انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات۔ قاری محمد مصطفیٰ راسخ

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو مطیع اور فرمان بردار بندے کو عزت دینے والا جبکہ باغی اور سرکش کو ذلیل کر نے والا ہے۔ تقوی یقینا ہر نعمت کی بنیاد اور معصیت ہر آفت وبلا کا سبب ہے۔انسان پر آنے والی ہر مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔جو وہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرتا ہے ،اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور محرمات میں گھس جاتا ہے۔جس طرح نفس ترغیب کا محتاج ہے اسی طرح ترہیب کا بھی محتاج ہے۔

امام ابن قیم﷫ نے اپنی کتاب ’’الداء والدواء‘‘ میں ’’انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات ‘‘تفصیلا بیان کئے ہیں ۔جن کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو گناہوں سے محفوظ فرمائے۔آمین

گناہوں کے نقصانات

1۔علم سے محرومی:

کیونکہ علم ایک روشنی ہے جس کو اللہ انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے جبکہ گناہ اس روشنی کو بجھا دیتا ہے۔

2۔رزق سے محرومی:

جیسا کہ مرفوع حدیث میں وارد ہے:

«إِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ»

’’بندہ اپنے کردہ گناہوں کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔‘‘(مسندأحمد)

3۔وحشت کا احساس:

وہ خوف خدا جو گناہ گار آدمی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے،جس سے دراصل اس کی تمام لذتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

4۔خوف کا احساس:

وہ خوف جو گناہ گار شخص لوگوں سے محسوس کرتا ہے’’خصوصا نیک لوگوں سے‘‘جب یہ خوف قوی ہو جاتا ہے تو مذکور شخص ان نیک لوگوں سے ،اور ان کی مجالس سے دور بھاگتاہے اور ان سے نفع اٹھانے کی برکت سے محروم ہو جاتا ہے۔اور شیطانی گروہ کے اتنا ہی قریب ہوجاتا ہے جتناکہ رحمانی گروہ سے دور ہوتا ہے۔

5۔معاملات میں تنگی:

گناہ گار شخص اپنے سامنے معاملات کی تنگی اور خیر کے ہر دروازے کو بند محسوس کرتا ہے،جیسا کہ متقی اور پرہیز گار شخص کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے تمام معاملات کو آسان کر دیتا ہے۔

6۔اندھیرے کا احساس:

گناہ گار شخص حقیقتااپنے دل میں اندھیرا محسوس کرتا ہے ۔حتی کہ وہ رات کو اکیلے چلنے والے اندھے کی مانند گمراہی اور ہلاکتوں میں جا پڑتا ہے لیکن اس کو احساس تک نہیں ہوتا۔

7۔دل وبدن کی کمزوری:

گناہ انسان کے دل اوربدن کوکمزور کر دیتا ہے۔دل اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کی روحانی موت واقع ہو جاتی ہے۔جبکہ بدن کی کمزوری دراصل دل کی کمزوری ہے کیونکہ مومن کی ساری قوت اس کے دل میں ہوتی ہے۔فاجر شخص اگرچہ دیکھنے میں مضبوط ہو مگر ضرورت کے وقت وہ کمزور ہی ثابت ہو گا۔

8۔اطاعت سے محرومی :

گناہ انسان کو اطاعت اور فرمانبرداری سے روکتا ہے جس سے انسان مزید گناہوں میں پڑ جاتا ہے۔

9۔عمر میں کمی:

گناہوں سے عمر کم ہو جاتی ہے اور عمر کی برکت ختم ہو جاتی ہے جبکہ نیکی کرنے سے عمر میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔

10۔گناہ کی طرف رجحان:

کیونکہ گناہ سے گناہ ہی نکلتا اور پیدا ہوتا ہے۔ایک گناہ دوسرے گناہ کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔

11۔ارادہ معصیت کی مضبوطی:

گناہ کرنے کا سب سے خطرناک نقصان یہ ہے کہ گناہ کرنے کا ارادہ مضبوط ہو جاتا ہے اور توبہ کرنے کا ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے۔حتی کہ آہستہ آہستہ انسان کے دل سے توبہ کرنے کا ارادہ کلیۃً ہی ختم ہو جاتا ہے۔

12۔گناہ کی قباحت کا دل سے محو ہو جانا:

جب انسان کثرت سے گناہ کرتا ہے تو اس کے دل سے گناہ کی قباحت ختم ہو جاتی ہے اور گناہ کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔حتی کہ لوگوں کے دیکھ لینے یا برا بھلا کہنے کو بھی قبیح نہیں جانتا ۔بلکہ اگر اس نے گناہ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو یہ بد بخت خود لوگوں میں اپنے گناہ کی تشہیر کرتا پھرتا ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔اس قسم کے لوگوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان پر توبہ کا دروازہ بند ہے۔

جیسا کہ حدیث میں موجود ہے:

«كل أمتي معافى إلا المجاهرين»

’’اپنے گناہوں کی تشہیر کرنے والوں کے علاوہ میری امت کے سارے لوگوں کو معاف کر دیا جائیگا ۔‘‘

13۔مجرموں کی وراثت:

گناہ مجرموں کی وراثت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک وبرباد کر دیا ۔مثلا لواطت قوم لوط کی وراثت اور زمین میں تکبر کرتے ہوئے فساد برپا کرنا قوم فرعون کی وراثت ہے،علی ہذا القیاس گناہگار شخص ان مجرموں کا لباس پہن کر وہی گناہ کرتا ہے جو ان لوگوں نے کیا۔اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»

’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے‘‘

14۔ذلت ورسوائی کا سبب:

گناہ کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلت ورسوائی اور آنکھوں سے گر جانے کا سبب ہے۔اور جو شخص اللہ کے سامنے ذلیل ہو جائے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔اگرچہ ظاہرا لوگ اس سے ڈرتے ہوئے یا لالچ میں اس کی عزت کرتے ہی ہوں۔لیکن انہی لوگوں کے دلوں میں وہ حقیر ترین شخص ہوگا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَنْ یُهِنِ اللّٰہُ فَمَا لَهُ مِنْ مُّکْرِمٍ﴾

’’جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔‘‘ (الحج:18)

15۔گناہ کی حقارت:

گناہ پر مداومت اور ہمیشگی کرنے سے انسان کے دل میں گناہ کرنا حقیر بن جاتا ہے۔اور یہی ہلاکت کی علامت ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں:

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ ‏”‏‏.‏ فَقَالَ بِهِ هَكَذَا فطار»

’’مومن آدمی گناہ کو پہاڑ کی مانند تصور کرتا ہے اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں وہ پہاڑ اس پر نہ گر جائے،جبکہ فاسق وفاجرشخص گناہ کو مکھی کی مانند خیال کرتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھ گئی اور اس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو اڑا دیا۔‘‘

16۔نحوست:

انسان اور جانور گناہ گار شخص کو نحوست کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔امام مجاہد﷫ فرماتے ہیں!جب قحط سالی پڑتی ہے اور بارش رک جاتی ہے تو چوپائے گناہگار اور نافرمان بنی آدم پر لعنت کرتی ہوئے کہتے ہیں:

«هَذَا بِشُؤْمِ مَعْصِيَةِ ابْنِ آدَمَ»

’’یہ ابن آدم کی نافرمانی کی نحوست ہے۔‘‘

17۔عزت وآبرو کا خاتمہ:

گناہ انسان کو ذلت ورسوائی سے دوچار کر دیتا ہے اور عزت وآبرو کو برباد کر دیتا ہے کیونکہ ساری کی ساری عزت اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت میں مضمر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّةُ جَمِیْعاً﴾

’’جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے۔‘‘ (سورة فاطر:10)

18۔عقل میں فتور:

عقل اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نور اور روشنی ہے ،جبکہ گناہ اس نور اور روشنی کو بجھا دیتا ہے۔ جب یہ نو راور روشنی ہی بجھ جائے تو عقل وشعور میں فتور واقع ہو جاتا ہے اور انسان آداب انسانیت بھول جاتا ہے۔

19۔غفلت کا سبب :

کثرت سے گناہ کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کو غافلین میں سے لکھ دیا جاتا ہے۔جیسا کہ بعض مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان

﴿کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾ (سورة المطففین:14)

’’یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ(چڑھ گیا )ہے۔‘‘

سے گناہ کے بعد پے در پے گناہ مراد لیا ہے۔

20۔لعنت کا سبب:

جیسا کہ أحادیث میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مختلف گناہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ۔مثلاً

آپﷺ نے فرمایا کہ چور،سود خور،تصاویر بنانے والے اور قوم لوط کا فعل کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے۔ وغیرہ

21۔نبی کریمﷺ اور فرشتوں کی دعاؤں سے محرومی:

کیونکہ اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مومن مرد اور مومن عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کریں۔اور فرشتوں کے بارے میں فرمایا:

﴿اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِهِ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا﴾ (سورة المؤمن:7)

’’عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں،کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار !تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے ،پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔‘‘

22۔فساد فی الارض کا سبب:

گناہ زمین میں فساد کا سبب ہے کیونکہ گناہوں کے سبب ہی زمین پر پانی،اناج اور پھلوں میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴾ (سورة الروم:41)

’’خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد پھیل گیا۔اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔‘‘

23۔خسف ومسخ کا سبب:

گناہوں کے سبب ہی زمین پر زلزلہ آتا ہے یا زمین دھنس جاتی ہے یا زمین کی برکات ختم ہو جاتی ہیں۔

24۔غیرت کا فقدان:

گناہ گار شخص کے دل سے غیرت ختم ہو جاتی ہے اور وہ بے غیرت ہو جاتا ہے۔حتی کہ وہ گناہ کرنے کو بھی قبیح نہیں سمجھتا خواہ وہ خود گناہ کررہا ہو یا اس کے اہل عیال گناہ کر رہے ہوں۔

25۔شرم وحیا کا خاتمہ:

گناہ کرنے سے انسان کے دل میں موجود شرم و حیا ختم ہو جاتا ہے۔جو کہ دل کی حقیقی زندگی اور ہر خیر کی بنیاد ہے۔جب حیا ہی نہ رہے تو خیر بھی باقی نہیں رہتی۔ جیسا کہ حدیث میں ہے!’’جب تو حیا نہیں کرتا تو جو مرضی کر!‘‘

26۔اللہ کی تعظیم میں کمی:

گناہ گار شخص کے دل میں اللہ کی تعظیم کمزور پڑ جاتی ہے۔کیونکہ اگر اس کے دل میں اللہ کی عظمت ہوتی تو وہ یہ گناہ کبھی نہ کرتااور اس کے اندر گناہ کی جرأت کبھی پیدانہ ہوتی۔

27۔اللہ کی رحمت سے محرومی:

اللہ رب العزت نافرمان اور باغی شخص کو بھلا دیتے ہیں اور اس کو اس کی حالت پر تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ کس وادی میں جاکر ہلاک وبرباد ہو جائے۔

28۔نیکی سے بغاوت:

گناہگا ر اور نافرمان شخص کو نیکی کی توفیق ہی نہیں ملتی اور وہ اپنے گناہوں میں ہی لتھڑا رہتا ہے ۔

29۔خیر سے محرومی:

گناہ گا رشخص ان بھلائیوں سے محروم جا تاہے جو اہل ایمان وتقوی کو اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں:جس میں أجر عظیم کا ملنا

﴿وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ أَجْراً عَظِیْماً﴾ (سورة النساء:146)

’’اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘

30۔دنیا وآخرت میں شر کا دور ہو جانا

﴿إِنَّ اللّٰہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا﴾ (سورة الحج:38)

’’سن رکھو!یقینا سچے مومنوں کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ خود ہی ہٹا دیتا ہے۔‘‘

اور درجات کی بلندی شامل ہے

﴿یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ (سورة المجادلۃ:11)

’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جوعلم دئیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا۔‘‘

٭٭٭

حاجی عبد الحکیم کا انتقال

ہالینڈ کی دینی اور کاروباری شخصیت حاجی عبد الحکیم جنجوعہ بعمر 75 سال عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ جاتے ہوئے قضائے الٰہی سے چل بسے اور جمعہ کے بعد بعد نماز عصر مسجد نبوی میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی، جہاں ان کی وفات سے پورے خاندان میں غم واندوہ کی فضا قائم ہے، وہیں جنت البقیع آخری آرام گاہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک مطمئن اور مسرور ہے، مرحوم کا تعلق کوٹلی آزاد کشمیر سے ہے وہ ایک عرصہ تک برطانیہ میں مقیم تھے، بعد ازاں ہالینڈ منتقل ہو گئے اور وہاں کپڑے کی تجارت شروع کیے، اللہ نے انہیں بہت ترقی عطا فرمائی کوٹلی میں انہوں نے دینی تعلیم اور حفظ کا بڑا مدرسہ قائم کیا جس میں طلباء کی تعلیم وتربیت اور ان کی رہائش اورطعام کا بہترین نظام قائم کیا، اللہ نے انہیں مال سے زیادہ بڑا دل عطا فرمایا تھا، لاکھوں روپوں کا ماہانہ خرچ آتا ہے اور پنجاب سے اس مدرسہ کے لیے بہترین زیادہ بڑا دل عطا فرمایا تھا، لاکھوں روپوں کا ماہانہ خرچ آتا ہے اور پنجاب سے اس مدرسہ کے لیے بہترین اساتذہ کو منگوا کر اور ان کی تنخواہیں اور ان کی رہائش کے لیے مکانات تعمیر کیے، اسی طرح وہاں فقراء واساتذہ کو منگوا کر اور ان کی تنخواہیں اور ان کی رہائش کے لیے مکانات تعمیر کیے، اسی طرح وہاں فقراء و مساکین اورضرورت مندوں کے لیے ماہانہ وظائف مقرر کیے، سینکڑوں لوگوں کی دعائیں ان کے ساتھ تھیں وہ کئی بار حج بیت اللہ اورعمرے کی ادائیگی کے لیے گئے مگر پیر کی تکلیف کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تو انہیں یہ خواہش ہوئی کہ میں اپنی زندگی میں ایک اور عمرہ کر لوں، چنانچہ اہل وعیال کے ہمراہ وہ عمرہ سے فارغ ہو کر زیارت مسجد نبوی کے لیے مدینہ منورہ جا رہے تھے کہ راستے میں قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

پسماندگان میں زوجہ، دو بیٹے ابراہیم اور آصف اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ جامع مسجد ڈڈلی میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بہت احباب واقارب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین

تعلق کوٹلی آزاد کشمیر سے ہے وہ ایک عرصہ تک برطانیہ میں مقیم تھے، بعد ازاں ہالینڈ منتقل ہو گئے اور وہاں کپڑے کی تجارت شروع کیے، اللہ نے انہیں بہت ترقی عطا فرمائی کوٹلی میں انہوں نے دینی تعلیم اور حفظ کا بڑا مدرسہ قائم کیا جس میں طلباء کی تعلیم وتربیت اور ان کی رہائش اورطعام کا بہترین نظام قائم کیا، اللہ نے انہیں مال سے زیادہ بڑا دل عطا فرمایا تھا، لاکھوں روپوں کا ماہانہ خرچ آتا ہے اور پنجاب سے اس مدرسہ کے لیے بہترین زیادہ بڑا دل عطا فرمایا تھا، لاکھوں روپوں کا ماہانہ خرچ آتا ہے اور پنجاب سے اس مدرسہ کے لیے بہترین اساتذہ کو منگوا کر اور ان کی تنخواہیں اور ان کی رہائش کے لیے مکانات تعمیر کیے، اسی طرح وہاں فقراء واساتذہ کو منگوا کر اور ان کی تنخواہیں اور ان کی رہائش کے لیے مکانات تعمیر کیے، اسی طرح وہاں فقراء و مساکین اورضرورت مندوں کے لیے ماہانہ وظائف مقرر کیے، سینکڑوں لوگوں کی دعائیں ان کے ساتھ تھیں وہ کئی بار حج بیت اللہ اورعمرے کی ادائیگی کے لیے گئے مگر پیر کی تکلیف کی وجہ سے چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تو انہیں یہ خواہش ہوئی کہ میں اپنی زندگی میں ایک اور عمرہ کر لوں، چنانچہ اہل وعیال کے ہمراہ وہ عمرہ سے فارغ ہو کر زیارت مسجد نبوی کے لیے مدینہ منورہ جا رہے تھے کہ راستے میں قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

پسماندگان میں زوجہ، دو بیٹے ابراہیم اور آصف اور تین بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ جامع مسجد ڈڈلی میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بہت احباب واقارب نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین

تبصرہ کریں