اس قوم کو خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

کم وبیش ہر انسانی معاشرے میں ایک طبقہ ایسا ضرور پایا جاتا ہے جن کا محبوب ترین مشغلہ ہمیشہ دوسروں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنا ہوتا ہے۔ اس معیوب عمل کو وہ اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوئے دوسروں کی نجی زندگی، ان کی مصروفیات، آمدنی، اخراجات اور دیگر کئی امور سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے کی بھرپور کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اور وقتاً فوقتاً ان معلومات کو اپ ڈیٹ کرنا بھی ان کے روز مرہ مشغلہ میں شامل ہوتا ہے، کون کیا کر رہا ہے، کہاں سے آ رہا ہے، کہاں جا رہا ہے، فلاں چیز خریدی ہے تو کس قیمت پر خریدی ہے، کیوں خریدی ہے۔ الغرض مختلف سوالات ان کے پاس ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

ان کی یہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی بھاگ دوڑ صرف افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ حکومتیں، حکمران اور مختلف تنظیمیں بھی ان کے نشانے پر رہتی ہیں۔ کسی بھی محفل میں بیٹھے ہوں ، کسی نہ کسی بہانے سے، کسی شخص یا کسی حکومت کے حوالے سے کوئی ایسا حساس موضوع اس چابکدستی سے سوالیہ انداز میں چھیڑ دیتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس شخصیت سے یا حکومت سے دلی ہمدردی ہے، پھر اس محفل میں نشانے پر لائی گئی شخصیت یا حکمرانوں پر طویل تبصروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

جس میں غیبت، بہتان تراشی، لعن طعن اور بے جا تنقید جیسی منکرات شامل ہو جاتی ہیں۔ اس نوع کے لوگوں کو ان دنوں سعودی عرب اور تبلیغی جماعت پر پابندی کا ایشو ہاتھ لگا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایک دو ایشوز اور بھی ہیں جن کا تعلق براہِ راست سعودی عرب سے ہے۔ بہر حال یہ ان کے لیے سلگتے ہوئے موضوعات ہیں۔ جن کو کسی محفل میں چھیڑ کر سعودی حکومت کے خلاف اپنے حسد، کینہ اور دیرینہ دشمنی کی بھڑاس نکالنا ان کا مقصد ہوتا ہے۔

گذشتہ چند دنوں میں ایک نہیں بلکہ دو مختلف محفلوں میں اس نوع کی شخصیات سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے کسی تمہید کے بغیر یہ سوال چھیڑ دیا کہ سعودی عرب نے تبلیغی جماعت پر پابندی کیوں لگائی اور فلاں فلاں کام کیا شرعاً جائز ہیں ؟وغیرہ۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری زندگی سعودی عرب اور اس کی حکومت کو بدنام کرنے، اس کی تمام تر خوبیوں پر پردہ ڈالنے میں گذر گئی۔ سعودی عرب کی دینی اور دعوتی خدمات کا وسعت ظرفی کے ساتھ اعتراف ان کی سرشت میں شامل ہی نہیں۔ ہاں محض معمولی بشری لغزشوں پر ان کی نگاہیں ٹکی رہتی ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تبلیغی جماعت سے مکمل طور پر واقف ہیں، نہ ہی سعودی حکومت کی مسلمانوں اور عالم اسلام کے حوالے سے کی جانے والی ان خدمات کا ان کو علم ہے جن کی بدولت مشرقی ممالک کے علاوہ امریکہ اور مغربی ممالک میں دین اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سعودی عرب کے تعاون سے بنائی گئی عالی شان مساجد نہ صرف نمازیوں سے آباد ہیں، بلکہ ان مساجد سے اسلامی، دینی دعوتی سرگرمیوں کے ذریعہ مغرب میں پلنے بڑھنے والی نوجوان مسلمان نسل کی دینی رہنمائی کی جا رہی ہے۔ عوام الناس میں قرآن وسنت کی جانب پر رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شرک وبدعات جیسے اعمال اب دم توڑ رہے ہیں، ان تمام دینی سرگرمیوں میں کم وبیش سعودی حکومت اور اس کے اصحاب الخیر کا ایک بڑا حصہ شامل ہے۔ اس وقت دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو، جہاں سعودی عرب کی مساعی جمیلہ سے مسلمانوں میں دینی بیداری اور غیر مسلموں میں اسلام کی جانب رجحان میں اضافہ نہ ہوا ہو۔

ان تمام خدمات کے باجود اگر کچھ لوگ سعودی عرب کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو اس کی وجہ نہ تبلیغی جماعت پر پابندی ہے نہ ہی وہاں مختلف پروگرامز کا انعقاد ، ان کو شکایت صرف سعودی عرب کی حکومت اس کے عالی مقام مشائخ اور عامۃ الناس کے عقیدہ سے ہے جو کہ خالص توحید پر مبنی ہے جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔

نیز سعودی حکومت اگر کسی تنظیم ادارے یا جماعت پر پابندی لگاتی ہے تو اس معاملہ میں دخل در معقولات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیونکہ یہ سعودی عرب کا اپنا اندرونی معاملہ ہے۔ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اس کو پورا اختیار حاصل ہے کہ اپنے ملک کے تحفظ اس کی بقا کی خاطر جو قانون ضروری سمجھتی ہے، اس کو لاگو کرنے میں وہ مکمل آزاد ہے۔

دراصل دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنے والوں کو کبھی اپنا محاسبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ وہ اپنےسوا سبھی کو گناہ گار سمجھتے ہیں، اس قسم کے لوگوں کی اکثریت کے پاس بیروزگاری کی وجہ سے وقت کی کمی نہیں ہوتی۔

لہٰذا ان کی زندگی کا مقصد دوسروں کی نجی زندگی ان کے نجی معاملات کی چھان بین کرنا، پھر ان کو بےتکے تبصروں کی بھینٹ چڑھا کر اپنے حلقہ احباب میں مقبولیت حاصل کرنا ہوتا ہے۔

ہماری ان سے درخواست ہے کہ اگر آپ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو کم ازکم

«تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فإنَّها صَدَقَةٌ مِنْكَ علَى نَفْسِكَ» (صحيح مسلم)

’’اگر کوئی نیکی نہیں کر سکتے تو کم ازکم اپنے شر سے لوگوں کو بچاؤ۔ یہی نیکی تمہارے اپنے حق میں صدقہ بن جائے گی۔ ‘‘

سعودی عرب ہو یا کوئی ملک اور حکومت، ہر کسی میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ اگر کسی کو بشری تقاضوں کے تحت سعودی عرب کی کوئی کمزوری نظر آتی ہے تو اس کی خوبیوں کے ساتھ اس کی کمزوری کا موازنہ کیجیے، پھر اپنی شخصیت کے حوالے سے بھی اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کا بےلاگ جائزہ لیجیے۔

حقائق سامنے نکھر کر آ جائیں گے، نیز ہمیشہ اس حدیث نبوی کو پیش نظر رکھیے، جس میں رسول اکرمﷺ فرماتے ہیں:

مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (جامع ترمذى)

وہ باتیں یا ایسے کام جن کا ہماری زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو یا جن سے کسی دینی یا دنیوی فائدہ کی امید نہ ہو، ان کی ٹوہ میں نہ لگنا اور ان سے اجتناب کرنا ایک مسلمان کے اسلام کا حسن ہے۔

اپنے اسلام کو بگا‎ڑنے کے بجائے اس کو حسین سے حسین تر بنائیے۔ کیونکہ ہر وہ فرد جو دوسروں کے معاملات کی چھان بین کرنے، ان سے متعلق معلومات جمع کرنے کی تگ و دو کرتا رہنا ہے، لامحالہ وہ تجسس عیب چینی، بدگمانی، غیر مصدقہ خبروں اور معلومات کی اشاعت جیسی مذموم صفات سے متصف ہو جاتا ہے۔ جو اس کے دین کا حلیہ بگاڑ دیتی ہیں۔

وما علينا إلا البلغ

٭٭٭

 

شیخ الحدیث علامہ عبد الحمید رحمتی﷫

پشاور کے معروف عالم دین استاذ العلماء شیخ الحدیث علامہ عبد الحمید رحمتی کونامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔علامہ رحمتی بہت بڑ ے عالم دین تھے، امن کے داعی اور بے ضرر شخصیت تھی۔ان کی شہادت سے پوری جماعت رنجیدہ اور دکھی ہے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ اس کھلم کھلا دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کو ایک عظیم جرم اور حکومت کی غفلت کا نتیجہ سمجھتی ہے اور خیبر پختون خواہ کے نائب امیر وشیخ الحدیث علامہ عبد الحمید رحمتی کی شہادت پر اور ان کے بھائی کے شدید زخمی ہونے پر سخت رنجیدہ ہے یاد رہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے مدرسہ دارالقرآن والحدیث السلفیہ قاضی آباد پشاور مرکزی دروازے پر کھڑے تھے۔ جبکہ انکے بھائی شیخ محمد رحمتی شدید زخمی ہیں۔

مرکزی جمعیت برطانیہ کے امیر مولانا محمد ابراہیم میرپوری نے علامہ عبد الحمید رحمتی کےقتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علامہ رحمتی لاکھوں میں ایک تھے۔ان کی شہادت سے اہل علم برادری رنجیدہ اور دکھی ہے۔علماء کی شہادتوں کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ ہمارے علماء کو پہلے بھی نشانہ بنایا گیا،علما ء کو ٹارگٹ کرکے مارا جارہاہے۔ کے پی کے حکومت عوام کے جان ومال کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علامہ رحمتی کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، ناظم اعلیٰ مولانا حافظ حبیب الرحمن نے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے پی کےاور علامہ رحمتی کے خاندان سے دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی مولانا رحمتی شہید کےدرجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو اللہ تعالی یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرما ئے۔

٭٭٭

 

قاری عبد السلام عابد کے بھائی عبد المجید وفات پا گئے

برمنگھم کے معروف قاری عبد السلام عابد کے بڑے بھائی عبد المجید 80 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ مرحوم نے چار بیٹیاں اور دو بیٹے پسماندگان میں چھوڑے ہیں۔ مولانا محمد ابراہیم میرپوری، حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی اور دیگر علماء کرام و احباب نے قاری عبد السلام عابد سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کہ اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین

٭٭٭

 

تبصرہ کریں