اتباعِ سنت اور بدعات سے اجتناب کی اہمیت

 اتباعِ سنت اور بدعات سے اجتناب کی اہمیت

الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد   ترجم: حافظ عبدالحمید ازہر 

کتاب اللہ میں بہت سی آیات وارد ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ سے صادر ہونےو الے امور کی اتباع کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اس پر ابھارا گیا ہے اور رسول اکرم ﷺ کے لائے ہوئے حق اور ہدایت کی مخالفت کرنے نیز شرک و بدعات اور معاصی کے ارتکاب سے روکا گیا ہے۔ ان میں سے اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے:

﴿ وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾

’’ اور یہ کہ میرا راستہ سیدھا راستہ ہی ہے تم اسی پر چلنا اور راستوں پر نہ چلنا کہ ان پر چل کر اللہ کے راستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا تمہیں اللہ حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔‘‘(سورة الانعام: 153)

نیز یہ فرمان:

﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 36)

’’اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق (حاصل) نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کریں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہو گیا۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

’’پس جو لوگ آپ (ﷺ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے ایسا نہ ہو کہ ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔‘‘ (سورۃ النور: 63)

امام ابن کثیر﷫ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے۔’’ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت سے ڈرنا چاہیئے اور اس (حکم) سے مراد آپ کا راستہ، آپ کا منہج، آپ کا طریقہ، آپ کی سنت اور آپ کی شریعت ہے۔‘‘ اس لئے اقوال واعمال کو آپ کے اقوال و اعمال کی میزان پر تولا جائے گا جو اس کے موافق ہو مقبول ہو گا اور جو اس کے مخالف ہو گا اسے اس کے قائل و فاعل پر لوٹا دیا جائے گا(یعنی رد کر دیا جائے گا) خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» (صحیح مسلم: 1718)

’’جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے حکم (طریقہ و منہج) کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘

یعنی رسول اللہ ﷺ کی شریعت کی ظاہری یا باطنی طور پر مخالفت کرنےو الوں کو ڈرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ آفت کا شکار ہو جائیں یعنی ان کے دلوں میں کوئی نفاق یا بدعت پیدا ہو جائے یا انہیں دردناک عذاب آئے یعنی انہیں دنیا میں قتل یا حد شرعی کے نفاذ یا قید یا اسی قسم کی سزا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾  (سورۃ الاحزاب:61)

’’یقیناً تمہارے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ ہر اس شخص کے لئے جو اللہ(کی ملاقات) اور روزِ قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرتا ہو۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾  (سورۃ آل عمران: 31)

’’اے پیغمبر کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

امام ابن کثیر ﷫ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ آیت کریمہ ہر اس شخص کے خلاف فیصلہ دے رہی ہے جو اللہ کی محبت کا دعوی کرتا ہے لیکن طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے اس لئے کہ وہ درحقیقت جھوٹا ہے تا وقتیکہ اپنے اقوال و اعمال میں دین نبوی اور شرع محمدی ﷺ کی تابعداری کرے جیسا کہ صحیح(حدیث) میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»  (صحیح مسلم: 1718)

’’جس نے ایسا عمل کیا جوہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘

اس لئے اللہ نے فرمایا: ﴿ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ ’’ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ (سورۃ آل عمران :31)

یعنی تمہیں اس سے کہیں زیادہ مل جائے گا جس کے تم اس کے ساتھ محبت کے صلہ میں طالب ہو۔اور وہ ہے اس کی تمہارے ساتھ محبت۔ پہلی بات سے عظیم تر ہے جیسا کہ اہل علم و حکمت میں سے کسی کا قول ہے:

’’عظمت یہ نہیں کہ تم محبت کرو ، عظمت اس سے ہے کہ تم سے محبت کی جائے۔‘‘

سلف میں امام حسن بصری﷫ وغیرہ کا قول ہے:

’’ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ان کی آزمائش کی۔ ‘‘

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ (سورۃ آل عمران: 31)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾ (سورۃ البقرہ:38)

’’پس جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ0‏ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾

’’ تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ گمراہ ہو گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔‘‘ (سورۃ طہ: 123۔124)

نیز فرمایا:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’ تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔‘‘ (سورۃ النساء:65)

نیزفرمایا:

﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ﴾ (سورۃ الاعراف: 3)

’’لوگو!جو(کتاب و سنت) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوا اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا رفیقوں (اولیاء) کی پیروی نہ کرو تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ ‘‘

نیز فرمایا:

﴿وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ 0‏ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ﴾

’’اور جو کوئی رحمٰن کی یاد سے آنکھیں بند کرتا ہے یعنی تغافل اختیار کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے اور یہ شیطان ان کو اصل راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں۔‘‘ (سورۃ الزخرف:36۔37)

نیز فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾

’’مومنو!اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برادری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی طرف (ہی) رجوع کرو یہ بات بہت اچھی ہے۔‘‘ (سورۃ النساء:59)

نیز فرمایا:

﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ﴾  (سورۃ الشوریٰ:10)

’’اور تم جس بات میں اختلاف کرنے لگو تو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہو گا۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾

’’اے پیغمبر!کہہ دو اللہ کی فرماں برداری کرو اور رسول ﷺ کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول ﷺ کے ذمہ تو صرف اس چیز کا ادا کرنا ہے جس کا اسے ذمہ دار بنایا گیا اور تمہارے ذمہ اس چیز کو ادا کرنا ہے جس کے تم ذمہ دار بنائے گئے ہو اور اگر تم اس کے حکم پر چلو تو سیدھا راستہ پاؤ گے۔ اور رسول ﷺ کے ذمہ تو صاف صاف احکام الٰہی کا پہنچا دینا ہے۔‘‘ (سورۃ النور:54)

﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (سورۃ الحشر:7)

’’ سو جو چیز پیغمبر تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ‘‘

نیز فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ (سورۃ الحجرات:1)

ایمان والو کسی بات کے جواب میں اللہ اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو، اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

نیز فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾

’’ مومنو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جبکہ وہ (رسول) تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی(جاوداں) بخشتا ہے اور جان رکھو اللہ (تعالیٰ)، آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے رُوبرُو جمع کئے جاؤ گے۔’’ (سورۃ الانفال:24)

نیز فرمایا:

﴿ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 0‏ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾  (سورۃ النور:51۔52)

’’مومنوں کی بات تو یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے حکم سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ کا خوف رکھے گا اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ‎﴾  (سورۃ فصلت: 30)

’’ جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور اس بہشت کی خوشی مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿ أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ ۚ﴾

’’کیا ان کے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ: 21)

نیز فرمایا:

﴿فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾  (سورۃ الاعراف:157)

’’ تو جو لوگ اس (رسول) پر ایمان لائے اور اس کی رفاقت اختیار کی اور اسے مدد دی اور جو نور اس کے ساتھ نازل ہوا اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔ ‘‘

اور جب قرآن سننے کے بعد جنات اپنی قوم کی طرف نصیحت کنندہ بن کر گئے تو انکے متعلق فرمایا:

﴿‏ يَا قَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ 0‏ وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءُ ۚ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ (سورۃ الاحقاف:31۔32)

’’اے قوم اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ! تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میں رکھے گا اور جو شخص اللہ کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کر سکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے، یہ لوگ صریح گمراہ ہیں۔‘‘ (جاری ہے۔)

٭٭٭

عید الفطر کے دن مولانا شیر خان جمیل کی والدہ وفات پا گئیں

برطانیہ میں عید الفطر کے دن مولانا شیر خان جمیل احمد عمری کی والدہ محترمہ صفورہ خاتون بنت مولانا عبد العزیز جامی عمری زوجہ شیر خان محمد اسحاق ﷾ ادونی کورونا مرض سے وفات پا گئیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

مرحومہ اس دور کی رابعہ بصری تھیں، پابند شرع اور خوش سیرت وکردار تھیں، اللہ پاک نے انہیں بہت ہی مالدار بنایا تھا اور اپنی دولت کو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور لوگوں کی ڈھیروں دعائیں حاصل کرتی رہیں، ہر وقت ان کا دولت خانہ مہمانوں، علماء کرام، سفراء اور حاجت مندوں سے بھرا رہتا تھا، غرضیکہ ان کی زندگی ایک مثالی تھی اور موت بھی ایک مثالی تھی، اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں دی ہیں جو سبھی دینی سماجی اور رفاہی کاموں میں والد محترم کی نگرانی میں مصروف عمل ہیں، عید کے دن 13 مئی 2021ء کو بعد نماز مغرب مولانا شیر خان جمیل احمد عمری نے اشکوں کی برسات میں والدۂ مرحومہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ بہت سے احباب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحومہ کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور شوہر نامدار اور بچوں اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ایک ہزار سے زائد لوگوں نے مولانا جمیل عمری سے اظہار تعزیت کیا ہے، اللہ قبول فرمائے۔ آمین

٭٭٭٭

تبصرہ کریں