انٹرویو نَو مسلمہ سمیہ۔ قاری ذکاء اللہ سلیم (امام وخطیب گرین لین مسجد یوکے)

آج سے تقریباً 9 برس قبل کسی بھی قسم کی قربانی کا عزم لے کر اسلام کو گلے لگانے والی برمنگھم کی رہائشی خوش قسمت سمیہ، جس کی جنونی تڑپ نے اس کی بیٹی، دو بیٹوں اور خاوند کو بھی کلمہ پڑھنے پہ مجبور کر دیا، کی نہایت ایمان افروز اور سبق آموز داستان قارئین کے پیش خدمت ہے۔

اگرچہ انٹرویو صرف سمیہ کا کرنا مقصود تھا مگر اس کی خواہش تھی کہ اس کی فیملی کے دیگر افراد کو بھی اس نیکی میں شامل کیا جائے۔ چنانچہ اسلامی حجاب میں ملبوس سمیہ اپنی باحجاب بیٹی اور مکمل باریش خاوند کے ساتھ انٹرویو کے لیے حاضر ہوئی جبکہ اس کے دونوں بیٹے بوجوہ خود تو نہ آ سکے۔ مگر ان کی والدہ نے ان کی نیابت کر دی۔ لہٰذا یہ انٹرویو سہ رکنی اور گزشتہ انٹرویوز سے مختلف ہے۔ تاہم امید ہے کہ قارئین اسے یقیناً مفید پائیں گے۔

ان شاء اللہ

ص: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ص: بہن! آپ کا پیدائشی نام کیا ہے؟

س: میرا پیدائشی نام Rachel Wadrup (راچل وَڈرَپ) ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد میں نے اپنا نام سمیہ پسند کیا ہے۔

ص: آپ کی عمر کیا ہے؟

س: میری عمر 45 سال ہے۔

ص: کیا آپ کوئی کام کاج یعنی ملازمت وغیرہ کرتی ہیں؟

س: اصل کام تو گھر سنبھالنا ہے، مگر میں چونکہ Florist (گُل فروش) ہوں، اس لیے گجرے اور گل دستے بنانا میرا محبوب مشغلہ ہے۔

ص: آپ کے خاندان میں اب تک کون کون مسلمان ہو چکا ہے؟

س: میری ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں، وہ سبھی مسلمان ہو چکے ہیں، خاوند مسلمان ہو گئے ہیں۔ الحمد للہ، ایک بڑی بہن اور تین چھوٹے بھائی ہیں، وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے مگر کوشش جاری ہے، اگر ان کے مقدر میں ہدایت ہوئی تو اللہ تعالیٰ انہیں ضرور سیدھا راستہ دکھا دیں گے، البتہ ایک چھوٹا بھائی بہت حد تک اسلام کی طرف مائل ہو چکا ہے، مجھے اللہ کی رحمت کی امید ہے کہ وہ عنقریب مسلمان ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

میرے والد کیتھولک عیسائی تھے اور وہ دو سال قبل وفات پا چکے ہیں۔ والدہ ابھی زندہ ہیں مگر وہ کسی بھی مذہب کی پیروکار نہیں ہیں۔ اللہ انہیں بھی ہدایت عطا فرمائے۔

ص: اسلام کی طرف آپ کا سفر کب اور کیسے شروع ہوا؟

س: میرے خیال میں اس سفر کا آغاز تو بچپن ہی سے ہو چکا تھا، جب میری خالہ، جو کہ عیسائی فرقے یہووا وٹنسز سے منسلک تھیں، مجھے کبھی کبھار اپنے ساتھ چرچ لے جایا کرتی تھیں۔ مگر میں فطرتی طور پہ ایک الٰہ ہی کو مانتی تھی اور اسی سے دعا کرتی تھی۔ پھر جب میری شادی ہو گئی اور میرے ہاں اولاد ہونے لگی تو میں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ میں حسب استطاعت ان کی اچھی تربیت کروں گی، کیونکہ میں یہ اعتقاد رکھتی تھی کہ اولاد اللہ ہی کی عطا کردہ نعمت ہے۔ میرا سب سے بڑا بیٹا، جو اَب پچیس سال کا ہے، جب دس سال کی عمر کو پہنچا تو اسے دمہ کی سخت تکلیف ہو گئی۔ حتیٰ کہ ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ اس کے زندہ بچنے کی امید نظر نہیں آتی، مگر میں اس کی صحت یابی کے لیے بہرحال مسلسل دعائیں کرتی رہی،بالآخر شفایاب ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ مجھے تو اب اپنے خالق کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اس کی عبادت پہلے سے زیادہ لگن سے کرنی چاہیے۔

ص: آپ بار بار الٰہ اور خالق کی بات کرر ہی ہیں تو کیا اس وقت اس سے آپ کی مراد تثلیث (یعنی اللہ، عیسیٰ اور روح القدس تینوں مل کر خدا ہیں) ہوا کرتی تھی؟

س: نہیں! میں فطرت سلیمہ کے مطابق صرف ایک الٰہ کو مانتی تھی۔ عقیدہ تثلیث تو کبھی میری سمجھ میں آیا ہی نہیں تھا۔ بس یہ جانتی تھی کہ ہمیں پیدا کرنے والی اور رزق عطا کرنے والی ایک ذات ہے جو ہماری عبادت اور دُہائی کی حقدار ہے۔ بہرکیف جب میرا بیٹا صحت یاب ہو گیا تو میں اس قدر خوش ہوئی کہ مکمل دل لگی سے عبادت کی ٹھان لی۔ میں نے اپنی اس دلی تمنا کا اظہار ایک سہیلی کی والدہ سے کیا جو عیسائی تھی اور اکثر وبیشتر چرچ جایا کرتی تھی۔ اس نے مشورہ دیا کہ مجھے چرچ کی اجتماعی عبادت میں باقاعدگی سے شرکت کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے پابندی کے ساتھ چرچ جانا شروع کر دیا اور گاہے بگاہے اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتی۔ کبھی کبھار میرے خاوند بھی چرچ جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے بائبل کا مطالعہ بھی شروع کر دیا، میں جوں جوں اسے پڑھتی جاتی، میرے ذہن میں اٹھنے والے سوالات بڑھتے جاتے جن کا کہیں سے جواب نہ ملتا۔ پادری سے یا کسی اور سے کبھی اپنی ذہنی تشویش کا اظہار کرتی تو ایک ہی جواب ملتا کہ ’’ خواہ مخواہ سوالات نہیں کرنے چاہئیں بلکہ جو کچھ بتایا جائے اسے آنکھیں بند کر کے مان لینا چاہیے۔‘‘ مگر میں سوچتی تھی کہ میرے رب نے مجھے عقل اور سوجھ بوجھ کس لیے دی ہے؟ میں کسی اندھی تقلید کیوں کروں؟ تقریباً سات سال تک میں اس الجھن کا شکار رہی مگر کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ رب کی عبادت کو دل چاہتا تھا مگر سوچ کا الجھاؤ ضمیر کو

بے قرار رکھتا تھا۔ بالآخر میں دل برداشتہ ہو کر چرچ سے دور ہونے لگی، میرے ساتھ میرے خاوند بھی کچھ ایسی ہی کشمکش کی وجہ سے مذہب سے دور ہوگئے، آپ مزید تفصیلات ان سے خود پوچھ سکتے ہیں۔ بہرحال ہمارے پڑوس میں ایک مسلمان فیملی رہتی تھی جو بہت بااخلاق اور نہایت ہمدرد تھی۔ ان کا ہمارے ساتھ سلوک نہایت اچھا اور خیرخواہانہ تھا۔ میں نے رفتہ رفتہ اپنی ہمسائی کے ساتھ اپنے ذہنی خلفشار کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ میں اس سے اس کے ایمان اور عقیدے کے بارے میں بھی پوچھتی اور وہ مجھے اللہ اور محمد ﷺ کے بارے میں بہت سی باتیں بتاتی، میں شوق سے اس کی باتیں سنتی۔ اس نے مجھے عیسیٰ کی بابت اپنے عقیدے کے بارے میں بھی بتایا،عیسائی ہونے کے ناطے میرے دل میں عیسیٰ کی محبت تو تھی ہی اس کی باتیں سن سن کر میرے دل میں محمد ﷺ کی محبت بھی پیدا ہو گئی۔

ص: کیا اس نے آپ کو پڑھنے کے لیے بھی کچھ دیا؟

س: جی ہاں! میری دلچسپی بھانپ کر اس نے مجھے انگلش ترجمے والا قرآن مجید دیا تھا۔ میں نے جب اسے ابتداء سے پڑھنا شروع کیا تو دوسرے ہی صفحے پہ سورہ بقرہ کی آیت مبارکہ ﴿ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ﴾ ’’یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ نے میری آنکھوں سے گویا پردہ اٹھا دیا۔ اس ضمانتی بیان کے چیلنج اور گارنٹی نے میرے دل کو ایسا یقین عطا کیا کہ آج تک اس کا رسوخ میں محسوس کرتی ہوں۔ بلکہ جب کبھی اس کےبارے میں سوچتی ہوں تو میری دلی کیفیت ناقابل بیان ہو جاتی ہے (یہ باتیں کرتے ہوئے سمیہ کی آواز تھرتھرانے لگی اور اس کی آنکھوں میں شکرانے کے آنسو تیرنے لگے) دورانِ مطالعہ میں سورۃ مریم بہت شوق سے پڑھتی تھی اور بسا اوقات اس کی تلاوت بھی سنتی۔ میری بیٹی مجھ سے کہتی کہ ’’امی آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟ یہ درست نہیں ہے۔ آپ عیسائی ہو کر کسی اور مذہب کی کتاب کیونکر پڑھ سکتی ہیں؟‘‘ میں کہتی کہ ’’ نہیں! یہ اسی رب کا کلام ہے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں اور جس سے سب کچھ مانگتے ہیں۔‘‘

قرآن مجید کا مطالعہ کرنے کے دوران دو ہفتوں کے اندر اندر میرا دل مکمل طور پر مطمئن ہوچکا تھا کہ یہ کتاب ہی میری سب الجھنوں کا حل ہے۔ پھر ایک دن میں نے اپنے شوہر سے ذکر کیا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو کیا خیال ہے؟ وہ میری بات سے چونک اٹھے اور بولے کہ ’’ اگر تم نے ایسا کیا تو وہ ہمارے ازدواجی رشتے کا آخری دن ہو گا۔ یہ قطعاً ناقابل قبول ہے۔ تم ایسا ہرگز نہیں کرو گی۔‘‘ وہ اگرچہ خود بھی چرچ سے دور ہو چکے تھے مگر میرے یا اپنے مسلمان ہونے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ بہرحال میرے سامنے تو حق بالکل عیاں ہو چکا تھا اور میں اسے ٹھکرانے سے یکسر قاصر تھی، میری زندکی بھر کے سوالات (مثلاً انسان کی تخلیق کا کیا مقصد ہے؟ کائنات کی تخلیق کیوں ہوئی؟ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ وغیرہ) کے اطمینان بخش جوابات مل چکے تھے۔ اپنے شوہر سے بات کرنے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد میں نے اپنی ہمسائی کو فون کیا اور اس سے کہا کہ ’’ازراہ عنایت جس مسجد میں آپ جاتی ہیں مجھے بھی ساتھ لے چلیے، میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ کہنے لگی: ٹھہرو، ٹھہرو! تمہارے اپنے خاوند کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اتنا بڑا اقدام کرنے سے پہلے انہیں اعتماد میں لو اور ان کی رائے بھی معلوم کرو تاکہ تمہیں بعد میں بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میں نے کہا: میں آپ کے کہنے سے پہلے اپنے شوہر سے اس خواہش کا اظہار کر چکی ہوں اور ان کی رائے بھی جان چکی ہوں۔ انہوں نے اگرچہ سخت ناپسندیدگی دکھائی ہے مگر مجھے بہرصورت اپنے خالق ومالک رب کی بات ماننی ہے نہ کہ خاوند کی۔ یہ معاملہ میرے اور میرے رب کے درمیان ہے، کل روز قیامت مجھے خود اپنی زندگی کا حساب دینا ہو گا، میرا خاوند یا کوئی اور مجھے کچھ فائدہ نہیں دے سکے گا۔ لہٰذا خاوند کی خوشنودی کی خاطر میں اپنے رب کی ناراضی مول نہیں لے سکتی۔‘‘ اس نے جب میرا اصرار دیکھا تو مجھے مسجد لے جانے کے لیے تیار ہو گئی اور پھر چند گھنٹوں کے بعد ہم گرین لین مسجد میں پہنچ گئے جہاں میں نے کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ الحمد للہ، یہ 2008 کی بات ہے، اس واقعہ کو نو برس بیت چکےہیں۔

ص: اس موقع پر آپ کو خوشی تو بہت ہوئی ہو گی؟

س: مجھےیوں لگا، جیسے میرے کندھوں سے بہت بھاری بوجھ اتر گیا ہے (سورۃ اعراف کی آیت نمبر 157 میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے اوصاف حمیدہ اور نبوی ذمہ داریوں میں اس بات کا ذکر بھی کیا ہے کہ آپ لوگوں کے کندھوں سے خود ساختہ رسوم و رواج کے بوجھ ہٹاتے اور ان کی گردنوں میں پڑے سماجی اور مذہبی وڈیروں کی غلامی کے طوق اتار پھینکتے ہیں) میں نے خود کو بہت ہلکا محسوس کیا اور دل میں ایسی فرحت اورشادمانی پھوٹ اٹھی کہ اس سے پہلے کبھی اس کا احساس نہیں ہوا تھا، پھر جب میں گھر واپس لوٹی تو شوہر کا ردّعمل دیکھنے کے لیے ان سے پوچھا کہ ’’ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو؟ ‘‘ میرے چہرے کی تروتازگی اور آنکھوں سے چمکنے والی مسرت کا اندازہ کر کے انہوں نے برجستہ کہا: ’’ مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہارا طرزِ گفتگو پتہ دینا ہے کہ تم مسلمان ہو چکی ہو۔‘‘

ص: کیا انہوں نے قطع تعلق نہیں کیا جیسا کہ وہ پہلے آپ کو دھمکی دے چکے تھے؟

س: دو ہفتے وہ مجھ سے ناراض رہے اور میرے ساتھ گفتگو نہیں کی۔ مگر سچ یہ ہے کہ مجھے ان کی ناراضگی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھی اور اسی لیے میں نے اپنا نیا نام سب سے پہلی شہیدہ اسلام سیدہ سمیہ کی بے مثال ثابت قدمی کی داستان پڑھ کر رکھا تھا۔ تاہم میری دلی تڑپ تھی کہ میرا سارا گھرانہ مسلمان ہو جائے۔ اس لیے دعوت کا آغاز کرنے کی نیت سے میں نے اپنی بیٹی کو اپنے مسلمان ہونے کی خبر دی۔ وہ پہلے تو سخت ناراض ہوئی کہ ’’آپ خود ہی تو ہمیں چرچ لے جاتی تھیں اور ہمیں عیسائیت کا درس دیتی تھیں۔ اب آپ نے اپنا دین تبدیل کر لیا ہے۔ یہ آپ کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ میں نے اسے سمجھایا اوراسے حدیث کی کتاب ریاض الصالحین جو انگلش میں مترجم تھی اور گرین لین مسجد کی طرف سے مجھے ہدیۃً ملی تھی، اسے پڑھنے کے لیے دی اور اس سے کہا کہ ’’اسے پڑھ کر خود فیصلہ کرو کہ اس میں جو باتیں مذکور ہیں وہ درست ہیں یا نہیں‘‘ اس سے اگلی بات آپ خود اس سے پوچھ لیں۔ (اس کے بعد انٹرویو کے چند سوالات سمیہ کی بیٹی سے کیے گئے اور اس نے اپنے قبول اسلام کی روداد سنائی۔)

ص: آپ کا پیدائشی نام کیا ہے؟

ع: میرا اصل نام Candice (کینڈیس) ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے ’’عالیہ‘‘ نام منتخب کیا ہے۔

ص: آپ کی عمر کیا ہے؟

ع: اس وقت میری عمر 23 سال ہے۔ جب مسلمان ہوئی تب میری عمر 14 سال تھی اور سکول میں پڑھتی تھی۔

ص: کیا گھر میں والدہ کے بعد مسلمان ہونے والی آپ ہی تھیں؟

ع: جی ہاں

ص: آپ کو کس چیز نے اسلام کی طرف راغب کیا ہے؟

ع: بچپن میں ہم والدہ کے ساتھ چرچ جایا کرتے تھے مگر جب انہوں نے جانا چھوڑ دیا تو ہم نے بھی چھوڑ دیا جبکہ اس کی وجہ والدہ نے کبھی ہمیں بتائی نہ ہم نے پوچھی۔ البتہ ذہن میں یہ بات راسخ تھی کہ ہم عیسائی ہیں اور یہی سچا مذہب ہے۔ جب والدہ نے اسلام قبول کیا تو مجھے سخت پریشانی ہوئی۔ پھر انہوں نے مجھے سمجھایا اور مطالعہ کے لیے مترجم ریاض الصالحین دی۔ میں نے اسے پڑھنا شروع کیا تو ایک ایک حدیث میرے دل میں نہ صرف اترتی گئی بلکہ اسے نور سے بھرتی گئی۔ میری آنکھوں سے حجاب یوں اٹھتے گئے گویا میں کسی اور جہاں کی طرف رخ کیے ہوئے ہوں۔ میں ان احادیث کی اس قدر شیدائی ہوئی کہ رات گئے تک پڑھتی رہتی۔ آخر ایک شام میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو وقت گزرتے گزرتے رات 2 بجے کا ٹائم آ پہنچا۔ میں اس کے مطالعہ میں ایسی مگن ہوئی کہ وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔

بالآخر صورت حال یہ ہو گئی کہ میرے آنسو تھے جو تھمتے نہ تھے، میں والدہ کے کمرے میں گئی اور ان سے کہا کہ ’’امی! ایسی خوبصورت اور پُرتاثیر باتیں تو میں نے کبھی کسی کتاب میں پڑھی ہیں نہ کبھی کسی سے سنی ہیں، انہوں نے تو میرا دل موہ لیا ہے۔‘‘ میں صرف ایک حدیث بطور مثال ذکر کرتی ہوں جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ’’ پانچ وقت نماز پڑھنے والا گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو جاتا ہے۔ جیسے وہ شخص جس کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ ہر روز پانچ بار اس میں نہائے جس کے نتیجے میں اس کے بدن پہ کوئی میل کچیل نہ بچے۔‘‘ میں اگرچہ اسلام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی مگر اس بات سے واقف تھی کہ مسلمان ایک دن رات میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں، جبکہ اس کے ماوراء فلسفے اور حکمت سے نا آشنا تھی بلکہ تعجب کناں بھی تھی۔ جب یہ حدیث پڑھی تو میرے تحیر کا عُقدہ کھل گیا اور دل نے فوراً صدا دی کہ پنج وقتہ نماز کی اس سے بہتر اورعمدہ مثال کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ الغرض میں نے والدہ سے کہاکہ ’’میں مسجد میں جا کر دیکھنا چاہتی ہوں کہ مسلمان نماز کیسے ادا کرتے ہیں۔ آپ کسی روز مجھے ساتھ لے چلیے۔‘‘ چنانچہ اگلے ہی روز والدہ مجھے گرین لین مسجد لے گئیں۔ جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے تو اذان شروع ہو چکی تھی۔ ادھر اذان کی آواز کانوں سے ٹکراتی اور ادھر ضمیر نے جھنجھوڑا کہ اس سے بڑھ کر سچائی اور کہاں ملے گی۔ چنانچہ میں نے اسلام کی آغوش میں آنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ سوموار کا دن تھا۔ اس کے دو دن بعد بدھ کے روز دوبارہ مسجد میں آ کر کلمہ پڑھ لیا۔ الحمد للہ

کلمہ شہادت پکارتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھا اور اس قدر مسرت روح پہ طاری ہوئی کہ میں الفاظ میں اسےکبھی بیان نہیں کر سکتی۔ گویا مجھے کائنات کا قیمتی ترین تحفہ مل گیا تھا۔

ص: آپ نے والدہ کے مسلمان ہونے کے کتنا عرصہ بعد اسلام قبول کیا؟

ع: دو ہفتے کے بعد

ص: آپ اس وقت نو عمر تھیں۔ کیا اپنی سہیلیوں یا کلاس فیلوز کے طعنوں اور تنقید کا ڈر دل میں نہیں آیا؟

ع: ڈر تو نہیں تھا، البتہ ہچکچاہٹ تھی، اسی لیے میں نے پہلے کچھ دن تو کسی کو بتایا ہی نہیں۔ پھر میری ایک مسلمان کلاس فیلو لڑکی تھی، جس کا نام اقرا تھا اس پہ اعتماد کرتے ہوئے میں نے بطور راز اسے بتایا کہ میں مسلمان ہوچکی ہوں۔ وہ اس قدر خوش ہوئی کہ اس نے گھر جا کر اپنے والدین کو بتایا اور پھر مجھے دعوت پہ بھی بلایا۔ میں نے اس سے سکارف پہننے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے مجھے ایک سکارف تحفۃً دے دیا۔ میں سکول کے لیے گھر سے نکلتے وقت اسے پہن لیتی مگر سکول میں داخل ہونے سے پہلے اتار دیتی تھی۔ پھر چھٹی کے وقت سکول سے نکل کر دوبارہ پہن لیتی تھی۔ ایک روز صبح سکول جاتے ہوئے اقرا میرے گھر آئی تو میں نے اسے کہا کہ ’’ میں آج سکارف پہن کر سکول جانا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے میرے اس اقدام کو سراہا اور میرا حوصلہ بڑھایا اور میں نے سکارف پہن لیا۔ جب کلاس میں پہنچی تو ٹیچر کہنے لگی کہ یہ سکارف اتار دو۔ میں نے ہمت باندھتے ہوئے کہا : ’’نہیں! میں اسے نہیں اتاروں گی کیونکہ میں مسلمان ہو گئی ہوں۔‘‘ پہلے تو اس نے سمجھا کہ میں مذاق کر رہی ہوں مگر جب اس کے اصرار کے باوجود میں مسلسل انکار کرتی گئی تو اس کے حیرت سے ملے جلے طیش میں اضافہ ہو گیا حتیٰ کہ اس نے میرے بڑے بھائی کو فون کر کے شکایت بھی کی لیکن اس نے کوئی رد عمل نہیں دکھایا بلکہ یہ کہا کہ ’’ یہ اس کی اپنی پسند اور مرضی ہے، ہم اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘ ٹیچر کے علاوہ ایک دو لڑکوں نے بھی میرے ساتھ بدتمیزی کی۔ ایک نے میرے سر پہ مارا اور دوسرے نے میرا سکارف کھینچ کر اتارنے کی کوشش کی، اسی طرح کچھ لڑکیاں بھی میرے ساتھ ناروا سلوک کرتیں، مگر میں نے اللہ کی توفیق سے ان چیزوں کی پروا نہیں کی اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے 2013ء میں ایک صومالی مسلمان سے شادی کی جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بیٹی عطا کی ہے۔

ص: آپ کے بعد پھر کس نے اسلام قبول کیا؟

ع: میرے بڑے بھائی Kurtis (کرٹس) نے، جس کا نا اب ’زید‘ ہے۔ ( اس کے بعد سمیہ اپنے بیٹے کے بارے میں بتانے کے لیے بولی) جب عالیہ نے اسلام قبول کر لیا تو اس کے چند روز بعد میں نے اپنے بیٹے سے ، جس کی عمر اس وقت سولہ سال تھی، کہا کہ ’’ بیٹا! میری خواہش ہے کہ تم بھی یہ دین اپنا لو۔ اس نے کہا: امی! آپ جو رستہ اختیار کریں میں آپ کے پیچھے ہوں۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ آپ اپنے لیے یا میرے لیے کسی غلط راہ کا انتخاب نہیں کر سکتیں۔‘‘ میرا چھوٹا بیٹا Clayton (کلے ٹن) جو کہ اب حمزہ ہے، اس وقت نَو سال کا تھا۔ میں اس کے بارے میں فکر مند تھی کہ اسے اسلام کے بارے میں کیسےبتاؤں۔ میں نے مسجد میں فون کر کے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے دونوں بیٹوں کو اسلام کا تعارف اور اس کی بنیادی تعلیمات سے آگاہ کرنا چاہیے اور اگر وہ خوشی سے قبول کریں تو انہیں مسجد لے جا کر کلمہ پڑھوا دوں۔ بالآخر وہ دونوں بھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ ان کے اور عالیہ کے کلمہ پڑھنے میں صرف ایک ہفتے کا وقفہ ہے۔

پھر میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ ’’دیکھیں! آپ کے سوا گھر میں سب مسلمان ہو چکے ہیں۔ آپ کو بھی اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘ اس کے ساتھ ساتھ میں ان کےلیے دعا بھی کرتی کہ اللہ ان کاسینہ کھول دے اور انہیں ہدایت عطا فرما دے۔ (اس کے بعد چند سوالات سمیہ کے خاوند سےکیے گئے۔)

ص: آپ کا اصل نام کیا ہے؟

ا: میرا پیدائشی نام Darren Gibbs(ڈیرن گبس) ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میرا نام ابراہیم ہے۔

ص: آپ کی عمر اور پیشہ کیا ہے؟

ا: میری عمر 46 سال ہے اور میں معمار (مستری) ہوں۔

ص: آپ کیسے مسلمان ہوئے؟ آپ نے تو اپنی بیوی کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ مسلمان ہوئی تو آپ کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔

ا: جیسا کہ سمیہ نے بتایا ہے کہ اس کی طرح میں بھی چرچ سے متنفر ہو گیا تھا ، مگر میں نے اس کے بعد کوئی متبادل رستہ اختیار کرنے کی پروا نہیں کی۔ بس اپنے کام سے کام رکھا۔ پھر جب گھر میں درجہ بدرجہ تبدیلی آئی تو میں جی ہی جی میں ورطۂ حیرت میں مبتلا ہوگیا۔ ایک طرف بیوی بچوں کا مسلمان ہونا اور دوسری طرف دل ودماغ پہ چھایا تصور کہ عیسائیت ہی تو اصل دین ہے جسے بچپن سے اب تک جانا اور مانا ہے۔ ایک خیال آتا کہ مسلمان ہونا جاؤں تو دوسرا خیال آتا کہ انگریز کیلئے عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لینا بھلا کیونکر ممکن ہے؟ دن رات یہی خیالات دل کو مضطرب رکھتے۔ چنانچہ ایک روز کام پہ کچھ ہم پیشہ مسلمانوں سے میں نے خود ہی اپنی حیرانی اور کشمکش کا تذکرہ کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا۔ انہوں نے بڑے حکیمانہ انداز سے جواب دیا کہ ’’ اسلام قبول کرنا یا نہ کرنا تمہاری اپنی مرضی ہے لیکن تمہیں اس کے بارے میں کچھ پڑھنا ضرورچاہیے تاکہ تم خود فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکو۔‘‘ میں نے ان کا مشورہ مانا اور اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ جوں جوں پڑھتا گیا سینہ کھلتا گیا بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب فرما دی۔ ایک روز اپنے گھر میں دوچار مسلمانوں دوستوں کو بلا کر ان کے سامنے کلمہ پڑھ لیا۔ میرے اور سمیہ کے مسلمان ہونے میں چارہ ماہ وقفہ تھا۔ میں اللہ کا بے حد شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمارے سارے گھرانے کو اسلام کی دولت عطا فرما دی۔

ص: الحمد للہ، اللہ تعالیٰ آپ سب کو ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین

(سمیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے)

بہن! آپ سے دو مزید سوال کر کے انٹرویو ختم کرتے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ آپ ہمارے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟

س: میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر کسی مشقت کے ایمان کی دولت عطا فرمائی ہے تو اس کی قدر کریں، ناقدری نہ کریں، ایمان سے عاری زندگی بالکل بے کار ہے، مغربی تہذیب اور ماحول کے باسی ہونے کے ناطے ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو احساس کم تری کا شکار ہونے اور مغرب کو للچائی نظروں سے دیکھنے کی بجائے اپنے دین کو دیکھنا چاہیے کہ ان کے پاس وہ عظیم دولت ہے جس سے مغربی معاشرے محروم ہیں اور ان کی یہ محرومی قابل رحم ہے۔

ص: آخری سوال آپ سے یہ ہے کہ بطور مسلمان آپ کی سب سے بڑی تمنا کیا ہے؟

س: (سمیہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں اور بولی) اللہ نے ہمیں اسلام کی نعمت عطا فرما دی ہے، ہمیں اس رب سے اور کیا چاہیے۔ اب بس یہی خواہش ہے کہ موت بھی اسی پہ آئے اور اللہ ہم سے خوش ہو جائے۔ تاہم ایک دینی تمنا یہ ہے کہ اللہ کا گھر دیکھ لیں اور جلد سے جلد حج کر لیں۔ اس کے لیے ہم دونوں میاں بیوی رقم جمع کر رہے ہیں اگر مطلوبہ رقم پوری ہو گئی تو اسی سال حج کرنے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ

٭٭٭

‫مرده كون ؟‬

امام ابن جوزی ﷫ فرماتے ہیں:

“ليس الميت من خرجت روحه من جنبيه وإنما الميت من لا يفقه ماذا لربه من الحقوق عليه.”

’’ میت وه نہیں جس كی روح پرواز كر گئی ، میت تو وه ہے جو سمجھتا نہیں كہ اس كے رب كے اس پر كیا حقوق ہیں ۔‘‘

(التذكرة : ص 18)

شیخ صالح بن فوزان الفوزان فرماتے ہیں:

حق بات کا یہ حق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے:

مسلک کے لئے عصبیت جائز نہیں۔

افراد کے لئے عصبیت جائز نہیں۔

اور قبائل کے لئے عصبیت جائز نہیں۔

ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ حق جہاں کہیں ملے، وہ اس کی اتباع کرتا ہے۔

○ وہ تعصب نہیں کرتا۔

○ حق بات کو نہیں چهوڑتا۔

مسلمان تو وہ ہے، اسے جہاں حق مل جائے، اس کے ساتھ رہتا ہے۔

خواہ یہ حق اس کے مسلک میں ہو یا دوسرے کے مسلک میں۔

اس کے امام کے پاس ہو یا دوسرے کے امام کے پاس۔

اس کے قبیلے اور برادری کے ساتھ ہو یا دوسرے کے قبیلے اور برادری کے ساتھ۔

یہاں تک کہ اگر حق اس کے دشمن کے پاس ہو تب بھی وہ اسے اختیار کرتا ہے۔

کیونکہ حق کی طف رجوع کرنا، باطل پر جم جانے سے بہتر ہے۔

( اعانۃ المستفيد : 2/ 115)

تبصرہ کریں