ایک مشفق استاد کی یاد میں!- مولانا محمد عبد الہادی عمری

جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ دار السلام عمرآباد، ٹملناڈو، کے لائق فرزند قابل استاذ طلبہ کے مشفق وغمگسار، حمیت دینی سے سرشار اردو کے

مایہ ناز شاعر مولانا ابو البیان عبد الرحمٰن خان حماد﷫ تقریباً ننانوے (99) برس کی عمر پا کر 29 جنوری 2023ء اتوار کی دوپہر بنگلور میں انتقال کر گئے۔

حدیث رسولﷺ کے مطابق خير الناس من طال عمره وحسن عمله (جامع ترمذی: 2329)

کہ بہترین آدمی وہ ہے جس کی عمر دراز ہو اور عمل عمدہ ہو۔ آپ نے کئی نسلوں کی آبیاری کی اور تقریباً ستر برس عمر آباد میں فرائض تدریس انجام دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بشریٰ لغزشوں کو معاف فرمائے، نیکیوں کو قبول فرما کر اعلیٰ علیین میں جگہ عطا کرے۔

راقم مولانا کے ادنیٰ خوشہ چینوں میں سے ایک ہے جس کی تعلیم وتربیت میں استاذ گرامی کی پرخلوص کوشش اورسوزو گداز شامل ہے۔

جامعہ کی ہماری تعلیمی زندگی میں مولانائے محترم ﷫ کی ایک منفرد استاذ اور ہماری کلاس واحد جماعت تھی کہ پہلے سال ابتدائی جماعت سے آخری سال فضیلت سال دوم آٹھویں جماعت تک مسلسل نو سال مولانا نے ہمیں پڑھایا، غالباً یہ سعادت ہمارے علاوہ کسی دوسری جماعت کو میسر نہیں آئی۔

پہلے سال ابتدائی جماعت میں فارسی کی ابتدائی کتابیں وہ پڑھایا کرتے، اس وقت موصوف کے ذمہ جونیئر درجات کی کتابیں مقرر تھیں۔ آمدن، قصص النبیین، پنج گنج وغیرہ کے ساتھ حدیث کی کتاب منتقی جو چھٹی جماعت میں پڑھائی جاتی تھی، فضیلت کی کوئی کتاب موصوف کے ذمہ نہیں تھی، لیکن جب ہم فضیلت سال اول میں پہنچے، ابو داؤد کی تدریس آپ کو تفویض کی گئی، یوں ہماری پہلی جماعت تھی، جنہیں مولانا نے حدیث کی یہ کتاب پڑھائی اور جب آخری سال میں پہنچے وہاں ان کے ذمہ ایک ادبی کتاب تھی جوں جوں سینئر کلاس کی تدریس آپ کے ذمہ ہوتی گئی، ابتدائی مضامین کم ہوتے گئے۔ ہماری فراغت کے بعد آپ ابتدائی درجات کے بجائے اونچے درجات کو پڑھاتے رہے۔ یوں مسلسل 9 سال پڑھنے کا اعزاز صرف ہماری جماعت کو حاصل ہوا۔ابتدائی جماعت سے آخری سال تک پڑھنے والے طلبہ میں خود مرحوم کے دوسرے فرزند سعید الرحمٰن خان ارشد بھی تھے، جو راقم کے بے تکلف ساتھی تھے۔ اس بیچ میں 22 طلبہ فارغ ہوئے جو کہ جامعہ کی بڑی بیچ شمار ہوتی تھی کیونکہ اس سے پہلے عموماً فارغ ہونے والوں کی تعداد پندرہ کے اندر اندر ہوتی، ان بائیس میں چار طلبہ وہ تھے جو ابتدائی جماعت سے آخری سال تک پہنچے۔ باقی کوئی ایک سال بعد اس قافلہ میں شامل ہوا۔ کوئی دو سال بعد، ا ور کثیر تعداد میں ابتدائی جماعت میں داخلہ لینے والوں میں سے کوئی ایک سال ہی چل سکا، کسی کے دو سال بعد قدم ڈگمگا گئے۔ یوں پرانے ساتھی پچھڑتے گئے اور نئے قافلہ میں شامل ہوتے گئے اور کارواں آگے بڑھتا گیا۔

مولانا کے درس وتدریس کا اسلوب بہت ہی مشفقانہ ہوا کرتا، آپ کی کوشش ہوتی کہ

طالب علم کے ذہن میں اپنی بات بٹھا دیں، ہر تھوڑی دیر بعد فرماتے ’’سمجھ میں آیا۔‘‘

پھر آگے گفتگو کرتے، ادبی کتب کی تدریس میں پہلے عبارت پڑھتے مشکل الفاظ کے معانی بتاتے پھر روانی کےساتھ عبارت پڑھتے، اگر اشعار ہوتے تو مکمل ترنم کے ساتھ پڑھا کرتے، اس سے کلاس میں ایک سماں بندہ جاتا، حدیث کی کتاب پڑھاتے ہوئے اداب و احترام کا خاص خیال رکھا جاتا، کتاب الحج وغیرہ کی تفصیلات کچھ یوں بیان کرتے کہ ہم عمر آباد میں رہتے ہوئے بھی حرمین شریفین تصوراتی طور پر پہنچ جایا کرتے، ہماری فراغت تک مولانا نے حجاز کا سفر نہیں کیا تھا، بعد میں کئی مواقع میسر آئے، خود آپ کے فرزند، دختر اور شاگردوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکی تھی، مختلف مناسبتوں سے استاذ گرامی وہاں تشریف لے جاتے رہے، لیکن دوران تدریس نقشہ کچھ ایسے کھینچتے کہ طلبہ میں روحانی بیداری پیدا ہو جاتی اورہم خود کو حرمین میں محسوس کرنے لگتے، کلاس میں غصہ اور ناراضگی کا معاملہ برائے نام ہی ہوتا وہ بھی ابتدائی درجات میں بار بار سمجھانے کے باوجود کوئی کاہلی کرتا تب ورنہ مجموعی طور پر کسی بات پر ناراضگی کا اظہار کرتے۔ تو عموماً طلبہ یہ آیت گنگنانے لگتے والكاظمين الغيظ والعافين عن الناس پھر استاذ محترم زیر لب مسکرا دیا کرتے۔ یوں ناراضگی کو طلبہ ہوشیاری سے ختم کر دیتے۔

اگر طالب علم کو کسی حدیث پر عمل کرتا دیکھتے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتے ، اپنے کمرہ میں بلا کر چائے پلایا کرتے، اس وقت طالب علم کی حوصلہ افزائی کا یہ بڑا مؤثر ذریعہ ہوتا کہ استاذ خود طالب علم کو چائے پیش کرے، صوم عرفہ، عاشورا وغیرہ وغیرہ مختلف مناسبتوں پر سنت کا اہتمام نہ صرف خود کرتے بلکہ شاگردوں کو بھی ترغیب دیا کرتے۔

استاذ محترم کے علمی، ادبی اور سماجی مختلف لوگوں کے ساتھ تعلقات کا دائرہ وسیع تھا، ان کے ساتھ رابطہ رکھنے کا مؤثر ذریعہ اس وقت خط وکتابت تھا، کلاس کے بعد تقریباً پون گھنٹہ اس کام کے لیے مختص ہوتا، کلاس ختم ہوتے ہی ایک طالب علم کو آواز دیتے، دوپہر کے کھانے کا وقت ہونے تک اس کے ساتھ خطوط املا کرواتے، عرصہ تک راقم کو بھی یہ سعادت میسر آئی، جیسے ہی کلاس ختم ہوتی، آپ آواز دیتے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور مقررہ وقت میں جتنے خطوط لکھوا سکتے، املا کروا دیا کرتے۔ پھر میں کھانے کے لیے مطبخ کا رخ کرتا اور وہ گھر تشریف لے جاتے، ظہر سے قبل کھانے سے فارغ ہو کر ظہر کے لیے پہنچنا ہوتا۔نماز ظہر کے بعد دوپہر کی کلاسیں شروع ہو جاتیں، عمر آباد میں طلبہ اور خصوصاً اساتذہ کے اوقات بڑے لگے بندھے ہوا کرتے۔

خلاف سنت کسی بات کو برداشت نہیں کرتےتھے، ایک مرتبہ آپ کے ہی آبائی گاؤں رحیم آباد ضلع مالور میں واقع، مدرسہ دار التوحید کا سالانہ جلسہ ہو رہا تھا، ا س کے روح رواں آپ کے ہی ہم نام آپ کے شاگرد مولانا عبد الرحمٰن خان عمری تھے، علماء کرام، معززین علاقہ اور عوام کی قابل قدر حاضری تھی، اسٹیج پر راقم کے علاوہ مختلف شخصیات جلوہ افروز تھی، طلبہ کا تقریری اور علمی مظاہرہ جاری تھا کہ

ایک طالب علم نے نظم پڑھی، ایک شعر شان رسالتﷺ کے حوالہ سے غلو پر مبنی تھا، ابھی طالب علم پڑھا ہی تھا کہ دوہرانے کا موقع ہی نہیں دیا، اسٹیج پر ہی اسے سختی کے ساتھ ٹوک دیا اور مدرسہ کے اساتذہ کو متنبہ کیا کہ طلبہ کو منظوم کلام دیتے ہوئے خود پڑھ لیا کریں، کہیں کوئی بات خلاف شریعت تو نہیں، کچھ دیر کے لیے اس تلخی پر ناگواری محسوس کی گئی لیکن مولانائے محترم لایخافون فى الله لومة لائم کا نمونہ بنے رہے، پھر نگران استاذ کو اس فروگذاشت پر معذرت کرنی پڑی، کہ عموماً اس طرح کی مناسبتوں اور تقاریب کے لیے ترنم اور حسن ادائیگی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، اشعار کی معنوی حیثیت پر توجہ نہیں دی جاتی جبکہ مفہوم اور مطالب کی اہمیت کہیں زیادہ ہوتی ہے، آئندہ اس کا خیال رکھا جائے گا۔ ان شاء اللہ

اس واقعہ سے استاذ گرامی کی دینی حمیت اور سنت سے عقیدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، حالانکہ اسٹیج پر آپ ایک مہمان کی حیثیت سے مدعو تھے۔

طلبہ میں تقریر و تحریر کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے جامعہ میں تین انجمنیں تھیں، اصلاح الاخلاق ابتدائی سے تیسری جماعت تک کے طلبہ کے لیے دائرۃ الادب چوتھی سے سال آخر تک کے طلبہ کے لیے ربیع الادب اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے لیے لیکن حقیقت میں یہ ملیالم زبان کے لیے ہی مختص ہو گئی تھی، کیرالہ کے طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی تھی، وہی اس کو چلایاکرتے، ان سب کے نگران مولانائے محترم تھے، انجمنوں کے سالانہ اجلاس طلبہ جوش وخروش کے ساتھ منایا کرتے، اس کے لیے ظاہری اور معنوی ہر طرح کی تیاری کی جاتی، ہفتہ واری انجمن کے اجلاس میں فرشی نشست ہوا کرتی لیکن سالانہ اجلاس کے لیے باقاعدہ کرسیوں کا اہتمام ہوتا۔ عموماً یہ کرسیاں پڑوس کے سرکاری اسکول سے مستعار لی جاتیں، طلبہ کا ایک وفد جا کر اسکول کے صدر مدرس سے بات کرتا کہ کرسیاں کب لے جائیں گے اور کب واپس پہنچائیں گے وغیرہ۔ اس سے جامعہ کی طرز زندگی اور سادگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، فرشی نشستوں پر ہی طلبہ، اساتذہ سب بیٹھا کرتے، حتیٰ کہ ناظم جامعہ کے دفتر میں بھی فرشی نشست ہی ہوا کرتی، وہیں منتظمین جامعہ، ارکان شوریٰ اور ذمہ دار تشریف فرما ہو کر انقلابی منصوبے اور تاریخ ساز فیصلے کیا کرتے۔

انجمنوں کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے عموماً قرب وجوار کی کسی معروف شخصیت کو مدعو کیاجاتا، ہمارے آخری سال یعنی 1977 کے سالانہ جلسہ کی صدارت کے لیے حیدر آباد کی مشہور سیاسی شخصیت سلطان صلاح الدین اویسی صاحب کو مدعو کیا گیا، یہ دونوں کے لیے نیا تجربہ تھا، محترم اویسی صاحب کا آندھرا کے باہر یہ پہلا باقاعدہ بڑا پر وگرام تھا، اس وقت وہ ایم ایل اے تھے، پارلیمنٹ کے لیے پرتول رہے تھے اور انجمن کے لیے بھی نیا تجربہ میدان سیاست کی سرگرم شخصیت کو مدعو کیا جا رہا تھا، ان سے رابطہ کرنے اور سفر کو حتمی شکل دینے کی ذمہ داری استاذ محترم کے مشورہ سے محترم عمران اعظمی ﷫ انجام دے رہے تھے۔ وقت مقررہ پر جب اویسی صاحب عمر آباد پہنچے ان کا قیام وطعام عمر ہاؤس میں تھا، استاذ محترم نے ہم انجمن کے عہدیدار طلبہ کو ہدایت کی کہ آپ لوگ جا کر مہمان محترم سے ملاقات کر کے انجمن کا تعارف کروائیے، چنانچہ ہم حسبِ حکم پہنچےمحترم اویسی صاحب نے طلبہ سے تعارف کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ میں بھی حیدر آباد سے ہوں، انہوں نے ہمارے محلہ اور والد صاحب وغیرہ کے متعلق بہت ساری تفصیلات دریافت کی گویا دیار عمرآباد میں کوئی انسیت نکل آئی ویسے بھی ہمارا محلہ ان کی پارٹی اتحاد المسلمین کا گڑھ ہی سمجھا جاتا ہے، انہوں نے محلہ کے نام پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ہماری گلی تک پہنچنا چاہتے تھے، مجھے تعجب ہو رہا تھا کہ وہ محلہ کی گلیوں اور مکینوں سے بھی بڑی حد تک واقف، نماز عشاء کے بعد انجمن کی کاروائی شروع ہوئی۔ یہ کاروائی ہال کے بجائے اضافی مہمانوں کی متوقع آمد کے پیش نظر کھلے صحن میں ہو رہی تھی۔صدر اجلاس نے علاقہ میں کا کا خاندان اور خصوصاً بانی جامعہ کا کام محمد عمر﷫ کے متعلق عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے اپنے مخصوص گھن گرج کے ساتھ خطاب فرمایا۔ حسب روایت خطاب کرنے والے طلبہ کو جامعہ کی جانب سے انعامات دیئے گئے، انعام پانے والوں کے ناموں کی فہرست استاذ محترم کے ہاتھ میں تھی، وہی اعلان کر رہے تھے، حسن اتفاق کہ میرا نام کہیں دب گیا، مولانا کی نظر نہیں پڑی، میں اس وقت انجمن کا نائب صدر تھا، جب پروگرام اختتام کو پہنچ رہا تھا، طلبہ اور ساتھی بھی اس فروگذاشت پر حیرت کا اظہار کر رہے تھے اور بعض ازراہ تفنن کہہ رہے تھے کہ چونکہ مہمان آپ کے ہی علاقہ کے ہیں، شاید آپ کو کسی اور سے انعام دلوانے کے لیے یہاں آپ کا نام نہیں بلایا گیا ہے۔ جب میں نے مولانا کی توجہ دلائی وہ پریشان سے ہو گئے لیکن اب اجلاس ختم ہو رہا تھا اور وجہ بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ انعام پانے والے مقررین کی لسٹ سے میرا نام کیسے چھوٹ گیا، بعد میں مولانا نے تسلی دی کہ یہ غلطی شاید منصفین سے ہو گئی کہ ناموں کے درمیان کانٹ چھانٹ کی وجہ سے آپ کا نام میں دیکھ نہیں سکا، لہٰذا آپ جو کتاب چاہیں وہ آپ کو بطور انعام دی جائے گی ، استاذ گرامی کا اتنا کہنا ہی کافی تھا لیکن بار بار معذرت کر رہے تھے اور میں شرمندہ ہو رہا تھا بلکہ احساس ہو رہا تھا کہ مجھے اس بارہ میں دریافت ہی نہیں کرنا چاہیئے تھا، اس سے قارئین اندازہ کر سکتے ہیں کہ استاذ گرامی کی طبیعت میں تواضع اور انکساری کا عنصر کس درجہ تھا، وہ اپنے شاگردوں کی دلجوئی کیسے کیا کرتے، پھر حسب وعدہ مجھے کچھ کتابیں دی گئیں۔

مولانا کی دین پسندی، مزاج کی سادگی اور مختلف جماعتوں کے ساتھ تعلقات اور رواداری کچھ ایسی تھی کہ ہر حق پسند جماعت کے لوگ انہیں اپنا ہی رکن سمجھتے، موصوف مختلف مناسبتوں سے مشہور جماعتوں کے پروگراموں میں شرکت فرمایا کرتے۔

عمر آباد سے متصل قریہ گڑھ آمبور ہے، وہاں ایک ہی مسجد ہے جس میں عموماً جامعہ کے سینئر طلبہ امامت وخطابت کے فرائض انجام دیا کرتے، شاید اب بھی یہی سلسلہ ہے، امام کے ساتھ کچھ اور طلبہ بھی ٹہلنے کی غرض سے ساتھ ہو جایا کرتے، ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کی وہاں آمد ہوئی، وہ اپنے طریقہ کے مطابق علاقہ میں گشت کر کے مسجد کے اجتماع میں شرکت کی ، مقامی لوگوں کو دعوت دیتے رہے، اجتماع میں علاقہ کے کچھ لوگ حاضر ہوئے، میں نے دیکھا کہ ان میں مولانا محترم بھی تشریف لے آئے تھے، لیکن بالکل عام آدمی کی حیثیت سے پیچھے بیٹھے خطاب سنتے رہے، پھر حسب دستور جماعت کے ذمہ دار نے لوگوں کو تبلیغی دورہ پر نکلنے کی ترغیب دی اورنام لکھوانے کی درخواست کی کہ دین سیکھنے اور تربیت پانے کے لیے گھر بار اہل وعیال سے چند دن کے لیے دوری ضروری ہے وغیرہ۔ جب خواہشمندوں کے نام لکھنے والا مولانا کے قریب پہنچا تو مولانا اپنے مخصوص انداز سے مسکرا رہے تھے،۔ ہم نے تبلیغی کارکن کا اصرار اور مولانا کی سادگی دیکھی تو آگے بڑھ کر مداخلت کرتے ہوئے مولانا کا تعارف کروایا، اس پر اس نے علاقہ کے مخصوص لب ولہجہ میں شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اس جرات پر معذرت کی۔

بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ ہے لیکن اس کے ذریعہ مولانا کے مزاج کی سادگی اور ذہنی وسعت کو سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی تدریسی مصروفیات اور علمی مقام کے باوجود خیر کے کاموں میں کیسے شریک ہوا کرتے، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ایسے پروگراموں میں ان کے شاگرد بھی شرکت کرنے کو کسر شان سمجھتے۔

جماعت اہل حدیث جنوبی ہند کی جانب سے ایک اہم کانفرنس بنگلور سے متصل ہسور 92 ء میں مولانا مختار احمد ندوی﷫ کی صدارت میں منعقد ہوئی، علماء اور عوام کی حاضری اور تیاری کے اعتبار سے یہ نہایت ہی کامیاب کانفرنس تھی، اس میں شرکت کرنے والے معزز علماء کرام کی فہرست میں حضرت مولانا نمایاں تھے، معززین کے ساتھ وہ اسٹیج پر بیٹھے، مقررین کے خطابات سنتے رہے، علاقہ بھر میں اس کے مثبت اثرات دیکھے گئے بلکہ اس سال منعقد ہونے والی کل ہندی مرکزی کانفرنس کے مقابلہ میں ہسور کی کانفرنس کو زیادہ کامیاب اور پسند کیا گیا۔ اس کامیابی میں منتظمین اور علاقہ کے لوگوں کے ساتھ ساتھ جامعہ دار السلام اور جامعہ محمدیہ رائیدرگ کے طلبہ اور بعض اساتذہ کی مساعی جمیلہ بھی شامل تھیں۔

ہمارے دور طالب علمی میں کبھی کبھار قرب و جوار کی مساجد میں خطبات جمعہ کے لیے طلبہ جایا کرتے، بعد میں الحمد للہ یہ سلسلہ ایک نظم کے تحت قائم ہوا، اور اب قابل قدر تعداد میں طلبہ جمعہ کے دن مختلف مساجد کا رخ کرتے ہیں۔

ایک جمعہ عمر آباد سے قدرے دور ولتناکپم ہمین جانا تھا، وہاں دو مسجدیں تھیں ایک چھوٹی مسجد جس میں مجھے خطبہ دینا تھا اور دوسری بڑی مسجد جس میں استاذ محترم کا خطبہ تھا، اس وقت وہاں جانے کے لیے رات ہی سے پروگرام مرتب کرنا ہوتا کیونکہ آمد ورفت کے ذرائع محدود تھے، عموماً بس کا یہ سفر ہوتا اور بعض اوقات سائیکل سے بھی مسافت طے کی جاتی، مولانا کے ساتھ ہم بذریعہ بس پہنچے اپنی اپنی مسجد میں خطاب کے بعد ظہرانہ کے لیے ایک ہی جگہ مدعو تھے اور پھر دو بسیں بدلتے ہوئے عمر آباد واپس ہوئے، اس سےمولانا کی سادگی اور دینی حمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ورنہ یومیہ تھکا دینے والی مصروفیات سے ہفتہ میں ایک دن جو فرصت کا میسر آتا اسے بھی اسی راہ میں لگا دینا آسان نہیں۔

فراغت کے بعد بھی مولانا کے ساتھ خط وکتابت کا سلسلہ جاری رہا، مختلف طریقوں سے اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی فرماتے ۔

دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلے آپ کے شاگرد آپ کےلیے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ

دنیوی اعتبار سے آپ کا ان معدودے چند لوگوں میں شمار ہوتا ہے جن کی زندگی ہی میں ان کی شخصیت پر ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی گئی، اردو شاعری میں آپ کا اونچا مقام تھا۔ ورنہ عموماً مشہور لوگوں کے مرنے کے بعد ان پر پی ایچ ڈی کی جاتی ہے۔ جیسے مشہور زمانہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے اپنی بھتیجی کے حیدر آباد سے روانہ کردہ مکتوب کے جواب میں جو ان پر مقالہ لکھنا چاہتی تھیں، پی ایچ ڈی کے لیے فرانس سے لکھا کہ ابھی آپ کے چچا زندہ ہیں، عموماً ڈاکٹریٹ کسی شخص پر مرنے کے بعد کی جاتی ہے۔

فرزانوں میں ہے وہ دیوانہ

دیوانوں میں ہے وہ فرزانہ

حماد سا کوئی اور نہیں کہنے کو

دیوانے اور بھی ہیں

اللهم اغفرله وارحمه

مجلہ صراط مستقیم کے لیے استاذ محترم کا قلمی تعاون بہت قدیم اور مسلسل رہا ہے، مولانا کا منظوم کلام مجلہ کی زینت بڑھاتا رہا ۔ آپ کی فارسی زبان میں کہی گئی نعت بھی پہلے اسی مجلہ میں شائع ہوئی۔ مجلہ کے مدیرمسؤل، جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ناظم اعلیٰ، مسلم کیمونٹی کے سرگرم رہنما مولانا محمود احمد میرپوری ﷫ کے انتقال کا ایک ٹریفک حادثہ میں اکتوبر 1988ء کو دلخراش سانحہ پیش آیا۔ اس ناگہانی حادثہ پر عرب ممالک اور ہندو پاک کے معززین اور مشائخ کے متعدد تعزیتی پیغامات ادارہ کو موصول ہوئے، ان میں استاذ محترم کا تعزیتی پیغام بھی تھا جس کا ایک جملہ مجھے ابھی تک یاد ہے۔ آپ نے لکھا تھا: ’’خوش درخشیدہ ولے شعلہ مستعجل بود‘‘ مولانا محمود ﷫ کی شخصیت کی مختصر الفاظ میں عکاسی اس مصرعہ سے پوری طرح ہو رہی تھی، کیونکہ مولانا میرپوری مدینہ منورہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد برطانیہ تشریف لے آئے اور تقریباًبارہ سال کے قلیل عرصہ میں اپنی سیمابی شخصیت سے یوکے بھر میں ہلچل مچا دی، مختلف شہروں میں مساجد اور مدارس سلفیہ کا جال بچھا دیا۔ مسلم سماج کی مختلف اور منتشر اکائیوں کو جوڑنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اردو، انگریزی ماہنامہ صراط مستقیم کی سرپرستی کی، مجلہ اردو زبان میں برطانیہ سے شائع ہونے والا واحد پرچہ ہے جو طویل عرصہ سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔

جامعہ دار السلام عمر آباد کے معتمد عمومی محترم کاکا محمد عمر﷫ اور نائب معتمد محترم کاکا سعید احمد﷾ اپنے دورہ برطانیہ میں مولانا میرپوری کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے، محترم کاکا عمر ایسی ہی شخصیتوں کو پسندفرماتے تھے جو اپنا نظریہ رکھتے ہوئے دیگر افراد اور تنظیموں کے ساتھ بھی روابط استوار کریں۔

استاذ محرم کی مسجد اقصیٰ پر لکھی گئی نظم ایک خصوصی مضمون کے ساتھ شائع ہوئی تو قارئین کے وسیع حلقہ نے اس کو زبردست پذیرائی بخشی، مولانا اپنے شاگردوں کی نگارشات پر کھلے دل سے داد دیا کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔

شہر حیدر آباد دکن کے ساتھ مولانا کے دیرینہ تعلقات تھے۔ آپ کے بہت سے شاگرد یہاں رہتے ہیں، آپ جب یہاں تشریف لاتے تو جامع مسجد اہل حدیث فتح دروازہ بھی آیا کرتے۔ والد محترم اور چچا مولوی محمد سرور﷫ ان کے بہت معتقد تھے، خاندان کے کئی افراد کے وہ استاذ اور مربی تھے۔ ایک مرتبہ میری موجودگی میں آپ کی آمد ہوئی، مدرسہ سمیہ للبنات کی وزٹ تھی۔ یہ اسی مسجد انتظامیہ کی زیرنگرانی چلنے والی درسگاہ ہے، اس میں شعبۂ حفظ سے المیت تک کی تعلیم دی جاتی ہے، اساتذہ کی فہرست میں آپ کے شاگرد عمری نمایاں ہیں۔ یہاں طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور انہیں پند ونصائح سے نوازنے کے بعد کچھ دیر کے لیے آفس میں بیٹھے، مہمانوں کے لیے موسم کے مطابق ٹھنڈے مشروبات پیش کیے گئے۔ میں استاذ محترم کے ساتھ بیٹھا تھا، ہمیں سوڈا ملا ہوا لیمن جوس دیا گیا ، میں عموماً ایسے مشروبات نہیں پیا، استاذ کےاحترام میں بوتل تو ہاتھ میں لے لیا، لیکن میری کیفیت کچھ ایسی تھی کہ نہ اگلے بنتی نہ گلے بنتی۔ بوتل نوش کیے بغیر رکھ دوں تو استاد کی نظروں کی تاب نہیں اور پینا چاہوں تو حلق برداشت نہیں کرے گا۔ کچھ دیر تو اسی پیج وتاب میں رہا، پھر موقع پاتے ہی ہمارے بھتیجے حافظ ابراہیم سیکرٹری مدرسہ کے ہاتھ میں تھما دیا کہ آپ پی لی، استاذ گرامی یہ دیکھ رہے تھے۔ قبل اس کے کہ وہ کچھ کہیں میں نے ہی وضاحت کر دی کہ میں فزی ڈرنک نہیں پیتا ورنہ خدشہ تھا کہ مشفقانہ ڈانٹ پلاتے یا مجھےپینے کا حکم دیتے، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے درمیان بے تکلفی کے باوجود استاذ اور شاگرد کا احترام اور ااداب کا کسی حد تک خیال رکھا جاتا۔

مدرسہ سمیہ کے پروگرام سے فارغ ہو کر ایک دوسرے پروگرام کے لیے جاتے ہوئے میں نے گاڑی حیدر آباد کے مشہور شیروانی ٹیلر کے دوکان کے سامنے رکوا دی، جب گاڑی رک گئی تو با ادب مولانا سے کہا کہ آپ کچھ دیر کے لیے اتر جائیے، مولانا اس کے پس منظر سے تو اس وقت واقف نہیں تھے، دریافت کیا کہ یہاں کیا کرنا ہے یعنی تقریر یا دوکان کا افتتاح یا کیا؟ میں نے کہا کہ کچھ نہیں صرف ٹیلر سے ملاقات کرنی ہے؟ یہ دین پسند درزی ہے اور مختلف نامی گرامی علماء سے ان کے روابط ہیں۔ اکثر علماء یہاں تشریف لاتے ہیں، مولانا میرے اصرار پر اتر گئے جب پروگرام کے مطابق درزی نے ناپ لینا شروع کیا تو میری طرف گھومتے ہوئے استفسار کیا، میں نے جواب دیا کہ یہ حیدرآبادی تحفہ ہے، مولانا نے فرمایا کہ میرے پاس شیروانی ہے اس کی ضرورت نہیں لیکن جب تک درزی اپنا کام کر چکا تھا ناپ لیتے ہوئے اس نے کچھ مشہور علماء کے نام گنوا دیئے کہ میں نے ان کے لیے بھی شیروانیاں سی ہیں، میری فہرست میں ایک خوشگوار اضافہ ہو گا، مولانا اس کی حاضر جوابی سے محظوظ ہوئے اور یوں میری خواہش پوری ہو گئی ورنہ خطرہ تھا کہ شیروانی کی خواہش ادھوری رہ جاتی۔

حیدر آباد ہی میں ایک اور مشہور دینی درسگاہ جامعہ دار الفرقان ہے، اس کے بانی جناب قطب الدین صاحب﷫ مولانا کے بہت عقیدتمند تھے، اپنے ادارہ کی ترقی کے لیے مولانا سے اکثر مشورہ کیا کرتے، یہاں طالبات کی معقول تعداد ہے، درس نظامی کے ساتھ ساتھ عثمانیہ یونیورسٹی سے بھی مختلف امتحانات دلوائے جاتے ہیں۔ اس جامعہ میں دینی اور عصری تعلیم کا مناسب امتزاج ہے، جامعہ کے ایک سالانہ اجلاس میں مجھے مدعو کیا گیا تھا، ان ہی دنوں استاذ محترم بھ تشریف لے آئے ہوئے تھے، جلسہ گاہ جب ہم پہنچے تو میں نے ذمہ داران سے کہہ دیا کہ آب آمد تیمم برخاست، خطاب مولانا کا ہو گا اور تقسیم انعامات بھی ان کے ہی دست مبارک سے ہو ں گے، لیکن منتظمین اس کو کہاں مانتے، مولانا کے ساتھ مجھے خطاب اور تقسیم انعامات میں شامل رکھا گیا۔ البتہ اسٹیج سیکرٹری نے تعارف میں اتنا اضافہ کیا کہ یہ استاذ اور شاگرد ہیں یہی نہیں بلکہ محترم عمران اعظمی ﷫ جن کی دخبر بھی اس سال سند فراغت لے رہی تھیں ، کہا گیا کہ اعظمی صاحب بھی مولانا کے ہی شاگرد ہیں، اس وقت اعظمی صاحب کا طوطی بول رہا تھا، خصوصاً ترجمہ کے شعبہ میں ان کا سکہ چلتا تھا، امتیازی نمبرز سے کامیابی پانے والی لڑکیوں کو جس دستور انعامات سے نوازا گیا لیکن لڑکیوں کو اسٹیج کے بجائے پردہ کے پیچھے سے انعامات پکڑا دیئے جاتے، مولانا انعام دیتے ہوئے دریافت کرتے کہ مضبوطی سے تھام لیا یا نہیں۔ ادھر سے جواب ملنے تک انعامات کا پیکٹ نہیں چھوڑتے، اس پس چادر ہونے والی گفتگو سے لوگ بھی محظوظ ہوتے رہے۔

قرآن مجید کی تلاوت کا آپ کا اپنا ایک اسلوب تھا، جذب ووکیف میں ڈوب کر گویا تلاوت کرتے، سورۃ لقمان کی تلاوت کے موقع پر کیفیت کچھ زیاہ یہی جذباتی ہو جاتی، جب بھی وقت ملتا تلاوت میں مصروف ہو جاتے۔ بھائی مولانا محمد عبد اللہ مدنی کی دو صاحبزادیوں کی شادی کے موقع پر دوست احباب اور علماء مدراس کی مسجد اہل حدیث چار مینار میں جمع تھے ایسے موقعوں پر عموماً گپ شپ زیادہ ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ استاذ محترم ضروری ملاقات کے بعد مسجد کے ایک زاویہ میں بیٹھے تلاوت میں مصروف ہیں، وقت مقررہ تک آپ تلاوت کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ حسنات قبول کرے، اجر عظیم سے نوازے۔ آمین

مجلہ صراط مستقیم کے لیے استاذ محترم کا قلمی تعاون بہت قدیم اور مسلسل رہا ہے، مولانا کا منظوم کلام مجلہ کی زینت بڑھاتا رہا، آپ کی فارسی زبان میں کہی گئی نعت بھی پہلے اسی مجلہ میں شائع ہوئی۔ مجلہ کے مدیر مسؤل، جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ناظم اعلیٰ، مسلم کمیونٹی کے سرگرم رہنما مولانا محمود احمد میرپوری ﷫ کے انتقال کا ایک ٹریفک حادثہ میں اکتوبر 1988ء کو دلخراش سانحہ پیش آیا، اس ناگہانی حادثہ پر عرب ممالک اور ہندو پاک کے معززین اور مشائخ کے متعدد تعزیتی پیغامات ادارہ کو موصول ہوئے، ان میں استاذ محترم کا تعزیتی پیغام بھی تھا، جس کا ایک جملہ مجھےابھی تک یاد ہے، آپ نے لکھا تھا: ’’خوش درخشیدہ ولے شعلہ مستعجل بود‘‘ مولانا محمود ﷫ کی شخصیت کی مختصر الفاظ میں عکاسی اس مصرعہ سے پوری طرح ہو رہی تھی، کیونکہ مولانا میرپوری مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد برطانیہ تشریف لے آئے اور تقریباً 12 سال کے قلیل عرصہ میں اپنی سیمابی شخصیت سے یوکے بھر میں ہلچل مچا دی۔ مختلف شہروں میں مساجد اور مدارس سلفیہ کا جال بچھا دیا۔ مسلم سماج کی مختلف اور منتشر اکائیوں کو جوڑنے میں بھرپور کردار ادا کیا، اردو انگریزی ماہنامہ صراط مستقیم کی سرپرستی کی، مجلہ اردو زبان میں برطانیہ سے شائع ہونے والاواحد پرچہ ہے جو طویل عرصہ سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔

جامعہ دار السلام عمر آباد کے معتمد عمومی محترم کا کا محمد عمر﷫ اور نائب معتمد محترم کاکا سعید احمد﷾ اپنے دورہ برطانیہ میں مولانا میرپوری کی شخصیت سےبہت متاثر ہوئے، محترم کا کا عمر ایسی ہی شخصیتوں کو فرمات تھے جو اپنا نظریہ رکھتے ہوئے دیگر افراد اور تنظیموں کے ساتھ بھی روابط استوار کریں۔

استاذ محترم کی مسجد اقصیٰ پر لکھی گئی نظم ایک خصوصی مضمون کے ساتھ شائع ہوئی تو قارئین کے وسیع حلقہ نے اس کو زبردست پذیرائی بخشی۔ مولانا اپنے شاگردوں کی نگارشات پر کھلے دل سے داد دیا کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے۔

شہر حیدر آباد دکن کے ساتھ مولانا کے دیرینہ تعلقات تھے، آپ کے بہت سے شاگرد یہاں رہتے ہیں، آپ جب یہاں تشریف لاتے تو جامع مسجد اہل حدیث فتح دروازہ بھی آیا کرتے، والد محترم اور چچا مولوی محمد سرور ان کے بہت معتقد تھے، خاندن کے کئی افراد کے وہ استاذ اور مربی تھے۔

ایک مرتبہ میری موجودگی میں آپ کی آمد ہوئی، مدرسہ سمیہ للبنات کی وزٹ تھی، یہ اسی مسجد انتظامیہ کی زیرنگرانی چلنے والی درسگاہ ہے، اس میں شعبۂ حفظ سے عالمیت تک کی تعلیم دی جاتی ہے، اساتذہ کی فہرست میں آپ کے شاگرد عمری نمایاں ہیں، یہاں طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور انہیں پند ونصائح سے نوازنے کے بعد کچھ دیر کے لیے آفس میں بیٹھے، مہمانوں کے لیے موسم کے مطابق ٹھنڈے مشروبات پیش کیے گئے۔

میں استاذ محترم کے ساتھ بیٹھا تھا، ہميں سوڈا ملا ہوا ليمن جوس ديا گيا ، ميں عموماً ايسے مشروبات نہيں پيتا، استاذ کے احترام ميں بوتل تو ہاتھ ميں لے ليا، ليکن میری کیفیت کچھ ایسی تھی کہ نہ اگلے بنتی نہ گلے بنتی۔ بوتل نوش کيے بغير رکھ دوں تو استاد کی نظروں کی تاب نہيں اور پینا چاہوں تو حلق برداشت نہيں کرے گا۔ کچھ دير تو اسی بیچ وتاب ميں رہا، پھر موقع پاتے ہی ہمارے بھتیجے حافظ ابراہیم سیکرٹری مدرسہ کے ہاتھ ميں تھما ديا کہ آپ پی لیں، استاذ گرامی يہ ديکھ رہے تھے۔قبل اس کے کہ وہ کچھ کہيں ميں نے ہی وضاحت کر دی کہ ميں فزی ڈرنک نہيں پیتا ورنہ خدشہ تھا کہ مشفقانہ ڈانٹ پلاتے يا مجھےپینے کا حکم ديتے، اس سے اندازہ کيا جا سکتا ہے کہ ہمارے درميان بے تکلفی کے باوجود استاذ اور شاگرد کا احترام اور آداب کا کسی حد تک خيال رکھا جاتا۔

مدرسہ سميہ کے پروگرام سے فارغ ہو کر ايک دوسرے پروگرام کے ليے جاتے ہوئے ميں نے گاڑی حيدر آباد کے مشہور شيروانی ٹيلر کے دوکان کے سامنے رکوا دی، جب گاڑی رک گئی تو با ادب مولانا سے کہا کہ آپ کچھ دير کے ليے اتر جائيے، مولانا اس کے پس منظر سے تو اس وقت واقف نہيں تھے، دريافت کيا کہ يہاں کيا کرنا ہے یعنی تقرير يا دوکان کا افتتاح يا کيا؟

ميں نے کہا کہ کچھ نہيں صرف ٹيلر سے ملاقات کرنی ہے۔ يہ دین پسند درزی ہے اور مختلف نامی گرامی علماء سے ان کے روابط ہيں۔ اکثر علماء يہاں تشريف لاتے ہيں، مولانا ميرے اصرار پر اتر گئے جب پروگرام کے مطابق درزی نے ناپ لينا شروع کيا تو ميری طرف گھومتے ہوئے استفسار کيا، ميں نے جواب ديا کہ يہ حيدرآبادی تحفہ ہے، مولانا نے فرمايا کہ

ميرے پاس شيروانی ہے اس کی ضرورت نہيں ليکن جب تک درزی اپنا کام کر چکا تھا ناپ ليتے ہوئے اس نے کچھ مشہور علماء کے نام گنوا ديئے کہ ميں نے ان کے ليے بھی شيروانياں سی ہيں، ميری فہرست ميں ايک خوشگوار اضافہ ہو گا، مولانا اس کی حاضر جوابی سے محظوظ ہوئے اور يوں ميری خواہش پوری ہو گئی ورنہ خطرہ تھا کہ شيروانی کی خواہش ادھوری رہ جاتی۔

حيدر آباد ہی ميں ايک اور مشہور دينی درسگاہ جامعہ دار الفرقان ہے، اس کے بانی جناب قطب الدين ﷫ مولانا کے بہت عقيدتمند تھے، اپنے ادارہ کی ترقی کے ليے مولانا سے اکثر مشورہ کيا کرتے، يہاں طالبات کی معقول تعداد ہے، درس نظامی کے ساتھ ساتھ عثمانيہ يونيورسٹی سے بھی مختلف امتحانات دلوائے جاتے ہيں۔

اس جامعہ ميں دينی اور عصری تعليم کا مناسب امتزاج ہے، جامعہ کے ايک سالانہ اجلاس ميں مجھے مدعو کيا گيا تھا، ان ہی دنوں استاذ محترم بھی تشريف لے آئے ہوئے تھے، جلسہ گاہ جب ہم پہنچے تو ميں نے ذمہ داران سے کہہ ديا کہ آب آمد تيمم برخاست، خطاب مولانا کا ہو گا اور تقسيم انعامات بھی ان کے ہی دست مبارک سے ہو گی، ليکن منتظمين اس کو کہاں مانتے، مولانا کے ساتھ مجھے خطاب اور تقسيم انعامات ميں شامل رکھا گيا۔ البتہ اسٹیج سيکریٹری نے تعارف ميں اتنا اضافہ کيا کہ

يہ استاذ اور شاگرد ہيں يہی نہيں بلکہ محترم عمران اعظمی ﷫جن کی دختر بھی اس سال سند فراغت لے رہی تھيں ، کہا گيا کہ اعظمی صاحب بھی مولانا کے ہی شاگرد ہيں، اس وقت اعظمی صاحب کا طوطی بول رہا تھا، خصوصاً ترجمہ کے شعبہ ميں ان کا سکہ چلتا تھا، امتيازی نمبرز سے کاميابی پانے والی لڑکيوں کوحسب دستور انعامات سے نوازا گيا ليکن لڑکيوں کو اسٹيج کے بجائے پردہ کے پيچھے سے انعامات پکڑا ديئے جاتے، مولانا انعام ديتے ہوئے دريافت کرتے کہ مضبوطی سے تھام ليا يا نہیں۔

ادھر سے جواب ملنے تک انعامات کا پيکٹ نہيں چھوڑتے، اس پس چادر ہونے والی گفتگو سے لوگ بھی محظوظ ہوتے رہے۔

قرآن مجيد کی تلاوت کا آپ کا اپنا ايک اسلوب تھا، جذب ووکيف ميں ڈوب کر گويا تلاوت کرتے، سورۃ لقمان کی تلاوت کے موقع پر کيفيت کچھ زياہ ہی جذباتی ہو جاتی، جب بھی وقت ملتا تلاوت ميں مصروف ہو جاتے۔ بھائی مولانا محمد عبد اللہ مدنی کی دو صاحبزاديوں کی شادی کے موقع پر دوست احباب اور علماء مدراس کی مسجد اہل حديث چار مينار ميں جمع تھے ايسے موقعوں پر عموماً گپ شپ زيادہ ہوتی ہے، ميں نے ديکھا کہ استاذ محترم ضروری ملاقات کے بعد مسجد کے ايک زاويہ ميں بيٹھے تلاوت ميں مصروف ہيں، وقت مقررہ تک آپ تلاوت کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ حسنات قبول کرے، اجر عظيم سے نوازے۔ آمين

٭٭٭

تبصرہ کریں