اِسلام کا خاندانی نظام۔حفیظ الرحمٰن اعظمی عمری

کسی بھی خاندان کے بنانے، سنوارنے، برباد کرنے، نیک نام یا بدنام کرنے، جوڑ کر رکھنے یا توڑنے میں عورت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اسی لیے مرد شادی کی سوچتا اور ارادہ کرتا ہے تو شریعت اسلامیہ نے شریکِ حیات کے انتخاب کو بڑی اہمیت دی ہے۔ دین دار اور باصلاحیت بیوی کو دنیا کا سب سے بڑا انعام قرار دیا گیا ہے۔ اولاد کی قابل تعریف نشوونما اور لائق ذکر تعلیم وتربیت کا دور ماں کی گود اور آغوش سے شروع ہوتا ہے۔ بنیاد کا پتھر صحیح ہو جائے تو ثریا تک بنی دیوار سیدھی جا سکتی ہے۔ خشتِ اول ہی میں کچھ گڑبڑ اور کجی آ جائے تو اخیر تک اس کے اثرات نمایاں رہتے ہیں۔

اسلام ایک ایسا خاندان چاہتا ہے جس میں افرادِ خاندان امن وامان، سکون و راحت اور عافیت وطمانیت کے ساتھ خوش گوار زندگی بسر کر سکیں۔ ایسا ماحول اسی وقت ممکن ہے جب ہر شخص چاہے مرد ہو یا عورت، اپنے حقوق وفرائض ٹھیک ٹھیک پہچان کر ادا کرنے اور نبھانے کی کوشش کرتا رہے۔ انسانی معاشرہ مرد اور عورت کے تعلق سے شروع ہوتا ہے۔ اسلام نے میاں بیوی کے رشتے میں بڑا توازن اور اعتدال رکھا ہے۔ دونوں کے حقوق وفرائض کا دائرۂ کار متعین کیا ہے۔ زن وشوہر کو ایک دوسرے کا لباس قرار دے کر ایک دوسرے کے عیوب ونقائص پر پردہ پوشی کا حکم دیتاہے۔ مرد کو محنت ومشقت کے کام دے کر عورت کو اس کی بالادستی قبول کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسری طرف عورت کی نزاکت ولطافت اور اس کی فطری جلد بازی کا خیال رکھ کر مرد کو حکم دیتا ہے کہ اس کی کسی ایک کمزوری پر برافروختہ نہیں ہونا ہے۔ ایک کمزوری نظر انداز کر دو گے تو اس کی بیشتر خوبیاں تمہاری نظروں میں آئیں گی:

﴿فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ (سورة النساء: 19)

’’ہو سکتا ہے کہ ایک بات تم ناپسند کرتے ہو اور اسی میں اللہ نے تمہارے لیے بہت کچھ بہتری رکھ دی ہو۔‘‘

گھر کی عزت عورت کی قابلیت وصلاحیت سے ہے۔ یہ سب کے علم میں ہے۔ یہ حقائقِ زندگی کا فلسفہ نہیں کہ پڑھے لکھے لوگ ہی سمجھ سکیں۔ کتابوں سے دور اور علم سے محروم میاں بیوی بھی بخوبی جانتے، سمجھتے اور برتتے ہیں۔ باہمی سمجھوتے کے بغیر زندگی کی گاڑی کامیابی کے ساتھ اپنا سفر طے نہیں کر سکتی۔

اس طول طویل تمہید کے بعد میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اسلام مشترکہ خاندانی نظام پسند کرتا ہے یا جداگانہ نظام کو، جس میں خاندان کے صرف عناصرِ اربعہ ہی ہوں گے: ماں، باپ، بیٹا، بیٹی۔ یہ سوال جس قدر آسان اور مختصر ہے ، اس کا جواب اسی قدر مشکل اور مفصل ہے۔

اسلامی احکام وتعلیمات دنیائے انسانیت کے لیے امن وسکون اور راحت ومسرت کا پیغام وانعام ہیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان جہاں بھی رہیں، جیسے بھی رہیں، مسائل ومشاکل پیدا کیے بغیر خود بھی سکھ کے ساتھ خوش رہیں اور دوسروں کے آرام وراحت کا بھی پوری طرح خیال ولحاظ رکھتے رہیں۔ آداب معاشرت کے طور طریقوں کی مکمل پابندی اور پاسداری ہو۔ گھر میں رہیں یا گھر سے باہر، ان کی ذات، بات اور کوئی بھی حرکت دوسروں کی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔

خاندان کا اسلامی تصور بڑا آفاقی ہے۔ ساری دنیائے انسانیت کو ایک ہی خاندان کے افراد گردانتا ہے۔ فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ﴾ (سورة الحجرات: 13)

’’اے لوگو! ہم نے دنیا میں تمہاری خلقت کا وسیلہ مرد اور عورت کا اتحاد رکھا اور تمہیں نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا، اس لیے کہ باہم پہچانے جاؤ۔ امتیاز وشرف اسی کے لیے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘

آدم کی اولاد کے ماں باپ ایک ہی ہیں۔ خاندان اور قبائل کی تقسیم صرف اسی لیے حساب میں لائی گئی کہ ایک دوسرے کے حقوق اور ان کی ضرورتوں کو پہچان کر میل ملاپ اور صلہ رحمی کے حقوق وفرائض آسانی کے ساتھ انجام دے سکیں۔ اسلام میں خاندان کا بڑا اونچا مقام اور احترام ہے۔ خاندانی نظام کا وقار اور اس کی پسندیدہ روایات واقدار کو برقرار رکھنا اور ہر قسم کی پراگندگی سے محفوظ رکھنا مسلمان کا اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے۔ زنا کی برائی پر اسلام کی سخت ترین مذمت اور سنگین سزا صرف اسی لیے ہے کہ اس کی لعنت ونحوست کی وجہ سے خاندن نہ صرف بدنام ہوتا ہے، بلکہ پراگندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ خاندان کا وقار اور اس کے افراد کا اعتبار بری طرح مجروح ہو جاتا ہے۔ ایسے منحوس وملعون کسی بھی خاندان کے چشم وچراغ نہیں کہلا سکتے۔ معاشرے میں وہ سربلند کر کے چل نہیں سکتے، آنکھیں ملا کر باتیں نہیں کر سکتے۔ خاندان ایک محترم اور معتبر نام ہے، اس سے رشتے جوڑنے اور وابستہ رہنے کے لیے شرافت ونجابت بنیادی عنصر ہے۔

خاندان جتنا بڑا ہوتا ہے، اس کے مکین ومکان بھی اتنے ہی بڑے اور پھیلے ہوئے ہوں گے۔ مسائل کا انبار ہو گا تو سربراہِ خاندان کو بڑے ظرف، حوصلے، صبروتحمل اور حکمتِ عملی کی ضرورت ناگزیر ہو گی۔ مسائل گوناگوں ہوں گے۔ مشترک خاندان کے افراد مختلف رجحانات ومیلانات کے ہوں گے۔ ان کے روزگار کے وسائل ومسائل میں اونچ نیچ ہو گی۔ کھانے پینے، رہنے سہنے، پہننے اوڑھنے کے معیارات بھی متفرق ہوں گے۔ اولاد بھی کسی کی کم اور کسی کی زیادہ ہو گی۔ تعلیم وتربیت میں بھی آگے پیچھے اور اوپر نیچے، کچھ کفایت شعار اور کچھ فضول خرچ ہوں گے۔ صحت اور تندرستی، حسن وجمال اور ذہن و دماغ میں بھی علیحدہ علیحدہ ہوں گے۔ ان کی خواتین اور بیگمات کی زبان، اندازِ بیاں، ذوق وشوق اور سوچ بچار میں نمایاں فرق ہو گا۔ سربراہ کے لیے ان سب کو جوڑ کر رکھنا، محبت والفت برقرار رکھنا، سب کو ہنسی خوشی راضی بہ رضا رکھ کر ساتھ لے کر چلنا ایک بڑے امتحان سے کم نہ ہو گا۔ ایسے گھمبیر مسائل کیسے حل کیے جائیں گے، اس کی بھرپور تعلیم کتاب وسنت میں موجود ہے، مگر اس کے آگے سرتسلیم خم کر کے سب کے حقوق کا تحفظ اور اپنی شخصیت کو سید القوم خادمہم کی سطح پر لانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ نت نئے مسائل درپیش ہوں گے تو حکمت و دانائی کے ساتھ سب کو مطمئن کرنا آسان تو نہیں ہوگا۔ عہدِ نبوت میں ایک گھر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک نے درباِر رسالت میں شکایت کی کہ دن بھر روزی روٹی کے لیے میں محنت کرتا ہوں، جب کہ میرا بھائی مسجد میں آپ کی صحبت میں وقت گزارتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:

«لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ» (جامع ترمذی)

’’تمہیں جو رزق ملتا ہے، شاید وہ اسی کی نیکیوں کی بدولت ہے۔‘‘

طرفین کو ایسے فیصلے پر راضی رکھنا اور ہنسی خوشی برداشت کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے علم، مہارت، تجربے اور دور اندیشی کے ساتھ ہر دل عزیزی بھی لازم ہے۔ ایک بھی فریق اَڑ جائے یا اکڑ جائے تو خاندان کی شیرازہ بندی بکھر کر رہ جائے گی۔ بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ رحمت وشفقت، چھوٹوں کو بڑوں کے ساتھ اکرام واحترام کا مکمل لحاظ رکھنا ہو گا۔ برابری کے افراد کچھ دو اور کچھ لو، کے اصول پرخندہ پیشانی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ہر چھوٹے بڑے کام کو انجام دیں گے۔ خواتین اپنی سطح سے بلند ہو کر معافی دینے اور معافی چاہنے کا حوصلہ رکھیں گی۔ کم عمر نونہالوں کی آپسی لڑائی میں فریق بنے بغیر ثالث بن کر ایک دوسرے پر الزام نہ رکھ کر ہنسی مذاق میں معاملے کو سلجھائیں گی۔ بچوں کے معاملات ونزاعات بے جا تو کیا بجا طرف داری بھی اچھے نتائج نہیں لائے گی۔ اس میں ذرا بھی کمی بیشی اور امتیازی سلوک مشترکہ خاندان کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دے گا۔

حقیقت میں خاندان اللہ کی بڑی نعمت ہے اور انسان کی عظمت وطاقت میں اضافے کا موجب ہے۔ قرآن وحدیث اور سیرت وتاریخ میں آپ کو بہت سے واقعات اس موضوع پر پڑھنے کو ملیں گے۔ خاندان کا رعب داب مخالفین کو لرزا دیتا ہے۔ سیدنا شعیب کی دعوت اصلاح سے سارا معاشرہ بیزار اور ناراض ہے۔ لوگ آپ کو سخت سے سخت اور سنگین سزا دے کر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دینے کا ارادہ کرتے ہیں، لیکن آپ کی خاندانی عظمت وشوکت سے مرعوب اور سہمے ہوئے ہیں۔ اپنی بے بسی کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

﴿ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ ﴾ (سورة هود: 91)

’’اگر (تمہارے ساتھ) تمہاری برادری کے آدمی نہ ہوتے تو ہم ضرور تمہیں سنگ سار کر دیتے۔ ہمارے سامنے تمہاری کوئی ہستی نہیں۔‘‘

یعنی ہمارے پاس تمہاری شخصیت کی کوئی حیثیت نہیں، اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم کبھی کا سنگسار کر دیے ہوتے۔

مکہ مکرمہ میں دشمنانِ اسلام نے رسول اکرمﷺ کی آواز حق کو دبانے اور ختم کرنے کے لیے کئی خطرناک اور ناپاک منصوبے بنائے، مگر انجام دینے کی راہ میں رسول اکرمﷺ کی خاندانی عظمت وشوکت ہی ہر بار آڑے آئی اور انہیں باوجود کوشش وخواہش کے اسی خوف نے کسی انتہائی اقدام سے باز رکھا کہ بنو ہاشم اور عبد مناف کا پورا خاندان ہمارے مقابلے میں آ جائے تو ہم ذلیل وخوار ہو کر رہ جائیں گے۔

بہرحال خاندان کی قوت وطاقت اور معاشرے میں اس کے اثرات سے کسی کو انکار تو کیا، شک وشبہ بھی نہیں ہو سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ خاندان جتنا بڑا ہو گا، اس کے مسائل بھی پیچ درپیچ ہوں گے۔ خصوصاً مسلمان کے لیے اسلام کے سارے احکام پر عمل پیرا ہو کر صلہ رحمی کے تقاضوں کی تکمیل اور ہر حق دار کو اس کا حق دینا، معاشرتی آداب کا پورا لحاظ رکھنا، نیز حجاب اور پردے کے نازک اور باریک مسائل کی پابندی قدم قدم پر آزمائش بنی رہے گی۔ ہر رشتے کا ایک متعین اور مقررہ حق ہے۔ اس میں ذرا سی غفلت نظام اسرہ کو درہم برہم کر کے رکھ دے گی۔ باپ کا مقام بتایا، بڑے بھائی کو محترم قرار دیا، چھوٹوں کو رحمت وشفقت کا حق دار ثابت کیا، ماں کے قدموں کے نیچے جنت کی خبر دی، خالہ کو ماں کے برابر کا درجہ بخشا، یتیم کی کفالت وتربیت پر پورا زور صرف فرمایا، اولاد کے درمیان عدل وانصاف کا حکم دیا اور معمولی سے معمولی بات کی اصلاح میں نظر کرم فرمائی۔ مجلس میں آپ خطاب فرما رہے ہیں۔ اصحاب رسول ہمہ تن گوش ہیں اور سب پر آپ کی نظر عنایت ہے۔ ایک شخص کا بیٹا آتا ہے۔ وہ اسے بوسہ دے کر گود میں بٹھا لیتا ہے۔ کچھ دیر بعد اس کی بیٹی آتی ہے۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر پہلو میں جگہ بنا لیتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:

«ماعدلت بينهما» (سلسلة الصحيحه: 6/1249)

’’میرے بھائی! تم نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔‘‘

گھر میں نوکر چاکر ہوں گے۔ ان کے ساتھ سلوک ومعاملہ اور سب سے نازک مسئلہ عم زاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد، ماموں زاد، دیور، جیٹھ اور نسبتی بہنیں، ان کے ساتھ پردے اور حجاب کے مسائل، ان سے آزادانہ اختلاط اور بے تکلفی کی نشستیں یہ سب اسلام میں سخت معیوب وممنوع ہی نہیں، دشمن جان وایمان بھی ہیں۔

گھر کے افراد زبان وبیان ہی میں محتاط نہیں، طنز وطعن، تضحیک وتحقیر کا ہلکا لفظ تو کیا آنکھوں کے اشاروں، ہونٹوں کی حرکت اور پیشانی کے بل سے بھی کسی کی دل آزاری ہو جائے تو یہ ناقابلِ برداشت حرکت ہو گی اور اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ گھر کی چھوٹی بات بھی باہر جائے تو دور تک سنائی دے گی:

سبزۂ پامال سے بھی وجہِ بربادی نہ پوچھ                                                              بات چل نکلی تو پھر یہ باغ باں تک جائے گی

خاندان کا اعتبار و وقار بری طرح مجروح ہو گا۔ جلنے جلانے والوں کے لیے نئے نئے موضوع ملتے چلے جائیں گے۔

مشترکہ خاندان کی برکت و طاقت اور اس کی عظمت واہمیت پر بہت سی باتیں قارئین کے سامنے آ گئیں۔ دلائل بھی عقلی، نقلی سب جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔ خاندان جتنا بڑا ہو گا، معاشرے میں اس کا اتنا ہی بڑا مقام ہو گا۔ لیکن جن کے مقام رہتے ہیں بڑے، ان کے مسئلے بھی بہت۔

امہات المؤمنین کو قرآن نے کتنا اونچا مقام دیا۔ عام خواتین سے ان کو بالکل الگ بتا کر یہ بھی سنا دیا کہ ان کی خطاؤں پر سخت گرفت ہو گی اور ان کی سزائیں بھی دوگنی ہوں گی:

﴿ يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ﴾ (سورۃ الاحزاب: 30)

’’ اے نبی کی بیویو! تم میں جو کھلی ہوئی برائی کی مرتکب ہوں گی، اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔‘‘

مشترکہ خاندان پسندیدہ ہے، قابل تعریف ہے اور سب کے لیے لائق فخر ہے، لیکن کتاب وسنت کے احکام کو سر اور آنکھوں پر رکھ کر زندگی بسر کرنا سربراہ کے لیے آسان ہے اور نہ ماتحتوں کے لیے۔ بھول چوک، کمی اور کسر سے مفر نہیں۔ احکام کی تفصیل میں نہیں پیش کر سکا، کیونکہ سب کے علم میں ہے کہ ذمے داریوں کی فہرست کتنی طویل ہے اور سرپرست کو کتنا عالی ظرف، بلند حوصلہ، صاحب تدبیر اور حکیمانہ طرزِ معاشرت اختیار کرنا کس قدر ضروری ہے۔ اس کی ذرا بھی بھول چوک، صبر وتحمل میں کمزوری، عدل وانصاف میں بے احتیاطی، خاندانی شیرازہ بندی کو تنکوں کی طرح بکھیرے کر رکھ دے گی۔ اسی طرح افرادِ خاندان میں قوتِ برداشت، ایثار وبے نفسی، قناعت پسندی اور اطاعت شعاری کا وصف لازم ہے۔ پھر شریعت کے احکام، صلہ رحمی، عفو و درگزر، پردے اور حجاب کی پابندی، یہ سب ہر ایک کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لیے خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرپرست اور ماتحت دونوں ہر اعتبار سے دائرۂ احکام کے پابند ہوں، جو بڑے کلیجے اور حوصلے کا کام ہے، تو مشترکہ خاندانی نظام کو اولیت دی جائے گی اور یہ بڑی عظمت اور عزیمت کا کارنامہ ہو گا۔ اور اگر دونوں، یا دونوں میں کوئی ایک اپنے آپ کو اس معیار پر پورا اترتا نہ دیکھے تواس کے لیے رخصت کی راہ کھلی ہوئی ہے:

جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

علیحدہ علیحدہ مختصر کنبے جب ہوں گے تو میاں بیوی اور اولاد کے ساتھ گزر بسر رہے گی، سارے خاندان سے تعلقات بحال اور مستحکم رکھیں گے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ، تحفے تحائف کا تبادلہ، ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقفیت اور صلۂ رحمی کے تمام آداب کا پاس ولحاظ، عید برات، شادی بیاہ میں سب کا اجتماع، ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا اور دل کھول کر مادی اور اخلاقی تعاون میں پیش پیش رہنا، مشوروں میں شریک رہنا اور شریک کرنا، تبادلۂ خیالات میں کھلے دل سے دلائل کا وزن محسوس کرنا اور ایک دوسرے کی بات کو سر آنکھوں پر رکھنا اور ایسے ہی تمام اخلاق اصول وضوابط کے پابند ہوں تودور رہ کر بھی مشترکہ خاندان کا ثبوت اور مثال پیش کر سکتے ہیں اور میری رائے میں یہی اندازِ معاشرت میل ملاقات اور الفت ومحبت میں زیادہ خوش گوار اور پائیدار رہے گا۔ کئی برتن جہاں مل کر رکھیں گے تو وہاں کھنک ضرور سنائی دے گی۔ کچھ انسان کی فطرت بھی تنوع کی خواہش مند ہے۔ ضرورت اور بلا ضرورت کے فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے تو اکتاہٹ اور بوریت سے آدمی محفوظ رہ سکتا ہے۔ روز روز کی ملاقات سے ناغے کی ملاقات محبت میں اضافے کا باعث ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے:

زرغبا تزدد حبا وقفے وقفے سے ملاقات کرتے رہو، انتظار رہے تو ملاقات کا مزہ ہی کچھ اور ہے:

رہوں قریب تو موجودگی گراں گزرے                                                                                         قریب رہ نہ سکوں تو کمی گراں گزرے

میں کچھ کہوں تو مری بات بارِ خاطر ہو                                                                                         میں چپ رہوں تو مری خاموشی گراں گزرے

رہی اسلام کی پسند تو وہ میں نے بتا دی۔ مشترکہ خاندان عزیمت ہے اور علیحدہ گھرانہ رخصت ہے اور ہمارا دین کسی ایک ہی کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ حکمت ومصلحت اور اپنی طاقت وصلاحیت کو بہرحال مقدم رکھنا ہے۔ علیحدہ گھروں کے لیے دلیل دی جائے تو عہدِ نبوت کے طرزِ معاشرت کو دیکھ لیجیے اور خود کاشانۂ نبوت میں ازواج مطہرات، امہات المؤمنین کے گھروں اور بودو باش کو الگ الگ دیکھ سکتے ہیں اور سورۂ نور کی یہ طویل آیت اس پر بہت کچھ ر وشنی ڈالتی ہے:

﴿أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ﴾

’’ضرورت پر تم اپنے گھروں سے کھا لو، اپنے باپ دادا کے گھروں سے کھاؤ، اپنی ماؤں کے گھروں سے کھاؤ، اپنی بہنوں کے گھروں سے، چچاؤں پھوپھیوں کے گھروں سے، مامووں اور خالاؤں کے گھروں سے۔‘‘ (سورة النور: 61)

فہرست میں سب کے سب قریبی عزیز ہیں، ایک ہی خاندان کے افراد ہیں، مگر سب کے گھر علیٰحدہ علیٰحدہ ہیں اور چولہے ہانڈی بھی الگ الگ۔

اسلام کے بہت سے احکام کو مصالح کے پیشِ نظر مسلمانوں کی بالغ نظری، دور اندیشی، حکمت عملی اور مصلحت بینی پر موقوف رکھا ہے۔ اس کی مثالیں کئی ایک ہیں، مگر ان کے ببان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ بہرحال! مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کو خلل انداز کرنے والا کوئی بھی کام غیر اسلامی عمل متصور ہوگا۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی بعثت میں یہ اچھے احکام سب پر مقدم ہیں:

﴿ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ ﴾ (سورۃ الاعراف: 157)

’’وہ انہیں نیکی کا حکم دے گا، برائی سے روکے گا، پسندیدہ چیزیں حلال کرے گا، گندی چیزیں حرام ٹھہرائے گا، اس بوجھ سے نجات دلائے گا جس کے تلے دبے ہوں گے، ان پھندوں سے نکالے گا جن میں گرفتار ہوں گے۔‘‘

اچھے کاموں کا حکم، برے کاموں پر روک، پاکیزہ چیزوں کو حلال، گندی چیزوں کو حرام، رسم و رواج کے بوجھ سے ہلکا کرنا، غلط فیصلوں اور فتووں کی زنجیروں سے آزاد کرنا، ناپسندیدہ عادات و روایات سے نجات دلانے ہی کے لیے تو اسلام دنیا میں آیا ہے اور اسی لیے یہ دین رحمت ہے، قانون بنانے والا رحمٰن و رحیم ہے اور اس دین کو لانے والا تمام جہانوں کی مخلوقات کے لیے رحمت ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ (سورة الأنبياء: 107)

’’اور (اے پیغمبر!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

مولانا ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن صبہا اعظمی عمری بھی دار البقاء کو کوچ کر گئے

مولانا ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن صبا اعظمی عمری بھی دار البقاء کو کوچ کر گئے، جمعیت ابنائے قدیم جامعہ دار السلام عمر آباد کا اظہار تعزیت خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں صہبا عمری میں۔ نائب ناظم وشیخ الحدیث حکیم مولانا محمد عبد السبحان اعظمی عمری کے یہ فرزند طبیب کامل تھے۔ والد محترم جب سفر پر ہوں تو جامعہ کے مطلب میں بحیثیت حکیم وڈاکٹر اپنی خدمات انجام دیتے۔ زندہ دل انتہائی خود دار طبیعت کے مالک تھے، چند سال جامعہ میں بحیثیت انگریزی و ریاضی استاد بھی رہے، گھڑی سازی کے فن میں بھی قدرت نامہ حاصل تھی اور گزر بسر کے لیے اسی پیشہ سے وابستہ ہو گئے۔ کمال درجہ کے شاعر تھے۔

علامہ محمد فیاض عادل فاروقی وفات پا گئے

علامہ محمد فیاض عادل فاروقی وفات پا گئے، مرحوم کی تدفین لندن میں کر دی گئی، علامہ محمد فیاض عادل 1971ء میں برطانیہ آئے اور اسلامی مرکز شمال غرب لندن میں خطابت اور فرقان انسٹیٹیوٹ میں تدریس کی مصروفیت میں رہے، انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر لیکچرز کا سلسلہ، انٹروڈکشن آف اسلام کے علاوہ دینی و ادبی موضوعات پر اردو، انگریزی اور پنجابی میں تحریر اور تبصرہ کتب کا سلسلہ جار ی رکھا، انہیں لندن بارو آف بارنٹ کی طرف سے سوک ایوارڈ، بزم شعر وادب یو کے کی جانب سے شیلڈ اور بزم غالب، پاک پنجاب ادب اینڈ کلچرل سوسائٹی، پنجابی ادبی سنگت، پنجابی لکھاری فورم اور دیگر ادبی تنظیموں کی طرف سے اعزازات ان اداروں کی ادب پروری کی دلیل ہیں۔

تبصرہ کریں