اطاعتِ رسولﷺ۔عبد الرشید عراقی

اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے:

﴿بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرۗ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾

’’دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیں۔ شاید کہ وہ غور وفکر کریں۔‘‘ (سورة النحل: 44)

مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ

’’اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کی ذمہ داری صرف یہی نہیں تھی کہ جو کلام حضرت محمدﷺ کی طرف نازل ہوا اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیا کریں یا لکھوا دیا کریں یا آپ اسے خود یاد کر لیں اور دوسروں کو بھی یاد کروا دیا کریں۔ بلکہ اس کے علاوہ تین مزید اہم ذمہ داریاں بھی تھیں جن میں یہاں ایک کا ذکر کیا جا رہا ہے جو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے اس کا مطلب اور تشریح وتوضیح بھی لوگوں کو بتایا کریں، اگر کسی کو بات کی سمجھ نہ آئے تو سمجھا دیا کریں۔ اگر وہ کوئی سوال کریں تو اس کا جواب دیا کریں۔‘‘ (تیسیر القرآن: 2؍521۔522)

مولانا عبدالسلام بھٹوی﷾ فرماتے ہیں کہ

’’وحی الٰہی کو رسول اللہﷺ پر نازل کرنے کی دو حکمتیں بیان فرمائیں، ایک تو یہ کہ لوگوں کو اس کا مطلب سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آنے پر آپ ان کے لیے اس کی وضاحت فرما دیں۔ بلکہ خود اس پر عمل کر کے انہیں اس کی عملی تصویر دکھا دیں، کیونکہ آپ کی وضاحت اور نمونے کے بغیر وحی الٰہی میں بیان کردہ چیزوں کو سمجھنا ممکن ہی نہیں، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر احکام۔ قرآن مجید کے علاوہ رسول اللہﷺ کا ہر قول، فعل اور حال وحی الٰہی اور اس کی وضاحت ہی ہے۔ فرمایا:

﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (سورة الاحزاب: 21) ’’بلاشبہ یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے (اچھا نمونہ ہے)۔‘‘ (تفسیر القرآن الکریم: 2؍383)

یہی وجہ ہے کہ دور رسالت میں بھی اور اس کے بعد بھی نبی ﷺ کے قول وفعل کو اسی طرح واجب الاطاعت سمجھا گیا جس طرح کتاب اللہ کو اور دونوں کو وحی الٰہی تسلیم کیا گیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:

﴿ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ٣‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ (سورة النجم: 3-4)

’’اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں وہ تو صرف وحی ہوتی ہے، جو اتاری جاتی ہے۔‘‘

اس لیے آپﷺ کے تمام احکام واجب التعمیل ہیں، اس فہم نبوت اور وحی سے مستنبط احکام کو قرآن مجید نے حکمت سے تعبیر کیا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا﴾ (سورة النساء: 113)

’’اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب وحکمت اتاری ہے اور تجھے وہ سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا رسولﷺ پر یہ احسان بھی ہے کہ اس نے آپﷺ کو قرآن کریم اور سنت جیسی نعمت عطا کی اور دین وشریعت کے وہ امور سکھائے جنہیں آپﷺ پہلے سے نہیں جانتے تھے۔

قرآن مجید میں أطیعوا اللہ اور أطیعوا الرسول کا حکم

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول اللہﷺ کی اطاعت کی بھی تاکید کی گئی ہے اور بہت سی آیات میں أطیعوا اللہ کے ساتھ أطیعوا الرسول کا بھی حکم ہے:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾ ’’ کہہ دیجیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر یہ روگردانی کریں (تو یاد رہے کہ) اللہ انکار حق کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 32)

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾’’اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (سورة آل عمران: 132)

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ (سورة النساء: 59) ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو! اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کا بھی کہا مانو جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں، پھر اگر کسی بات میں اختلاف کرنے لگو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔‘‘

﴿ وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا﴾ (سورة النساء: 64) ’’اور ہم صرف اسی واسطے رسول بھیجتے ہیں کہ ہمارے کلمہ کے مطابق ان کی اطاعت کی جائے اور اگر اس وقت جب ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر لیا تھا، آپ کے پاس آجاتے اور اللہ سے گناہوں کی معافی چاہتے اور رسول (یعنی آپ) ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحمت کرنے والا پاتے۔‘‘

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورة النساء: 65) ’’پھر قسم ہے، تمہارے رب کی یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے، جب تک اپنے تمام جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ بنائیں، پھر آپ کے فیصلہ سے اپنے دلوں میں گرانی نہ محسوس کریں اور پوری طرح مان لیں۔‘‘

﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا﴾ (سورة النساء: 80) ’’جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی تو اے پیغمبرﷺ، ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘

﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ (سورة المائدہ: 92) ’’اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور محتاط رہو اس پر بھی کہ اگر تم نے روگردانی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف پیغام کو واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔‘‘

﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ (سورة الانفال: 1) ’’(اے پیغمبر) لوگ آپ سے مال غنیمت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجیے کہ مال غنیمت تو اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا، پس تم ڈرو اللہ سے اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح صفائی سے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔‘‘

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ﴾ (سورة الانفال: 20) ’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی اور جب تم قرآن سن رہے ہو اس کی نافرمانی نہ کرو۔‘‘

10۔ ﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (سورة الانفال: 46) ’’اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں تنازع نہ کرو ورنہ تمہارے پاؤں پھسل جائیں گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

11۔ ﴿ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ﴾ (سورة النور: 52) ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور اللہ سے ڈرے گا اور خوف کھائے گا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔‘‘

12۔ ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (سورة النور: 56) ’’(اور اے مسلمانو!) نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

13۔ ﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ (سورة النور: 54) ’’(کہہ دیجیے!) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر منہ پھیر لو گے تو ان کے ذمے تو (تبلیغ) کا بوجھ ہے اور تم اپنے بوجھ کے ذمہ دار ہو اگر تم ان کی اطاعت کرو تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ تو صرف واضح طور پر پیغام حق پہنچا دینا ہے۔‘‘

14۔ ﴿ يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (سورة الاحزاب: 71) ’’سنوارے گا تمہارے اعمال کو اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے تو وہ عظیم الشان کامیابی حاصل کرتا ہے۔‘‘

15۔  ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ (سورة محمد: 33) ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔‘‘

16۔ ﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ (سورة الحجرات: 14) ’’گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، ان سے کہو کہ نہیں تم ایمان نہیں لائے لیکن تم کہو کہ ہم نے سر دست اطاعت اختیار کر لی ہے اور ایمان تمہارے دلوں میں ابھی داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اسکے رسول کی فرمانبرداری اختیار کرو تو تمہارے اعمال میں سے وہ کچھ کمی نہ کرے گا بیشک اللہ بخشنے والا بے حد مہربان ہے۔‘‘

17۔ ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (سورة الحشر: ۷) ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو جو دلوایا ہے ان دیہات والوں سے تو وہ اللہ اور رسول اور (آپ کے) قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تا کہ تم میں سے جو دولت مند ہیں یہ انہیں میں نہ گھومتا رہے اور جو کچھ رسول تمہیں دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس چیز سے وہ تمہیں روکیں اس سے رک جایا کرو اور ڈرتے رہو اللہ سے وہ بلاشبہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘

18۔ ﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ﴾ (سورة التغابن: 12) ’’اور تم اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر تم روگردانی کرو تو (تمہارا نقصان ہے) ہمارے رسول کے ذمے تو صرف کھول کر پہنچا دینا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسولؐ کی اطاعت کو فرض قرار دیا ہے:

ڈاکٹر محمد لقمان سلفی﷫ لکھتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں: ’’قرآن،سنت اور اجماع کے ذریعہ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کو فرض کیا ہے۔ اوامر ونواہی میں اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کے علاوہ اس امت پر کسی کی اطاعت کو فرض قرار نہیں دیا اسی لیے ابوبکر صدیق (جو نبی کریمﷺ کے بعد امت کے سب سے افضل انسان تھے) وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں جب تک اللہ کی اطاعت کروں تم لوگ میری اطاعت کرو، اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو تم لوگ میری اطاعت نہ کرو۔

تمام علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہﷺ کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے، اس لیے بہت سے ائمہ کرام نے کہا ہے کہ سوائے رسول اللہﷺ کے ہر آدمی کی کوئی بات لی جائے گی اور کوئی چھوڑ دی جائے گی اور یہی وجہ تھی کہ فقہی مذاہب کے چاروں اماموں نے لوگوں کی ہر بات میں اپنی تقلید کرنے سے منع فرمایا تھا۔‘‘ (تیسیر الرحمن لبیان القرآن: 1؍ 273)

حافظ ابن قیم ﷫کا ارشاد ہے، لکھتے ہیں:

’’اگر رسول کی اطاعت صرف احکام تک محدود رہے جو قرآن پاک میں صاف صاف موجود ہے تو پھر اطیعوا الرسول کی آیت کا کوئی مفہوم ہی نہیں رہتا جب کہ یہ آیت چاہتی ہے کہ اللہ پاک کے نزدیک رسول کی اطاعت بھی ایک مستقل امر ہے۔ بیسیوں آیات میں رسول کی اطاعت کا علیحدہ حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ براہ راست اطاعت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے۔ اس لحاظ سے جو شخص رسول اللہﷺ کی اطاعت نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا۔‘‘ (اعلام الموقعین، بحوالہ ترجمان السنہ: 1؍ 47، از مولانا بدر عالم میرٹھی﷫)

ارشاد نبویﷺ ہے: «لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيةِ الخَالِقِ» ’’خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہ کی جائے۔‘‘

رسول کی اطاعت عین اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔

فرمان الٰہی:

﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ﴾(سورة النساء: 80) ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔‘‘

مزید ارشاد نبوی ﷺ ہے:

«مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ الله، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى الله»

(صحيح مسلم) ’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ پاک کی نافرمانی کی۔‘‘

نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے:

فرمان الٰہی ہے:

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ (سورة آل عمران: 31)

’’(اے پیغمبر!) دنیا کو سنا دیجیے! اگر تمہیں اللہ سے سچی محبت ہے تو میری پیروی کرو (اس صورت میں) اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔‘‘

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ صرف اس صورت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ اس کے آخری پیغمبر پر ایمان لایا جائے اور اس کا اتباع کیا جائے۔ اتباع رسول کی وجہ سے تمہارے گناہ ہی معاف نہیں ہوں گے بلکہ تم محب سے محبوب بن جاؤ گے اور یہ کتنا اونچا مقام ہے کہ بارگاہ الٰہی میں ایک انسان کو محبوبیت کا مقام مل جائے اور آیت 32 (آل عمران) میں ارشاد فرمایا:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾

’’کہہ دیجیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر یہ روگردانی کریں تو یاد رہے کہ اللہ انکار حق کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘

’’یہ آیت کریمہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ اطاعت رسول کی بھی تاکید کرتی ہے کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور کافروں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا، چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعوے دار ہوں۔‘‘ (احسن البیان: ص 140)

مولانا محمد یوسف اصلاحی لکھتے ہیں:

رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ تصور کہ آپ ایک پیغام رساں قاصد ہیں اور بس، سراسر گمراہی ہے۔ شانِ رسالت کی توہین اور شریعت مطہرہ سے سرتابی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعارف تعلق قرب رسول کے وسیلے سے ہے، اللہ سے قرب اور محبت کا دعویٰ اسی وقت ثابت ہو گا جب رسول کی اتباع سے اس کا ثبوت فراہم کیا جائے۔ ارشاد ربانی ہے:

﴿ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ (سورة آل عمران: 31)

’’ان سے فرما دیجیے کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔‘‘

اللہ سے محبت ہی ایمان اور دین کی روح ہے اور اللہ کے نزدیک اللہ سے محبت کا دعویٰ اسی وقت قابل قبول ہے جب بندہ اس کے بھیجے ہوئے رسول کی پیروی کرتا ہوا نظر آئے اور پیروی رسول کا صلہ اور انعام اس قدر عظیم ہے کہ اس سے عظیم تر صلہ کا انسان تصور ہی نہیں کر سکتا۔ یعنی یہ کہ ایسے انسان کو اللہ اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ آل عمران کی مذکورہ آیت کے بعد دوسری آیت میں صاف صاف وا شگاف انداز میں کہا گیا ہے کہ اے رسول ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر یہ روگردانی کریں تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾ (سورة آل عمران: 32)

’’کہہ دیجیے کہ لوگو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ منہ موڑیں تو اللہ تعالیٰ ایسے کافروں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘

بات تو اس طرح بھی کہی جا سکتی تھی کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو مگر یہاں اطیعوا کا لفظ رسول کے ساتھ یہ بتانے کے لیے دہرایا گیا ہے کہ رسول کی اطاعت ایک مستقل کلمہ ہے اور اللہ کی اطاعت کی شکل بھی تو اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے، رسول کی اطاعت ہی دراصل اللہ کی اطاعت ہے، اسی لیے قرآن نے کہا: ﴿ مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ ﴾ (سورة النساء: 80) ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اسی نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔‘‘

سورہ آل عمران کی ان دونوں آیتوں سے ایک اور حقیقت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے جو انتہائی چشم کشا ہے وہ یہ کہ متبعین رسول اللہ کے محبوب ہیں اور رسول سے سرتابی کرنے والے اللہ کی نظر میں کافر ہیں اور کافروں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔

رسول کی اتباع اور پیروی کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس نظام تہذیب وتمدن کی اتباع کی جائے جو اللہ کے رسول نے قرآن کے محکم اور مجمل احکام اور اصولوں کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا تھا اور محکم آیات کی آپ نے تشریح ووضاحت فرمائی۔ مجمل کو آپ نے کھولا‘ آسمانی احکام پر آپ نے تشریحات کہیں اور زندگی کے تمام مسائل، معاشی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی شعبوں کے لیے قاعدے اور ضابطے بنائے اور عملاً انہی احکام اور قوانین پر اس وقت کے معاشرہ کو اسلامی معاشرہ بنایا۔ فضائل، اخلاق اور انسانی قدروں سے انسانی زندگی کو آراستہ کیا۔ عبادت کے ایک منظم پروگرام سے زندگی کو ایسی رعنائی بخشی جس پر فرشتے بھی رشک کریں۔ یہی شریعت مقدسہ کا وہ نظام ہے جس کی اتباع اور پابندی ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس سے بے نیازی اور سرتابی کی قطعا مسلمان کے لیے گنجائش نہیں ہے اور یہ بالکل واضح حقیقت ہے کہ اسی شریعت کی اساس قرآن بھی ہے اور سنتِ رسول بھی۔ شریعت سے سرتابی کرنے والوں کی پہچان اور شناخت قرآن نے یہ بتائی ہے کہ وہ رسول کی اطاعت سے کتراتے ہیں:

﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا ﴾ (سورة النساء: 61)

’’اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے آؤ اس کلام کی طرف جو اللہ نے نازل فرمایا اور اس کے رسول کی طرف تو آپ دیکھتے ہیں ان منافقوں کو وہ آپ سے کتراتے ہیں۔‘‘ (تاریخ تدوین سنت: 17 تا 18)

رسول اللہﷺ کی اطاعت سے سرتابی کرنا کلام اللہ اور دین حق سے سرتابی ہے، اس لیے کلام اللہ کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی شکل تو صرف یہی ہے کہ آدمی شریعت اسلامی کی اتباع کرے۔

رسالت کے نظام کا یہ مقصود نہیں کہ رسول آپ تک کتاب اللہ پہنچا دے اور بس، بلکہ رسالت کا مقصود یہ ہے کہ رسول آپ کو تعلیم دے، کتاب اللہ کے معنی اور مفہوم بھی سمجھائے اور اس کا منشا اور مراد بھی بتائے اور عملاً ایک نظام شریعت بنا کر آپ کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتائے اور خود اس کا نمونہ پیش کرے جو امت کے لیے مکمل اسوۂ حسنہ اور رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ اس کی آئینہ دار ہے۔

وَخَیْرُ الهَدْیِ هَدْیُ مُحَمَّدٍ ﷺ

جان ودل سے چاہیے کرنا قبول

لطف قال اللہ اور قال الرسول

٭٭٭

تبصرہ کریں