اجتماعیت سے جڑے رہنے کی اہمیت۔ خطیب :فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم

حمد وثنا کے بعد،اللہ کے بندو! مجھے اور آپ سب کو دل  اور زبان سے  خوشی اور ناراضی میں، مشکل اور آسانی میں ہر موقع پر خوفِ خدا اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ خوفِ خدا بندۂ مؤمن کا بہترین  زادِ راہ ہے۔ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا ساتھ نصیب ہوتا ہے اور اسی سے ہر خوف اور ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

’’سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا۔ ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے‘‘ (سورۃ یونس: 62۔63)

اے مسلمانو! بنی نوع انسان کے تمام دانشمند لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اجتماعیت ہی میں خیر وہدایت ہے اور تفرقے  میں برائی اور گمراہی ہے۔ دو لوگوں کا  اجتماع ایک آدمی کی تنہائی سے بہتر ہے، تین کا دو سے اور چار کا اتحاد تین سے بہتر ہے…

اجتماعیت اپنانے والی قومیں کبھی ذلیل نہیں ہوتیں، جبکہ تفرقہ باز قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، نیزوں کے اکٹھ سے ایک نیزہ کبھی نہیں ٹوٹتا اور دوسرے نیزوں  کے اکٹھ سے الگ ہو جانے والا نیزہ کبھی سلامت نہیں رہتا۔ ایک یا دو کے ساتھ تو  شیطان  ہو سکتا ہے مگر تین یا ان سے زیادہ تعداد کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ فرمانِ نبویﷺ ہے:  ’’اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں، مگر تین سوار تو ایک قافلہ ہیں۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 2607)

اسی طرح فرمایا:

’’ جو جنت کے درمیانی حصہ میں جانا چاہتا ہو، وہ جماعت سے جڑا رہے، کیونکہ اکیلے شخص کے ساتھ شیطان ہو سکتا ہے البتہ دو کے ساتھ شیطان کا ہونا مشکل ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 2165)

اللہ کے بندو! دین اسلام نے  نظم اجتماعی کو بہت ملحوظ رکھا ہے، اس کی حفاظت کرنے والی ہر چیزوں کی ترغیب دلائی ہے اور اسکے بگاڑ کا راستہ روکا ہے اور  متعدد مقامات پر افراد  کے مقابلے میں جماعت اور امت کے حق کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اگر ہر شخص جماعت اور امت کے مفاد کے سامنے اپنے مفاد کو ترجیح دینے لگے تو امت کی اجتماعیت، اور اس کا استحکام ختم ہو جائے گا،  تفرقہ بازی، کنجوسی اور خود پسندی پھیل جائے گی اور ہر کوئی یہ دعویٰ کرنے لگے گا کہ وہ دوسرے کی نسبت زیادہ بر حق ہے۔

چنانچہ دینِ اسلام نے ان تمام چیزوں کے متعلق واضح ہدایات دی ہیں کہ جن سے مسلمانوں میں فرقہ واریت اور اختلاف پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ اسی طرح جائز اختلاف رائے کو اختلافات اور انتشار میں بدلنے کی تمام راہیں روکی ہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب تم ایک  حاکم کی حکمرانی پر متفق ہو اور کوئی آ کر تمہارے درمیان انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اسے قتل کر دو۔‘‘ (صحیح مسلم)

دیکھو! اللہ کے بندو! کس طرح اس حدیث میں انفرادی اور چھوٹے مفاد پر بڑے اور جماعتِ مسلمین  کے مفاد کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر  نظم اجتماعی کے مفاد کے لیے کسی شخص کو مار ڈالنا لازمی ہو جائے تو بھی اس کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی اور اس کی حفاظت کا خیال کیا جائے گا۔

اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ علمائے اسلام نے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھ لینے والے کو یہی حکم دیا ہے کہ اگر اس گی گواہی قبول نہ کی جائے تو وہ  باقی مسلمانوں کے ساتھ ہی روزے رکھے اور انہی کے ساتھ عید کرے۔  فرمانِ نبویﷺ ہے:

’’روزہ اسی دن شروع ہوتا ہے جس دن سارے مسلمان روزہ رکھیں اور عید الفطر بھی اسی دن ہوتی ہے جس دن سارے مسلمان عید کریں اور عید قربان بھی اسی دن ہوتی ہے کہ جس دن سارے مسلمان عید کریں۔‘‘ (جامع ترمذی )

علما فرماتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ روزہ اور عید لوگوں کی زیادہ تعداد ہی کے ساتھ ہوتی ہے۔

اللہ کے بندو!

جب بھی کوئی شخص جماعت سے الگ ہوتا ہے تو غرور اس کا قائد اور خود پسندی اس کی رہبر بن جاتی ہے۔ پھر وہ ہر شکاری کا شکار اور ہر لالچی کے لیے ترنوالہ بن جاتا ہے۔ تاہم جب کوئی نظم اجتماعی سے مل جاتا ہے تو وہ  مسلمانوں کے جسد کا ایک حصہ بن جاتا ہے، ایسے میں جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم اس کی فکر میں بخار اور بے چینی  محسوس کرتا ہے۔

اللہ کے بندو! اگرچہ قرآن وسنت میں نظمِ اجتماعی کے ساتھ جڑے رہنے کی تلقین کی گئی ہے، عقل بھی اسی  کی قائل ہے اور ایسا نہ کرنے کا خطرہ بھی واضح کیا گیا ہے، تاہم کچھ لوگوں کو  دوسروں کی مخالفت اور نظم اجتماعی سے علیحدگی میں عجیب مزا آتا ہے۔ انہیں اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ نظم اجتماعی سے الگ ہو کر نمایاں نہیں ہو جاتے، چنانچہ وہ کسی بات پر بھی  نظم اجتماعی سے اتفاق نہیں کرتے۔ ایسے لوگ جماعت سے الٹ چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جیسے بھی ہو، ہر جگہ ان کا چرچا لازمی ہونا چاہیے۔ چنانچہ جب لوگ دائیں طرف چلتے ہیں تو وہ بائیں طرف ہو جاتے ہیں۔ جب لوگ ’’ہاں‘‘ کہہ رہے ہوں تو اس وقت انہیں ’’نہ‘‘ کہنا محبوب ہو جاتا ہے اور جب لوگ ’’نہ‘‘ کہیں تو وہ  بالضرور ’’ہاں‘‘کہتے ہیں۔

ایسے لوگ حق پرست یا عدل وانصاف کے طالب نہیں ہوتے، بلکہ ان کا مقصد لوگوں میں اختلاف پیدا کرنا اور ان کی اجتماعیت كو ختم کرنا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کا موضوعِ گفتگو بننا چاہتے ہیں، چنانچہ وہ اعتراضات  کر کے اور دوسروں کے خلاف جا کر اپنی اہمیت جتاتے ہیں، چاہے ایسا کرنے کی خاطر انہیں خود پسندی اور دوسروں کی بے جا مخالفت جیسا مکروہ، یا حرام کام ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

خدا کی قسم! یہ راستہ بے عقل، ہٹ دھرم اور متکبروں کا راستہ ہے، جنہیں لوگوں کو پریشان اور منتشر کرنے میں مزا آتا ہے۔ جو امت کے بڑے دھاروں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اپنی رائے کی درستی کے لیے تصوراتی اور غیر حقیقی راہیں تراشتے ہیں۔ دانشمندوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب جماعت درستی پر ہو تو اس کا ساتھ دیا جائے اور جب وہ غلطی پر ہو تو بھی اسی کے ساتھ رہا جائے، مگر نصیحت، صبر اور درگزر سے کام لیا جائے۔ اس طرح وہ اجتماعی راستے سے نہیں ہٹتے اور نظم اجتماعی سے الگ بھی نہیں ہوتے، کیونکہ نظم اجتماعی کے غلطی پر ہونے سے سارے  نظم اجتماعی ہی کو چھوڑ دینا جائز نہیں بن جاتا، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ نظم اجتماعی کے فیصلوں کے ساتھ چلا جائے اور ان کی مخالفت سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے۔ اسی سے الفت بھی دائم رہتی ہے اور محبت بھی بڑھتی ہے۔ اسی سے اجتماعیت بھی نصیب ہوتی ہے اور انتشار ختم ہوتا ہے۔ اسی سے اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والوں کی راہ بند ہوتی ہے۔

اگر اجتماعیت ختم ہو جائے تو پھر دشمنی، بغض، خود پسندی اور حق سے دوری عام ہو جاتی ہے اور ایسی حالت میں اس سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔ غور کیجیے کہ جماعت سے علیحدہ ہونے والوں میں کتنے خود پسندی اور غرور کا شکار ہو گئے، ان کے گمان درست نہ نکلے پھر وہ اپنے ارادے کے بر عکس چل پڑے۔ تنہا لوگ ہی ہلاکت کے گرداب میں گھرتے ہیں اور بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ کو نہیں بلکہ ریوڑ سے الگ ہونے والی بکریوں  کو کھاتا ہے۔

نظم اجتماعی کے ساتھ وابستگی کے دعووں کی حقیقت اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب جماعت کسی مشکل میں گھر جاتی ہے یا اس کے سامنے مشکلات نظر آنے لگتی ہیں۔ اسی وقت سچا اور جھوٹا الگ الگ ہوتا ہے اور اسی وقت حقیقی آنسو  مگرمچھ کے آنسو سے  ممتاز ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ نظم اجتماعی کے ساتھ ہیں، مگر جب نظمِ اجتماعی  پر کڑا وقت آتا ہے تو ان کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ان کی خود پسندی آشکار ہو کر   دوسروں کو ڈرانے اور رسوا کرنے  لگتی ہے۔ پھر وہ جماعت سے یوں نکل جاتے ہیں جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔

ایسے لوگ اجتماعیت کے نظام کا سب سے بڑا خطرہ ہیں، کیونکہ ان کا جسم تو اجتماعیت کے ساتھ ہوتا ہے مگر دل کسی اور کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ تعداد میں تو اضافہ کرتے ہیں مگر درحقیقت اجتماعیت میں کمی کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں سے چوکنے اور خبردار رہیے۔ اجتماعیت کو یہی لوگ نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کی وجہ ہی سے انتشار پیدا ہوتا ہے۔  جسم کے اندر سے حملہ آور ہونے والی بیماری باہر سے آنے والی بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی مثال چرا گاہ میں چھپے بھیڑیوں کی  سی ہے  کہ جن کی کمین گاہ کو بصیرت اور دانشمندی والے ہی جان سکتے ہیں ، چرنے والی معصوم بکریاں ان سے بے خبر رہتی ہیں۔

عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

جب میں نے چرواہوں کو غفلت میں پایا اور چراگاہ سے بھیڑیے کی چاپ سنی تو میں نے بلند آواز میں خبردار کر دیا کہ غافل مت ہونا! میں نے چراہ گاہ میں بھیڑیے کی کمین گاہ دیکھی ہے۔

اللہ کے بندو! اجتماعیت کے ساتھ ملنے میں سلامتی اور معاملات کی درستی ہے، تاہم کبھی  کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ تمام تر اجتماعیت شکست وریخت کا شکار ہو کر منتشر ہو جائے، اور اگرچہ ایسا بہت کم ہوتا ہے، لیکن اگر ہو بھی جائے تو ان حالات کو بھی ہمارے دین نے بیان کیا ہے اور ان حالات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔

صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث  میں روایت ہے ، ادریس خولانی  سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہﷺ سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ برائی سے خائف رہنے کے باعث برائی کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت کی برائی میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی یہ خیر نصیب فرمائی۔ کیا اس خیر کے بعد پھر کوئی برائی بھی آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! میں نے پوچھا: کیا اس برائی کے بعد پھر خیر آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ ہاں! اور اس میں کچھ  گردوغبار بھی ہو گی‘‘ میں نے پوچھا: یہ گردوغبار کیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’ایسے لوگ آئیں گے جن کی کچھ چیزیں تو درست ہوں گی جنہیں تم بھی درست سمجھتے ہو گے اور ان کی کچھ چیزیں تمہیں غلط لگیں گی‘‘ میں نے دریافت کیا: کیا اس بھلائی کے بعد پھر کبھی برائی آئے گی؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ ہاں! ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو جہنم  کی طرف بلائیں گے، جو ان کی بات مانے گا، وہ اسے جہنم  رسید کر دیں گے۔‘‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان کی نشانی بتا دیجیئے! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ہم ہی میں سے ہوں گے اور ہماری ہی زبانیں بولتے ہوں گے۔‘‘ میں نے کہا: اگر میں نے وہ زمانہ پا لیا تو آپ مجھے کیا  ہدایت دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی جماعت اور ان کے حکمران سے جڑے رہنا‘‘ میں نے کہا: تو اگر ان کی کوئی جماعت یا کوئی حکمران ہی نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو ساری جماعتوں سے الگ ہو جانا،  خواہ اس کے لیے موت تک کسی درخت کی جڑ چبا کے گزارہ کرنا پڑے!‘‘

اس حدیث میں آنے والا حکم ہر  موقع پر اور ہر مقام کے لیے ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے لے کر، کہ جب فتنہ شروع ہوا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ  اور حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  کے خلاف بغاوت ہوئی تھی، تب سے لے کر زمانے کے اختتام تک۔ سب زمانوں کے لیے یہی نصیحت ہے۔

تفرقہ بازی کے زمانے میں لوگوں سے الگ ہونے کے حوالے سے حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ علامہ طبری  رحمہ اللہ  کے حوالے سے فرماتے ہیں:

 ’’جب لوگوں کا کوئی حکمران نہیں ہوتا اس وقت لوگ فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ اس وقت کسی جماعت میں شامل ہونا درست نہیں، بلکہ ہو سکے  تو سارے فرقوں سے الگ ہو جانا چاہیے تاکہ برائی سے بچا جا سکے۔ جب کوئی  جماعت حق پر نظر آئے اور وہ اس پر قائم ہو تو اس میں شامل ہونا لازمی ہے، تاکہ اس کی قوت زیادہ ہو سکے اور اس کے ساتھ مل کر حق کو طاقتور بنایا جا سکے۔ اس حالت میں اس جگہ اور اس وقت وہی مسلمانوں کی جماعت ہے۔‘‘

اللہ کے بندو! جس طرح اسلام نے  نظم اجتماعی کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم دیا ہے، اجتماعیت سے الگ ہونے سے روکا ہے، اسی طرح دین اسلام نے  نظم اجتماعی کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی تلقین کی ہے، اور ہر حال میں شریعت اپنانے، ہر چھوٹے اور بڑے فرد کی ذمہ داری ادا کرنے، اپنے فرائض ادا کرنے اور اپنا حق مانگنے  کا حکم دیا ہے۔ اگر اہل اسلام کا ایک گروہ اس مجموعی ذمہ داری کو ادا کرتا رہے ، مسلمانوں کی فکر کرے اور ان کا مفاد  ملحوظ رکھے اور دشمنوں سے مقابلہ کرے تو  سب لوگوں کی طرف سے فریضہ ادا ہو جائے گا بصورت دیگر  گناہ گار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ جب ایک گروہ ساری جماعت کا فرض ادا کر دیتا ہے تو اس کا فائدہ سب کو ہوتا ہے اور جب سب لوگ اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں تو گناہ بھی سبھی کو ہوتا ہے۔

سنو! اللہ کے بندو! یقیناً تم نے جان لیا۔ تم مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی سے جڑ جاؤ۔ اکٹھے ہو جاؤ۔ تفرقے میں نہ پڑو۔ مل جاؤ اور ناراضگیاں ختم کر دو۔ اللہ کے بندو! سب بھائی بھائی بن جاؤ۔ اس کے خلاف جانے سے چوکنے اور ہوشیار رہو، کیونکہ  نظمِ اجتماعی سے الگ ہونے میں نقصان اور گھاٹا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ ہے۔ فرمایا:

’’جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، حالانکہ اس پر راہِ راست واضح ہو چکی ہو، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلا دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے۔‘‘  (سورۃ نساء: 115)

اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے، اس کی آیات اور ذکر وحکمت سے فائدہ پہنچائے۔ میں نے جو کہا وہ آپ نے سن لیا۔ اگر درست کہا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔ اگر غلط کہا تو اپنے نفس اور شیطان کی وجہ سے۔ میں اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ تم بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ یقینًا میرا رب معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

حمد وثنا کے بعد: اے مسلمانو! نظمِ اجتماعی کے ساتھ جڑنے اور اس سے الگ نہ ہونے کی نصیحت کرتے ہوئے اہل علم، دانشمندوں، پڑھنے لکھنے والوں، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان میں اپنا حصہ ڈالنے والوں سے یہ بات کہنا بھی لازمی ہے کہ وہ بھی اپنے علمی اور صحافتی معاملات میں نظمِ اجتماعی کے مفاد سے الگ نہ ہوں۔ ایسے فتوے نہ دیں کہ جو ثقہ علما اور محققین کے فتووں کے خلاف ہوں۔ ضعیف اقوال سے دور رہیں ، کسی عالم کے انفرادی فتویٰ کی اتباع نہ کریں اور نہ ان چیزوں پر  چلیں کہ جن پر عمل  امت کے ہاں متروک ہو چکا ۔

جو منفرد  مسائل کے پیچھے لگا رہتا ہے اور انہیں اکٹھا کرتا  رہتا ہے وہ کبھی صاحب توفیق نہیں ہو سکتا بلکہ وہ بہت سا شر اکٹھا کر لیتا ہے جیسا کہ سلف صالحین نے فرمایا ہے۔علامہ محمد بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ان چیزوں میں اپنے ساتھیوں اور ہم عصروں کی مخالفت نہ کرو جن سے دنیا وآخرت کا کوئی معاملہ جڑا ہوا نہیں ہے۔ چاہے وہ چھوٹی سی چیز ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ایسا کرنے سے سوائے دوسروں کی اذیت، ناپسندیدگی اور دشمنی  کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے انسان اپنا  ہی کوئی بڑا نقصان کربیٹھے اور مقابل میں کچھ حاصل بھی نہ کر سکے۔‘‘

علامہ خطابی رحمہ اللہ نے کچھ علما ءکے اقوال نقل کیے ہیں، مثلاً فرمایا:

’’کچھ لوگوں کو دوسروں کے خلاف جانے میں عجیب لطف آنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ سب لوگوں کی مخالفت کرنا، ان کے ساتھ کسی مسئلے پر اکٹھے نہ ہونا اور ان سے محبت نہ کرنا ہی بہترین راہِ عمل ہے۔ جس کی یہ عادت ہو، وہ نہ تو حق دیکھ پاتا ہے اور نہ  حق کی نصرت کر پاتا ہے، نہ اسے دین یا مذہب ہی سمجھتا ہے۔ بلکہ وہ اپنی رائے پر اکڑ جاتا ہے اور اپنے نفس کے لیے دوسروں سے انتقام لینے لگتا ہے۔‘‘

ایک مرتبہ امام مالک رحمہ اللہ کے استاد علامہ ربیعہ بن ابی عبد الرحمٰن رونے لگے تو ایک شخص نے ان سے پوچھا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ’’بے علم لوگوں سے فتویٰ پوچھا جانے لگا ہے اور دین میں بڑا خلل پیدا ہو گیا ہے۔‘‘ پھر کہا: ’’آج فتویٰ دینے والوں میں ایسے بھی ہیں جو چور سے بڑھ کر جیل جانے کے مستحق ہیں۔‘‘

یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل علم کہتے ہیں: اگر ربیعہ رحمہ اللہ ہمارا زمانہ دیکھ لیتے تو کیا بنتا کہ آج ہمارے دور میں تو بے علم لوگ فتویٰ دینے پر جَری ہو گئے ہیں ، بلکہ انہیں فتویٰ دینے کا بڑا شوق  چرایا ہے، وہ بڑے تکلف کے ساتھ مسائل کا فتویٰ دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ جہالت اور جرات کے ساتھ ناتجربہ کار، بدنام اور بد نیت ہیں۔ وہ اہل علم کے نزدیک یا تو منکر یا  پھر غریب سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نہ کتاب وسنت کا علم ہے اور نہ سلف صالحین کے اقوال ہی کا کچھ علم۔‘‘

اگر علامہ ربیعہ رحمہ اللہ نے دوسری صدی میں اور ابن قیم رحمہ اللہ نے آٹھویں صدی میں یہ بات کی تھی تو آج ہمارے حال کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟!

آج تو یہ خلا  مزید بڑھ گیا ہے اور ہمارے اور ان  کے عہد میں  فرق بہت زیادہ ہے۔ اللہ ہی ہمارا مدد گار ہے! ہم اسی کے سامنے شکایت کرتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!

اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ ضعیف اور بے بس مسلمانوں کی مدد فرما! اے ذا الجلال والاکرام! فلسطین میں تو ان کا ہو جا! فلسطین میں تو ان کا ہو جا! فلسطین میں تو ان کا ہو جا! اے اللہ! تو ان کی مدد فرما! ان کے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما! انہیں دوسروں پر ترجیح نصیب فرما اور دوسروں کو ان پر ترجیح نہ دے! اے اللہ! اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرما۔ آمین

’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (سورۃ صافات: 180-182)

٭٭٭

تبصرہ کریں