جامعہ مدینہ کا ایک تعلیمی سال (خود نوشت سوانح حیات) (قسط 2)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

5۔ چند وفود کا تذکرہ

یہ 1968ء دسمبر کی بات ہے، ہجری لحاظ سے شعبان کا مہینہ تھا کہ بیروت کی امریکی یونیورسٹی سے 30 پاکستانی طلبہ مدینہ طیبہ کی زیارت کے لیے آئے۔ ان میں 6 خواتین بھی تھیں، یہ لوگ جامعہ دیکھنے بھی چلے آئے۔ شیخ محمد ناصر العبودی (رجسٹرار جامعہ) نے اپنے آفس میں ان کی آؤ بھگت کی، انہوں نے جامعہ کی سادی سی عمارتیں دیکھ کر اور اسکول کی طرز پر درسگاہوں کو دیکھا تو وہ مبہوت ہو کر رہ گئے۔ شیخ نے اچھا کیا انہیں چائے پلا کر رخصت کیا۔

پچھلے سال یعنی ہماری اپنی آمد کے پہلے سال میں ایسا ہی ایک وفد ایران سے بھی آیا تھا اور جس طرح ہندوپاک سے طلبہ کے وفود جامعہ میں داخلہ کے لیے آئے تھے، ایسے ہی ایران نے بھی 15، 20 طلبہ کی ایک کھیپ داخلے کی غرض سے روانہ کی تھی۔ یہ طلبہ انگریزی لباس میں ملبوس تھے، تہران یونیورسٹی کی ہوا کے عادی تھے، شیخ ابن باز﷫ نے انہیں بہاؤ الدین ہوٹل میں ٹھہرایا۔ یہ مدینہ کا اس وقت واحد ہوٹل تھا جو معزز مہمانوں کی پذیرائی کے لیے کافی مناسب تھا۔ مسجد نبوی سے ہوتےہوئے یہ طلبہ جامعہ لائے گئے۔ انہوں نے جو جامعہ کے در ودیوار دیکھے، صرف مرد طلبہ کو کلاسوں میں دیکھا کہ جہاں دور دور تک کسی خاتون کا نام ونشان نہ تھا، تو ایسے گھبرائے کہ تین دن بھی قیام نہ کر پائے، شیخ بھی خوب سمجھ گئے کہ مغربی ذہن رکھنے والے ان نوجوانون کا گذارا یہاں ناممکن رہے گا، اس لیے انہیں واپسی کے ٹکٹ دے کر ایران واپس روانہ کر دیا۔ ان میں سے صرف ایک طالب علم نے یہاں رہنا گوارا کیا اور وہ بھی اس لیے کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھتا اور اہل سنت میں سے تھا۔

16 اپریل 1964ء (ذوالحجہ 1383ھ) کے دن دمشق یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کا ایک وفد وارد ہوا۔ یہ لوگ صرف جامعہ دیکھنے کے لیے آئے تھے، استقبالیہ ہال میں ان کی پذیرائی کی گئی۔ جامعہ کی طرف سے ڈاکٹر فائض نے خطاب کیا، اس کے بعد جامعہ دمشق کے ڈاکٹر ہیثم کا خطاب تھا جو کیمیاء سے نسبت علم رکھتے تھے، پھر شیخ عطیہ محمد سالم نے انہیں جامعہ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بتایا۔ چند اور بھی خطاب ہوئے۔ میں نے ان کی تقاریر میں دینی روح اور اسلامی جذبات کو موجزن دیکھا اور بعد میں چند طلبہ سے ملاقات بھی کی۔

6۔ جامعہ اور حرم نبوی کے دروس اورلیکچر

19 نومبر (3رجب): شیخ ابن باز﷫ نے طلب علم کے عنوان سے لیکچرز ہال (صالۃ المحاضرات) میں خطاب کیا۔ یہ امسال کا پہلا عمومی لیکچر تھا اور پھر جامعہ میں جو مختلف نوادی (جمعیات) تشکیل دی گئی تھیں، ان کے سربراہ اساتذہ نے اپنی اپنی جمعیت کے مقاصد اور لائحہ عمل کو بیان کیا۔

28 نومبر: جمعیہ صحت کے تحت جامعہ کے طبیب نے فرسٹ ایڈ کے بارے میں مفصل لیکچر دیا، جس میں جسم کے زخمی ہونے، جل جانے یا کسی زہریلے کیڑے کے کاٹنے کا ابتدائی علاج بتایا گیا تھا۔

یکم دسمبر: حرم نبوی میں شیخ عبد القادر شیبۃ الحمد جو ہمارے حدیث کے استاد تھے، حرم میں ان کے درس تفسیر کو سنا۔

22 دسمبر (6 شعبان): عشاء کے بعد شیخ محمد محمود الصواف نے خطاب کیا، عنوان تھا: ’’اسلام کے خلاف استعمار کی چالیں‘‘، بہت ہی قیمتیں باتیں کہیں، قومیت کا نعرہ بلند کرنے والوں کا رد کیا، قومیت کے عناصر جیسے نسل، زبان، تاریخ، وطن اورمشترک مصلحتیں وغیرہ کا تذکرہ کیا۔ ان میں سے ہر ایک کا ردبیان کیا اور پھر سوالوں کے جوابات بھی دیئے اور پھر مستعمرین (نو آباد کار) کے چند حربوں کا بھی تذکرہ کیا جیسے یورپ میں اتوار کے مدارس کا قیام، یونیسکو کے درسی وتدریسی اور مطالعاتی پروگرام اور افریقہ میں عیسائیت کی تبلیغ۔

25 دسمبر: ظہر کے بعد جامعہ کی مسجد میں، مجھے سید داؤد غزنوی کی زندگی کے بارے میں خطاب کرنے کا موقع ملا، ان کی وفات 16 دسمبر کو ہوئی تھی، شیخ ابن باز﷫ نے میری تقریر کے بعد اپنے تاثرات بیان کیے اور کہا کہ میری یہ تقریر مزید اضافوں کے ساتھ شائع کی جائے اور اس ضمن میں، میں نے عصر کے بعد شیخ شریف (ثانویہ کے استاد) سے ملاقات کی تاکہ سید غزنوی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکوں۔

26 دسمبر: شیخ عطیہ محمد سالم (طلبہ کی تعلیمی امور کے انچارج) نے ’’ اسلام اور طب جدید‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا جس میں خلق جنین، حمل کے مختلف مراحل، دل کی حرکت اور اس سے متعلق وظائف کی تشریح کی، بتایا کہ ایک انسان کو پانی کے کتنے لیٹر درکار ہوتے ہیں۔

فروری میں مکہ مکرمہ میں جانا ہوا ، جہاں خطبہ جمعہ کے بعد شیخ محمد محمود الصواف کا خطاب سنا، مارچ کے (رمضان) کے وسط میں شیخ عبد القادر کے درس تفسیر کو پابندی سے سننا شروع کیا، ان کے دروس سورہ آل عمران سے متعلق تھے۔

29 مارچ (16 ذوالقعدہ): عصر کے بعد شیخ بدیع الدین پیر جھنڈا کا درس سنا، درس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔

آج ہی کے دن اپنی جماعت کے شاعر ناتظم اجمیری کے ساتھ بھی نشست رہی، انہوں نے مختلف مواقع پر اپنے کہے گئے اشعار سنائے، جیسے ’’کلفٹن کی ایک شام‘‘ اور ’’آج کل کے نوجوان‘‘ پھر اپنی نعتیں بھی سنائیں اور کہا کہ جگر ان نعتوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ انہیں خطبہ عید کے اندر شامل ہونا چاہیے۔

4 اپریل (22 ذوالقعدہ): حرم نبوی میں مغرب کے بعد ایک مصری استاد کی تقریر دلپذیر سنی جن کا تعلق اخوان سے تھا۔ ایک تونسی استاد کے خطاب کو بھی سنا اور پھر شیخ عبد القادر کے درس میں شرکت کی، انہوں نے سورۃ آل عمران کی آیت ﴿وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾کی تشریح میں بتایا کہ اس سے مراد مسلمان ہیں کیونکہ وہی ہیں جو سیدنا عیسیٰ کی صحیح پیروی کرتے ہیں نہ کہ عیسائی جو کہ ان کی تعلیمات کو فراموش کر چکے ہیں۔

6 اپریل: آخری حصہ درس میں شیخ بدیع الدین کا لیکچر رکھا گیا تھا، موضوع تھا: ’’اتباع کتاب اور سنت‘‘، دوران تقریر بھی صوفیہ کا ذکر آیا کہ تقریر کے بعد اس ضمن میں کئی سوال کیے گئے جن کے انہوں نے جوابات دیے، ان کی تقریر کے بعد پہلے شیخ عطیہ سالم نےاور پھر شیخ البانی نے بھی خطاب کیا، چونکہ تصوف ایک حساس موضوع ہے اس لیے ایک بیرونی سامع نے لیکچر کے دوران بار بار مداخلت کی اور اسے روکنے کی بنا پر ایک ناخوشگوار صورت پیدا ہو گئی، طلبہ اور خاص طور پر ہمارے ساتھیوں میں سے اردن کے عبد العزیز اور شام کے ہشام میں بھی خوب تکرار ہوئی۔

7 اپریل: نماز فجرکے بعد شیخ بدیع الدین سے الوداعی ملاقات کی، وہ واپس تشریف لے جا رہے تھے، پھر میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شیخ ابن باز﷫ سے ملاقات کے لیے ان کے دولت خانہ پر گیا اور چونکہ جامعہ جانے کا وقت ہو گیا تھا اس لیے شیخ کی گاڑی ہی میں ہم جامعہ پہنچے۔

6 مئی (24 ذوالحجہ): شام کو دار الحدیث جانے کا اتفاق ہوا جوکہ حرم سے قریب ہی واقع ہے، وہاں شیخ الوہاب البناء اور شیخ محمد رمضان اور ایک یمنی شخص کے مابین ہونے والی بات چیت کو سنا، یہ شخص یمن کے صدر سلال اور مصر کی پالیسوں کا دفاع کر رہا تھا، بعد ازاں شیخ سلیم بھی تشریف لے آئے اور مذکورہ مشائخ کے ساتھ حج تمتع کی افضیلت کے بارے میں گفتگو ہوتی رہی۔

7 تفریحی اور مطالعاتی اسفار (رَحلات)

1۔ امسال میں 24 ستمبر 1963ء کی مدینہ منورہ پہنچا تھا۔ پورے دو ہفتے یعنی 10 اکتوبر کو ہم اپنے پہلے تفریحی اور مطالعاتی سفر کے لیے جامعہ کے طلبہ کے گروپ کے ساتھ عازم خیبر ہوئے، اساتذہ میں سے شیخ محمد الوہاب البناء اور شیخ البانی طلبہ کی رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ مدینہ منورہ سے جمعرات کی صبح کو سفر کا آغاز ہوا۔ خیبر سے قبل صلصلہ کی آبادی میں پڑاؤ ڈالا۔ خیمہ لگایا کیا۔ طلبہ میں تقسیم کارکر دی گئی۔ خیمہ کا لگایا جانا، پانی کا بندو بست کرنا، کھانا تیار کرنا اور بعد از طعام برتنوں کا دھونا، یہ وہ سب کام تھے جو طلبہ نے خود انجام دیے۔ نمازوں کے بعد شیخ البانی﷫کی صحبت حاصل رہی اور کئی مسائل پر شیخ نے پرمغز بات چیت کی۔ عصر کے جسمانی ورزش کے ضمن میں عسکری نما پریڈ، دوڑ کے مقابلے اور تیر اندازی کی پریکٹس سے لطف اندوز ہوئے۔

جمعہ کی صبح ہم خیبر کی طرف روانہ ہوئے، وہاں بھی خیمے لگائے گئے، جمعہ کی نماز خیبر کی جامع مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد شیخ محمد البناء نے خطاب کیا۔ اس کے بعد خیبر کے مرکزی قلعے اور قلعہ سلالم کے کھنڈرات کو دیکھا، مغرب سے قبل ہم واپسی کے سفر پر تھے، صلصلہ میں نماز مغرب وعشاء ادا کی اور پھر رات گئے مدینہ واپسی ہوئی۔

2۔ خیبر کا ایک دوسرا سفر 26 مارچ 1964ء کا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے یہ پچھلا سفر تھا، جمعرات کی صبح کو ہم مدینہ منورہ سے نکلتے ہیں۔ صلصلہ تک دو گھنٹے کی مسافت کا راستہ ہے، وہیں خیمے لگائے گئے اور پھر منتظمین کی دوسری گاڑی آ جانے کے بعد کھانے کا انتظام کیا گیا یعنی کہیں مغرب کے وقت پیٹ کی آگ کو بجھایا۔ شیخ البانی﷫ نے کئی مسائل پر بات کی جن میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ اگر ایک شخص سورج غروب ہونے سے قبل بھولے سے افطار کر لے تو کیا اس کا روزہ مکمل ہو گا یا نہیں! اور اس ضمن میں یہ بات آ جاتی ہے کہ خطأ اور نسیان ایک ہی شمار ہوتے ہیں یا حنفی مذہب کے مطابق دونوں کے احکامات جدا جدا ہیں؟ مثال کے طور پر اگر ایک شخص غلطی سے بجائے عرفات کے عرفات سے باہر وقوف کر لے تو کیا حج ہو جائے گا، شیخ البانی﷫ نے ’الحج عرفہ‘ والی حدیث کی بنیاد پر ایسے شخص کا حج نہ ہونے کے مسلک کو ترجیح دی۔

جمعہ کی صبح طلبہ نے نماز فجر کے بعد حلقہ بندی کے ساتھ قرآن کی تلاوت کی اور پھر پہلے کی طرح دوڑ اور تیر اندازی کے مقابلے ہوئے، صلصلہ کے پہاڑ پر بھی چڑھے اور ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد خیبر کا رخ کیا۔ قلعہ مرحب کے کھنڈرات کو دیکھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد شیخ رمضان ابو العز نے خطاب کیا اور پھر شیخ البانی﷫ نے بھی پند ونصائح سے نوازا۔

واپس صلصلہ پہنچے جو ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے، وہاں شیخ البانی﷫ نے ایمان اور اسلام کی بحث پر روشنی ڈالی اور ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کا بھی ذکر کیا۔

اور پھر نماز ظہر اور عصر کی ادائیگی اور کھانے سے فراغت کے مدینہ کی راہ لی جہاں ہم دو گھنٹے کے بعد بخیر وعافیت اپنے مستقر پر پہنچ گئے۔ الحمد للہ کے یہ سفر بہت اچھا رہا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق شامل حال رہی۔ (ذوالقعدہ 13، 14)

3۔ امسال عاقول میں بھی دو دفعہ کیمپ لگائے گئے اور ایک دفعہ ساتھیوں کے ساتھ نجی طور پر جانا ہوا، عاقول کی وادی ایئرپورٹ کی جانب کوئی آٹھ کیلو کے فاصلے پر ہے اور برسات میں ایک نہر کی شکل اختیار کر لیتی ہے، پہلی دفعہ 20 نومبر کو مغرب سے قبل کیمپنگ کا سامان لے کر جانا ہوا۔ خیمے نصب کرنے کے بعد کھانے کے ساتھ ساتھ شیخ البانی﷫ اور شیخ البناء کی صحبت حاصل رہی، رات کا ایک پہر چوکیداری کی ذمہ داری لگائی گئی اور پھر ایک دوسرے ساتھی نے اپنی باری کو نبھایا۔

صبح ہم جامعہ کے دروس میں حاضری دینے کے لیے واپس گئے اور پھر ظہر سے قبل دوبارہ عاقول کا رخ کیا۔ مزید اساتذہ بھی تشریف لا چکے تھے۔ شام تک نیزہ بازی، رسی کھینچنے اور دوسری ورزشوں میں گذارا۔ عاقول کی وادی میں بارش کی وجہ سے سیلاب کا منظر تھا جو سب کے لیے باعث کشش رہا۔ مغرب بعد چار اساتذہ نے خطاب کیا اور عشاء کے بعد ہم واپس جامعہ لوٹ آئے۔

19 دسمبر (جمعرات) کو بعد نماز ظہر عاقول کا دوسرا مرحلہ تھا، چونکہ 14 تاریخ سے جامعہ کی مجلس تاسیسی کے اجلاس شروع ہو چکے تھے،اس لیے بیرونی عالمی شخصیات مدینہ میں موجود تھیں، ان میں سے اکثر حضرات اس رحلہ میں شریک ہوئے۔ شام کے استاد مصطفیٰ الزرقا نے علم اور اخلاق سے متعلق مسائل پر گفتگو کی اور عراق کے بہجہ الاثری نے ان مسائل کے حل پر کلام کیا۔

اگلے دن جمعہ تھا، ہم فندق تیسیر میں مذکورہ علماء کی جائے رہائش پہنچے جہاں ان کے خیالات سے مزید استفادے کا موقع ملا۔

جامعہ کے نصاب پر بات چیت جاری تھی، ایک موضوع یہ بھی تھا کہ علم قدیم اور علم جدید کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کی جانے چاہئیں۔ مصطفیٰ الزرقاء نے زمین کی کرویت (گول ہونے) کے نظریے کو فخر الدین الرازی کے عقلی استدلال کی روشنی میں بیان کیا ، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ زمین کے بارے میں تین احتمالات ہو سکتے ہیں، بالکل چپٹی ہو، یا پیالے کی طرح جوف رکھتی ہو اور یا گول ہو، پھر پہلے دونوں احتمالات کی نفی کے دلائل دیے تو صرف تیسرا احتمال باقی رہ جاتا ہے، جامعہ کے مہمانوں میں پاکستان کے ظفر احمد انصاری بھی تھے جن سے خصوصی ملاقات رہی۔

2 جنوری (جمعرات) کو ہم 16 طلبہ نجی طور پر عاقول گئے۔ یہ وزٹ صرف فٹ بال کھیلنے کے لیے تھی جس کا موقع خال خال ہی ہاتھ آیا۔ اور میرے خیال میں یہ وہ آخری دفعہ تھی کہ جب ہم نے جامعہ کی زندگی میں فٹ بال کھیلا ہو گا۔

4 نومبر، دسمبر اور جنوری 1964ء کے اندرا جات میں تین اور رحلات کا ذکر ہے۔ عموماً یہ رحلات جمعرات اور جمعے کو عمل میں لائے جاتے ہیں۔

نومبر (28۔29) کا رحلہ المسیجید سے قریب بئر الروحاء کی جانب تھا جو مدینے سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ شیخ عطیۃ اور شیخ البانی کا ساتھ تھا اور دونوں کے مابین کئی مسائل میں بحث ہوتی رہی اور طلبہ اس سے مستفید ہوتے رہے۔

فجر کے بعد کے پروگرام میں حلقہ بندی کے ساتھ قرآن کی تلاوت اور پھر وہ عسکری مشقیں تھیں جو پچھلے رحلات کا حصہ رہی ہیں۔ جمعہ کی نماز المسیجید کی جامع مسجد میں ادا کی، شیخ البناء اور دو طلبہ نے بعد میں خطاب بھی کیا۔ عصر کے بعد پہلے تو برتنوں کی صفائی اور دھلائی سےفارغ ہوئے اور پھر تیر اندازی اور رسی کھینچنے کے کھیل میں مصروف رہے اور بعد مغرب واپس مدینہ کی راہ لی۔

دسمبر (19) کی جمعرات کئی عدد مصروفیات میں گذری۔

جامعہ میں صحت کے بارے میں ایک اضافی درس تھا اور پھر جامعہ کی عقبی طرف پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر شام گذاری گئی، کھانے کے بعد اساتذہ اور طلبہ کے مابین مسائل پر مناقشہ جاری رہا اور عصر کے بعد عسکری تدریبات میں اس دفعہ بندوقوں سےفائر کرنے کا موقع بھی ملا اور اس کے بعد حسب سابق مختلف مشقوں میں حصہ لیا۔

اور مغرب کے بعد استاد عمر الاشقر کی رہنمائی میں دعوت وتبلیغ کے موضوع پر طلبہ نے اپنی اپنی گذارشات پیش کیں۔

جنوری (9۔10) کو شاہراہ جدہ کے آدھے راستے پر المستورۃ کے ساحلی قصبے تک ہمارا رحلہ تھا، یہ کوئی 224 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ پہنچتے پہنچتے مغرب ہو گئی۔ بحر احمر کے پانی سے وضو کیا۔ مغرب و عشاء کی نماز ادا کی گئی اور پھر خیموں کے باہر رات کی چوکیداری کیلئے دو فریقوں کی ذمہ داری لگائی گئی، یہ ایک پرمشقت مشق تھی کہ رات کی ٹھنڈک کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہوا۔

جمعہ کی صبح نماز فجر کے بعد معمول کی ورزشیں کی گئیں اور پھر تقریباً جمعے کی نماز تک بحر احمر کے پانی سے لطف اٹھانے اور کشتی کی سواری کرنے اور کچھ کچھ تیرا کی کے جنون میں ہاتھ پیر چلانے کا موقع بھی ہاتھ آیا۔

نماز کے لیے 50 کلو میٹر فاصلے پر ’الابواء‘ کی بستی میں جانا ہوا، یہ وہ بستی ہے جہاں نبی کریمﷺ کی والدہ کا مدفن بتایا جاتا ہے، ہم جب پہنچے تو نماز جمعہ ہو چکی تھی، اس لیے ہم نے جماعت سے ظہر اور عصر کی نماز (قصر اور جمع کے ساتھ) ادا کی۔

شیخ محمد البناء نے خطاب کیا، شام تک واپس المستورۃ پہنچے، المستورہ چاول اور مچھلی کی ڈش کے لیے مشہور ہے، ہم جب بھی یہاں سے گذرے ہیں، یہاں کی بھنی ہوئی مچھلی سے کام و دھن کو شاد کیا ہے۔ مغرب سے قبل کوچ کا پیام آیا۔ راستے میں بئر الروحاء میں مغرب و عشاء کی نماز ادا کی اور پھر رات گئے ہم مدینہ منورہ پہنچ پائے۔

اور یوں اس سال آٹھ رحلات میں جانا ہوا۔ نواں سفر حج کا تھا۔ ہمارا دوسرا حج، اوراس کی تفصیل علیحدہ سے بیان ہو گی۔ (جاری)

تبصرہ کریں