علم تعبیر کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟۔ محمد ابراہیم سلفی

خواب کی صحیح تعبیر ایک مبارک علم ہے، جو الله تعالیٰ اپنے انبیاء اور ان کے متبعین کو دیتا ہے، قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے سیدنا یوسف کو عطا کئے جانے والے انعامات میں علم تعبیر کا خاص تذکرہ کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾

’’اور اسی طرح ہم نے سیدنا یوسف کو زمین میں جگہ دی کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھادیں۔ ‘‘ (سورة يوسف : 21)

دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ (سورۃ يوسف : 6)

’’اوراسی طرح تجھے تیرا پروردگار برگزیدہ کرے گا اور مجھے خواب کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ ‘‘

حافظ صلاح الدین یوسف ﷫ ’تفسیر البیان‘ میں لکھتے ہیں :

’’یعنی جس طرح تجھے تیرے رب نے نہایت عظمت والا خواب دکھانے کے لئے چن لیا۔ اسی طرح تیرارب تجھے برگزیدگی بھی عطا کرے گا اور خوابوں کی تعبیر سکھائے گا۔‘‘ ’تاویل الاحادیث ‘ کے اصل معنی باتوں کی تہہ تک پہنچنا ہے۔ یہاں خواب کی تعبیر مراد ہے۔“ (تفسیر احسن البیان :ص 639)

حافظ این کثیر ﷫نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’سیدنا یعقوب نے اپنے بیٹے سیدنا یوسف سے بھی کہا کہ الله تعالیٰ نے جس طرح آپ کو منتخب کیا اور یہ ستارے اور شمس و قمر سجدہ کرتے ہوئے دکھائے ہیں: ﴿وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ﴾ اوراسی طرح اللہ تجھے برگزید وممتاز کرے گا۔“ یعنی نبوت ورسالت سے سرفراز فرمائے گا۔

﴿وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾

’’اور خواب کی باتوں کی تعبیر علم سکھائے گا۔“

امام مجاہد ﷫ اوردیگرکئی ائمہ تفسیر نے بیان فرمایا ہے: ﴿ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ﴾ سے خوابوں کی تعبیر کا علم مراد ہے۔ (المصاح التعبير ( تهذيب و تحقیق تفسیر ابن کثیر):3؍360)

ان آیات میں سیدنا یوسف سے علم تعبیرخواب عطا فرمانے کا وعدہ کیا گیا ہے، پھر یہ وعدہ پورا بھی کردیا گیا۔ یعنی سیدنا یوسف اس بات کا خود اقرار کرتے ہیں کہ ﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ (سورۃ يوسف: 101)

’’اے میرے پروردگار! آپ نے مجھے ملک عطا فرمایا اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔“

’تیسیرالکریم الرحمن ‘ میں عبدالرحمن بن ناصر السعدی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف کو زمین میں مکمل اقدار عطا کردیا اور ان کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں تو سیدنا یوسف نے الله تعالیٰ کی نعمت کا اقرار، اس پر اس کا شکر، اسلام پرثبات اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا:

﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ﴾ ’’ اور میرے پروردگار! آپ نے مجھے ملک عطا فرمایا۔ ‘‘ یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ وہ زمین کے خزانوں کے منتظم اور بادشاہ کے بہت بڑے وزیر تھے۔

﴿وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ﴾ ”اور مجھے خوابوں کی تعبیر کاعلم عطا فرمایا۔‘‘ یعنی آپ نے مجھے آسانی کتاب کی تفسیر اور خوابوں کی تعبیر کاعلم عطا کیا۔ (تیسير الكريم الرحمن: 1؍592)

اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف کوحکومت اورنبوت عطا فرمائی ۔ وہ علم نبوت کی روشنی میں خوابوں کی تعبیر بھی صحیح طور پر کرلیا کرتے تھے۔ بلکہ اس فن میں انہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔

حدیث میں آیا ہے کہ

علم تعبیر خواب سیدنا یوسف کا ایک علمی معجزہ تھا اور یہ ظاہر بات ہے کہ جو چیز پیغمبر کا معجزہ ہو، وہ یقیناً افضل واعلیٰ ہوتی ہے۔‘‘ (تعبیر الرویا بحواله کامل التعبير:ص53)

سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«رُؤْيَا المُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» (صحیح بخاری : 6988)

’’مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔“

تمام انسانی کمالات میں نبوت سب سے اعلیٰ وافضل کمال ہے، جس کی وجہ سے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہو جاتا ہے، تو جو چیز اعلیٰ چیز کا جز ہو، وہ بھی عمدہ ہی ہوا کرتی ہے تو جب اچھاخواب نبوت کا حصہ ہونے کی وجہ سے افضل چیز ہے تو پھر اس کاعلم یعنی تعبير خواب بھی اعلىٰ وفضل ثابت ہوا۔

سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ

جب رسول اللهﷺ بیمار ہوئے تو صحابہ کرام غمگین ہو کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ہمیں کارخیر سے مطلع فرمایا کرتے تھے، اگر اب خدانخواستہ آپ کی اجل آپہنچی تو ہم کو کون مطلع کیا کرے گا اور دینی و دنیوی امور کی خیرو بھلائی ہمیں کس طرح معلوم ہوا کرے گی؟ آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا :

«بعد وفاتي يستطع الوحي ولا ينقطع المبشرات»

’’میری وفات کے بعدوحی تو ختم ہوجائے گی لیکن مبشرات ختم نہیں ہوں گے۔‘‘

صحابہ کرام نے عرض کیا ک مبشرات کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ

«الرؤيا الصالحة التي يراها المرء الصالح»

’’یعنی مبشرات و ہ اچھے خواب ہیں، جونیک بندوں کو دکھائی دیتے ہیں۔ ‘‘ (تعبير الرؤيا بحوالہ كامل التعبير : ص 53، 54)

علم تعبیر ایک اہم علم ہے، امام ابن سیرین﷫ فرماتے ہیں:

’’ علم تعبیر اور دیگر علوم میں یہ فرق ہے کہ دیگر علوم کا طالب اس علم کے اصول کے خلاف نہیں کرسکتا، اور اس کا قیاس قابل تعبیر نہیں ہوتا اور اس تعبیر کاطریقہ معلوم نہیں ہوسکتا۔ مگر یہ علم ایسا نازک ہے کہ اس کے اصول ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔ کیونکہ لوگوں کے حالات بموجب ان کی شکل وشباہت، صفت دیانت اور ہمت اعتقاد کے بدلتے رہتے ہیں۔ اوقات کے اختلاف سے بھی اس علم میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے، کیونکہ کسی وقت تو تعبیر مثل اور اصل کے ساتھ کرنی پڑتی ہے، اور کسی وقت اس کی ضد او نقیض کے ساتھ کی جاتی ہے۔ (تعبير الرؤيا بحوالہ كامل التعبير : ص 53، 54)

تعبیرخواب کے اصول

ہر علم اور فن کے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں، اسی طرح علم تعبیر میں مہارت حاصل کرنے کے لئے اس کے قوانین کو نظر رکھنا چاہیے۔

امام بغوی﷫ ’شرح السنہ‘ میں لکھتے ہیں، کہ خواب کی صحیح تعبیر تک پہنچنے کے لئے مندرج ذیل پانچ طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں:

1۔ قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کی جائے۔

2۔ حدیث رسولﷺ سے استنباط کیا جائے۔

3۔ امثال عرب سے استدلال کیا جائے۔

4۔ ناموں اور ان کے معانی سے تعبیر کی جائے۔

5۔ کبھی خواب میں دیکھی گئی چیز کی مخالفت اور ضد سے تاویل کی جائے گی۔ (شرح السنہ: 30؍ 370)

قرآن مجید کے ذریعے تعبیر

1۔رسی کی تعبیر الله تعالیٰ کے فرمان:

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ﴾ (سورۃ آل عمران :103) کی روشنی میں عہدوپیان کے ساتھ کی جائے گی۔

2۔ کشتی اور بحری جہاز کی تعبیر

﴿فَأَنجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ﴾ (سورۃ العنكبوت: 15) کی رشنی میں نجات پانے اور چھٹکارہ حاصل کرنے کے ساتھ کریں۔

3۔ لکڑیوں سے ﴿كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ (سورۃ المنافقون:4) کے پیش نظرنقاق مرادلیں۔

﴿فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً﴾ (سورۃ البقرة :74) کے ذریے پتھرکی تعبیر شدت اور سختی سے کی جائے گی۔

5۔ شیر خوار بچے کی تعبیر ﴿فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا﴾ (سورة القصص:8) کی روشنی میں دشمنی کے ساتھ کریں۔

6۔ خواب میں راکھی تھی نا قابل قبول اعمال سے کی جائے گی۔ کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

﴿مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ﴾ (سورة ابراہیم: 81)

7۔ کچا گوشت کھانے کی تعبیرالله تعالیٰ کے فرمان:

﴿أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا﴾ (سورة الحجرات: 12) کی روشنی میں غنیمت کرنے سے کی جائے گی۔

8۔ سبزی، خربوزہ ، لہسن، مسور کی دال اور پیار ہاتھ میں لینے کی تعبیر ایسے شخص سے کی جائے گی۔ جواپنے پاس موجودہ بہترین اور عمدہ مال و دولت علم اور فیق حیات کے ادنی درجے کی چیزیں حاصل کرے گا۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ﴾ (سورة البقرة: 61)

9۔ لباس کی تعبیر الله تعالیٰ کے فرمان ﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾ (سورة البقرة: 187) کی روشنی میں ”عورت“ سے کی جائے گی۔

10۔اچھے درخت کی تعبیر کل توحید اور شیادرخت کی تھی شرک و بدعت سے کی جائے گی۔

کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

﴿مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ (سورة ابراہیم : 24)

حدیث کی روشنی میں تعبیر

1۔کوے سے فاسق و فاجر مراد لیا جائے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے کوے کو فاسق کہا ہے:

« خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ » (صحیح بخارى : 2820)

’’پانچ شریر (جانور) حرم میں بھی قتل کئے جائیں گے۔ بچھو، چوہا، چیل، کو ا اور با ؤلا کتا۔ ‘‘

2۔ پسلیوں اور شیشے کے برتنوں سے مرادعورتیں لی جائیں گی۔

کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:

«فَإِنَّ المَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ» (صحیح بخاری : 6449)

’’بے شک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ ‘‘

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمايا:

«يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالقَوَارِيرِ»

’’اے انجثہ! ذرا تھم جاؤ، ان شیشے کے برتنوں سے نرم روی اختیارکرو۔‘‘ (صحیح بخاری: 6149)

3۔ قمیص کی تعبیر دین پرعمل پیرا ہونے سے کی جائے گی۔ چونکہ سیدنا ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

« بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَمَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا مَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينَ» (صحیح بخاری : 7008)

’’میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جارہے ہیں، وقمیص پہنے ہوئے ہیں، ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک ہے اوربعض کی اس سے بڑی ہے اور عمر ابن خطاب میرے پاس سے گزرے، تو ان کی قمیص زمین سے گھٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا۔ اے اللہ کے رسول ! آپ اس کی کیا تعبیر کرتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ دین۔‘‘

قمیص کی تعبیر دین کے ساتھ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میں دنیا میں بدن کو ڈھانپ لیتی ہے اور دین آخرت میں ہر تکلیف دہ چیز سے بچائے گا۔ الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ

تقوی کا لباس خیر ہے اور عرب لوگ فضل اور پاک دانی میں سے تعبیر کیا کرتے تھے۔

4۔ خواب میں دور کی تعبیر علم سے کی جائے گی

سیدنا عبد الله بن عمر بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیال لایا گیا اور میں نے اس میں سے پیا۔ یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے اطراف میں نمایاں دیکھا، پھر میں نے اس کا بچا ہوا سیدنا عمربن خطاب کا دیا۔ جوصحابہ وہاں موجود تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولﷺ!آپ اس کی تعبیر کیا کرتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: کہ اس سے مراد ’’علم‘‘ ہے۔ ‘‘ (صحیح بخاری)

5۔ عطا فرش کی تھی اچھے دوست سے اور چھٹی جلانے والے کی تعبیر برے دوست سے کی جائے گی۔ چونکہ حدیث میں ہے۔

سیدابوموسیٰ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے کستوری اٹھانے والا اور آگ کی بھٹی دھونکنے والا،پس کستوری اٹھانے والا یا تمہیں (کستوری) عطیہ د ے دے گا، یاتم خواس سے خریدلو گے یا (کم ازکم ) تم اس کی عمدہ خوشبو پالو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلادے گا، یا پھر اس سے ناگوار بدیوپاؤ گے۔ ‘‘

3۔ اَمثال عرب سے خواب کی تعبیر

امثال عرب سے خواب کی تعبیر میں رہنمائی ملتی ہے، اس کی چند مثالیں مندرج ذیل ہیں:

1۔ سنار کی تعبیر جھوٹ آدی سے کی جاتی ہے کیو نکہ مقولہ مشہور ہے : “أَكْذَبُ النَّاسِ اَلصوَّاغُوْن.”

’’لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے سنارہوتے ہیں۔‘‘

2۔ گڑھا کھود نے کی تعبیر مکاری سے کی جائے گی۔ کیونکہ کہا جاتا ہے :

“مَنْ حَفَرَ حُفْرَةً وَقَعَ فِيْهَا”

’’ جوگڑھا کھودتا ہے وہی اس میں گرتا ہے۔ ‘‘

اور فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ﴾

’’اور بری تدبیروں کاو بال ان تدبیر والوں پر ہی پڑتا ہے۔“ (سورۃ فاطر: 43)

3۔ کسی کی طرف پتھر یا تیر مانگنے کی تعبیر بہتان لگانے سے کی جائے گی۔

مقولہ ہے:

“رَمی فُلَانا بِفَاحِشَةٍ.”

’’اس نے فلاں پرفحاشی کی تہمت لگائی۔‘‘

اور قرآن کریم میں ہے:

﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ﴾

’’اور جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں۔‘‘(سورة النور: 4)

4۔ لمبے ہاتھ کی تعبیر امور خیر اور سخاوت کی کثرت سے کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے :

(فُلَانٌ أَطْوَلُ يَدا مِنْ فُلَانٍ»

”فلاں کا ہاتھ فلاں کی نسبت لمبا ہے۔“

اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

5۔ ناموں اور ان کے معانی کے ساتھ تعبیر:

اگر خواب میں راشدنامی دکھائی د ے، تو اس کی تعبیر رُشدو ہدایت ہے۔

’’سالم‘‘ نامی شخص نظر آئے تو اس کی تعبیر ’’سلامتی‘‘ اور ’’سعید‘‘ کی سعادت مندی ’’نافع ‘‘ کی ’’نفع و فائده‘‘، ’’عقبہ‘‘ کی ’’بہتر انجام‘‘، ’’رافع،‘‘ کی رفعت و بلندی‘‘ ’’احمد‘‘ کی حمد و تعریف ‘‘اور ’’صالح ‘‘ ’’کی خوبی اور صلاحیت‘‘ کے ساتھ تعبیر کی جائے گی۔ (آپ کے خواب اور ان کی تعبیر:ص 15)

سید انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا، وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ» (صحیح مسلم : 2270)

’’میں نے ایک رات اس حالت میں دیکھا جس میں سویا ہوا آدمی دیکھتا ہے (یعنی خواب میں دیکھا) جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں تو ہمارے سامنے تازہ کھجور میں لائی گئیں، اس قسم کی جس کا نام ابن طالب ہے۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی ہے کہ ہمارا درجہ دنیامیں بلند ہوگا اور آخرت میں ہمارا انجام بہتر ہوگا اور البتہ ہمارادین بہتر اور عمدہ ہے۔‘‘

ایک آدی نے امام ابن سیرین﷫کو یہ خواب بتایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میں سونے کا تاج پہنے ہوئے ہوں۔

امام موصوف فرمانے لگے: ’’تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تمہارا والد سفر کی حالت میں تنہا ہے، اس کی بینائی ختم ہو چکی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ تم اس کے پاس پہنچ جاؤ۔‘‘

اس آدمی نے اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈال کر اپنے والد کی طرف سے پہنچنے والا ایک خط نکالا۔ تو اس میں ان کے والد نے اپنی بینائی کے ختم ہو جانے، علاقہ غیر میں تنہا ہونے اور اسے اپنے پاس آنے کوکہاتھا۔

اسے خواب میں تین بنیادی چیز میں ہیں:

1۔سر 2۔ تاج 3۔ سونا۔

امام ابن سیرین﷫ نے ان تینوں چیزوں کے لغوی معنی اور اشتفاق کی مدد سے ایک ضابط اور اصول وضع کیا، سر سے سردار رادلیا ہے اور والد انسان کا سردار ہوتا ہے، تاج عجمیوں کا امتیازی لباس ہے اور عجمیوں کی سرزمین عربوں کے لئے علاقہ غیر ہے ، سونے کی عربی میں ’’ذهب‘‘ کہتے ہیں، اس کا معنی ’’ختم ہونا‘‘ بھی ہیں، اس سے انہوں نے بینائی کا ختم ہونامرادلیا ہے، ان چیزوں کو ملاکر ایک ایسی تعجب خیز تعبیر اخذ کی ، جو واقعہ کے عین مطابق تھی۔

)آپ کے خواب اور ان کی تعبیر: ص 18۔19)

اس کے علاوہ ناموں سے تعبیر کرنے کے متعلق ایک حدیث میں آتا ہے۔

سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں ، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :

«اعْتَبِرُوهَا بِأَسْمَائِهَا، وَكَنُّوهَا بِكُنَاهَا، وَالرُّؤْيَا لِأَوَّلِ عَابِرٍ»(سنن ابن ماجہ: 3910)

’’خوابوں کو ان (میں نظر آنی والی چیزوں) کے ناموں سے سمجھواور چیزوں کی کو سے ان کے کنابیات (واشارات) سے سمجھو اور خواب پہلے تعبیر کرنے والے کے لئے ہے۔‘‘

5۔ خواب میں دیکھی گئی چیزوں کے الٹ تعبیر

بعض اوقات خواب میں بھی دیکھی کئی چیزوں کے الٹ اور مخالف تعبیر کی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر کوئی خواب میں خوف اور ڈر محسوس کرے تو اس کی تعبیرامن سے کی جائے گی۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾

’’ اور اس کے بعد ان کے خوف کو وہ (الله تعالیٰ) امن میں بدل دے گا۔ ‘‘ (سورۃ النور: 55)

اور اسی طرح ’’امن‘‘ کی تعبیر ’’خوف‘‘ سے کی جائے گی۔‘‘

اور خواب میں رونے کی تعبیر ’’خوش ہونے ‘‘سے کی جائے گی۔

اسی طرح ’’جلد بازی‘‘ کی تعبیر ’’شرمندگی‘‘ سے اور ’’طاعون‘‘ کی تعبیر ’’لڑائی یا جنگ ‘‘سے کی جائے گی۔ (کتاب المنامات :ص 117)

قیاس اور تشبیہ کی مدد سے تعبیر کرنا

مذکورہ اقسام کے علاوہ خالد بن علی العنبری نے اپنی کتاب ’’آپ کے خواب اور ان کی تعبیر‘‘میں لکھا ہے، کہ کبھی ایک چیز کو دوسری پر قیاس کر کے یا ایک شے کو دوسری کے ساتھ تشبیہ دے کربھی تعبیر اخذ کی جاتی ہے اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:

 آگ کی تعبیر ’’فتنہ وفساد‘‘ کے ساتھ کی جائے گی ۔ کیونکہ جس طرح آگ ہر چیز ختم کردیتی ہے، اسی طرح فتنہ فساد بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے۔

 ستاروں کی بھی ’’علماء‘‘ کے ساتھ کی جائے گی۔ کیونکہ ان کے ذریعے اہل زمین کو رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

 سانپ سے ’’دشمن یا بدعتی‘‘ شخص مرادلیا جائے گا۔

 کتے کی تعبیر’’کمزور‘‘ لیکن بہت زیادہ شور مچانے والا دشمن ہے۔

 شیر سے مراد ’’ظالم اورغلبہ‘‘ حاصل کرنے والا شخص ہے۔

 لوہے اور ہتھیاروں کی تعبیر ’’قوت اور فتح و نصرت‘‘ کے ساتھ کی جائے گی۔ (آپ کے خواب اور ان کی تعبیر: ص14)

٭٭٭

تبصرہ کریں