔ یہ ڈائری مدینہ منورہ کی جامعہ اسلامیہ کے تعلیمی سال 1383ھ (بمطابق 1963ء) کی ہے۔ مندرجات کا آغاز 25 ربیع الثانی (14 ستمبر) سے ہوتا ہے اور اختتام 29 ذوالحجہ (11 مئی 1964ء) پر ہوتا ہے۔ گویا یہ 8 ماہ کے دورانیہ کی حکایت ہے۔

پہلے دس دن اس بحری وبری سفر سے متعلق ہیں جو برٹش انڈیا کمپنی کے بحری جہاز ’دیریسبا‘ پر سوار ہونے سے شروع ہوا اور پھر خلیج عربی کی بندرگاہوں، مسقط، دبّی، مسیعید (قطر) اور بحرین جا پہنچا۔ وہاں سے ایک لانچ میں الخُبر (سعودیہ) اور پھر دمام اور ریاض کی راہ دکھاتا چلا گیا۔ ریاض سے مدینہ کا سفر دو راتوں اور ایک دن میں تمام ہوا کہ میں ایک ٹرک کے عقبی حصہ میں دوسرے مسافروں اور سامان کے ساتھ سوار تھا اور عفیف کے بعد یہ سارا سفر صحراء کے کچے رتیلی راستے پر تمام ہوا۔ میں اس سفر کی تفصیل اپنے سفر نامے بعنوان (دیار عجم سے دیار عرب تک) میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں جو کہ میری کتاب (ابن بطوطہ ہوا کرے کوئی) کے مندرجات میں شامل ہے۔ یہاں بطور تفنن لکھتا چلوں کہ اس وقت سفری اخراجات کیا خوب تھے اور خاص طور پر ایک طالب علم کے حوالہ سے:

بحری جہاز کا ٹکٹ: 137 روپے

بحرین سے الخبر لانچ: 8 ہندوستانی روپے

الخبر سے دمام ٹیکسی: 2 سعودی ریال

دمام سے الریاض ٹیکیسی: 25 ریال

ریاض سے مدینہ: 15 ریال

اب آئیے اصل موضوع کی طرف

میں نے اس ڈائری کے مختصر مندرجات کو 11 عناوین میں تقسیم کیا ہے تاکہ جامعہ کے ایک تعلیمی سال (جس میں آخر کے ایک ماہ (یعنی جون 1964ء) کے وقائع شامل نہیں ہیں، کے خدوخال قا رئین پر واضح ہو جائیں، یہ عناوین ملاحظہ ہوں:

1۔ جامعہ کا نظام 2۔ اساتذہ کا تذکرہ

3۔ حرم نبوی کے دروس 4۔ اضافی تعلیمی مشاغل

5۔ تفریحی اور مطالعاتی سفر (رحلات)

6۔ ذاتی مشاغل7۔ جامعہ میں مختلف وفود کی آمد

8۔ چند مقتدر شخصیات کا تذکرہ

9۔ میرے چند ساتھی 10۔ سفر حج

11۔ اس سال کے چند اہم واقعات اور خبریں

چونکہ میں جامعہ کے دوسرے تعلیمی سال کے آغاز سے 16 دن قبل مدینہ پہنچ چکا تھا، اس لیے یہ دن مکہ جا کر عمرہ ادا کرنے، پھر طائف کی پہاڑیوں، وادیوں اور مساجد کی زیارت کرنے اور بعدازاں مدینہ واپس پہنچ کر خیبر کے ایک تفریحی اور مطالعاتی سفر میں گزارنے کا موقع ملا، تفصیلات رحلات کی مد میں بیان ہوں گی۔ اب ہم عناوین کے ترتیب کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں:

1۔ جامعہ کا نظام

مدینہ کےشمال میں جبل احد ہے اور اس کے بائیں طرف وادی عقیق پھیلی ہوئی ہے، وہیں ایک شاہی محل واقع ہے جس کے عقب میں متعدد یک منزلہ عمارتیں ایک بہت بڑے احاطہ میں سمائی ہوئی ہیں، ایک زمانہ میں انہیں فوجی بیرکس کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا، لیکن 1961ء میں جب مدینہ یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو ان عمارتوں کو قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں سمیٹنے کا شرف حاصل ہوا۔

یہی عمارتیں جامعہ کے دفاتر، طلبہ کی درسگاہوں اور ان کی قیام گاہوں میں تبدیل کر دی گئیں۔ ہم طلبہ کے دار الاقامہ ایک جیسے تھے۔ ایک بڑی سی عمارت جس کے آغاز میں ایک وسیع دالان نما کمرہ اور پھر اس کے سہ اطراف میں چار کھلے کمرے اور ہر کمرے میں چار بستر اور پھر ان چار کمروں کے درمیان مشترک مطبخ اور حمامات

میرے رفقاءِ اقامت میں ابراہیم خلیل، عبد الرحمن ناصر اور لبنان کے فاروق نجا شامل تھے۔

صبح 8 سے 12بجے تک 4 حصص تدریس کیلئے مختص تھے، پونے گھنٹے کا ایک پیریڈ اور پھر 15 منٹ کا وقفہ

ظہر سے قبل مسجد نبوی جانے کے لیے بسیں تیار کھڑی رہتی تھیں، اکثر طلبہ حرم جانا پسند کرتے تھے کہ حرم نبوی میں عصر سے لے کر عشاء تک رفقاء کے ساتھ مذاکرات، حرم کے دروس کی حاضری اور قرآن کی تلاوت کا موقع ملتا رہے اور کبھی کبھی بازار کی حاضری بھی لگ جاتی کہ جس کے دوران کتابوں کی تلاش میں مکتبہ علمیہ اور مکتبہ سلفیہ میں بار بار جانا یاد ہے۔سال میں تین تعطیلات سے لطف اندوز ہوتے۔

رمضان کے آخری 10 دن اور ایسے ہی حج کے ایام کہ جن میں مکہ مکرمہ جانے کا شرف حاصل رہتا اور پھر اواخر جون سے ابتدائے ستمبر تک تقریباً 2 ماہ کی سالانہ تعطیلات جو ہمارے لیے وطن جانے، والدین اور عزیز واقارب سے ملنے کا پیغام لاتیں۔

کسی دن یہ مثروہ سنایا جاتا کہ درسی اور غیر درسی کتب تقسیم ہور ہی ہیں، چنانچہ ہم مستودع (روم) کی طرف لپکتے کہ جہاں سے تفسیر، حدیث اور مختلف فنون کی ضخیم کتابیں مفت میں ہاتھ آجائیں۔

درجہ عالیہ کے طلبہ کو ماہانہ 300 ریال کا وظیفہ دیا جاتا تھا جو ہماری ضروریات کے لیے کافی تھا، بلکہ دوران تعلیم ہمارے جو ساتہی رشتہ ازدواج میں جڑے، وہ اسی محدود رقم میں مدینہ شہر کے کسی سادہ گھر کو کرایہ پر لے کر اپنی تعلیم بھی مکمل کر پائے۔

جامعہ میں کھانے کا اجتماعی نظام ابھی اپنایا نہیں گیا ہے، طلبہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وظیفہ لیں اور اپنے کھانے پینے کا انتظام خود کریں۔

2۔ اساتذہ

٭ شیخ محمد ناصر الدین البانی: سبل السلام اور صحیح مسلم کے دروس ان کے پاس تھے، لیکن رحلات اور اسفار میں کافی استفادہ کیا۔ اسی لیے ان کا نام سرفہرست ہے۔

٭ شیخ محمد عبد الوہاب البنا: وہ ہمارے کسی دروس کے استاد نہ تھے لیکن جامعہ میں داخل ہونے کے بعد ان کے ساتھ رحلات اور اسفار میں ساتھ رہا۔ وہ مساجد میں وعظ ونصیحت کرنے پر ہمیں آمادہ کرتے، ان کے ساتھ پچھلے سال مکہ کے ایک سفر میں مسجد الجن میں خطاب کرنا یاد ہے۔ ان کا تعلق مصر کی جماعت انصار السنہ سے تھا۔

٭ شیخ عبد المحسن حمد العباد: غالباً کلیۃ الشریعہ ریاض کے فاضل طلبہ میں سے تھے، جنہیں فراغت تعلیم پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ عقیدہ طحاویہ کے استاد تھے۔

٭ شیخ محمد الامین الشنقیطی: بلاد شنقیط (مورتیانیا) سے حج کے لیے حجاز آئے اور پھر اپنے علم وفضل، استحضار آیات، استشہاد اشعار اور بے پناہ قابلیت کی بنا پر اہل حجاز ونجد کی درخواست پر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پہلے ریاض میں تعلیم دیتے رہے اور پھر جامعہ کے قیام کے بعد یہاں بحیثیت مدرس مقیم رہے۔ تفسیر اور اصول فقہ کے اسباق ان کے پاس تھے، ان کے چند واقعات میں اپنے انگریزی بلاگ کے مضمون میں تحریر کر چکا ہوں۔

٭ شیخ عبد القادر شیبۃ الحمد: مصر سے تعلق تھا لیکن نجد کے ہو کر رہ گئے تھے اور پھر ساری زندگی مملکت ہی میں گزار دی۔ شیخ البانی﷫ کے رخصت ہو جانے کے بعد انہیں حدیث کے اسباق دیے گئے۔ عربی زبان میں فصیح وبلیغ خطابت ان کے دروس کی پہچان تھی۔

شیخ سلیمان الاشقر: فقہ کے دروس ان کے پاس تھے، امام شوکانی﷫ سے ان کے توسط سے استفادہ کیا۔

٭ شیخ محمد عطیہ سالم: صرف اساتذہ میں شامل نہ تھے، ادارتِ جامعہ سے تعلق تھا لیکن بعض لیکچرز اور نجی ملاقاتوں کے توسط سے ان سے بھی استفادے کا موقع ملا۔

٭ شیخ عبد العزیز بن باز: جامعہ کے نائب رئیس ہونے کی بنا پر تمام ادارتی امور انہی کے ذمے تھے، اس لیے باضابطہ کسی فصل کے استاد نہ تھے لیکن ان کے لیکچرز، مسجد جامعہ میں، وفود کی آمد کے موقع پر اور حج وعمرہ کے سفر کے دوران بارہا سننے کا موقع ملا۔ اس لیے انہیں استاذ الاستاتذہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا۔

چند دوسرے شیوخ ایسے بھی تھے جن سے سفر وحضر میں یا کسی اور نشست میں استفادے کا موقع ملا اور ان میں شیخ محمد ناصر العبودی (رجسٹرار جامعہ)، شیخ محمد شریف (ثانویہ کے استاد)، شیخ عبد الحق محروس، شیخ عبد اللہ زائد (امور طلبہ کے نگران)، رمضان ابو العز، جامعہ کی فارمیسی کے نگران عبد اللہ السمان شامل ہیں۔

نوٹ: خیال رہے کہ یہاں صرف 1963ء کے اساتذہ کا ذکر ہو رہا ہے، جو اساتذہ بعد میں آئے جن میں میرے والد شیخ عبد الغفار حسن بھی شامل ہیں، ان کا تذکرہ میں اپنی آپ بیتی (بزبان انگریزی) میں کر چکا ہوں۔

3۔ رفقاء درس اور طلبہ جامعہ

جن رفقاء اور طلبہ کا ذکر میری ڈائری میں آیا ہے صرف ان کا تذکرہ کرتا چلوں۔

٭ ابراہیم خلیل: میرے ہم جماعت اور کمرے کے ساتھی، بلتستان سے تعلق ہے۔

٭ محمد سلفی: گو ان کاداخلہ درجہ ثانویہ میں ہوا تھا لیکن ان کی حیثیت ہم نوالہ وہم پیالہ کی سی تھی۔ کراچی کے جامعہ ستاریہ سے نسبت رکھتے ہیں۔

٭ عبد الرحمٰن ناصر: رہائش کے دوسرے ساتھی، جسمانی ریاضت کے رسیا، بھولو برادران کی آمد کے موقع پر انہیں اپنے کمرے میں دعوت پر بلایا تھا۔

٭ یوسف کاظم: علم حدیث پر اچھی نظر رکھتے تھے۔

٭ حفیظ الرحمٰن: عمرآباد، ہندوستان سے تعلق تھا، جامعہ دار السلام عمر آباد کے تعلیم یافتہ تھے اردو ادب سے گہرا لگاؤ تھا، بارہا ان کے ساتھ جامعہ سے مسجد نبوی تک پیدل جانے میں ساتھ رہا اور پھر ادبی وعلمی مضامین پر مذاکراہ ہم سفر رہتا۔

٭ فاروق نجا: لبنان سے تعلق تھا، رہائش کے تیسرے ساتھی، علم وتعلم کے دھنی، بات سے بات نکالنے والے، ان کے پاس بیروت کے عربی اور فرانسیسی رسائل آتے تھے، اکثر نوک جھونک جاری رہتی۔

٭ احسان الٰہی ظہیر: اسی سال ان کا داخلہ ہوا تھا اور اس لحاظ سے وہ مجھ سے ایک سال پیچھے تھے۔ نادی عربی کے حوالہ سے ان کا تذکرہ بعد میں آئے گا۔

٭ محمد لقمان سلفی: دربھنگہ (بہار) سے تعلق تھا۔ احسان الٰہی ظہیر کے ہم جماعت تھے، میرے سے اچھا یارانہ تھا۔

٭ عبید الرحمٰن مبارکپوری: محدث ہند مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کے فرزند ارجمند، میرے سے ایک سال آ گئے تھے۔

٭ہلال احمد: جماعت اہل حدیث ہندوستان کے مشہور عالم اور میرے والد کے رحمانیہ میں رفیق درسگاہ مولانا نذیر احمد کے فرزند ارجمند۔

٭ خالد کمال: ہندوستان کے مشہور عالم دین اطہر کمال کے صاحبزادے٭

٭ غلام قادر سربازی: بلوچستان سے تعلق تھا۔ مدینہ ہی میں ایک بلوچی لیکن حالیہ مدنی خاتون سے شادی کرنے کے بعد مدینہ شہر منتقل ہو گئے تھے، ہم طلبہ میں وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دوران طالب علمی رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی جسارت کی۔

٭ ہشام قدومہ: شام سے تعلق تھا، تحریکی مزاج رکھنے کی بنا پر طلبہ میں خوب متعارف تھے۔

٭ سعودیہ کے عبد العزیز اور ہندوستان کے مشتاق کا بھی ذکر خیر آیا ہے، ان کا سراپا ذہن میں ہے لیکن ان سے وابستہ یادوں میں خلا ہے، یہ وہ اصحاب جن کا ذکر ڈائری میں موجود ہے۔

لیکن چند ان اصحاب کا بھی ذکر کرتا چلوں جن سے راہ و رسم برابر رہی۔

٭ جامعہ بنوریہ سے تعلق رکھنیوالے جناب عبد الرزاق سکندر، عبد اللہ کا کا خیل اور چارسدہ کے حسن جان۔

٭ ہندوستان سے سراج الرحمٰن اور مزمل صدیقی

٭ پاکستان سے اسی سال آنے والے طلبہ میں سے حافظ ثناء اللہ، عبد السلام کیلانی اور عبد الرحمٰن مدنی۔

٭ پاکستان کے صوفی بشیر احمد اور صلاح الدین حیدر

٭ موزمبیق کے ابو بکر جو فٹ بال کے رسیا تھے، کچھ دن اس کھیل میں ان کی صحبت بھی رہی لیکن یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہو گیا۔

4۔ زائرین جامعہ: علماء اور مقتدر شخصیات

ایام حج میں دنیا بھر سے علماء وفضلاء کی آمد رہتی، ان میں سے جو حضرات خصوصی طور پر جامعہ مدعو کیے گئے یا جامعہ سے باہر ان کی زیارت ہوئی، ان کا تذکرہ مقصود ہے۔

٭ مصطفیٰ السباعی: شام کے مشہور عالم ، مجلہ حضارۃ الاسلام کے ایڈیٹر، کئی کتب کے مصنف، دار الحدیث مدنیہ میں انہیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ایک ٹانگ سے مفلوج تھے لیکن طلبہ سے خطاب میں چست وچوبند نظر آئے۔

٭ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی: جامعہ کے مستشارین میں سے کئی مقتدر ہستیوں کو بلایا گیا تھا جن میں مولانا مودودی بھی شامل تھے۔ خلیل حامدی ان کے ساتھ تھے۔ ہم طلبہ کے ساتھ اچھی نشست رہی۔ جامعہ کے نصاب میں جن تبدیلیوں کے خواہشمند تھے ان کا تذکرہ کیا۔

٭ مفتی امین الحسینی: اپنے لیکچر میں بتایا کہ ایک عالمی اسلامی یونیورسٹی کا تصور کئی علماء اور قائدین پہلے دے چکے ہیں جن میں جمال الدین افغانی، محمد عبدہ اور رشید رضا شامل ہیں۔

ایک دوسری نشست میں مسئلہ فلسطین پر روشنی ڈالی اور طلبہ کے سوالات کے جوابات دیے۔

٭ محمد المبارک: دمشق کے کلیۃ الشریعہ کے مدیر تھے، اپنی تقریر میں کہا کہ نئے نئے فتنوں کے سد باب کے لیے جدید علم کا حصول لازمی ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ایک حدیث یہ بیان کی کہ

«عَدْلُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً،»

اور دوسری حدیث معاذ جس میں قرآن وحدیث کے بعد اجتہاد کا ذکر ہے، شیخ البانی﷫ نے دونوں حدیثوں کے ضعف کی طرف اشارہ کیا۔

٭ بہجد الاثری: عراق کے مشہور سلفی عالم

٭ عبد اللہ القلقیلی: اردن کے مفتی اعظم

٭ محمد محمود الصواف: عراق سے تعلق تھا، اخوان کے قائدین میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی خطابت اور زور بیان کی بنا پر مشہور و معروف تھے۔

٭ مولانا عبد الخالق رحمانی: دار العلوم رحمانیہ دہلی سے نسبت ہے کہ جہاں والد مکرم نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔

٭ مولانا بدیع الدین راشدی: پیر جھنڈا کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں، دیار سندھ میں کتاب وسنت کے مسلک کے داعی، طلبہ سے خطاب بھی کیا ور ان کے ساتھ کئی نشستیں بھی رہیں۔

٭ ظفر احمد انصاری: مولانا مودودی کے رفقا میں سے ہیں۔ اپنی سیاسی بصیرت کی بنا پر نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔

٭ قاری محمد طیب: دار العلوم دیوبند کے مہتمم کی حیثیت سے جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

٭ شیخ فاضل جالندھری: جامعہ رشیدیہ منٹگمری (ساہی وال) کے مہتمم اور شیخ الحدیث شیخ عبد اللہ کے بھائی ہیں۔ جامعہ اسلامیہ میں داخلے سے قبل اپنے منٹگمری کے قیام کے دوران مجھے جامعہ رشیدیہ میں چند اسباق (نور الانوار، مسایرہ مع مسامرہ) پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا اور اسی وقت سے شیخ سے تعارف حاصل ہوا تھا۔

٭ سفیر پاکستان: نام یاد نہیں، البتہ طلبہ کا ایک وفد ان کی رہائش گاہ مدینہ میں ان سے ملاقات کر پایا تھا۔

٭ محمد شعیب: پاکستان کے وزیر مالیات رہے ہیں۔ جامعہ تشریف لائے تھے اور شیخ ابن باز سے ملاقات کے بعد جامعہ کے بارے میں اچھا تاثر رکھتے تھے۔

٭ مولوی فرید احمد: بنگال کی سیاست میں ان کا بڑا نام تھا۔ اتنا یاد ہے کہ سردیوں کے دن تھے اور ہم انہیں شارع عینیہ (مسجد نبوی سے متصل) میں ایک کیفے میں لے گئے تھے اور غالباً مہلبینہ (ایک میٹھی سوغات) سے ان کی تواضع کی تھی۔

٭ ناظم اجمیری: ڈائری میں ان سے ملاقات کا تذکرہ ہے۔ اب یاد نہیں آر ہا ہے کہ وہ کس حیثیت کے مالک تھے۔

٭ صوفی امام دین:پشاور سے تشریف لائے تھے۔ ابا جان کے قدیم رفقاء میں سے تھے، کئی بار ان کے نشست رہی۔

٭ ڈاکٹر قیوم سعادت: طائف کے مرکزی ہسپتال میں بطور ڈاکٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، جماعت اسلامی سے تعلق تھا۔ ابا جان سے تعارف کی بنا پر ان سے بھی اچھی راہ ورسم رہی۔

٭ منظور حسین شاہ: جدہ میں مقیم تھے۔ ایک رشتے سے ابا جان کے پھوپھا لگتے تھے، جب بھی جدہ جانا ہوتا، ان سے ملاقات ہوئی۔

٭ پیر عبد الغفور: مدینہ ہی میں مقیم تھے، کراچی کے سولجر بازار میں مسجد غفوری انہی کے نام پر بنائی گئی ہے، ڈاکٹر قیوم سعادت ان کے معتقد تھے اور انہی معیت میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

٭ مولانا محمد علی لکھوی: لکھوی خاندان کے سربراہ، ایک زمانہ ہوا کہ پاکستان چھوڑ چھاڑ مدینہ آ کر آباد ہوگئے تھے۔ جبل سلع کے آس پاس ان کا سادہ سا گھر تھا، بکری بندھی رہتی تھی۔ سلفی طلبہ اکثر ملاقات کے لیے ان کے گھر حاضری دیتے رہے۔

ان کے ایک بیٹے حسین سے بھی ملاقات ہوئی جو ریاض سے تشریف لائے تھے۔ شیخ نےبتایا کہ وہ مولانا داؤد غزنوی کو بچپن سے جانتے ہیں اور ان سے گہرے تعلقات رکھتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ 33 سال قبل لکھوکھے سے جو پودا لے کر آئے تھے اسے میدان مناخر میں لگا دیا تھا جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے۔

٭ ابوسیف الرحمٰن: دار الحدیث مدینہ کے مدیر تھے، دار الحدیث کے دالان ہی میں کئی لیکچرز سننے کا اتفاق ہوا جس میں ہمارے شیخ محمد امین شنقیطی کا ایک لیکچر بابت اسماء وصفت بھی شامل ہے۔

مصطفیٰ السباعی سے ملاقات بھی دار الحدیث ہی کے مہمان خانے میں ہوئی۔ (جاری )

تبصرہ کریں