انٹرویو نَو مسلم ٹیری۔ ذکاء اللہ سلیم

ص: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ٹ:  وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ص: آپ کا پیدائشی نام کیا ہے؟

ٹ: میرا نام Thierry (ٹیری) ہے۔

ص: مسلمان ہونے کے بعد کیا نام رکھا؟

ٹ: میں نے اپنا نام تبدیل نہیں کیا کیونکہ مجھےبتایا  گیا  تھا کہ اگر نام شرکیہ یا خلاف شرع نہ ہو تو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میرا نام ایک فرانسیسی کلمہ ہے جس کا معنیٰ ’طاقت ور‘ ہے۔ اس لیے میں نے کلمہ پڑھنے کے بعد اسے باقی رکھا ہے۔

ص: تو کیا آپ کا تعلق فرانس سے ہے؟

ٹ: جی ہاں! میرا اصل وطن فرانس ہے اور وہیں میں پَلا بڑھا ہوں اور برطانیہ میں 2011 سے  مقیم ہوں۔

ص: آپ کی عمر کیا ہے؟

ٹ: میری عمر بتیس (32) سال ہے۔

ص: اسلام کب قبول کیا تھا؟

ٹ: تقریباً دس سال قبل اسلام قبول کیا تھا جب میری عمر بائیس سال تھی۔

ص: یعنی جب آپ فرانس  میں تھے، تبھی اسلام قبول کر لیا تھا۔

ٹ: جی ہاں

ص: کیا آپ کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے بھی کوئی مسلمان ہے؟

ٹ: نہیں! میرے دو بھائی اور ایک بہن ہے، مگر سبھی غیر مسلم ہیں۔

ص: آپ کی تعلیم اور پیشہ کیا ہے؟

ٹ: میری تعلیم بنیادی سی ہے اور بطور پیشہ ایک گودام میں ملازمت کرتا ہوں۔

ص: اللہ تعالیٰ آپ کے رزق میں برکت دے۔

ٹ: آمین ، بارک اللہ فیک

ص: چلیے، اصل بات کی طرف آتے ہیں، اسلام کی طرف آپ کا سفر کب اور کیسے شروع ہوا؟

ٹ: اسلام کی طرف سفر کی داستان کچھ یوں ہے کہ میں بچپن ہی سے مذہب کے ساتھ منسلک  رہا، والدین بالخصوص والدہ کے ساتھ باقاعدگی سے چرچ جایا کرتا تھا اور وہاں کی مذہبی عبادت ورسومات میں بھی شرکت کرتا تھا مگر یہ سب کچھ لکیر کا فقیر بن کے کرتا تھا، یعنی بغیر سوچے سمجھے۔ جب عقل کچھ پختہ ہوئی اور میں بیس (20) سال کی عمر  کو پہنچا تو اپنے مذہبی رجحان کے باعث بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ مقصد یہ تھا کہ اب تک جو کچھ کرتا آیا ہوں، اس کی وجوہات اور فوائد سے باخبر ہو سکوں۔ مگر معاملہ اس وقت کچھ بگڑنے لگا جب بائبل کی بہت سی چیزیں میری سمجھ میں نہ آئیں اور بہت سی باتیں خلاف عقل محسوس ہونے لگیں۔ اسی دوران میرا واسطہ ایک مسلمان سے پڑ گیا جو میرا  شریک کار تھا اور دین دار بھی۔  مذہبی ذہنیت کے حامل ہونے کے باعث ہم ایک دوسرے سے مختلف امور پہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ وہ جب کبھی کسی مسئلے پہ بات کرتے ہوئے اسلام کا حوالہ دیتا اور اسلامی نقطۂ نظر بیان کرتا تو اس کی گفتگو میرے دل کو لگتی اور میرا مَن اسے بڑی وسعت سے قبول کرتا۔ رفتہ رفتہ میں نے اسلام کے بارے میں پڑھنا اور سننا شروع کر دیا مگر ساتھ ہی ساتھ بائبل کا مطالعہ بھی جاری  رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے بائبل اور قرآن کا تقابل کرنے کی ٹھان لی۔ مگر اس وقت میری ذہنی کشمکش کی حد نہ رہی جب مجھے پتہ چلا کہ قرآن پوری دنیا میں ایک ہی ہے اور اس کا ایک ہی ورژن ہے جس کی دنیا میں مختلف زبانوں میں ترجمانی کی گئی ہے جبکہ بائبل کے بہت سے ورژنز ہیں  اور بےشمار تراجم بھی۔ حیرانی کی بات ہے کہ اس حوالے سے میرے ساتھ ایک واقعہ بھی پیش آیا جسے میں اس وقت تو نہ سمجھ سکا  مگر بعد میں وہ کئی بار یاد آیا بلکہ اب بھی یاد آتا ہے۔ وہ یہ کہ جب میں نے ابتداء میں بائبل کا مطالعہ کرنے کا فیصلہ کیا (جبکہ ابھی اسلام سے واقفیت نہ تھی)  تو میں پیرس شہر کے مرکز میں لگے ایک بک سٹال پہ بائبل لینے گیا۔ سٹال پہ ایک خاتون موجود تھی، میں نے اس سے کہا کہ مجھے بائبل  چاہیے، اس نے مجھ سے سوال کیا کہ کون سی بائبل؟ پروٹسٹنٹ والی، کیتھولک والی یا کوئی اور؟ سچی بات  ہے میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا بلکہ میرے علم میں یہ بات پہلی بار آئی تھی کہ بائبل کئی طرح کی ہے کیونکہ اس سے قبل تو میں والدین کی اندھی تقلید میں ہی مذہب سے وابستہ تھا۔ بہرکیف میرے پاس بائبل کا جو نسخہ تھا میں نے قرآن کے ساتھ اس کا تقابل کرنا شروع کر دیا۔ اس تقابل نے مجھے شدید  الجھن میں ڈال دیا کہ ایک طرف  قرآن کی ایک ایک بات میرے دل کو بھاتی اور دوسری طرف خاندانی اور نسلی عیسائی  مذہبی لگاؤ مجھے اپنے شکنجے سے نہ نکلنے دیتا۔  ایک سال سے زائد عرصہ اسی ذہنی الجھاؤ میں گزرا۔

ص: پھر اس پیچیدگی کا حل کیا نکلا؟

ٹ: اللہ تعالیٰ جس شخص کی ہدایت کا فیصلہ کر دیں، اس کے لیے راستے بھی کھول دیتے ہیں، میں نے احمد دیدات ﷫ (جو کہ جنوبی افریقہ کے باسی اور تقابل ادیان کے نامور عالمی شہرت یافتہ مبلغ تھے) کی ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیں، جن میں  سے ایک 

“The Quran Or The Bible which

is God’s Word”

(قرآن  یا بائبل: اللہ کا کلام کون سا ہے؟)  تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے قرآن اور بائبل کا تقابل اس خوبصورت اور عمدہ انداز سے کیا تھا کہ میرےذہن میں موجود تمام  سوالات کے تسلی بخش جوابات مجھے مل گئے تھے۔ پھر میں نے ان کی کچھ مزید ویڈیوز بھی دیکھیں جن سے میرے اطمینان قلب میں مزید اضافہ ہو گیا۔

میرے علم کے مطابق  غیر مسلموں بالخصوص  عیسائیوں کے سوالات کے مسکت جوابات کے لیے  ان کی تقاریر اور مناظرے بے حد مفید ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

ص: پھر آپ نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کب کیا؟

ٹ: احمد دیدات رحمہ اللہ کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد اسلام کی حقانیت کے بارے میں کوئی شک تو نہیں رہ گیا تھا، مگر آباؤ واجداد  کے دین کا طوق اور موروثی روایات کا پھندا گلے سے اتارنا آسان نہیں ہوتا۔ کچھ عصہ اس کشمکش میں رہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج خاندانی دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کروں اور پھر کل اس پہ پچھتاؤں۔ بالآخر جب ضمیر مطمئن ہو گیا اور انکار کی کوئی راہ نہ بچی تو خود ہی ایک روز  پیرس کی ایک مسجد میں جا کر  امام صاحب  سے کہا کہ مجھے کلمہ پڑھا دیجیے۔  انہوں نے میری درخواست قبول کی اور کلمہ پڑھا کر حلقہ بگوش اسلام کر دیا۔ الحمد للہ

ص: اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا؟

ٹ: کوئی خاص نہیں، بہن بھائی تو ویسے ہی مذہب سے لاتعلق ہیں، اس لیے انہیں میرے قبول اسلام سے کوئی سروکار نہیں۔ تاہم والدہ شروع میں ناراض ہوئیں اور پریشان بھی بلکہ انہوں نے مجھے دوبارہ سے عیسائی بنانے کی کوشش بھی کی اور وہ اس طرح کہ مجھے زبردستی  اپنے ساتھ چرچ لے کے گئیں تاکہ میں پادری کی گفتگو سن کے شاید  اس سے متاثر ہو جاؤں مگر ان کی کوشش بالکل  بے سود تھی۔

ص: آپ نے مسلمان ہونے کے بعد مزید دین کیسے سیکھا؟

ٹ: ایک تو ذاتی مطالعہ سے اور دوسرے ڈاکٹر بلال فلپس (جو کہ کینڈین نژاد نَو مسلم عالمی مقرر اور کتب کثیرہ کے مؤلف ہیں۔ آپ پیس ٹی وی انگلش کے اولین مقررین میں سے بھی ہیں) کی تقاریر سے۔ یوں کہیے کہ مسلمان ہونے سے قبل احمد دیدات رحمہ اللہ اور بعد میں ڈاکٹر بلال فلپس سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر انسان ان دونوں شخصیات کو تعصب اور ہٹ دھرمی سے بالا تر ہو کے سن لے تو اسلام سے متعلق  تمام ناجائز  شبہات دور ہونے کے ساتھ ساتھ دین کو اچھی طرح سمجھ بھی سکتا ہے۔

ص: آپ ہمارے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

ٹ: میرا پیغام یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنا احتساب کرنا چاہیے اور اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ جس طرح زندگی گزار رہا ہے کیا وہ درست سمت پہ چل رہا ہے کیونکہ  اکثر وبیشتر  لوگ آنکھیں بند کر کے لاشعوری میں غلط سمت چل رہے ہوتے ہیں اور انہیں اس کا احساس  تک بھی نہیں ہوتا۔ بسا اوقات  اس میں بڑوں کی تقلید اور کلچر کی نخوت بھی کارفرما ہوتی ہے۔ اسی چیز نے مجھے ایک عرصہ تک اسلام قبول کرنے سے روکے رکھا  تھا اور یہی چیز اب میری والدہ کے قبول اسلام میں رکاوٹ ہے۔ میں انہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور وہ میری باتوں سے اتفاق بھی کرتی ہیں مگر ’بڑوں کا دین‘ چھوڑنا انہیں بہت مشکل نظر آتا ہے۔

ص: اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہدایت نصیب فرمائے۔

ٹ: آمین

ص: آخری سوال آپ سے یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان آپ کی سب سے بڑی تمنا کیا ہے؟

ٹ: میری سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ مسلمان رنگ ونسل کی تفریق مٹا کر متحد ہو جائیں، جب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کرتا ہوں اور ان کے باہمی اتفاق واتحاد، پیار محبت اور رواداری کے واقعات سنتا ہوں تو دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش! میں بھی زندگی میں ایسی فضا اور ایسا ماحول دیکھ پاؤں۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو متحد فرما دے۔

ص: آمین ۔ بہت بہت شکریہ

٭٭٭

تبصرہ کریں