انٹرویو نَو مسلمہ ٹوری جونی-قاری ذکاء اللہ سلیم (امام وخطیب گرین لین مسجد یوکے)

چند سال قبل مسلمان ہونے والی ایک بہن کا ایمان افروز انٹرویو

ص: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ٹ: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ص: آپ کا نام کیا ہے؟

ٹ: میرا نام Tori Jaunaii (ٹوری جونی) ہے۔

ص: کیا مسلمان ہونے کے بعد آپ نے اپنا نام تبدیل کیا ہے؟

ٹ: نہیں، میں ابھی تک اسی نام سے پکاری جاتی ہوں اور یہی نام برقرار رکھنا چاہتی ہوں۔

ص: آپ کی عمر کیا ہے؟

ٹ: میری عمر اس وقت بائیس (22) سال ہے۔

ص: آپ کی تعلیمی اہلیت کیا ہے؟

ٹ: میں نے سکول اور کالج کی تعلیم حاصل کی ہے۔ یونیورسٹی نہیں گئی، کیونکہ مجھے وہاں کا ماحول پسند نہیں تھا۔

ص: آپ کا اصل تعلق کہاں سے ہے؟

ٹ: میں خود تو برمنگھم برطانیہ میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہوں مگر میرے والدین کا اصل ملک جمیکا تھا اور وہ آج سے چند دہائیاں قبل برطانیہ میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔

ص: آپ نے کب اسلام قبول کیا؟

ٹ: میں نے دسمبر 2016ء میں اسلام قبول کیا ہے۔

ص: کیا آپ کے قریبی یا دور کےر شتہ داروں میں کوئی اور بھی مسلمان ہے؟

ٹ: نہیں، میری ایک بڑی بہن اور دو چھوٹے بھائی ہیں، ان میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہے اور نہ ہی میرے والدین یا کوئی اور رشتہ دار مسلمان ہیں۔ میں چونکہ خود نئی نئی مسلمان ہوئی ہوں، کوشش کروں گی کہ دین کا کچھ علم حاصل کر کے اوروں کو بھی دعوت دوں۔ ان شاء اللہ

ص: اسلام کی طرف آپ کے سفر کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

ٹ: میرے ننھیال کا تعلق عیسائی فرقے Jehovah’s Witnesses (یہووا وٹنیسز۔ خدا کے گواہ) سے ہے۔ میری نانی ایک مبلغہ بھی ہے اور میری تین خالاؤں میں سے سب سے بڑی بھی ماضی قریب میں بپتسمہ کے ذریعے باقاعدہ اس فرقے کی کارکن بن چکی ہے۔ (بپتسمہ عیسائیوں کی ایک مذہبی رسم ہے جس میں پادری نومولود بچے کے سر پہ متبرک پانی ڈال کر کے اسے باقاعدہ عیسائی بناتا ہے اور یہی طریقہ ان لوگوں کے لیے بھی اختیار کیا جاتا ہے جو باقاعدہ عیسائی بننے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ اس رسم کے پیچھے یہ عقیدہ کارفرما ہوتا ہے کہ پادری بپتسمہ کے ذریعے سابقہ گناہ دھو ڈالتا ہے اور بپتسمہ شدہ انسان ایک نئی زندگی کا آغاز کرتا ہے) اس فرقے کی ایک نمایاں خصلت یہ ہے کہ یہ گھر گھر جا کے عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ آپ کے لیے یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہو گا کہ ایسے گھرانے سے تعلق رکھنے کی بنا پہ میں بھی ایک مذہبی عیسائی لڑکی تھی۔ باقاعدگی سے مذہبی رسومات میں شرکت کرنا اور دوسروں کو بھی عیسائیت کی تبلیغ کرنا میری اسی تربیت کا نتیجہ تھا حتیٰ کہ نانی کے اصرار پہ میں خود بھی بپتسمہ کروانے کے قریب ہی تھی۔ سچ یہ ہے کہ اس انداز سے میرا مذہب سے لگاؤ محض دکھاوے اور خود فریبی کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہووا وٹنیسز کے لوگ اپنی مذہبی عبادات و رسومات جس جگہ پہ ادا کرتے ہیں اسے kingdom Hall کہا جاتا ہے۔

جس میں لوگ ہفتے میں دو یا تین بار جمع ہو کر باجماعت دعا ، بائبل کی درس وتدریس اور باہمی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ وہاں حاضری کے لیے آپ کا عیسائی ہونا یا اس فرقے سے منسلک ہونا ضروری نہیں ہوتا اور نہ ہی حاضرین کے لیے رنگ ونسل یا عمر کی قید ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں بہت سے بچے، نوجوان اور بوڑھے سبھی ہوتے ہیں۔ میں ایک عرصہ دراز تک بلکہ اپنے بچپن ہی سے اپنی والدہ اور نانی کے ساتھ وہاں حاضری دیتی رہی مگر میں نے کبھی بھی دلی طور پہ خود کو اس مجمع، جماعت یا حاضرین کا حصہ نہیں سمجھا۔ حتیٰ کہ وہ بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جو میری طرح بچپن ہی سے وہاں باقاعدگی سے آیا کرتے تھے اور میں ان سے خوب واقف تھی، میں نے ان کے درمیان خود کو ہمیشہ اجنبی ہی محسوس کیا تھا۔ آخر کار سکول کے آخری ایام میں پڑھائی کی مصروفیت بڑھنے کے بہانے سے میں نے مذہب سے دوری اختیار کرنا شروع کردی۔ پھر سکول کے بعد کالج اور پھر جاب کرنا شروع کر دی ، اس کے ساتھ ساتھ مذہب سے دوری بڑھتی گئی۔ مگر بچپن کی تربیت کے نتیجے میں اس دوری کا خلا بہت محسوس ہوتا تھا۔ چنانچہ اسی دوران ایک مسلمان آدمی سے میری شناسائی ہو گئی۔ اس نے میرے ساتھ شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر میں مطمئن نہ تھی۔ کیونکہ وہ مسلمان تھا اور میں عیسائی۔ اگرچہ وہ صرف نام کا ہی مسلمان تھا، اس نے مجھے بتایا کہ اس کے مذہب (اسلام) کے مطابق مسلمان مرد کسی یہودی یا عیسائی عورت سے شادی کر سکتا ہے۔ میرا نظریہ یہ تھا کہ دونوں کا مذہب مختلف ہونے کی وجہ سے ذہنی ہم آہنگی ہونا مشکل ہے، لہٰذا کیوں نہ ہو کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے مذہب کو ٹٹولیں اور پھر طے کریں کہ کیا ممکن ہے اور کیا ناممکن۔ چنانچہ اسی خیال کو عملی شکل دینے کے لیے میں نے اسلام کا اور اس نے میرے مذہب (عیسائیت) بالخصوص یہووا وٹنیسز کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ مجھ سے بہت سوالات ایسے کرتا جن کا میرے پاس کوئی جواب نہ ہوتا تھا۔ بالآخر اس کی تسلی کے لیے میں نے اس کی ایک دو ملاقاتیں اپنے مذہبی رہنماؤں سےکروائیں مگر افسوس کہ وہ اس کے سوالات کے تشفی بخش جوابات نہ دے سکے بلکہ اس سے پہلے خود میری اپنی تسلی بھی نہ ہوسکی، جس کے نتیجے میں میں اپنے مذہب سے مزید مایوس ہو گئی۔ پھر میں نے سنجیدگی سے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ تحقیق اور جستجو کے اس مرحلے میں مجھے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی یوٹیوب پہ موجود تقاریر سے بہت فائدہ ہوا۔ میرے ذہن میں اٹھنے والے بہت سے سوالات کے تسلی بخش جوابات مجھے ان کی تقاریر سے ملتے گئے۔ پھر کبھی عیسائیت سے متعلق میں کوئی سوال یا شبہ اپنی نانی یا والدہ کے سامنے ظاہر کرتی تو ان کا جواب ایک ہی ہوتا تھا کہ ’’ ایسے سوالات کرنا جائز نہیں ہیں، ایسی باتوں سے خدا ناراض ہوتا ہے وغیرہ۔‘‘ پھر میں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا بھی شروع کر دیا، جس سے مزید اطمینان نصیب ہوا۔

ص: آپ نے کس موڑ پہ پہنچ کے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا؟

ٹ: تحقیق اور مطالعہ سے دل تو مطمئن ہو چکا تھا لیکن بڑوں کا دین چھوڑنا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ کیونکہ آباؤ اجداد کے دین کو چھوڑنے کا مطلب انہیں غلط قرار دینا اور خود کو درست سمجھنا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ تک میں ا س ذہنی اضطراب کا شکار رہی اور اس تذبذب میں مبتلا رہی کہ اگر اسلام سچا دین ہے تو پھر بڑوں کے دین کو میں کیسے جھٹلاؤں۔ صبح و شام اور دن رات سوتے جاگتے یہی بے قراری رہتی، مگر یہ کیفیت آخر کب تک برقرار رہتی۔آخر ایک دن ضمیر نے جھنجھوڑا کہ مزید نظر اندازی خود کو احمق بنانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ فیصلہ کر لیا کہ اب اسلام قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور پھر جلد ہی چند مسلمانوں کی موجودگی میں کلمہ بھی پڑھ لیا۔

ص: آپ کو اسلام کی سب سے زیادہ اچھی چیز کون سی لگی تھی؟

ٹ: سب سے اچھی چیز رنگ ونسل کی عصبیت سے بالاتر ہو کے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا رویہ رکھنا، میرے لیے سب سے خوش کن بات تھی جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ میں اپنے سابقہ مذہب کے لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے کے باوجود اجنبیت کا شکار تھی، ویسی بیگانگی مجھے مسلمانوں کے ہاں نظر نہیں آئی، اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ ’’یہووا وٹنیسز‘‘ کے لوگ اگرچہ اپنے اجتماعات میں تو ایک دوسرے سے مانوس نظر آتے ہیں، مگر اپنی مذہبی عبادت گاہوں کی چار دیواری سے باہر ان کے باہمی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔

اسلام کی دوسری بڑی خوبصورت چیز مجھے نماز بالخصوص سجدہ کرنے کا طریقہ لگا۔ یہووا وٹنیسز کے ہاں عبادت کا جو طریقہ رائج ہے اس میں کسی حد تک رکوع اور قیام تو اگرچہ شامل ہیں مگر سجدہ نہیں۔ جبکہ سجدے سے جو عاجزی انسان کے اندر آتی ہے وہ قیام اور رکوع سے نہیں آتی، حالانکہ ان کی حیثیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ سجدہ کرنے سے انسان کے دل کی کیفیت عجیب ہو جاتی ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ واقعتاً اپنے مالک کے قریب ہو رہا ہے۔ (حدیث شریف اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان حالتِ سجدہ میں اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے۔)

ص: اسلام قبول کرنے سے قبل اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں آپ کا تصور کیا تھا؟

ٹ: میں جس کالج میں پڑھتی تھی وہاں مسلمان طلبہ کثیر تعداد میں تھے۔ ان سے گھلنا ملنا مجھے کچھ عجیب نہیں لگتا تھا، جبکہ یہووا وِٹنیسز میں یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ان کے سوا باقی سب غلط اور شیطانی راہیں ہیں۔ اسی طرح میں جانتی تھی کہ میڈیا پہ بھی بہت پروپیگنڈا ہوتا ہے مگر میں نے کبھی میڈیا پہ اعتماد نہیں کیا تھا۔ اسی لیے اسلام کا مطالعہ کرنا میرے لیے کوئی مشکل فیصلہ نہ تھا۔ البتہ اسلام قبول کرنا مشکل ضرور رہا، جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔

ص: کیا اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو اپنے گھر والوں کی طرف سے کسی پریشانی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا؟

ٹ: بہت زیادہ تو نہیں، مگر کسی حد تک ردّ عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خصوصاً میری نانی تو ابھی تک مختلف انداز سے کبھی ہمدردی ظاہر کر کے، کبھی غصے اور کبھی دوسروں کے سامنے شرمندہ کر کے مجھے سابقہ مذہب پہ لانا چاہتی ہے مگر میرے لیے اس کی یہ تمام کوششیں بے معنیٰ ہیں۔

ص: دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مسلمانوں کا رویّہ آپ کے ساتھ کیسا ہے؟

ٹ: میں اللہ تعالیٰ کی بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے میری ہدایت کا بندوبست فرمانے کے ساتھ ساتھ اب میری تعلیم وتربیت کا اہتمام بھی فرما دیا ہے۔ وہ ایسے کہ مسلمان ہونے کے چند روز بعد میں ایک بک سٹور پہ گئی، جہاں سے کتابیں اور برقعہ وغیرہ خریدنا چاہتی تھی۔ وہاں میری ملاقات ایک مسلمان بہن سے ہو گئی۔ جس نے مجھ سے تعارف کرنے کے بعد گرین لین مسجد میں واقع اسلام وائز (Islam Wise) کے بارے میں مجھے نہ صرف بتایا بلکہ اپنے ساتھ وہاں لے گئی۔ تب سے اب تک ان کے ساتھ منسلک ہوں، باقاعدگی سے نو مسلمانوں کی تعلیمی کلاسز میں شرکت کرتی ہوں اور میں بہت مسرور ہوں۔ الحمد للہ

ص: آپ کی بات کا آغاز تو ایک مسلمان مرد سے شادی کے معاملے سے ہوا تھا، کیا آپ نے پھر اس سے شادی کر لی؟

ٹ: جی! مسلمان ہونے کے بعد میں نے اس سے شادی کر لی ہے۔ اب ہم دونوں دین سیکھ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔ بلکہ میرا خاوند اکثر وبیشتر میرا شکریہ ادا کرتا ہے کہ وہ میری وجہ سے دین کی طرف پلٹ آیا ہے۔

ص: بطور نومسلمہ آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دینا پسند کریں گی؟

ٹ: میرا پیغام یہ ہے کہ ہر انسان کو حقیقت کی تلاش ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے اور اسے لوگوں کی سنی سنائی باتوں یا پروپیگنڈا کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل میڈیا مسلمانوں میں رائج مختلف ثقافتوں اور کلچرز کو دین بنا کے پیش کرتا ہے اور اسلام سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ اسلام ہر ایسے کلچر کو ٹھکراتا ہے جو اس کی تعلیمات سے تضاد رکھتا ہو۔ مثلاً عورتوں کے حقوق غصب کرنے کے حوالے سے میڈیا بعض نام نہاد مسلمانوں کے غلط کرتوت دکھا کر اسے اسلام کا رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ اس دین کو ایک غاصب اور ظالم دین تصور کریں حالانکہ اسلام عورت کو ایسی عزت عطا کرتا ہے جو کسی دوسرے مذہب یا ثقافت میں نظر نہیں آتی۔

ص: آپ نے ٹھیک کہا، اللہ تعالیٰ اسلام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو نامراد بنائے۔ آپ سے آخری سوال یہ ہے کہ بطورِ مسلمان آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟

ٹ: سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں عربی زبان سیکھوں تاکہ قرآن مجید کو اچھی طرح سمجھ سکوں اور دوسری خواہش یہ ہے کہ میں حج یا عمرہ کر لوں۔

ص: اللہ تعالیٰ آپ کی دونوں تمنائیں بدرجہ اتم پوری فرمائیں۔

انٹرویو دینے کا بے حد شکریہ

استقبال رمضان

مسلمانو! اٹھو اب ماہِ رمضاں آنے والا ہے                                                                                                                                                                                 کرو تیاریاں روزوں کی شعباں جانے والا ہے

کرو رمضان کا استقبال تم بے حد مسرت سے                                                                                                                                                                                 کرو روزوں کا استقبال تم سچی محبت سے

عبادت کا مہینہ ہے کریں اس میں عبادت ہم                                                                                                                                                                                 سخاوت کا مہینہ ہے کریں اس میں سخاوت ہم

کرو تم ذہن و دل کو پاک پاکیزہ مہینہ ہے                                                                                                                                                                                 منور کر لو ظاہر اور باطن گر قرینہ ہے

ہر ایک لمحہ غنیمت ہے خزانہ جمع کر لیجیے                                                                                                                                                                                 مہینہ صبر کا ہے غصہ قلعہ قمع کر لیجیے

مسلمانو! کرو رمضان کی روحانی تیاری                                                                                                                                                                                                                      بہ الفاظ دیگر جسمانی ونورانی تیاری

مہینہ ہے یہ قرآں کا تلاوت کیجیے قرآں کی                                                                                                                                                                                 مہینہ ہے یہ تقوے کا یہ ہے پہچان رمضاں کی

ہے شہر احتساب اس میں کریں ہم احتساب اپنا                                                                                                                                             نجاتِ اخروی کے واسطے کر لیں حساب اپنا

اس میں ہم زکوٰۃ وصدقہ وعطیات دیتے ہیں                                                                                                                                                                                 جو دیتے ہیں کسی کو واسطے حسنات دیتے ہیں

سحر، افطار کرتے ہیں مساکین اور فقراء بھی                                                                                                                                                                                 ہے منظر روح پرور کیا کبھی لوگوں نے سوچا بھی

بہت خوش ہو کے بچے بھی ہمارے روزے رکھتے ہیں                                                                                                      ہر اک سے آگے بڑھنے کی مسلسل سعی کرتے ہیں

قیام لیل سے سب مسجدیں بُقعہ سی لگتی ہیں                                                                                                                                                                                 بہ وقتِ فطر واللہ نور کا ھالہ سی لگتی ہیں

خدا شاہد ہے بڑھ جاتی ہیں اس میں رونقیں بے حد                                                                                                                                                                   کہ ہو جاتی ہیں ہر مؤمن کےدل میں عظمتیں بے حد

سبھی بچتے ہیں کھانے پینے سے اور خواہشوں سے بھی                                                                                                                                   برائی کے ہر اک پہلو سے بدتر عادتوں سے بھی

بہ کثرت توبہ استغفار کرتے ہیں گناہوں سے                                                                                                                                                              دلوں میں نور رہتا ہے دعاؤں اور آہوں سے

یقیناً ہے مہینہ برکت وغفران کا لوگو!                                                                                                                                                                                  شیاطینِ لعیں کے واسطے زندان کا لوگو!

ہے رکھتا آخری عشرہ بھی اس کا اَجر بے پایاں                                                                                                                 شب قدر اس میں ہے جس پر ہزاروں ماہ ہیں قرباں

دعاؤں کا مہینہ ہے کرو اس میں دعائیں تم                                                                                                                                                            برائے مغفرت کرتے رہو ہر وقت آہیں تم

برائے امتِ مرحوم بھی اس میں دعا کیجیے                                                                                                                                                                   بڑی پابندی سے یہ کام بھی صبح ومساء کیجیے

خوشی میں ماہ رمضاں کی ہے شامل بندۂ ثاقب                                                                                                                                           کرم ہے تیرا بے پایاں میری تقدیر کے کاتب

از ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

تبصرہ کریں