علم و عمل کامرقع ، تقوی وتدین کا نمونہ ، حضرت حافظ محمد یحی عزیز میر محمدی ۔ حافظ عبدالاعلیٰ درانی۔بریڈفورڈ۔برطانیہ

حضرت حافظ محمد یحی عزیز میر محمدی کی شخصیت تمام حلقوں میں غیر متنازع اور ہرطبقے اور ہر فرد کے لئے قابل احترام تھی۔ آپ کو جس نے ایک بار دیکھا، وہ آپ کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوا۔ آپ کی آواز میں اللہ تعالیٰ نے ایسی حلاوت،گفتگو میں متانت اور اس قدر شرینی رکھی تھی، خصوصاً جب آپ اپنے مخصوص انداز میں قرآنِ مجید کی تلاوت فرماتے تو سخت سے سخت دل میں نرمی پیدا ہو جا تی تھی ۔ آپ کی شخصیت نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کی آئینہ دار تھی۔آپ کی زبان نہایت شیریں تھی حتیٰ کہ آپ کسی کے بارے میں غیبت اور ناشائستہ گفتگو سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ دیانت و تقویٰ ،سنت ِرسول کی محبت، شرم وحیا،خیرخواہی اور قرآن و حدیث کی تدریس جیسی خوبیوں سے مالا مال آپ کاخاندان عرصۂ درازسے ضلع قصور کے گاؤں ’’میر محمد‘‘ میں آباد ہے۔آپ کانام محمد یحییٰ عزیز بن حافظ محمد عظیم بن نواب خان بن روشن دین ہے۔ آبائی تعلق بھوجیاں(بھارت)کے مردم خیز قصبے سے تھا،جہاں علم وعرفان کی ایسی قند یلیں اور شمعیں روشن ہوئیں جنہوں نے سر زمین ہندہی نہیں بلکہ بیرونِ ہند بھی تاریک وادیوں کو روشن کیا۔ حافظ محمد عظیم کا تعلق ایسے خانوادہ سے تھا جس کا رجحان اکثروبیشترجدال وخصام کی طرف رہا ہے لیکن ان کی بلند بختی کہ ان کے خاندان میں ان کے بڑے بھائی بلند خاں اور چچا مستقیم خاں نے، مولانا فیض اللہ خاں جو افغانستان سے بھوجیاں (بھارت)آئے تھے، یعنی حضرت یحییٰ عزیز کے نانا جان ، ان کے ذریعے کتاب وسنت کا مسلک اختیار کیا جس کی بنا پر ان کے گھروں میں مروّجہ جاہلانہ طرزِ زندگی کی بجائے اُن اطوار کو اختیار کر لیا گیا تھا جن کا تقاضا کتاب وسنت نے کیا ہے۔

حافظ یحیی میر محمدی 4 شوال 1345ھ بمطابق 12؍دسمبر 1927ء کو ضلع لاہور، حال قصور کے معروف گاؤں میر محمد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدحافظ محمدعظیم جو خود بھی حافظ قرآ ن تھے ، انتہائی متقی اور پرہیز گار شخص تھے۔ ایامِ طفولیت سے ان کا رجحان و میلان عجز وانکساری اور صالحیت اور اِتقا کی طرف ہو گیا جو تادمِ آخر قائم ودائم رہا۔حافظ میر محمدی نے حفظ قرآن کے بعد ا خذ ِعلم کے لیے مدرسہ محمدیہ، لکھو کے اور مدرسۂ غزنویہ، امرتسر میں قیام کیاچونکہ ان کا قلبی اور طبعی رجحان عرفان وسلوک کی طرف تھا۔اس لیے اپنی تشنگی کی سیرابی کے لئے وہ کچھ عرصہ سید محبوب علی شاہ لکھوی اورشیدائی سنت حضرت مولانا کمال الدین کی خدمت میں رہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان دوشخصیات کی صحبتوں کا رنگ ان کی قبائے حیات پر غالب رہا۔ ان کے زہدو وَرع اور سلوک وعرفان کے بارے میں لوگوں میں کافی حکایات وروایات معروف ہیں ۔اکثر اوقات ایسا ہو تا کہ مر حوم حافظ محمد صاحب آیت الکرسی پڑھ کر بغیرکسی محافظ کے کھیتوں میں مویشی چھوڑآتے، ان کے مویشی محفوظ رہتے،حالانکہ وہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کی کثرت اورڈکیتی وغیرہ میں معروف تھا۔حافظ محمد کے علاوہ بھی اس خاندان کے کئی افرادتقویٰ وصالحیت میں ممتاز مقام رکھتے ہیں ۔ نرم رو اور نرم خو اتنے کہ کسی انسان سے اُلجھنا اور جدال وخصام تو دور کی بات ہے، وہ جانور کو بھی نہیں مارتے تھے۔ کاشتکاری کے دوران جب ہل چلاتے تو بیلوں کو چھٹری سے نہیں بلکہ کپڑے سے ہانکتے تھے۔ حافظ محمدعظیم کو اللہ تعالی نے دو بیٹوں سے نوازا۔مولانامحمد یعقوب اورحافظ محمد یحییٰ عزیز ۔ مولانا محمد یعقوب کچھ عرصہ دہلی میں حضرت میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے مدرسہ میں زیر تعلیم رہے۔ یہ دونوں بھائی نیکی اور تقویٰ شعاری میں بلاشبہ اپنی مثال آپ تھے۔ والدین کی شرافت اور نیکی کے اثرات کی وجہ سے بچپن ہی سے حافظ صاحب کو نیک کام کرنے اور بھلائی والے اعمال میں حصہ لینے کا شوق اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے ملا تھا ۔ قرآنِ مجید کی تعلیم کا آغاز اپنے چچا حافظ دوست محمد سے کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم میر محمد میں قائم مدرسہ میں حاصل کی، یہاں حفظ ِقرآن اور مشکوٰۃ شریف کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے امر تسر چلے گئے اور مدرسہ غزنویہ امرتسر میں زیر تعلیم ہی تھے کہ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا ۔تقسیم ہند کے بعد کچھ عرصہ تک یہ سلسلہ رکا رہا۔ بعدازاں پاکستان آکر اپنے نا نا جی کے شاگردِ خاص مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی جو کہ گوندلا نوالہ ضلع گوجرانوالہ میں تدریس پر مامور تھے، ان سے کچھ عرصہ اکتسابِ فیض کیا۔ پھر اپنے وقت کے سب سے بڑے شیخ الحدیث حضرت حافظ محمد گوندلوی﷫ جو اس وقت ٹاہلی والی مسجد، گوجرانوالہ میں حدیث پڑھایاکرتے تھے، ان کے حلقہ تدریس میں شامل ہو کر بخاری شریف ودیگر کتب پڑھیں ۔ محدث گوندلوی﷫ فرمایاکرتے تھے میرے شاگردوں میں یحیین (دو یحی ٰ)میرا اصل سرمایہ ہیں ۔ ایک حافظ محمد یحی عزیز میر محمد ی اور دوسرے مولانامحمد یحی شرقپوری۔ محدث گوندلوی کے علاوہ آپ کے اساتذہ میں حافظ دوست محمد ، حافظ محمد بھٹوی، مولانا نیک محمد ، مولانا عبداللہ بھوجیانی ، مولانا عبدالرحیم بھوجیانی ، مولانا محمد حسین ہزاروی جیسے رجال حدیث وتقوی شامل ہیں ۔ حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی اکثر یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ بچپن میں ایک دفعہ سکول سے گھر آ رہا تھا کہ ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جس نے بھاری گٹھڑی اُٹھا ئی ہوئی تھی۔ ضعیف العمری کی وجہ سے بڑی مشکل سے چل رہی تھی۔ تقریباًچار میل کے فاصلے پر میراسکول تھا جو میرے گھر سے دور تھا، میرے پوچھنے پر اس بوڑھی خاتون نے بتایا کہ میں نے گاؤں میر محمد جانا ہے۔ میں نے اس کا بوجھ اُٹھایا اور اس کے گھر تک پہنچایا ۔اس وقت بوڑھی عورت نے مجھے دعائیں دیں تو میں حیران رہ گیا کیونکہ میری نظر میں وہ اتنا بڑاکا رنامہ نہیں تھا جس کی مجھے اتنی زیادہ دعائیں مل گئیں ۔ اس وقت سے میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ خدمت ِخلق اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے، اس لئے ہر دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔

حافظ صاحب اپنے والد ِگرامی کے جاری کردہ مدرسہ حفظ القرآن میر محمد، مدرسہ ضیاء السنہ راجہ جنگ قصورکے انتظام و انصرام میں بھی مصروف رہے۔ 1973ء میں آپ نے پھول نگر کے نواح میں ادارہ الاصلاح بونگہ بلوچاں کے نام سے دعوت وتبلیغ اور روحانی تربیت کامرکزقائم کیا۔انہوں نے گھر گھرجاکر تبلیغ کے لیے جماعت بھی تشکیل کی ۔ فیصل آباد کے معروف تاجر حاجی غلام نبی اور قاری عزیز احمد نے اس دعوتی واصلاحی گروپ کو متعارف کرانے میں بڑا بنیادی کردار ادا کیا ۔اور ابھی تک یہ تبلیغی کام جاری و ساری ہے ۔دعوت وتبلیغ کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی نے چند کتب بھی تحریر فرمائیں۔ حافظ محمد یحی کی تقریر اتنی دلربا ہوتی تھی توسامعین کبھی نہیں اکتاتے تھے ، دعوت کا اثر بھی تھا اور طرز گفتگو میں علم و ادب کی چاشنی بھی ۔ تقریرکے تمام جملے موتیوں کی طرح آبدار ہوا کرتے تھے اگر بابائے اردو انہیں سن لیتے تو حافظ صاحب کو اردو ادب کا امام مان لیتے ۔اردو کے علاوہ آپ کی پنجابی میں تقریربھی بڑی خوبصورت جملوں سے مزین ہواکرتی تھی ۔

قرآن کریم کی ترجمانی اتنی خوبصورتی سے کرتے کہ معلوم ہوتا کہ ہندوستان کا سب سے بڑا ادیب شاعری میں گفتگو کررہاہے ۔ آپ کی شخصیت بھی بہت خوبصورت تھی اور علم وعمل کی چاندنی آپ کے نورانی چہرے سے پھوٹ رہی ہوتی تھی۔آپ کے اسی منفرد طرز تکلم کو سامنے رکھتے ہوئے آپ سے باربار درخواست کی جاتی تھی کہ آپ قرآن کریم کا اپنی ادبی زبان میں ترجمہ کردیں۔ لیکن دعوت و تبلیغ میں دن رات مشغولیت کی وجہ سے آپ کے پاس اتنی فرصت ہی نہیں تھی۔اس کے باجود کراچی کے احباب نے آپ کو مجبور کرکے قرآن کریم کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر 45 کیسٹوں میں ریکارڈ کروا ہی لیا جس کی خاطر آپ کو بار بار کراچی جانا پڑتاتھا۔ کاش کوئی صاحب اس ترجمہ و تفسیر کوانٹرنیٹ پراپ لوڈ کردے تو اتنا بڑا سرمایہ فراہم ہوجائے گاجو بہت بڑا خزانہ سمجھا جائے گا۔حافظ صاحب نہایت خوش مزاج مسکراتے چہرے اور شیریں زبان تھے ۔

آپ کو غرباء ، طلباء و علماء سے بہت محبت تھی ۔ان پر خرچ کرنا گویا ان کی مجبوری تھی ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے آپ ہمیشہ صدقہِ و خیرات کرتے رہتے۔ وہ خود بھی ایک زمیندار اور مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ بڑے دریادل تھے لیکن اپنی ذات پر خرچ کرنے سے بہت بچتے تھے ۔فضول خرچی سے بہت اجتناب کرتے وضو اور نہانے کے لئے آپ پانی اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے۔ عام نمازیوں کی طرح پانی کا ضیاع آپ کو سخت ناپسند تھا۔ ساری عمرنام و نمود اور نمائش سے مجتنب رہے۔ملک کے کونے کونے میں آپ دعوت و تبلیغ کیلئے جاتے لیکن کبھی کسی سے سفری اخراجات نہیں لیتے تھے اگر کوئی زبردستی دے دیتا تو وہ ادارے کے اکاؤنٹ میں ڈال دیاکرتے تھے۔حضرت حافظ صاحب نے سفر وحضر میں ہمیشہ تہجد کی پابندی کی ۔ آپ کی غذا بالکل سادہ اور بہت کم رہی ، وعدے کی پابندی آپ کا شعار رہا۔ ماہِ رمضان المبارک کا پورا مہینہ آپ مرکز ادارہ الا صلاح بونگا بلوچاں میں قیام کرتے اور تمام خطباتِ جمعہ کا فریضہ سرانجام دیتے جبکہ باقی گیارہ مہینوں میں صرف ہر چاند کا دوسرا خطبہ یہاں ارشاد فرماتے۔ باقی خطباتِ جمعہ مختلف مقامات پر جا کر دیتے ۔

آپ کا لباس ہمیشہ معمولی قسم کالیکن صاف ستھرا ہوتا۔ صفائی کاخاص خیال رکھتے۔ ان کی ساری زندگی سادگی، قناعت، شرافت، مروّت اور وضع داری میں گزری۔ اُنھیں دیکھنے سے اہل اللہ اور علماے سلف کی یاد تازہ ہوجاتی تھی۔ یہی وہ خوبی ہے جس کی بنا پر ہر فرد اُن کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ آپ نے ہمیشہ لوگوں کو نیکی اور تقویٰ کی تلقین کی ۔ان کی شخصیت میں عجیب قسم کاجلال وجمال تھا۔اُنھیں اپنے بلند منصب کا کبھی احساس نہیں ہوا تھا۔ اس لیے تو تکبر اور احساسِ برتری جیسی مہلک بیماریاں ان کے قریب بھی نہ پھٹک سکیں۔

1990ءمیں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور میاں فضل حق کے جماعتی گروپوں کو جب متحد کیا گیا توآپ کو متحدہ جمعیت اہل حدیث کا امیر بھی مقرر کیا گیا۔ دعوتی سرگرمیوں کی وجہ سے آئندہ انتخابات میں آپ نے امارت سے معذرت کرلی لیکن جمعیت کے شعبہ نشرو اشاعت اورناظم تبلیغ کاعہدہ ہمیشہ آپ کے سپرد رہا۔ حافظ محمد یحی عزیز بڑے خوددار اور آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے تھے ۔بیرونِ ملک سفر بھی آپ کو متعدد دفعہ دعوت دی جاتی لیکن آپ ہمیشہ کنی کترا جاتے البتہ بسلسلہ حج آپ تین بار سعودی عرب گئے ۔ اس کے علاوہ برطانیہ،متحدہ عرب امارات، دبئی اور کویت میں دعوت وتبلیغ کے سلسلہ میں آپ کو جانے کا اتفاق ہوا ۔

جب دوسری دفعہ مولانا محمود احمد میرپوری مرحوم ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ نے انہیں برطانیہ میں تبلیغی کانفرنس کی دعوت دی تو آپ نے معذرت کرلی کہ استخارے میں مجھے اشارہ نہیں ملااس لیے میں نہیں آسکتا۔آپ کی اولاد میں اکلوتا بیٹا حافظ مولانا محمداسمٰعیل میر محمدی اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے دو بھانجے قاری محمد ابراہیم میرمحمدی اور قاری صہیب میرمحمدی دونوں کو مدینہ یونیورسٹی سے علوم قرآن و حدیث حاصل کرنے کاشرف ہے۔ قاری محمد ابراہیم راقم کے ساتھ ہی مدینہ منورہ میں مصروف تدریس رہے۔ وہ بہت صالح ، متقی ہونے کے ساتھ بہترین قاری قرآن تھے اور سعودی عرب کے ریڈیوقرآن( اذاعۃ القرآن الکریم) میں آپ کی تلاوت نشر ہواکرتی تھی۔

یونیورسٹی سے فراغت کے بعد آپ نے جامعہ لاہورمیں کلیۃ القرآن قائم کیااورقاری صہیب احمد اپنے ماموں کے قائم کردہ ادارہ الاصلاح کوجدیدانداز میں سیٹ کرکے حافظ صاحب کیلئے صدقہ جاریہ کے طور پر چلا رہے ہیں ۔

حافظ میر محمدی نے یکم نومبر2008ء کو نماز عشاء کے بعد خالق حقیقی کی دعوت پر لبیک کہا۔اور 2 نومبر 2008 ءکومرکز البدر، بونگہ بلوچاں میں آپ کی نمازِ جنازہ اداکی گئی۔نمازجنازہ صالح و بزرگ روحانی ہستی حضرت مولانا عتیق اللہ نے نہایت خشوع و خضوع سے پڑھائی ۔

نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے شیوخ اہل حدیث، علماے کرام، قرائے عظام، دینی طلبہ اور دینی تنظیموں کے قائدین وکارکنان نے بڑی تعداد شرکت کی۔ جنازے میں ہرآنکھ اشکبار تھی ۔دوسری بار آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے آبائی گاؤں میر محمد میں ادا کی گئی۔ وہیں پر آپ کی تدفین عمل میں آئی ۔آپ کی نمازِ جنازہ کے دونوں مناظر تاریخی حیثیت کے حامل تھے۔اللہ تعالی حضرت حافظ محمد یحی عزیز میرمحمدی کی حسنات کوقبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے۔

٭٭٭


غائبانہ نماز جنازہ

مسجد محمدی برمنگھم میں قاری عبد القدیر کی غائبانہ نماز جنازہ

جامع مسجد محمدی، الم راک برمنگھم میں ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی گئی جس میں بہت سے دوست واحباب اور اقارب و علماء کرام نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عبد الرب نے نماز جنازہ پڑھانے سے قبل کہ میرا چھوٹا بھائی بہت ہی متقی اور پرہیز گار زندگی گزار کر چلا گیا ہے وہ توحید وسنت پر خود عمل کرنے والا اور اسی کا داعی تھا۔ وہ اچانک داغ مفارقت دے گیا یعنی وہ مجھ سے اوورٹیک کر کے آگے نکل گیا اور یہ سب کچھ قضا وقدر سے ہوا جس پر ہمارا ایمان ہے۔ میرے والد مرحوم اور تایا مرحوم کا تربیت یافتہ تھا، جنازہ غائبانہ میں حاجی عبد الغفور چوہدری، حاجی محمد اسلم چوہدری، حاجی محمد نسیم، چوہدری محمد سلیمان، مولانا حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، قاری محمد حفیظ الرحمٰن، محمد فاروق نسیم، افتخار احمد ، راجہ مقصود، ڈاکٹر عمران معصوم انصاری اور بہت سے احباب گرامی جنازہ میں شریک تھے۔

دریں اثناء محمد عبد الرؤف عمری ریاضی نے جامع مسجد کوئینس کراس ڈڈلی میں بعد نماز جمعہ چاچا مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی، جس میں حاجی ذوالفقار قریشی، حاجی عبد الجبار قریشی، مولانا حبیب اللہ اثری ، محمد عمر، عبد الرحمٰن قریشی اور بہت سے لوگ شریک تھے۔ دونوں مساجد میں خواتین بھی کثیر تعداد میں شریک نماز جنازہ تھیں، مولانا محمد ابراہیم میرپوری امیر جمعیت برطانیہ، حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی ناظم اعلیٰ، مولانا شعیب احمد میرپوری، جناب افتخار احمد چودھری اور بہت سے دوست و احباب، اقارب ے بردار مرحوم کی تعزیت کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان ومتعلقین و احباب کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو                                ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

٭٭٭

تبصرہ کریں