جامعہ مدینہ کا ایک تعلیمی سال (خود نوشت سوانح حیات) (قسط 3)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

8۔ اضافی تعلیمی مشاغل

1۔ میری تعلیمی اٹھان میں ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے کا بڑا دخل ہے۔ عربی زبان میں کچھ عبور حاصل کرنے پر میں نے حسن البناء کی خود نوشت (مذکرات الدعوۃ والداعیہ) کا ترجمہ ’حسن البناء ی ڈائری‘ کے عنوان سے کیا تھا جو مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف کے ہفتہ وار رسالے ’المنبر‘ (لائل پور) میں باقساط شائع ہوتا رہا تھا۔ اس کے بعد مصر ہی کے البہی الخولی کی کتاب ’تذکرۃ الدعاۃ‘ کا ترجمہ کر ڈالا تھا۔

امسال ڈائری میں سب سے پہلے جس مضمون کا ذکر ہے وہ رابطہ کے مجلہ کے ایک مقالہ بعنوان ’جاپانی عبادت گاہ کے عجائبات‘ کے عنوان سے ہے جو اشاعت کے لیے المنبر ہی کو ارسال کیا گیا تھا۔

2۔ جامعہ میں کئی جمعیات ترتیب دی گئی تھیں، ان میں سے ایک جمعیت صحت تھی جس کا آغاز 21 رجب (7 دسمبر 1963ء) سے ہوا۔

چند دن بعد اس ضمن میں جامعہ کے صیدلی (دوا فروش) عبد اللہ السمان کا ایک لیکچر سنا جس میں بتایا گیا تھا کہ انسان کے سانس لینے کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔

5 شعبان (21 دسمبر) کو عشاء کے بعد جمعیت صحت کے 10 ارکان میں میں بھی شریک تھا، جب ہم نے طلبہ کے دار الاقامہ کے تمام کمروں کا دورہ کیا اور انہیں صفائی ستھرائی کے آداب سے آگاہ کیا۔ دو گھنٹے میں ہم نے تمام کمروں کا دورہ مکمل کر لیا جو کہ مختلف عمارتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔

3۔ 21 شعبان (6 جنوری 1964ء) کو النادی العربی کا بعد از عشاء پہلا اجلاس منعقد ہوا اور اس اجلاس میں میں نے ’ہندوستان کی تاریخ کا ایک روشن پہلو‘ کے عنوان سے مولانا جعفر تھانیسری کی داستان حریت وجہاد کا ایک نقش ان کی کتاب ’کالاپانی‘ کے حوالے سے پیش کیا۔

28 شعبان (23 جنوری) کو بعد نماز عشاء النادی العربی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں مضامین کے تنوع کے باعث گلہائے رنگ برنگ کا جاذب نظر منظر دیکھنے اور سننے میں آیا۔ شعر خوانی، ادبی لطائف، دینی موضوعات اور تعارف دیار پر یہ اجلاس ایک کامیاب کوشش تھی۔ مؤخر الذکر موضوع میں صومالیہ کا تعارف شامل تھا۔ مصری استاد شیخ رمضان نے آثار قدیمہ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے سیدنا موسیٰ کے تعاقب میں فرعون کا بحر احمر میں غرق ہونا اور پھر قرآن کے بیان کے مطابق اس کی لاش کے محفوظ رہنے کی طرف توجہ دلائی۔ اسکندریہ کے راہب آریوس کا تذکرہ کیا جو رومی شہنشاہ قسطنطین کے عہد میں توحید کا داعی تھا اور جس سےیہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیحیت کا آغاز توحید ہی سے ہوا تھا لیکن بعد میں اسے تثلیث سے بدل دیا گیا تھا اور اسی بنا پر عیسائیوں نے آریوس کی شخصیت کو گوشۂ گمنامی میں دھکیلنے کی مہم جاری رکھی۔

25 شوال (9 مارچ 1964ء) کو عشاء کے بعد النادی العربی کے اجلاس میں، میں نے محمود غزنوی فاتح ہند کے عنوان پر اپنا مقالہ پڑھا۔ اس اجلاس میں شیخ ابن باز، شیخ ناظم ندوی، شیخ رمضان ابو العز بھی موجود تھے اور انہوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ 10 ذوالعقدہ (23 مارچ) کو النادی العربی کے تحت کے ایک مباحثہ منعقد کیا گیا۔

دراصل یہ تجویز میری طرف سے تھی جو میں نےشیخ عطیہ محمد سالم کے سامنے پیش کی کہ کیوں نہ ہم ایک موضوع کو لے کر ایسا مباحثہ منعقد کریں جس میں ایک فریق موضوع کے حق میں اور دوسرا فریق موضوع کی مخالفت میں دلائل دے۔ شیخ عطیہ نے اس تجویز پر صاد کیا اور یہ موضوع چنا گیا: ’ کیا دورانِ تعلیم ایک طالب علم کے لیے شادی کرنا مستحسن عمل ہے؟‘

کوئی آٹھ طلبہ نے اس مباحثہ میں حصہ لیا، ہر متکلم کو پانچ پانچ منٹ دیے گئے۔ برادرم احسان الٰہی ظہیر نے موضوع کی موافقت میں خوب کروفر کے ساتھ دلائل دیے۔ اس کے بعد میں نے اپنی باری میں خطاب کیا (اب یہ یاد نہیں کہ موافقت میں یا مخالفت میں) اور پھر طلبہ کے خطابات کے بعد شیخ البانی، شیخ عبد الوہاب اور شیخ عطیہ محمد سالم نے اس مضمون کو مزید نکھارا۔

شیخ عطیہ نے بعنوان ’تصوف‘ اپنا مقالہ بھی پیش کیا جو اساتذہ کی جانب سے گرما گرم بحث کا موجب بنا۔

ایک علمی مذاکرے کا ذکر بھی کرتا چلوں:

9 رمضان (23 جنوری 1964ء): پہلے دو درسی حصوں کے بعد ایک مذاکرے میں حاضری دی جس میں شیخ رمضان ابو العز نے رمضان کے روزوں کی حکمتوں پر روشنی ڈالی۔ پچھلی قوموں میں فراعنہ سے لے کر اسلام تک روزوں کی تاریخ بیان کی۔ پھر شیخ البانی نے دمشق کے اپنے ایک تجربے کو بیان کیا کہ انہیں ایک موقع پر چالیس دن کے لیے پابند سلاسل کر دیا گیا تھا تو انہوں نے صرف پانی پر گزارا کیا۔ اس کے مقابلے میں وہ قیدی حضرات جو روزے کے پابند نہ تھے، بہت بے صبر اور واویلا کرتے نظر آئے۔

جامعہ کے طبیب نے بھی اس مذاکرے میں حصہ لیا۔

19 رمضان: اس مبارک مہینے کے آخری عشرہ کی برکات سمیٹنے کے لیے آخری دو دروس کے بعد تعطیل کر دی گئی اور اگلے دن ہم چند ساتھی مکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہاں چند اور زائرین کا اور اپنی ملاقاتوں کا تذکرہ کرتا چلوں:

7 رمضان: شیخ البانی اور شیخ محمد شریف نے ہمارے کمرے میں افطار کیا، عشاء بعد جرابوں پر مسح کرنے اور چند دوسرے مسائل پر بات چیت ہوتی رہی۔

10 رمضان: عشاء کےبعد استاد عبد الحق محروس ہماری اقامت گاہ پر تشریف لائے، ہندوستان کے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہندوؤں کے ان پر جبر وتشدد کے واقعات کا تذکرہ ہوا۔ مسلم جماعتوں میں کیسے اتحاد قائم کیا جائے، اس پر بات چیت ہوئی۔ پھر استاد محمد شریف بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے تحصیل علم کے بارے میں اپنی روئیداد زندگی بیان کی۔

عید کے بعد ابھی دروس شروع ہونے میں تین دن باقی تھے۔ عید کے اگلے روز ہم نے مولانا محمد علی لکھوی کے در دولت پر حاضری دی۔ مغرب کے بعد قاری عبد الفتاح سے ملاقات کی، ان کا تعلق تاشقند اور بخارا سے تھا اور ان تاتاری مہاجرین میں سے ہیں جو روسی قبضے کے بعد وہاں سے ہجرت کر آئے تھے۔ ان کی باقیات صالحات میں سے ان کے صاحبزادے عبد العزیز تھے (آج ان سطور کی تحریر کےدن یعنی 27 اکتوبر 2022ء، مدینہ منورہ سے ان کے انتقال کی خبر موصول ہوئی ہے، وہ جامعہ کے کلیۃ القرآن کے عمید تھے اور مصحف شریف کی طباعت کے ادارے کے صدر بھی رہے۔ مسجد قبا میں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے)

عشاء کے بعد انجینئر بہجہ کے ہاں اجتماع تھا جس میں کئی اساتذہ نے بھی شرکت کی، شیخ محمد محمود الصواف نے اپنی عادت کے مطابق دعوت وتبلیغ کے موضوع پر ایک پر جوش خطاب کیا۔ عید کے تیسرے دن پاکستانی سفیر سے ملاقات کے لیے جانا ہوا لیکن وہ حرم سے متصل اپنے مہمان خانے میں نہ تھے۔ پھر میں اور برادرم محمد سلفی شیخ البانی کے ہاں چلے آئے اور ان کی صحبت میں کچھ وقت گذارا۔ عید کے چوتھے دن پاکستانی سفارت خانہ (جدہ) کے ایک آفیسر تشریف لائے، کھانے پر ہمارے ہندوستانی رفقا بھی شامل تھے، اس لیے کافی رونق رہی۔

مدینہ میں آرامکو نے سعودیہ میں تیل کی دریافت کے بارے میں ایک نمائش کا اہتمام کیا تھا، عصر بعد اس نمائش کو دیکھنے کا موقع ملا۔

عصر کے بعد حرم کے مکتبہ میں جانا ہوا۔ جو کتاب مقصود تھی وہ نہ ملی، اس لیے بعض دوسری کتب کے اوراق پلٹتا رہا، جن میں ایک انگریز سیاح کی کتاب “The Real Siberia” کے عنوان سے نظر آئی۔ یہ 1902ء کی مطبوعہ تھی اور اس میں سائیبریا کی یخ فضا میں جلا وطن لوگوں کی پر مشقت زندگی کو تصاویر کی شکل میں بیا ن کیا گیا تھا۔

22 شوال: ہماری اقامت کی بیرونی نشست گاہ میں چالیس کے قریب طلبہ جمع ہوئے۔ مقصود ایک دوسرے سے تعارف تھا۔ ہر شخص نے اپنا اور اپنے ملک کا مختصر تعارف پیش کیا۔ یہ مجلس کوئی دو گھنٹے جاری رہی۔

26 شوال: برادرم عبد السلام کیلانی اور حافظ ثناء اللہ کی معیت میں شیخ ابن باز کے گھر جانا ہوا۔ زائر ین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ شیخ رمضان ابو العز اور شیخ بدر الدین بھی وہاں موجود تھے۔

30 ذوالقعدہ (12 اپریل 1964ء): پاکستان کے دو مشہور پہلوان بھولو اور اسلم برادران جامعہ دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ شیخ محمد العبودی اور شیخ ابن باز سے ملاقات کی اور پھر ہمارے کمرے میں طلبہ کے ساتھ نشست رہی۔ ہمارے ہم نشین ساتھی عبد الرحمن ناصر انہیں مدعو کرنے میں پیش پیش تھے۔ ان کے ایک ساتھی پہلوان نے قرآن کی تلاوت کی اور بہت خوب قراءت کی۔ جامعہ کے بیرونی دروازے کے ساتھ انہوں نے تصاویر لیں۔ شیوخ سے ملاقات کا تفصیلی حال برادرم محمد لقمان سلفی نے اپنی کتاب کاروانِ حیات میں بیان کیا ہے جو انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔

1۔ ذوالحجہ: جاپانی نو مسلم طالب علم سعید کے والد سے ملاقات ہوئی (یہ غالباً اس سے اگلے سال کی بات ہے کہ جب میں متأہل ہونے کی بنا پر مدینہ شہر منتقل ہو چکا تھا کہ اس افسوسناک حادثے کا علم ہوا جو کئی طلبہ کی جانیں لے گیا، ہوا یہ کہ سعید اور چند انڈونیشی طلبہ نے مناخہ کے نزدیک ایک نو تعمیر شدہ کئی منزلہ عمارت میں چند کمرے کرائے پر لیے تھے جہاں وہ منتقل ہو چکے تھے، ایک رات یہ ساری عمارت ناقص تعمیر کی بنا پر زمین بوس ہو گئی۔ سعید اسی حادثے میں انتقال کر گئے، ہمارے ایک انڈونیشی ساتھی فرش پر آرام کر رہے تھے، ان کے دونوں طرف کتابیں اوپر نیچے رکھی ہوئی تھیں، جب چھت ان پر آن گری تو کتابوں کی وجہ سے مذکورہ ساتھی کے سینے سے اوپر رک گئی لیکن ٹانگوں پر سارا بوجھ آن پڑا۔ جب ملبہ کو ہٹایا گیا تو انہیں زندہ نکال لیا گیا۔ ایک عرصہ ہسپتال میں رہے اور شفایاب ہوئے، مجھے معلوم ہوا تھا کہ انہوں نے بعد میں کراچی جا کر جامعہ بنوریہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔)

9۔ کچھ ذاتی مشاغل کا تذکرہ

1۔ تیراکی سے کبھی واسطہ نہ پڑا تھا۔ یہاں ساتھیوں کے ساتھ ایک دفعہ قباء کے ایک مزرعہ (فارم) میں جانا ہوا ، جہاں مزرعہ کے مالک نے ایک تالاب بنا رکھا تھا، جس کا پانی سبزیوں، ترکاریوں وغیرہ کو دھونے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہ تالاب ایک چاردیواری سے گھرا ہوا تھا۔ یہیں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ کیوں نہ تیراکی میں کچھ شُدبُد حاصل کر لوں اور بھلا ہو ساتھیوں کا اور خاص طور پر برادرم محمد سلفی کا کہ انہوں نے مجھے اس قابل کر دیا کہ میں اعتماد کے ساتھ تالاب کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک تیر سکوں۔ ہم یہاں اکثر جمعرات کی شام چلے آتے اور تیراکی کا لطف اٹھاتے۔ ابتدا اکتوبر 1963ء سے ہونا مرقوم ہے۔

احد پہاڑ کے عقب میں بھی ایک مزرعہ کا انکشاف ہوا۔ وہاں تالاب تو تھا لیکن صرف نہانے کی حد تک، ایک دو دفعہ وہاں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ فٹ بال، نہانے اور ٹیپ ریکارڈر سے قرآن سننے میں اچھا وقت گذر جاتا۔

2۔ ڈائری میں تین مقالات کے تحریر کیے جانے کا ذکر ہے، ایک تو کراچی سے مدینہ کے بری اور بحری سفر کی روئیداد ہے جو اردو ڈائجسٹ (لاہور) کو ستمبر میں ارسال کر دی گئی تھی، مجھے وہ پرچہ بعد میں نہ مل سکا، جس میں یہ مضمون شائع ہوا تھا، اس لیے اس روئیداد کو بعنوان ’ساحل عجم سے ساحل عرب تک‘ کے عنوان سے دوبارہ لکھا جو اب میری کتاب ’ابن بطوطہ ہوا کرے کوئی‘ کا جھومر بن چکا ہے۔

ابا جان نے ایک مضمون بابت حرمت موسیقی مجھے ارسال کیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ میں یہ مضمون شیخ البانی کو دکھا کر ان کی رائے معلوم کروں چنانچہ پہلے تو میں نے اس مضمون کو عربی میں ڈھالا اور پھر شیخ البانی کے ساتھ دو نشستوں میں اسے پورا کیا۔

تیسرا مضمون مولانا داؤد غزنوی (رحلت 16 دسمبر 1963ء) کی سوانح کے بارے میں تھا جس کا تذکرہ اس سے قبل میری تقاریر کے ضمن میں آ چکا ہے۔ جنوری 1964ء کو وہ ’الاعتصام‘ لاہور میں اشاعت کے لیے ارسال کیا گیا تھا۔

3۔ نومبر میں خوب موسلا دھار بارش ہوئی، وادی عقیق نہر کا منظر پیش کر رہی تھی، اہل مدینہ کے لیے یہ ایک حسین تجربہ تھا۔ لوگ جوق درجوق بئر عروہ کی جانب کھنچے چلے آ رہے تھے، جہاں آبادی سے دور اس سہانے موسم میں پکننگ منانے کا ایک بہترین موقع تھا، مدینہ ائر پورٹ کے راستے میں بھی ایک بند باندھ کر پانی کا ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ایک شام وہاں بھی اہل مدینہ کی طرح ہم نے بھی وہاں کی لطیف ہوا اور منظر آب کی دلآویز ساعتوں کا لطف اٹھایا۔

18 نومبر کی شام ہم چند ساتھی حرم سے نکلے، عروہ پہنچے اور پھر وہاں نماز مغرب ادا کرنے کے بعد پیدل ہی جامعہ کا رخ کیا۔ یہ رجب کے ماہ کا آغاز تھا جب کہ ہلال نو اپنے رخ روشن کا جلوہ دکھا کر افق سے غائب ہو چکا تھا چنانچہ تاریکی کا دور دورہ تھا، ہم جنات کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ تاریکی، سناٹے اور تنہائی میں غالباً یہ موضوع ہمیں سبک رفتار رہنے پر آمادہ کرتا رہا۔

اس طرح کی سیر کی چند یادیں حجاز ریلوے کی باقیات کے ساتھ ساتھ مدینہ تک جانے کی بھی ہیں، یہ وہ ریلوے لائن ہے جسے سلطان عبد الحمید نے دمشق سے مدینہ تک حجاج کی آسانی کے لیے بچھایا تھا لیکن جسے لارنس آف عربیا کی قیادت میں عرب بدوؤں نے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ ہم نے اس ٹوٹی پھوٹی لائن کو جامعہ کے اس دور میں دیکھا ہے، اب تو اس کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہا۔

4۔ اب چند ذاتی اسفار کا تذکرہ کرتا چلوں:

21 رمضان: ہم چند ساتھی جن میں محمد سلفی، محمد ابراہیم خلیل بلتستانی، مشتاق ہندی اور احمد جیزانی شامل تھے، عمرے کی ادائیگی کےلیے روانہ ہوئے، ہر شخص نے کرائے کے 15 ریال ادا کیے۔ گاڑی کے اگلے ٹائر دو دفعہ پنکچر ہوئے جس کی بنا پر ڈرائیور کو 30 ریال کا گھاٹا اٹھانا پڑا۔

مکہ میں منزل اہل السنہ میں اترے اور پھر عمرہ کے لیے حرم جانا ہوا۔

اگلے دن حرم میں ڈاکٹر قیوم سعادت (طائف سے) اور منظور حسین شاہ (جدہ سے) ملاقات ہوی۔ یہ دونوں حضرات حرم مکی میں معتکف تھے۔

اس رات تہجد کے بعد حرم میں ایک شخص نے بڑی جرأت کے ساتھ خطاب کیا اور توجہ دلائی کہ مکہ جیسے مقدس شہر میں منکرات کا ظہور ہو رہا ہے جس میں شراب، تصاویر اور ریڈیو سے گانوں کی تشہیر شامل ہے۔ خطاب ختم ہوتے ہی امیر مکہ کا ایک کارندہ اسے ہانکتا ہوا امیر کے پاس لے گیا جو کہ اس وقت حرم میں موجود تھے، لیکن انہوں نے اسے تھوڑی دیر بعد جانے دیا۔

23 رمضان: میں نے ازدواجی زندگی کےبارے میں چند ایک کتب کی خریداری کی، رسالہ ’العربی‘ (کویت) کے چند پرانے عدد بھی حاصل کیے۔ برادرم حافظ ثناء اللہ نے عشاء کے بعد پاکستان میں اپنی بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں ایک دعوت کا اہتمام کیا تھا جہاں ہم لوگ بھی مدعو تھے۔

24 رمضان (جمعہ): جمعہ کی نماز کے بعد شیخ محمد محمود الصواف کا خطاب سننے میں آیا۔

آج رات برادرم محمد سلفی نے دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا۔

اگلے دن برادرم محمد لقمان اور خالد کمال مبارکپوری کے ساتھ مدینہ منورہ واپسی ہوئی۔

یکم شوال (بروز عید): شوال کے چاند کا سحری کے وقت اعلان کر دیا گیا تھا، ہم غسل سے فارغ ہو کر سیدھے حرم نبوی پہنچے، نماز عید ادا کی۔ دن کا باقی حصہ کھانا تیار کرنے اور دوستوں کی معیت میں عید کا لطف اٹھانے میں گذارا۔ عصر کے بعد ایک پاکستانی زائر کے ساتھ قباء کا چکر بھی لگا آئے۔

آئندہ قسط میں ہمارے دوران قیام جامعہ دوسرے حج کی تفصیلات ملاحظہ ہوں۔ (جاری ہے)

٭٭٭

تبصرہ کریں