جماعت اہلحدیث ہند کا ایک درخشاں ستارہ مولانا عبد الوہاب خلجی رحمہ اللہ۔ محمد عبد الہادی العمری

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ کا ایک وفد جماعت اہلحدیث کی تنظیمی اور جماعتی استحکام کی غرض سے 1979ء انڈیا کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، اس کے روح رواں مشہور سلفی عالم اور متحمس داعی الشیخ عبد الصمد الکاتبی رحمہ اللہ ملیباری تھے جو اصلاً کیرالہ کے تھے اور ایک عرصہ سے مدینہ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ وفد میں ڈاکٹر شیخ محفوظ سلفی رحمہ اللہ  اور بھائی عبد الوہاب خلجی رحمہ اللہ نمایاں تھے، یہ ایک غیر سرکاری قسم کا نجی دورہ تھا، اس دورہ میں جماعت کی ترقی کے لیے ہنگامی نوعیت کے فیصلے کئے گئے اور انقلابی منصوبے بنائے گئے۔ ’’لیکن ائے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘

جمعیت اہلحدیث ہند کا تنظیمی کام بہت زیادہ آگے نہ بڑھ سکا، اراکین وفد اپنے ارادوں اور منصوبوں میں مخلص ضرور تھے لیکن ان کا ٹھکانہ ہندوستان نہیں بلکہ سعودی عرب میں تھا اور ملک میں موجود سرکردہ جماعتی احباب وہ کسی بھی تنظیمی یا جماعتی ڈھانچہ میں تبدیلی کو آسانی سے قبول کرنے کے لیے امادہ نہیں تھے۔ یہ اور بات ہے کہ جماعتی ترقی کے سب ہی خواہاں تھے، گویا گھر کی بوسیدہ عمارت ہی کو باقی رکھتے ہوئے وہ عمارت کی مضبوطی یا خوبصورتی چاہتے تھے جبکہ وفد کے اراکین اور ملک میں موجود جماعتی نوجوان عمومی طور پر سمجھتے تھے کہ قدیم عمارت کے انہدام کے بغیر نئی مضبوط بلڈنگ تعمیر نہیں کی جا سکتی اور کچھ لوگ دونوں کے درمیان صالح قدیم اور نافع جدید کے امتزاج کے قائل تھے کہ ہمیں درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے اعتدال کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ جماعت سے وابستہ بڑوں کا مقام ومرتبہ اپنی جگہ رہے اور نوجوانوں کے جذبات بھی نظرانداز نہ ہوں، اسی کشمکش میں وفد تو واپس چلا گیا لیکن جماعتی حلقوں میں ایک ہلچل مچی رہی، پھر بھائی خلجی مدینہ منورہ سے مستقل طور پر ہندوستان واپس تشریف لے آئے اور راجدھانی دھلی کو ہی اپنا مسکن بنا لیا۔ انہیں جماعت کی اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئیں، پہلے قائم مقام ناظم اعلیٰ اور پھر ناظم اعلیٰ بنا دیا گیا۔ انہوں نے ملک کے طول وعرض کے ہنگامی دورے کیے، اخبارات اور میڈیا سے بھی فائدہ اٹھایا، یوں جماعت کے رکے ہوئے دریا میں بہاؤ بڑھ گیا، اور چہل پہل دکھائی دینے لگی ورنہ میڈیا سے جماعت کا تعلق بہت کمزور تھا۔ نوجوانوں میں کام کرنے کا شوق بڑھتا گیا، اس وقت تحریک شباب اہل حدیث زوروں پر تھی، نوجوانوں کا اصرار تھا کہ جماعت کی جانب سے ان کے لیے ایک ایسا پلاٹ فارم مہیا کیا جائے، جہاں سے وہ اپنی دینی اور دعوتی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں اور اس مطالبہ میں وہ نئے نہیں تھے، کئی تنظیمیں پہلے ہی سے اس پر گامزن تھیں، مختلف تنظیموں میں یوتھ کا شعبہ علیحدہ سے قائم تھا، پاکستان میں علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے دست وبازو اور ہر اول دستہ اہلحدیث یوتھ فورس ہی تھے۔ اس وقت علامہ﷫ کی بے باک تقریروں کی گھن گرج انڈیا کے دیہات اور قریوں تک پہنچ رہی تھی۔ لیکن بوجوہ اس فکر کی تائید کہ نوجوانوں کے لیے علیحدہ شعبہ قائم کیا جائے، جماعتی حلقہ سے خاطر خواہ نہیں ہو رہی تھی، بڑوں کو اعتراض تھا کہ ایک ایسی جمات جو دینی، دعوتی اور تعلیمی نوعیت کی ہے، وہاں عمر کی بنیاد پر تقسیم اور تفریق مناسب نہیں، سب کو ایک ہی پلاٹ فارم سے کام کرنا چاہیے، ان ہی دنوں میں کیرالہ کے علاقہ کٹی پورم میں جنوری 1987ء کو وہاں کی ایک مشہور سلفی تنظیم ندوۃ المجاہدین کے زیر اہتمام ایک اہم تاریخی کانفرنس منعقد ہوئی ، اس میں حاضری کا اندازہ پانچ لاکھ تک لگایا گیا، اس کانفرنس میں بھائی خلجی کافی متحرک دکھائی دے رہے تھے، سہ روزہ کانفرنس میں راقم کو دو مرتبہ تقریر کرنے کا موقع ملا، اس موقع پر مختلف علاقوں سے آئے ذمہ داران جماعت کے ساتھ کچھ تنظیمی نشستیں بھی ہوئیں اور شبان اہلحدیث کے خیال کو مہمیز لگی۔ دہلی کی تنظیمی زبوں حالی پر بھی گفتگو ہوئی اور ایک وفد تشکیل دیا گیا تاکہ بنارس جائے اور امیر محترم مولانا عبد الوحید رحمانی﷫ سے گفتگو کرے، جو اس کانفرنس میں حاضر نہیں ہو سکے تھے۔ اس وفد میں راقم کا بھی نام تھا لیکن بوجوہ یہ وفد مقررہ تاریخ بنارس نہیں پہنچ سکا، البتہ بعد میں راقم نے بنارس کا سفر کیا اور محترم امیر جماعت کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی، امیر محترم نے کچھ تنظیمی ذمہ داریاں راقم کو تفویض کرنا چاہا لیکن اس کی انجام دہی کے لیے مجھے دہلی جانا اور وہاں قیام کرنا ضروری تھا اور بمبئی میں مولانا مختار احمد ندوی﷫ نے ادارہ اصلاح المساجد کی مجلس عاملہ کی اہم میٹنگ بلا رکھی تھی، اس میں خصوصی طور پر راقم کو مدعو کیا گیا تھا، اگرچہ کہ میں اس کا رکن نہیں تھا، خود امیر محترم بھی رکن عاملہ کی حیثیت سے اس میں بنارس سے شرکت کرنے والے تھے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کی پچھلے سو سال میں ہندوستان میں شاید نظیر نہ ملے، اس ادارہ کا سہ جہتی کام تاریخ ہند میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ حاملین قرآن وسنت کی زیر نگرانی نئی مساجد کی تعمیر، قدیم مساجد کی اصلاح و مرمت اور مصلین مساجد کی دینی اور روحانی تربیت کے لیے تعلیم الاسلام کے حلقات، ادارہ کی زیرنگرانی اس وقت یعنی 1987ء تک تقریباً تین سو سے زیادہ ملک کے مختلف علاقوں میں شاندار مساجد تعمیر کی جا چکی تھیں۔ ان میں بیشتر ایسی مساجد تھیں جو مولانا مختار احمد﷫ کی نگرانی نہ ہوتی تو ان علاقوں میں اس نوعیت کی تعمیر ناممکن نہ سہی محال ضرور تھی، یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہماری اکثر مساجد روشنی اور وضو خانوں سے بھی محروم تھیں، تعمیر مسجد کے بعد اسے چھوڑ نہیں دیا جاتا بلکہ نمازیوں کی تربیت کا ایک جامع پروگرام بنایا گیا تھا، اور امام یا مدرس جو حلقہ کا نگران ہوتا، اسے ادارہ کی جانب سے مناسب معاوضہ بھی دیا جاتا، تعمیر مساجد کا یہ بیڑہ تاریخ اہلحدیث ہند میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اب صورتحال خاصی بدل چکی ہے، صرف حیدرآباد دکن میں دو سو سے زیادہ اہلحدیث مساجد ہیں۔ میں جب اس اجتماع میں شرکت کے لیے بمبئی پہنچا، مولانا مختار﷫ کے غیر متوقع حکم کا سامنا کرنا پڑا کہ کچھ دن یہیں رک جاؤ، تاکہ ادارہ کے اہم امور نمٹائے جا سکیں، مولانا کے انقلابی پروگرام اور سماجی شخصیت کے ساتھ تعلق خاطر کچھ ایسا تھا کہ انکار یا معذرت کی ہمت نہیں ہوئی، البتہ اتنی گذارش کر سکا کہ آپ ہی امیر محترم کو بھی اس تبدیلی سے مطلع فرمائیے جو مولانا نے کہا۔ امیر محترم کو یہ تبدیلی زیادہ پسند تو نہیں آئی، کہ دھلی کے بجائے بمبئی میں قیام کروں مگر انہوں نے سکوت اختیار کر لیا، بالآخر تقریباً دو ماہ مجھے بمبئی میں قیام کرنا پڑا، مساجد کا یہ کام اور سلفی منہج پر مشتمل کتابوں کو مفت گھر گھر پہنچانے کا منصوبہ، نیز باصلاحیت علماء کی کھیپ تیار کرنے کی کوشش یقیناً مولانا ندوی کے حق میں صدقہ جاریہ ثابت ہو گی، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ

اس ادارہ کی سرگرمیوں کا تذکرہ علیحدہ سے مفصل مضمون کا متقاضی ہے۔ بہرحال شبان اہلحدیث کو منظم کرنے کے لیے 19 فروری 1987ء میں پہلا اہم دستوری اجلاس دہلی میں منعقد ہوا، جن میں شیخ عطاء الرحمٰن مدنی، شیخ رضاء اللہ عبد الکریم مدنی بریلی، شیخ احسن جمیل مدنی بنارس اور راقم نے دستور ساز کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے شرکت کی، اس اجلاس اور اس کے متعلقہ جملہ امور کی نگرانی بھائی خلجی دل وجان سے کر رہے تھے۔ اس وقت ان کی کیفیت کچھ ایسی تھی

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم                                                                                                                                               رزم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مؤمن

ہر طرف ایک ولولہ اور ہلچل سی محسوس کی جا رہی تھی، بڑی محنت سے ابتدائی مسودہ تیار کیا گیا لیکن افسوس کہ یہ کام کمیٹی کی خواہش کے باوجود زیادہ آگے نہ بڑھ سکا، اس کی تفصیل اس وقت مناسب نہیں لگتی، لیکن بھائی خلجی نے ہمت نہیں ہاری

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا                                                                                                                       تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

انہوں نے جماعت کو منظم اور متحرک کرنے کے لیے مختلف صوبوں اور شہروں کے طوفانی دورے کیے، دھلی کے مرکزی دفتر کو مرکزیت دینے کے لیے کٹھن حالات میں بڑی ہمت سے کام کیا، ورنہ مرکزی بلڈنگ کو قابضین کے تسلط سے واگذار کرانا آسان نہیں تھا۔ مختلف صوبوں کے ساتھ روابط بڑھائے، مرکز اور صوبوں کے درمیان رابطہ عموماً موسمی قسم کا تھا کہ جلسوں یا خاص مناسبتوں کی حد تک۔ لیکن وسیع ملک میں پھیلی جماعت کی منتشر کڑیوں کو مضبوط لڑی میں پرونے کے لیے وسائل اور وقت درکار ہوتا ہے۔

حد تویہ ہے کہ جماعت کے اہم ذمہ دار بھی مرکز دہلی میں سوائے خاص مناسبتوں کے ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، اگر ہر ایک مرکز سے دور اپنے اپنے کاروبار زندگی میں مصروف ہو تو تنظیمی استحکام ممکن نہیں، خصوصاً ان دنوں سہولتیں بھی محدود تھیں، اہم ذمہ داروں کے درمیان رابطہ کی شکل صرف فون یا ڈاک ہی تھے، فون کی بھی سہولت اس وقت سب کو میسر نہیں تھی، اسی سے مرکزی دفتر کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، منتخب قائدین کی حیثیت عموماً تبرک یا برائے نام رہ جاتی ہے اور تنظیمی گاڑی کا اسٹیرنگ کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے یا پھر بغیر کسی حرکت کے گاڑی رکی رہتی ہے، ہر صورت میں خسارہ جماعت اور اجتماعیت کا!

اگرچیکہ بھائی خلجی کا آبائی وطن پنجاب کا علاقہ مالیرکوٹلہ تھا، سن 1954ء اسی علاقہ میں ان کی پیدائش ہوئی، دھلی کو انہوں نے اپنا مسکن بنایا، مگر دیگر عہدیدار وہاں نہیں رہتے تھے، لہٰذا امارت اور نظامت کے درمیان خلیج تو حائل رہی، وہ اپنی حد تک کوشش کرتے رہے، جماعت کے علاوہ مختلف دینی، سماجی اور ملی تنظیموں میں بھرپور شرکت کر کے جماعت کی نمائندگی کرتے، مختلف تنظیموں میں انہیں مستقل رکن کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا رہا، مسلم پرسنل لاء بورڈ، ملی کونسل وغیرہ وغیرہ۔ راجدھانی کی سیاسی شخصیات کے ساتھ بھی روابط استوار کر رکھے تھے، ان کی ہمہ جہتی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جولائی 2008ء ان کی صاحبزادی کی تقریب شادی میں شرکت کے لیے دھلی کی چیف منسٹر شیلا ڈکشت حاضر ہوئی تھیں، خطبہ نکاح کے فرائض مشہور عالم دین ڈاکٹر الشیخ وصی اللہ عباس مکہ مکرمہ نے انجام دیے، راقم برطانیہ سے براستہ دھلی حیدر آباد جاتے ہوئے اسی وقت پہنچا تھا، چونکہ دھلی میں مختصر قیام تھا، صرف چند احباب کو اطلاع تھی، پتہ نہیں موصوف کو کیسے علم ہوا کہ قیام گاہ کا پتہ ڈھونڈ نکالا اور شادی میں شرکت کا حکم صادر کیا، ظاہر ہے کہ اس پُر مسرت تقریب میں عدم شرکت کی معذرت قابل قبول نہیں ہوسکتی تھی، جبکہ میں دھلی میں ہی تھا، جلدی سے تیاری کی، شادی خانہ پہنچا ، وہاں دوست احباب کا وسیع حلقہ جمع تھا، یہ میرے لیے بہترین موقع ثابت ہوا کہ کئی احباب سے اکٹھی ملاقات ہو گئی لیکن پیار بھری شکایات کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ اس دورہ کی پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔

موصوف نے مرکز کو متحرک کرنے کے لیے کئی منصوبے بنار کھے تھے، دھلی میں رہتے ہوئے ان کا ایک پروگرام یہ تھا کہ مختلف علمی اور فکری شخصیتیں سرکاری، کاروباری اور نجی ضروریات سے یہاں آتی رہتی ہیں، ان کے ساتھ افادہ واستفادہ کی بہترین شکل نکل سکتی ہے، راجدھانی میں رہتے ہوئے ان شخصیات کو مرکز میں مدعو کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اس سلسلہ میں ابتدائی کچھ پروگرام بھی رکھے گئے مگر یہ سلسلہ دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔

ان کا ایک منصوبہ تھا کہ ملک میں پھیلے متعدد دینی مدارس، علماء اور اساتذہ کے درمیان رابطہ سے بہترین ثمرات حاصل کیے جا سکتے ہیں، درسگاہوں کے درمیان مقررہ نصاب اور تعلیمی سرگرمیوں میں مماثلت ہونی چاہیے، اس کے لیے کوششیں بھی کی گئیں، مگر اندازہ ہوا کہ اگر یہ اقدام اہل مدارس ہی کی طرف سے ہو تو زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتی ہے، کیونکہ دینی مدارس اور جماعت کے تنظیمی تقاضے مختلف ہیں۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث برطانیہ کی دعوت پر دوبار سالانہ کانفرنس میں بطور مہمان مقرر تشریف لے آئے، یہاں کے مختلف شہروں میں کامیاب دورے اور پروگرام ہوئے، موصوف پنجابی زبان سے بھی واقف تھے اور یہاں پنجابی بولنےوالوں کی بڑی تعداد ہے، اس لیے بھی ان کے لیے یہاں کی فضا مانوس سی ثابت ہوئی، ان کا پہلا تعلق تو جماعتی اور مسلکی تھا لیکن زبان کی انسیت کے سبب مختلف احباب ان کے ساتھ گھل مل گئے کہ دھلی سے تشریف لانے ےوالے فاضل مقرر پنجابی بھی روانی کے ساتھ بول رہے تھے۔

پھر بلاد عرب خصوصاً سعودی عرب میں کئی کئی کانفرنسوں میں ہماری ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

انڈیا میں منعقد ہونیوالی چند یادگار کانفرنسوں میں موصوف کے ساتھ شرکت اور خطاب کے مواقع میسر آتے رہے، چند کا ذکر کیے دیتا ہوں، کیرالہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس کا ذکر کر چکا ہوں۔

اپریل 1995ء میں شمالی ہند کے مردم خیز تاریخی شہر مئو میں آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان ہوا، اس وقت امیر جماعت محترم مولانا مختار احمد ندوی﷫ تھے اور بھائی خلجی ناظم اعلیٰ، امیر محترم کا مجھے فون آیا کہ شرکت کرنی ہے، میرے لیے باعث تشویش بات یہ تھی کہ گرمی کے موسم میں وہاں کانفرنس کیونکر کامیاب ہوگی، لیکن مولانا نے غلط فہمی دور کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقہ میں گرمی کی شدت مئی اور جون میں ہوتی ہے، اپریل نسبتاً خوشگوار رہتا ہے۔ بنارس سے مئو تک کا علاقہ علمی اور صنعتی لحاظ سےبڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مئو کے کئی علماء نےبراہ راست شیخ الکل فی الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی﷫ سے شرف تلمذ حاصل کیا، راقم کے کئی اساتذہ کا یہ وطن رہا ہے، اس مختصر سے شہر میں جماعت کی متعدد درسگاہیں موجود ہیں، مدرسہ عالیہ، فیض عام، دار الحدیث اثریہ وغیرہ وغیرہ، جہاں عالمیت اور فضیلت تک کی مکمل دینی تعلیم کا نظم ہے۔ بنارس سے یہاں تک کپڑے کی صنعت عام ہے، اسی شہر کے گرد ونواح مشہور محدث علامہ عبد الرحمٰن مبارکپوری صاحب تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی، علامہ عبید اللہ مبارکپوری صاحب مرعاۃ المصابیح اور مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری صاحب الرحیق المختوم وغیرہ وغیرہ نابغہ روزگار ہستیاں رہتی تھیں۔

علاقہ کی اہمیت کےباوجود جنوبی ہند کے رہنے والوں کی اکثریت کے لیے بنارس سے آگے یہاں تک کا علاقہ نیا تھا، کیونکہ یہ ان کی گزرگاہ میں نہیں، اس لیے جنوب کے بیشتر شرکاء کانفرنس کے لیے اس علاقہ کا یہ پہلا سفر تھا، ان کا پہلا پڑاؤ بنارس تھا، یہاں کی مرکزی درسگاہ جامعہ سلفیہ کے دروازے ان مہمانوں کے لیے کھول دیے گئے تھے، یوں اس سفر کی برکت سے کئی جماعتی درسگاہوں اور شہروں کی زیارت کا موقع ملا اور اسے بھی حسن اتفاق کہئے کہ متحدہ ہندوستان میں ستر سال قبل مئو ہی میں کل ہند کانفرنس مشہور محقق علامہ قاضی سلیمان منصورپوری﷫ کی صدارت میں منعقد ہوئی تھی، یوں ستر سال بعد اہل مئو کو دوبارہ یہ اعزاز حاصل ہوا، اسی کو اردو زبان کے مایہ ناز اسلام پسند شاعر فضا ابن فیضی نے اپنی شاندار استقبالیہ نظم میں ذکر کیا، شاعر موصوف بھی اسی شہر مئو کے باشندہ تھے، چھوٹے نہ تمہارے ہاتھوں سے اسلاف کا داماں ائے لوگو

پھر آئے ہیں ستر سال پہ یہ ایام بہاراں ائے لوگو

قرآن کی بلاغت پاروں کی تعمیم ہمارا مسلک ہے

مشکوٰۃ وبخاری کے فن کی تفہیم ہمارا مسلک ہے

اسلامی عقائد کے فن کی سچی تقدیم ہمارا مسلک ہے۔

اور اسے بھی حسن اتفاق کہیے کہ جس کا ذکر بھائی خلجی نے اپنی تقریر میں کیا کہ ستر سال قبل کانفرنس کی صدارت اردو زبان میں سیرت النبیﷺ پہ لکھی جانے والی جامع اور تحقیقی کتاب رحمۃ للعالمین کے مصنف نے کی اور آج اس کانفرنس کے صدر اس کتاب کو عربی زبان میں مزید سلفی منہج کی کتابوں کے ساتھ زیور طباعت سے آراستہ کر کے عام کرنے والی شخصیت مولانا مختار احمد ندوی﷫ ہیں، اور کانفرنس کی استقبالیہ کمیٹی کے نگران ممتاز عالم دین مشہور مصنف ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری﷫ جنرل سیکرٹری جامعہ سلفیہ بنارس ہیں، جنہوں نے اس کتاب کا عربی ترجمہ کیا، گویا پون صدی گزرنے کے باوجود مسلک اور جماعت کے شیدائیوں کا سیرت نبویﷺ کے ساتھ تحقیقی اور تصنیفی رشتہ باقی ہے۔ ماضی سے حال کو مربوط کرنے والا خلجی صاحب کا یہ جملہ شرکاء کی جانب سے خوب سراہا گیا۔

ڈاکٹر ازہری نے اردو کی بعض اہم کتابوں کا جیسے رحمۃ للعالمین، مولانا اسماعیل سلفی﷫ کی کتاب تحریک آزادی فکر وغیرہ کا جدید اسلوب میں عربی ترجمہ کر کے عالم عرب کو باور کرایا کہ اہل علم وفکر کی اردو دان حلقہ میں کمی نہیں، اساطین علم وفکر کی اردو کاوشوں کو عربی زبان میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

جھاڑ کھنڈ کے علاقہ پاکوڑ میں 13، 14، 15 مارچ 2004ء کل ہند اہلحدیث کانفرنس منعقد ہوئی، یہ کانفرنس جماعتی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، حاضری لاکھوں میں تھی، قرب وجوار ، قریہ ودیہات اور دور دراز علاقوں سے قرآن وسنت کے شیدائی پروانوں کی شکل میں امنڈ پڑے تھے، کانفرنس کے بعد واپسی کے موقع پر حج کے قافلوں کا سماں تھا، تاحدنگاہ لوگ ہی لوگ دکھائی دے رہے تھے، مقامی لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھے پسماندہ علاقہ کے اس منظر کو اپنی آنکھوں میں نقش کر رہے تھے، پاکوڑ کلکتہ اور کشن گنج بہار کے درمیان واقع ہے، اس علاقہ میں یہاں اہلحدیثوں کی تعداد قابل قدر اور باعث رشک ہے، لیکن اتنے دور دراز علاقہ کا اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کے لیے انتخاب منتظمین کے لیے دشواریاں پیدا کر رہا تھا، جہاں شرکاء اور سامعین کا ہجوم قابل قدر ہو وہاں دیگر انتظامی مسائل بڑھتے جاتے ہیں، ان کے قیام وطعام اور دیگر ضروریات کے انتظامات ایک چیلنج سے کم نہیں، بڑے شہروں میں بہت سے کام بذریعہ فون حل ہو جاتے ہیں، آمد ورفت کے مسائل پر بڑ ی حد تک لوگ خود ہی قابو پا لیتے ہیں اور بیشتر امور میں شرکاء اور مہمان ایک لحاظ سے خود کفیل ہوتے ہیں، اگرچہ مولانا اصغر علی امام مہدی ناظم اعلیٰ اور مولانا مقیم فیضی﷫ اپنے مقامی اور مرکزی رفقاء کے ساتھ مقدور بھرکوشش کر رہے تھے لیکن لوگوں کی کثرت کے سامنے یہ کوشش دھری کی دھری رہ گئی، مہمانوں کی آمد کے ساتھ ساتھ رہائشی کمروں کی قلت محسوس ہوتی گئی، ہمارے لیے منتظمین نے ایک کمرہ محفوظ کر رکھا تھا، ہم چار افراد شیخ ڈاکٹر وصی اللہ، بھائی عبد الوہاب خلجی جو اس کانفرنس میں سابق ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے شرکت کر رہے تھے، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور راقم نے اس کمرہ میں قبضہ جمایا، کمرہ میں پڑی ڈبل سائز بیڈ پر شیخ وصی اللہ اور راقم نے آرام کیا، صوفہ پر بھائی خلجی اور فرش پر ڈاکٹر ثاقب تولیہ بچھا کر دراز ہو گئے۔

محترم خلجی صاحب نے اس وقت کے امیر جمعیت حافظ محمد یحییٰ﷫ سے مہمان مقررین کی اس حالت پر شدید احتجاج کیا، میں نے موقع کی نزاکت کے پیش نظر اس مسئلہ کو نظر انداز کرنے پر زور دیا کہ پسماندہ علاقہ میں اس سے بہتر انتظامات کی گنجائش زیادہ نہیں تھی، دیگر احباب سے ملاقات کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ اکثر مقررین ملتی جلتی صورتحال سے دوچار ہیں، ڈاکٹر شیخ لقمان سلفی﷫ کی تقریر بھی پوری طرح نہیں ہو سکی، جس کی انہوں نے اسٹیج ہی پر شکایت کی، وہ اسی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے سعودیہ سے تشریف لائے تھے اور جلد انہیں واپس لوٹنا تھا۔

شیخ عبد المتین سلفی﷫ کشن گنج سے آئے ہوئے تھے، وہ ہم چاروں ہم کمرہ رفقاء کو دوسرے گاؤں کے کسی تاجر کے ذاتی مہمان خانہ لے گئے، یہاں عمدہ سہولتیں میسر تھیں لیکن اس جگہ رہتے ہوئے کانفرنس سے استفادہ مشکل تھا، لہٰذا یہاں ایک ہی رات بسر کر کے ہم اپنے ہی ٹھکانہ واپس آ گئے کہ کسی صورت کانفرنس میں ہماری کمی نہ محسوس ہو۔

نیپال کی ہر دلعزیز اور ولولہ انگیز شخصیت مولانا عبد اللہ جھنڈا نگری﷫ کے ساتھ بھائی خلجی کے تعلقات دینی، جماعتی اوردوستانہ نوعیت کے تھے، ان کی آپس میں ساجھے داری تھی، انہوں نے انڈیا، نیپال کے سرحدی علاقہ جھنڈا نگر میں اہم کانفرنس کا اعلان کیا، اس میں شرکت کا مجھے گویا حکم دیا۔ میں نے وعدہ کر لیا۔ 7؍اپریل 2011ء کانفرنس کا دن تھا، بھائی خلجی کی طبیعت ناساز چلی آ رہی تھی لیکن موصوف کو مسلکی محبت وہاں تک کھینچ لے آئی، جبکہ ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید وہ معذرت کر دیں گے جس کا انہیں پورا حق تھا، اور معذرت قبول بھی کر لی جاتی، “والعذر عند كرام الناس مقبول” میں نے دیکھا کہ ان پر کمزوری غالب آ چکی تھی، مختلف امراض کے اثرات نمایاں تھے، یہاں پہلی بار ان کے ہاتھ میں عصائےپیری دیکھ کر تعجب ہوا، کیونکہ ہم عمر ساتھیوں کے درمیان وہ نسبتاً تندرست اور صحتمند سمجھے جاتے تھے۔

ناشتہ کے موقع پر انہوں نے خاصی مقدار میں بطور دوا کئی گولیاں کھائیں، رات کا پروگرام تھا۔ خطاب میں بتایا کہ مکہ مکرمہ کے سفر کے دوران اعصابی بیماری کا جو حملہ ہوا تھا، ابھی تک سنبھل نہیں سکا، لیکن جھنڈا نگر کی دعوت کو رد نہیں کر سکتا تھا، میں نے گھر والوں سے کہہ رکھا تھا کہ اگر شدید بیمار ہو جاؤں تب بھی مجھے ٹرین میں بٹھا کر روانہ کر دینا لیکن معذرت نہ کرنا۔ تقریر کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ نقاہت کچھ زیادہ ہو رہی ہے۔ زبان بھی بےقابو ہوئے جا رہی ہے۔ لہٰذا گفتگو سمیٹ کر جلد ہی بیٹھ گئے، ورنہ جوش وجذبات سے بھرپور ان کی تقریریں ہوا کرتی تھیں۔

یہ موصوف کے ساتھ کسی کانفرنس میں میری شرکت اور خطاب کا آخری موقع تھا، چند اجتماعات کا ذکر کرتے ہوئے میری کیفیت یہ ہے:

کتنی یادوں کے چراغ جلے اور بجھے

اگرچہ کہ ہر بیماری اپنی جگہ تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن کچھ امراض زیادہ پریشان کن ہوتے ہیں، بھائی خلجی پر جو بیماری حملہ آور ہوئی وہ اعصابی کمزوری اور فالج کا اثر تھا، ایک سفر کے دوران مکہ مکرمہ میں یہ لاحق ہوئی، علاج معالجہ میں تو کوتاہی نہیں کی گئی لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ دن بدن صحت متاثر ہوتی گئی، دھلی نرسنگ ہوم میں داخل کروایا گیا۔

3؍اپریل 2018ء تریسٹھ (63) برس کی عمر میں اپنے پیچھے مسلک وملت کی تڑپ کے انمٹ نقوش چھوڑ کر داعی اجل کو لبیک کہا، ’’جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے۔‘‘

اللہ عزوجل اپنے فضل وکرم سے صدیق محترم کی مغفرت فرمائے، ان کی بشری لغزشوں کو معاف کرے، جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔

دینی کتابوں کی اشاعت اور اپنی معاشی ضروریات کے لیے الدار العلمیہ قائم کیا تھا۔ مختلف کتابیں اپنی نگرانی میں شائع بھی کروائیں، لیکن خلجی صاحب کا بیشتر وقت دفتری امور کی انجام دہی میں صرف ہوجاتا، اپنے ادارہ کے لیے زیادہ وقت دے نہیں سکتے تھے اور تجارتی ادارے باقاعدہ وقت اور توجہ کے بغیر کامیابی سے چل نہیں سکتے یہی کچھ ان کے تجارتی ادارہ کا بھی حال تھا۔ اللہ ان کی باقیات صالحات کا بہترین بدلہ دے۔

تبصرہ کریں