علم تجوید اور علم قراءت کی اہمیت۔ حافظ عبدالاعلی درانی خطیب بریڈفورڈ۔برطانیہ

ہمارے دینی ادارے بحمد اللہ سب سے بہتر خدمت سرانجام دے رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے تمام منتظمین کے اخلاص کوشرف قبولیت عطا فرمائے ۔ان کی وجہ سے اللہ کاقرآن اور نبی ﷺ کی احادیث روشنی پھیلا رہی ہیں دوباتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھا ہے ایک تو حفظ حدیث اور حفظ قرآن ہر طالب علم کیلئے لازمی ہونے چاہیں مثلاً نخبۃ الحدیث یا اربعین نوویہ ، ریاض الصالحین کے ایک بڑے حصہ کا حفظ لازم ہو۔اور اس کی تدریس بطور تزکیہ شامل ہونی چاہیئے ۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے کم ازکم 10، 20 پارے حفظ کرنا بھی لازمی ہوں۔

دوسری اہم ترین بات کہ قرآن کریم کی تجوید و قراءت کیلئے بھی اپنے مدرسہ کے نصاب میں لازمی ایک پیریڈ رکھاجائے تاکہ مدرسہ سے فارغ ہونے والا طالب جب عالم، خطیب ، اورو مدرس کی حیثیت سے میدان عمل میں قدم رکھے تواس کے پاس یہ بنیادی ذخیرہ پہلے سے موجود ہو۔ہمارے مدارس میں ان دونوں کا ایک ساتھ اہتمام ہوجائے تو اللہ کے فضل سے بڑے اچھے اورمثبت نتائج نکلیں گے ۔ آج کی نشست میں ہم قرآن کریم کی تجوید وقراءت کی اہمیت پربات کرنا چاہیں گے تاکہ اسے نصاب کا حصہ بنانے میں کوئی ذہنی تحفظ نہ ہو ۔ واللہ المستعان

اہل اسلام کی خوش بختی ہے کہ اللہ کریم کاآخری کلام بعینہ محفوظ و مصئون ان کے پاس ہے ۔ جبکہ دنیا کے کسی مذہب کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا ۔قرآن کریم رب کا کلام ہے۔اس لیے اس کا حق ہے کہ اسے سمجھا جائے اس پر عمل کیاجائے اسے پھیلایا جائے ۔اور اس کے حقوق میں سے ایک اہم ترین حق یہ ہے کہ صحت الفاظ اور ضروری قواعد تجوید کی رعایت کرتےہوئے اس کی تلاوت کی جائے۔قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

﴿وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلًا ﴾ (سورة الفرقان: 33)

’’ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ نازل کیا ہے۔‘‘

اورسورۃ المزمل میں ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم فرمایا ہے:

﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا ﴾ (سورة المزمل: 4)

’’اور قرآن کی تلاوت اطمینان سے صاف صاف کیا کرو۔‘‘

ترتیل کی تفسیربیان کرتے ہوئے امام ابن کثیر﷫ کہتے ہیں:

’’ ارشاد ہواکہ قرآن شریف کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر، تاکہ خوب سمجھتا جائے، اس حکم کے رسول اللہ ﷺ بھی عامل تھے ۔ ‘‘

سیدہ عائشہ صدیقہ کا بیان ہے کہ

’’آپ قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔‘‘

سیدنا انس سے رسول اللہﷺ کی قراءت کا وصف پوچھا گیاتو بتایاکہ آپ ﷺ خوب مد (لمبا)کر کے پڑھا کرتے تھے پھر آیت (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) پڑھ کر سنائی جس میں لفظ اللہ پر ،لفظ رحمٰن پر، لفظ رحیم ،پر مد کیا۔ (صحیح بخاری)

ابن جریر طبری میں ہے کہ

’’ہر ہر آیت پر آپ ﷺ پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے آیت (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) پڑھ کر وقف کرتے آیت (الحمد للہ رب العلمین) پڑھ کر وقف کرتے آیت (الرحمٰن الرحیم) پڑھ کر وقف کرتے آیت (مالك یوم الدین) پڑھ کر ٹھہرتے ۔ (مسند احمد، سنن ابو داؤد، جامع ترمذی )

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ

قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا ۔تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہوگی۔ ( سنن ابو داؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی)

سیدنا عبداللہ بن مسعود کا فرمان ہے کہ

لا تنثروه نثر الرمل ولا تهذوه هذ الشعر ، قفوا عند عجائبه ، وحركوا به القلوب ، ولا يكن هم أحدكم آخر السورة . رواه البغوي .

’’ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائبات پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو ۔‘‘

سیدنا علی کے ارشاد کے مطابق یہ ہے کہ

حروف کوتجوید کے ساتھ اور وقفوں کی معرفت (یعنی کہاں ٹھہرنا ضروری ہے اورکہاں ملانا ضروری ہے)کے ساتھ پڑھنا ہے ۔ جب ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھا جائے گا۔ تبھی اس کی تلاوت کا حق ادا ہوگا اور ایسی ہی تلاوت پر حسنات اور انعامات خدا وندی کا وعدہ ہے۔ لیکن اگر تلاوت تجویدکی رعایت کے ساتھ نہیں، بلکہ اس کے خلاف ہے تو اس سے تلاوت کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔

محققین علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ

’’بغیر تجوید قرآن پڑھنے والامستحق ثواب نہیں بلکہ (بعض دفعہ)گناہ گار ہوجاتا ہے۔‘‘

علم تجوید و قراء ت کے مشہور امام محمد بن محمد بن يوسف الجزری ﷫ معروف بہ علامہ جزری﷫ فرماتے ہیں:

“وَالْأَخْذُ بِالتَّجْوِیْدِ لَازِمٌ مَنْ لَّمْ یُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آٰثِمٌ لِأَنَّهُ بِهِ الْإِلٰهُ اَنْزَلَ وَهٰکَذَا امِنْهُ إِلَیْنَا وَصَلَ.”

’’تجوید کا حاصل کرنا ضروری ولازم ہے۔جو شخص تجوید سے قرآن نہ پڑھے گناہگار ہے ۔اس لیے کہ اللہ تعالی نے تجوید ہی کے ساتھ اس کونازل فرمایا ہے۔ اور اسی طرح نبی ﷺ سے ہم تک پہنچا ہے۔ سیدنا انس بن مالک کا قول جسے ابن اثیر ، ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیرج9ص2017اور امام غزالی﷫ نے احیاء العلوم(1؍324میں) الشقیری نے السنن والبدعات ص200 میں اور فتاوی امام ابن باز﷫ 26؍61 اور فتاویٰ اللجنُۃ الدائمۃ: 3؍213) اورمجلہ المنارکے مقالہ ’’ الحکمۃ فی انزال القرآن:8؍258) میں ذکر کیا ہے ، کہ

“رب تال القرآن أو رب قارئ للقرآن والقرآن یلعنه.”

’’ بہت سے لوگ قرآن کی تلاوت اس حالت میں کرتے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا جاتا ہے۔ ‘‘

کیونکہ قرآن کی تلاوت خود رسول اللہ ﷺ نے سکھائی ہے ۔جیساکہ سیدنا عبدا للہ بن مسعود سے ایک مرفوع روایت ہے کہ وہ خود کسی شخص کو قرآن کریم پڑھارہے تھے اس نے إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ ،کو مد کے بغیر پڑھا تو آپ نے اس کو ٹوکا اور فرمایا کہ

’’حضور ﷺ نے مجھے اس طرح نہیں پڑھایا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ پھرحضورﷺ نے آپ کو کس طرح پڑھایا ہے ؟ تو سیدنا ابن مسعود نے یہ آیت پڑھی اور لِلْفُقَرَآء پر مد کیا (سلسلہ احادیث صحیحہ ، الألبانی حدیث صحیح ، فضائل القرآن والأدعیة حدیث 2921)

غور کرنے کا مقام ہے کہ حرف یا حرکت کے چھوٹنے یا بدلنے پر نہیں صرف مد کے چھوڑنے پر شاگرد کو ٹوکا جارہا ہے اور حضورﷺ کی قرأت کے مطابق پڑھ کر سنایا جارہا ہے ، تاکہ وہ حرف کو کھینچ کر پڑھنےمیں بھی سنت کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو۔ اس لیے قرآن کریم کو اسی طرح پڑھاجائے جس طرح وہ نازل ہوا ہے۔ یعنی حروف کو ان کا حق اسی طرح دیا جائے کہ مخارج وصفات اور دیگر قواعدکے اعتبار سے ان کی ادائیگی درست ہو اور بے موقعہ وقف نہ کیا جائے۔

خلاف تجوید قرآن پڑھنا موجب گناہ ہے علماء کے فتاویٰ

برصغیر میں سیرت النبی کی اولین اور روحانی سیرت کی کتاب ’’رحمۃ اللعالمین‘‘ کے مصنف سے کسی نے سوال کیا کہ

’’ تجوید کا حکم کیا ہے؟ فن تجوید کا مرتبہ دیگر فنون کے مقابلہ میں کیا ہے؟ تجوید کے خلاف قرآن پڑھنا اور پڑھانا کیسا ہے؟ قرآن کس شخص پر لعنت کرتا ہے، وہ حدیث مع ترجمہ وخلاصہ کے ضرور تحریر فرمائیں، مجہول قرآن پڑھنے والے کی امامت (جب کہ نہ تو لحن جلی کی خبر رکھتا ہو اور نہ لحن خفی کا پتہ ہو) اور مقتدی میں عمدہ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے والا موجود ہو، تو ایسی نماز کا کیا حکم ہوگا؟

اسکے جواب میں قاضی محمد سلیمان منصورپوری﷫ (پیدائش 1867 ء ضلع پٹیالہ تاریخ وفات30 مئی 1930ء) نے جواب دیاکہ

’’تجوید سے اس قدر واقفیت فرض ہے کہ آدمی قرآن شریف بقدرِ ضرورت صحیح پڑھ سکے، جس سے اس کی نماز میں فساد نہ آئے اور پورا فنِ تجوید مہارت کے ساتھ سیکھنا فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر چند حضرات بھی اس میں مہارت پیدا کرلیں تو دوسروں کے لئے اس میں محنت کرنا ضروری نہیں ہوتا،لیکن قرآنِ کریم مجہول پڑھنا کسی حالت میں درست نہیں ہے، اس لئے امام کو متعین کرتے وقت ان باتوں کا لحاظ کرنا چاہئے۔لیکن اگر کسی امام کو متعین کردیا گیا اور وہ بہ قدر ضرورت قرأت کرنے پر قادر ہے اور مقتدیوں میں اس سے اچھے پڑھنے والے قاری اور اچھے مجود موجود ہوں، تو ایسی صورت میں امامت کا حق ان مقتدی قاریوں کو نہیں ہے،بلکہ متعین امام ہی امامت کا حق دار ہوگا۔ قاضی صاحب نے معروف امام جزری﷫ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاکہ

“وَالْاَخْذُ بِالتَّجْوِیْدِ لَازِمٌ مَنْ لَّمْ یُجَوِّدِ الْقُرْآنَ آٰثِمٌ لِأَنَّهُ بِهِ الْإِلٰهُ أَنْزَلَ وَهٰکَذَا امِنْهُ إِلَیْنَا وَصَلَ .”

’’ یعنی تجویدکاعلم سیکھنا ضروری ہے اور جو بغیر تجوید کے قرآن پڑھتا ہے وہ گناہ کا مرتکب ہورہاہے۔ ‘‘

م(قدمۃ جزریۃ: 10، حاشیۃ فوائد مکیہ: 3)

اور جان لو کہ متعین امام بہرحال امامت کا زیادہ حق دار ہے ۔

واعلم أن صاحب البیت ومثله إمام المسجد الراتب أولی بالإمامة من غیرہ مطلقاً

(الدرالمختار مع الرد المحتار: 2؍297)

فقط واﷲ تعالی اعلم ( احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ اور اسی فتویٰ کی تائید کی شیخ الحدیث مولانا شبیر احمد نے کی ۔ 31دسمبر1912)

یوں توبڑے بڑے علماء و مفتیان کرام نے قرآن کریم کو بغیر تجوید پڑھنے پر سخت نکیر فرمائی ہے جن میں امام الشیخ عبدالعزیز ابن باز﷫ مفتی دیار سعودیہ، استاذ العلماء الشیخ عثیمین وغیرہ بہت نمایاں ہیں۔اس نشست میں ہم دمشق کے معروف مفتی الشيخ أحمد شريف النعسان استاذ شریعہ کالج و مدرس وخطیب دار الافتاء کلیۃ الشرعیۃ بجامعہ دمشق سے پوچھا گیا کہ

’’ کیا امام جزری﷫ کایہ کہنا صحیح ہے کہ جو شخص قرآن تجوید کے ساتھ نہیں پڑھتا وہ گناہ گار ہے ؟

هل صحيح بأن الذي يقرأ القرآن من غير تجويد آثم؟

’’تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا :

“فلا خِلافَ بَينَ الفُقَهاءِ في أنَّ الاشتِغالَ بِعِلمِ التَّجويدِ فَرضُ كِفايَةٍ، وأمَّا العَمَلُ به فهوَ واجِبٌ على من يَقْدِرُ عَلَيهِ، لأنَّ اللهَ تعالى أنزَلَ به كِتابَهُ المَجيدَ، وَوَصَلَ إلَينا عن سَيِّدِنا رَسولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعلى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ مُتَواتِراً بالتَّجويدِ.”

’’ اس باب میں فقہاء کے درمیان اتفاق ہے کہ علم تجوید حاصل کرنا فرض کفایہ ہے اور اس پر عمل کرنا یعنی اس کے مطابق قرآن پڑھنا واجب ہے کیونکہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے تجوید کے ساتھ ہی نازل فرمایا اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح سکھایا ہے اور نبی کریم ﷺ سے ہم تک اسی طرح تجوید کے ساتھ پہنچا ہے۔‘‘

“وذَهَبَ المُتَأخِّرونَ من الفُقَهاءِ إلى وُجوبِ مُراعاةِ قَواعِدِ التَّجويدِ فيما يَتَغَيَّرُ به المَبنى ويُفسِدُ المَعنى، وإلى هذا أشارَ مُحَمَّدٌ الجَزرِيُّ في مَنظومَتِهِ في التَّجويدِ:

“والأخْذُ بالتَّجويدِ حَتْمٌ لازِمُ و من لم يُجَوِّدِ القُرآنَ آثِمُ.”

’’جبکہ تمام فقہاء متاخرین بھی اس پر متفق ہیں کہ اتنا علم حاصل کرنا جس سے قواعدتجوید کا لحاظ ہوسکے اور قرآن کامعنی نہ بدلے واجب ہے۔ اسی کی طرف امام محمد بن یوسف جزری﷫ نے اشارہ فرمایا ہے کہ

’’ جو شخص قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ نہ پڑھے وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔‘‘

اوراسی کی طرف انہوں نے اپنی کتاب النشر في القراءات العشر ، بتحقق على محمد الضباع، الناشر المطبعة التجارية الكبرى )میں اشارہ فرمایا ہے کہ

“ولا شَكَّ أنَّ الأُمَّةَ كما هُم مُتَعَبَّدونَ بِفَهْمِ مَعاني القُرآنِ العَظيمِ وإِقامَةِ حُدودِهِ، كذلكَ هُم مُتَعَبَّدونَ بِتَصحيحِ ألفاظِهِ وإقامَةِ حُروفِهِ على الصِّفَةِ المُتَلَقَّاةِ من أَئِمَّةِ القُرَّاءِ والمُتَّصِلَةِ بالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعلى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ

’’بلاشبہ جس طرح یہ امت پابند ہے اس بات کی کہ وہ قرآن کریم کے معانی کو سمجھے اس کے احکام کو بجالائے اسی طرح وہ اس بات کی بھی پابند ہے کہ قرآن کریم کواس کے صحیح الفاظ اور قراء کرام کی جانب سے پڑھائے گئے طریقہ تجوید کے مطابق پڑھے کیونکہ نبی ﷺ سے اسی طرح پڑھنا سکھایاگیاہے ۔ ‘‘

اور اسی بنا پرجوشخص علم تجوید کوپورے کا پورا سیکھنے پر قدرت رکھتا ہے ،اسے یہ علم ضرور سیکھنا چاہیئے۔ کیونکہ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں( حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ کے مطابق) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فمن كانَ قادِراً على تَعَلمِ أحكامِ التجويدِ لِتَصحيحِ تِلاوَتِهِ وَجَبَ عَلَيهِ أن يَتَعَلَمَ، وإلا فلا، وذلكَ لِقَولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعلى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ اَلْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ

( صحیح مسلم: 1862 ) والله تعالى أعلم (رقم الفتوى، 6019بتاریخ 27 ستمبر 2011)

’’قرآن کریم کاماہر اور مشاق بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔اور جو قرآن کواٹک اٹک کراور مشقت کے ساتھ پڑھتا ہے اس کودوہرااجر ملے گا۔‘‘

ہم لوگوں نے قرآن کریم کی تجوید و علم قراءت کی اہمیت کو ملحوظ ہی نہیں رکھا اور اہل علم کے ان فتاویٰ

کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جس کا نتیجہ ہے کہ اکثر خطباء قرآن غلط پڑھتے ہیں اورخاص طور پر گی۔گی ۔ گی۔گین نن ( معذرتاً) کی طرز اور سُر بڑی مشہور ہو چکی ہے۔کئی منبروں پر ایسی مجہول تلاوت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی اہمیت کو سمجھنے والا اس پر تڑپ اٹھتا ہے ۔

کیونکہ ہمارےمدارس نے اس کی طرف توجہ دی ہی نہیں ۔ اس لیے تمام مدارس کے منتظمین سے تکرار کے ساتھ گزارش کی جاتی ہے کہ

اپنے اپنے مدراس کے نصاب پر نظر ثانی کریں اور حفظ حدیث ، تدریس ریاض الصالحین اورحفظ قرآن بمعہ تجوید و علم قراءات کالازمی اضافہ فرمائیں تا کہ مستقل کے خطباء قرآن کریم پبلک میں قرآن کریم کی صحیح قرات کر سکیں ۔ اور حفظ حدیث کی برکت سے دین و دنیا میں سرخروہوں ۔

إن أرید إلا الإصلاح ، وما توفیقی إلا باللہ

٭٭٭

تبصرہ کریں