اتباع سنت کے فوائد اور بدعت کے نقصانات۔فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن البعیجان

پہلا خطبہ

ہر قسم کی حمد وثنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس نے ہمیں کامل و اکمل دین کی صورت میں بہت بڑے انعام سے نوازر اور بطور دین ہمارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کوئی الہ نہیں ، جس کسی نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ کھلی گمراہی میں جا پڑا ۔ میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، ان پر ، ان کی آل اولاد اور تمام صحابہ کرام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بہت زیادہ سلامتی نازل ہو۔

ازاں بعد ! بلاشبہ بہترین بات اللہ کی کلام ہے اور بہترین طریقہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہےاور نت نئے ایجاد کردہ طریقے بدترین امور اور بدعت ہیں ، اور ہر بدعت کا انجام گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔

اللہ کے بندو! میں تمہیں اور خود اپنے آپ کو تقوی اپنانے کی تلقین کرتا ہوں ، اللہ تعالی نے بھی اگلے پچھلے تمام لوگوں کو اسی کی نصیحت فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ﴾

’’ اور واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تمہیں بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ (سورة النساء: 131)

اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو بڑی عزت اور فضیلت سے نوازا ہے کیونکہ اس نے اسے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی اور اسی عقل کی بنیاد پر اسے مکلف ٹھہرایا ، اس کے لیے بہت سارے احکامات اور شریعت سازی کا سلسلہ چلایا ، حلال وحرام کو اس پر واضح فرمایا ، اپنے فرماں برداروں کے لیے جنت کا انعام جبکہ نافرمانوں کے لیے جہنم کا عذاب تیار کیا۔

اللہ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کو مبعوث فرما کر لوگوں کے تمام عذر بہانے ختم کر ڈالے، انبیاء ﷩ لوگوں کو خوشخبریاں بھی سناتے تھے اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے بھی تھے۔ سلسلۂ بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ (سورة النساء: 165)

’’ تاکہ اُن رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔‘‘

اللہ تعالی نے انبیاء کرام کو سامانِ ہدایت اور واضح نشانیاں عطا کر کے مبعوث فرمایا اور انہیں کتاب اور میزان دے کر بھیجا تاکہ لوگ عدل وانصاف سے کام لیں ، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾ (سورة الحديد: 25)

’’ یقیناً ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔‘‘

شریعتوں اور نبیوں کے اس مبارک سلسلے کا اختتام دین اسلام اور ہمارے پیارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ پر ہوا، انہیں اللہ تعالی نے مخلوقات میں افضل ترین بنا کر مبعوث فرمایا، ان کی حیات طیبہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے ، وہ رحمت للعالمین اور تمام نبیوں اور رسولوں کے امام اور اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ، وہ گواہیاں دینے والے، خوشخبریاں سنانے والے، ڈرانے والے اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والے روشن چراغ بنا کر مبعوث کیے گئے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ (سورة التوبہ: 128)

’’ دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر گراں گزرتا ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔‘‘

اے لوگو! اللہ تعالی نے اپنی اطاعت کو نبی کریم ﷺ کی اطاعت کے ساتھ اور اپنی محبت کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کے ساتھ ذکر فرمایا ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ (محمد: 33)

’’ اے ایمان والو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو۔‘‘

ایک دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا:

﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا﴾ (النساء: 80)

’’ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے۔‘‘

اور ایک تیسرے مقام پر یوں فرمایا:

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾ (سورة آل عمران: 31)

’’ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا۔‘‘

چنانچہ اللہ کی محبت کی علامت اور دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ اور سنت کی مکمل طور پر اتباع کی جائے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾ (سورة الأحزاب: 21)

’’ یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے۔‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (سورة الحشر: 7)

’’ اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کی اتباع کرنے والا شخص ہی صراط مستقیم اور درست منہج پر ہے ، فرمان باری تعالی ہے:

﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ * صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ﴾ (سورة الشورى: 52-53)

’’ بیشک آپ راه راست کی رہنمائی کر رہے ہیں * اس اللہ کی راه کی جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاه رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔‘‘

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے یوں ارشاد فرمایا:

﴿ يس*وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ* إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ * عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾

’’ یٰس ۔ قسم ہے قرآن حکیم کی ۔ کہ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو ۔ سیدھے راستے پر ہو۔‘‘ (سورة يٰس: 1-4)

اللہ کے بندو! دین اسلام کا بنیادی تقاضا ، ایمان کا اساسی رکن اور اعمال کی قبولیت کی لازمی شرط یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی کی جائے ، اس کے آگے سر تسلیم خم کیا جائے اور عملی طور پر اسے اپنا لیا جائے۔ فرمان باری تعالی ہے:

﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾

’’ پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔‘‘ (الکہف: 110)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورة النساء: 65)

’’ چنانچہ قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرماں برداری کے ساتھ قبول کر لیں۔‘‘

جبکہ ایک تیسرے مقام پر اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:

﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا﴾ (سورة الأحزاب: 36)

’’ اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ﴾ (سورة النساء: 64)

’’ ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے۔‘‘

نبی کریم ﷺ کی حکم عدولی اور آپ ﷺ کی سنت کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالی نے ذلت ورسوائی کا عذاب رکھا ہے ، سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«وجُعِلَ الذلُّ والصَّغارُ على مَنْ خالَف أمري» (مسند أحمد:5667)

’’ جو لوگ میرے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ، ذلت ورسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔‘‘

اے لوگو! نجات اور ہدایت صرف اسی شخص کو ملے گی جو نبی کریم ﷺ کی اطاعت اور آپ ﷺ کی سنت پر مضبوطی سے کاربند رہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ (سورة النور: 54)

’’ کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پرلازم کردیا گیا ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو، اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے ۔‘‘

مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کے دشمن تھے ، لیکن جب تک آپ ﷺ ان کے بیچ قیام فرما رہے تب تک اللہ تعالی نے ان دشمنوں سے بھی اپنے عذاب اور آزمائش کو روکے رکھا، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾

’’اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے۔‘‘ (سورة الأنفال: 33)

اسی طرح امت محمد میں سے جو لوگ نبی کریمﷺ سے محبت کرتے اور آپ ﷺ کی اطاعت بجا لاتے ہیں ، اللہ تعالی انہیں بھی عذاب اور آزمائش سے محفوظ رکھتا ہے ، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوے فرمایا ہے کہ ان کی یہ حکم عدولی کسی فتنے یا عذاب کا سبب بن جائے گی ، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

’’ رسول (ﷺ) کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔‘‘ (النور: 63)

اللہ کے بندو! نے اپنے تمام بندوں کو( حق کے لیے) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا، اور جو ان کے لیے حلال کیا گیاتھا انھوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان (بندوں )کو حکم دیا کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کریں جس کے لیے اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی ۔اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے(کچھ )بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا ، پھر اللہ تعالی نے ان کی طرف بہترین پیغمبر کو بہترین شریعت اور افضل ترین کتاب دے کر مبعوث فرمایا۔

چنانچہ عزت وسعادت کے متلاشی لوگوں کو اللہ تعالی نے ہدایت کی دولت سے مالامال فرمایا اور جن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے طریقے اور سنت کو پس پشت ڈال دیا، بدبختی اور رسوائی ان کا مقدر ٹھہری۔

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ،‌‌ ‌لَا ‌يَسْمَعُ ‌بِي ‌أَحَدٌ ‌مِنْ ‌هَذِهِ ‌الْأُمَّةِ، وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ»

’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس اُمت (امّتِ دعوت) کا کوئی ایک بھی فرد، یہودی ہو یا عیسائی، میرے متعلق سن لے، پھر وہ مر جائے اور اُس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا، تو وہ اہل جہنم ہی سے ہوگا۔‘‘(صحيح مسلم:153)

اللہ کے بندو! اس ساری گفتگو کے بعد یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ ہر طرح کی خیر اور بھلائی صرف اور صرف اتباع سنت میں ہے ، کیونکہ یہی کافی وشافی شریعت ہے ، یہی ہدایت کا راستہ اور انسان کے لیے کار آمد علم ہے۔ اللہ تعالی نے دین اسلام کو مکمل فرما دیا ، ہمیں اپنی مکمل نعمت سے نواز دیا، ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ہم تک پیغامِ الہی پہنچانے کا حق ادا کر دیا ، نیکی کے ہر کام کی طرف انہوں نے اپنی امت کی رہنمائی فرمائی اور برائی کے ہر کام سے انہوں نے اس امت کو ڈرایا ، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ (سورة المائدة: 3)

’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔‘‘

پس بہترین طریقہ ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ کا طریقہ ہے ، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس طریقے کو اپنانے اور اسے اپنے لیےمشعلِ راہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب لوگوں کو قرآن کریم کی برکتوں سے فائدہ پہنچائے اور ہمیں اس کی آیات اور ذکر حکیم سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ، اب میں اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتا ہوں ، تم بھی اسی سے معافی مانگو ، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی تعریف اس پروردگار کے لیے ہے جو حق کو عزت اور رفعت عطا فرماتا ہے اور باطل کو ذلیل اور پست کرتا ہے۔ صرف اللہ ہی کی عزت وقوت اور بادشاہت دائمی ہے، اس کے سوا ہر چیز کو ہلاک ہونا ہے، اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے ، عذاب اور پکڑ صرف ظالموں کی ہے۔

اللہ کے بندو! اللہ کی طرف سے تمہاری طرف جو کچھ نازل کیا گیا ہے تم اس کی پیروی کرو اور اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی سے اجتناب کرو ، شریعت کو مضبوطی سے تھام لو ، نبی کریم ﷺ کے طریقے پر مضبوطی سے کاربند رہو اور ان کی سنتوں کو اپنا لو، گم گشتہ سنتوں کا احیاء کرو اور اس راستے میں صبر واستقامت سے کام لو ، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ (سورة آل عمران: 139)

’’ تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو۔‘‘

سیدنا ابو ثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ ‌أَيَّامًا ‌الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ. قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: وَزَادَنِي غَيْرُ عُتْبَةَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنَّا أَوْ مِنْهُمْ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَجْرُ خَمْسِينَ رَجُلًا مِنْكُمْ» (جامع ترمذی:3058)

’’تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا (کسی بات پر جمے رہنا) ایسا مشکل کام ہوگا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب وسنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ (اس حدیث کے راوی) عبداللہ بن مبارک ﷫ کہتے ہیں: عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا: اللہ کے رسول! (ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے۔‘‘

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ كَمَا بَدَأَ غَرِيْبًا، فَطُوْبَى لِلْغُرَبَاءِ» (صحيح مسلم:145)

’اسلام کا آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور عنقریب پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، خوش بختی ہے اجنبیوں کے لیے۔‘‘

ان اجنبی لوگوں کے متعلق جب آپ ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ خوش نصیب لوگ کون ہیں تو آپﷺ نے فرمایا:

«هُمُ الذين يُصلِحون إذا فسَد الناسُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْرِزَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى مَا بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ ‌كَمَا ‌تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى حُجْرِهَا» (موافقة الخبر الخبر للحافظ ابن حجلر العسقلاني 1/135 )

’’ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت اصلاح کا کام کریں گے جبکہ لوگوں میں بگاڑ آ چکا ہوگا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کہ اسلام ان دو مسجدوں ( مسجد حرام اور مسجد نبوی ) کے درمیان اس طرح پناہ گزیں ہو جائے گا جس طرح سانپ اپنی بل میں میں پناہ پکڑتا ہے۔‘‘

اللہ کے بندو!نبی کریم ﷺ نے ہمیں بدعات سے بچنے کی تلقین کرتے ہوے ارشاد فرمایا:

«مَنْ أحدَث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو ردٌّ» (صحيح مسلم:1718)

“جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسی نئی بات شروع کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘

اسی طرح ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

«مَنْ عَمِلَ عملًا ليس عليه أمرُنا فهو ردٌّ»

’’ جو شخص ایسا کام کرے جس کا حکم ہم نے نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔‘‘ (صحيح مسلم:1718)

سیدنا عرباض بن ساریہ بیان کرتے ہیں کہ

«وَعَظَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ ‌يَوْمًا ‌بَعْدَ ‌صَلَاةِ ‌الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وإيَّاكم ومُحدَثاتِ الأمور؛ فإنَّ كُلَّ مُحدَثةٍ بِدعةٌ، وكُلَّ بِدعةٍ ضَلالةٌ» (سنن أبى داود:4607 ؛ جامع ترمذی: 2676)

رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں نماز فجرکے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرزگئے ، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے (آخری بار) رخصت ہوکرجانے والے کیاکرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے ،امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتاہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو،کیوں کہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ (امت کے اندر) بہت سارے اختلافات دیکھے گا توتم (باقی رہنے والوں) کو میری وصیت ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیوں کہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت اپنائے رکھنا ، سنت کو خوب مضبوطی سے تھامنا ، بلکہ ڈاڑھوں سے پکڑے رہنا ، نئی نئی بدعات و اختراعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا ، بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ “

اللہ کے بندو! بدعت ایسی گمراہی ہے کہ جو دین کا چہرہ مسخ کر دیتی ہے ، ایسا انتشار ہے جو اتحاد امت کو بکھیر دیتا ہے اور بدعت کھلم کھلا گمراہی اور باعثِ نحوست وبدبختی ہے۔ چنانچہ تم لوگ اللہ کی بات مانو اور رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر کاربند رہو ، فرمان باری تعالی ہے:

﴿فَإِنْ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكَ فَاعْلَمْ أَنَّمَا يَتَّبِعُونَ أَهْوَاءَهُمْ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنَ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ (سورة القصص: 50)

’’ پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

اللہ آپ پر رحم فرمائے ، نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجو ، کیونکہ اللہ تعالی نے اس کا حکم دیتے ہوے ارشاد فرمایا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 56)

’’ اللہ اور اسکے فرشتے محمد (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو، تم بھی ان پر خوب درود و سلام بھیجو۔‘‘

 

تبصرہ کریں