انٹرویو نیو مسلم یونس ۔ ذکاء اللہ سلیم

کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرنے کے بعد تعلیم دین کے ذوق سے سرشار یونس کا ایمان افروز انٹرویو!

ص: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ی: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ص: آپ کا پیدائشی نام کیا ہے؟

ی: میرا نام جو والدین نے رکھا تھا : Janis Berzins (جینس بَرزنج) ہے۔ جسے تبدیل کر کے میں نے یونس رکھ لیا ہے۔

ص: آپ کا تعلق کس ملک سے ہے؟

ی: میرا اصل وطن شمال یورپ میں واقع Latvia (لَٹویا) ہے جس کے دار الحکومت Riga (ریگا) میں میری پیدائش ہوئی تھی اور وہیں پَلا بڑھا تھا۔

ص: آپ کی عمر کیا ہے؟

ی: میری عمر 38 اڑتیس سال ہے۔

ص: آپ کی تعلیم کیا ہے؟

ی: میری تعلیم بالکل بنیادی سی ہے، مڈل سکول مکمل کرنے کے بعد کچھ نہیں پڑھا اور اس کی وجہ میرے ذاتی حالات تھے۔

ص: برطانیہ میں کب آئے؟

ی: برطانیہ میں 2007ء میں آیا تھا۔

ص: کام کاج کے لیے یا کاروبار کے لیے برطانیہ آئے تھے؟

ی: نہیں، میں اپنے ملک سےبھاگ کر برطانیہ میں پناہ لینے کے لیے آیا تھا، کیونکہ وہاں کچھ ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کر بیٹھا تھا، جن کے بعد وہاں رہنا میرے لیے ناممکن تھا۔

ص: اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے بارے میں کچھ بتلائیے۔

ی: میرا کوئی بھائی یا بہن نہیں ہے اور والدین بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے، میری پرورش میری نانی نے کی تھی اور جب میں اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچا تو وہ بھی فوت ہو گئیں، تب سے اکیلا ہی رہا ۔

ص: کیا آپ کے کوئی اور رشتہ دار بھی نہیں ہیں؟

ی: نہیں! چونکہ بچپن ہی میں والدین کے سایہ شفقت سے محروم ہو گیا تھا، تب سے کسی رشتہ دار سے کوئی واقفیت ہے نہ تعلق، البتہ اپنے ملک میں شادی کی تھی جس سے ایک گیارہ سالہ بیٹا ہے، بیٹے سے تو رابطہ رہتا ہے مگر بیگم سے تعلقات ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے کوئی رابطہ نہیں۔

ص: آپ نے اسلام کب قبول کیا تھا؟

ی: ستمبر 2015ء میں۔

ص: قبول اسلام کی طرف سفر کب اور کیسے شروع ہوا؟

میں 2007ء میں اپنے ملک سے بھاگ کر برطانیہ آیا تھا، اس کی بنیادی وجہ میرے جرائم تھے۔ بُرے دوستوں کی صحبت اور جرائم کی لَت نے مجھے پیشہ ور مجرم بنا دیا تھا، اس لیے قانون کے شکنجے میں آنے سےبچنے کی خاطر میرے لیے اپنا ملک چھوڑے بغیر کوئی چارہ نہ تھا، مگر افسوس کی بات یہ تھی کہ میں یہاں آ کر پھر اسی بُری سنگت اور صحبت کا شکار ہو گیا پھر چونکہ بَدخو دوستوں کی یاری کا سارا دارومدار دنیاوی مفادات پہ ہوتا ہے اور اسی لیے اسے نبھانا بھی ناممکن ہوتا ہے۔ میں ایک شہر سے دوسرے شہر پھر تیسرے شہر منتقل ہوتا رہا۔ آخر کار سوچا کہ اس بھنور سے نکل کر کسی درست سمت پہ اپنی زندگی کو لگانا چاہیے، مگر کوئی راہ نظر آتی تھی نہ رہبر۔ اسی دوران ایک عورت سے میری دوستی ہو گئی جس کا تعلق بھی میرے ملک سے تھا۔ میں اس کی وجہ سے برمنگھم سے قریب والسال قصبے میں منتقل ہو گیا۔ یہاں سکونت اختیار کرنے کے بعد میں نے کچھ ڈپلومہ کورسز کیے تاکہ کوئی اچھا روزگارمل سکے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد ہم دونوں ترکی سیروسیاحت کےلیے گئے، دورانِ سفر اس نے مجھے بتایا کہ میں ترکی ہی سے سیدھا واپس اپنے ملک لَٹویا جانے کا ارادہ رکھتی ہوں کیونکہ مجھے وہاں ایک اچھی ملازمت کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔ مجھے اس کی بات سے ذہنی کوفت تو بہت ہوئی مگر کچھ نہ کر سکتا تھا، میں وہاں اکیلا رہ گیا اور پھر واپس اکیلا ہی برطانیہ آیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد میں نےسوچا کہ میں چونکہ اب کسی حد تک بری صحبت اور جرائم سے دور ہو چکا ہوں لہٰذا اب اس دوری کو مزید بڑھانا چاہیے اور اس کے لیے شاید مذہب کی طرف رجحان پیدا کرنا مفید ہو۔ اسی سوچ کے تحت میں نے بائبل کا مطالعہ کرنا شرع کر دیا کیونکہ اس وقت میں صرف عیسائی مذہب سے واقف تھا۔ چرچ جانا بھی شروع کر دیا اور پادریوں کی باتیں بھی سننے لگا۔

ص: کیا آپ اس سے پہلے کسی طرح عیسائیت سے منسلک تھے؟

ی: نہیں! چونکہ ہمارا ملک ابھی ماضی قریب 1991ء میں روس کے تسلط سے آزاد ہوا ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد سے وہاں سویت یونین کا قبضہ رہنے کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت مذہب سے دور ہو گئی ہے۔ وہاں سکولز میں ڈارون کا نظریہ تخلیق انسانیت (یعنی انسان بندر سے بنا ہے) پڑھایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے وہاں چرچ بالکل بے آباد ہیں، میں نے چونکہ ایسے سیکیولر ماحول میں پرورش پائی تھی اس لیے مذہب سے کچھ واقفیت نہ تھی مگر یہ ضرور سن رکھا تھا کہ دنیا میں کچھ لوگ ذہنی سکون کی خاطر مذہب کی طرف توجہ دیتے ہیں۔

ص: عیسائیت کا مطالعہ کرنے سے کس حد تک ذہنی سکون ملا؟

ی: خاص نہیں! میں نے عیسائیت کا مطالعہ صرف اس لیے شروع کیا تھا کہ اس کےسوا میں کسی اور مذہب سے واقف نہ تھا مگر جب چرچ میں جا کر پاردیوں کی گفتگو سنتا تو وہ اکثر وبیشتر میری سمجھ سے بالا تر ہوتی۔ ایک بار کسی دوست کے کہنے پہ ایک چرچ میں گیا تو وہاں پادری نے حاضرین سے پوچھا کہ ’’آپ میں سے کون کون نیا ہے‘‘ یعنی پہلی بار اس چرچ میں آیا ہے، میرے دوست نے میری طرف اشارہ کر دیا، پادری نے کہا کہ سامنے آ جاؤ۔ اس طرح میرے جیسے تقریباً پندرہ لوگ اور بھی تھے، پادری نے سب کو آگے بلا لیا۔

وہ سب کو ایک صف میں کھڑا کر کے ایک ایک کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر ہلکا سا جھٹکا دیتا حتی کہ آدمی پیچھے کے طرف گرتے گرتے سنبھلتا۔ مجھے اس عمل سے بہت حیرانی ہوئی۔ جب اس نے مجھے جھٹکا دیا تو میں اپنے پاؤں مضبوطی سے جمائے وہیں کھڑا رہا، گویا مجھے کچھ محسوس ہی نہیں ہوا۔ یہ عمل اس نظریہ کے تحت کیا جا رہا تھا کہ پادری لوگوں کے گناہ معاف کر دیتا ہے، مگر یہ سب دیکھ کر میرا دل کھٹا ہو گیا اورمیں نےعیسائیت سے کنارہ کر لیا۔ پھر دوبارہ گناہوں کی اس دلدل میں چلا گیا جہاں سے نکلنے کی میں حتی الوسعت کوشش کر رہاتھا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں نے یتیمی میں پرورش پائی تھی، کسی نے سیدھی راہ دکھائی ہی نہ تھی، بلکہ خود ہی اپنے ماحول سے اچھا بُرا سیکھا تھا۔ ایک بات جو میرے ذہن میں بیٹھی تھی وہ یہ کہ کامیاب زندگی عیش ومستی، زن پرستی اور دولت پرستاری ہی کا نام ہے۔ لہٰذا جیسے کیسے بھی دولت کا حصول ممکن ہوا اس کے پیچھے دوڑ لگانی چاہیے۔ اسی خام خیالی کے نتیجے میں میں سکون کی تلاش کرتے کرتے گناہوں کی ان گہرائیوں میں پھر جا گرتا جہاں سے نکلنے کی کوشش کرتا۔ مگر کوئی ایسا رستہ نظر نہ آتا جس پر میں ثابت قدم رہ پاتا۔ آخر کار 22 مئی 2015ء کی بات ہے کہ جب میں اپنے ملک کے ہمسایہ ملک Lithuania (لتھوینیا) میں منشیات وغیرہ کی سمگلنگ کے سلسلے میں گیا ہوا تھا، وہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ جس میں بال بال بچا۔ اس کے بعد میں نے اپنے ہی الفاظ میں دعا کی کہ ’’ اے میرے رب! مجھے سیدھی راہ دکھا دے۔میں زندگی میں بہت ٹھوکریں کھا چکا ہوں اور اب وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ جرائم کا ارتکاب کبھی نہیں کروں گا، چنانچہ میں نے صدق دل سے ایک بار پھر زندگی بدلنے کی ٹھان لی۔ چونکہ عیسائیت سے تو پہلے ہی بیزار ہو چکا تھا۔ اب کی بار بشمول اسلام دیگر مذاہب کے بارے میں کچھ معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دیں اور ان کے بارے میں مطالعہ کرنے لگا۔ میری جستجو کا مرکزی نکتہ یہ سوال تھا کہ ’’ اگر ہر مذہب ایک ہی رب کی طرف سے ہے (جیسا کہ ہر مذہب کے پیروکار اپنے مذہب کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں) تو پھر ان میں فرق یا اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟‘‘ اس سوال کے جواب کی تلاش نے مجھے اسلام کی طرف مائل کر دیا اور اسلام کا نظریہ توحید مجھے بالکل عقل کے مطابق لگا۔ چنانچہ 26 ستمبر 2015ء بروز ہفتہ جبکہ چھٹی کا دن تھا میں صبح اٹھ کر اپنے گھر سے باہر نکلا اور ٹہلتے ٹہلتے شہر کے مرکز (City Centre) میں پہنچ گیا۔ وہاں میرا گزر ایک دعوہ سٹال کے پاس سے ہوا جہاں میں رک گیا اور سٹال پہ موجود شخص سے اسلام کے بارے میں گفتگو کرنے لگا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو اللہ کا پسندیدہ دین ہے اوراس دنیا میں آنے والا ہر نبی رسول اسی دین کی ترویج واشاعت کرتا رہا۔ انبیاء کا سلسلہ تدریجاً بڑھتے بڑھتےآخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر اختتام پذیر ہو گیا۔ اگرچہ زمان ومکان کی ضروریات کے پیش نظر مختلف انبیاء کے ادوار میں اس دین کی فروع میں تبدیلیاں ہوتی رہیں، مگر اس کے اصول ہر دور میں ایک ہی رہے۔

اس لیے باری تعالیٰ کےبارے میں جو عقیدہ ونظریہ سب سے پہلے نبی کا تھا وہ آخری نبی کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے صرف آخری نبی محمد ﷺ ہی پر نہیں بلکہ گزشتہ تمام انبیاء ورسل پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح کی مزید کچھ باتیں اس نے مجھے بتائیں جن سے میرا دل مکمل طور پر اطمینان پا گیا اور وہیں کھڑے کھڑے میں نے کلمہ پڑھ لیا اور اللہ کی توفیق خاص سے میں دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔

ص: الحمد للہ! کلمہ پڑھنے کے بعد آپ کی کیفیت کیا تھی؟

ی: کلمہ پڑھنے کے بعد میرا دل گویا فرحت ومسرت سے ایسے بھر گیا، جیسے اس سے پہلے کبھی نہیں بھرا تھا۔ میرے چہرے پہ مسکراہٹ ایسے چھا گئی کہ روکنے سے بھی نہ رک پا رہی تھی۔ مجھے لگا کہ دنیا بھر کی خوشیاں میری جھولی میں آ گئی ہیں۔

ص: دعوہ سٹال پہ موجود شخص نے مطالعہ کے لیے آپ کو کوئی لٹریچر دیا؟

ی: جی! اس نے کچھ کتابیں دیں جو انگلش میں تھیں۔ ان میں مترجم انگلش قرآن مجید بھی تھا۔ مگر چونکہ انگلش میری مادری زبان نہیں ہے اس لیے پڑھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے، لیکن میں نے کسی طرح سے روسی زبان میں مترجم قرآن حاصل کر لیا کیونکہ میں وہ زبان جانتا ہوں، الحمد للہ! ایک بار مکمل قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ کر اب دوسری بار پھر پڑھ رہا ہوں۔

ص: آپ نے دین سیکھنے کے لیے مزید کیا اقدام کیا ہے؟

ی: دعوہ سٹال پہ موجود جس بھائی نے مجھے کلمہ پڑھایا تھا ، اس نے مجھے نصیحت کی تھی کہ آہستہ آہستہ دین سیکھنا اور ساتھ ساتھ عمل کرتے جانا۔ جلد بازی کی کوشش نہ کرنا۔ میں نے اس کی نصیحت پہ عمل کرتے ہوئے پہلے تو کچھ عرصہ مبادیات اسلام کا مطالعہ کیا پھر رفتہ رفتہ مسجد جانا شروع کیا۔ پھر جب مسجد جانے لگا تو وہاں ایک بھائی نے مجھے Islam Wise ، جو کہ گرین لین مسجد برمنگھم کا ایک ذیلی شعبہ ہے، کے بارے میں بتایا کہ وہ نو مسلم حضرات وخواتین کے لیے تعلیم وتربیت کا انتظام کرتے ہیں۔ چنانچہ میں ان سے منسلک ہو گیا۔ تب سے ہفتہ وار اور ماہانہ کلاسز اور دروس میں شرکت کر رہا ہوں۔ الحمد للہ

ص: کیا اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟

ی: نہیں! اب تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے سب راستے ہموار کر دیے ہیں۔ البتہ میں اب اس حالت میں (داڑھی رکھے اور شلوار ٹخنوں سے اونچی رکھے) اپنے ملک نہیں جا سکتا۔ کیونکہ اولاً میں وہاں سے بھاگ کر آیا تھا اور دوسرا یہ کہ اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ نفرت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اب زندگی بھر شاید برطانیہ میں رہنا پڑے کیونکہ جیسا کہ مشہور ہے یورپ بھر میں سب سے زیادہ مسلمانوں کے لیے موزوں فضا اسی ملک میں ہے اور میں یہاں خوش بھی ہوں۔ الحمد للہ

ص: اب تک آپ کو اسلام کی سب سے اچھی خوبی کون سی لگی ہے؟

ی: توحید باری تعالیٰ کے بعد سب سے بڑی خوبی مجھے اخوت، ہمدردی، خیر خواہی اور باہمی تعاون لگے ہیں۔ میں جب چرچ جایا کرتا تھا تو بسا اوقات مجھے کوئی ایک شخص بھی نہ ملتا حتی کہ پادری بھی نہ ملتا جس سے میں اپنی کسی ذہنی کشمکش کا اظہار کرتا اور وہ مجھے اسکا کوئی حل بتاتا۔ 

جبکہ مسلمان اس معاملے میں بہت آگے ہیں، بالخصوص گرین لین مسجد جو کہ کسی ایک کلچر یا ملک کے باشندوں کی نہیں بلکہ مختلف رنگ ونسل کے تمام مسلمان اسے اپنی مسجد سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہاں آتے کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی بلکہ دلی سکون ملتا ہے۔

ص: قبول اسلام کے بعد آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟

ی: سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں دین کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کروں۔

ص: آخر میں آپ ہمارے قارئین کو کیا خصوصی پیغام دیں گے؟

ی: میرا پیغام اپنے مسلمان بھائیوں کے نام یہ ہے کہ دنیا کی رنگینیوں میں بالکل سکون نہیں ہے بلکہ سکون صرف اور صرف اللہ کی یاد میں ہے۔ لہٰذا اس دنیا کے دھوکے سے بچنے کا واحد ذریعہ اسلام پر عمل کرنا ہے اور اسلام پہ عمل کرنے سے دوری سراسر ہلاکت کا باعث ہے۔

ص: اللہ ہمیں اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ جزاک اللہ خیرا

٭٭٭

تبصرہ کریں