حب الٰہی معيار اوراسباب۔سيدحسين مدنی ، حيدرآباد

اللہ تعالیٰ سے محبت کو اہل علم نے محبت عبادت کہا، جو دراصل توحید کی اصل اور ایمان کی جان ہے، بلکہ حقیقت عبادت اور عبودیت کی روح ہے، جو محبت کے تمام درجات میں سب سے اعلیٰ درجے پر فائز ہے، جس کے ساتھ تعظیم، بندگی اورعقیدت مندی وابستہ رہتی ہے اورجس پر بندے کی سعادت مندی کا انحصار اور کاميابی کا دار ومدار ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ﴾

’’اور جو لو گ ایمان لائے اللہ سےسب سے زیادہ شدت کی محبت کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ البقره:165)

امام ابن تیمیہ﷫نے فرمایا کہ

’’انسانوں کے لیے محبت عبادت کی ضرورت کھانے پینے سے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ اگر کھانا پانی خراب ہو تو صرف جسمانی صحت متاثر ہوگی ، لیکن اگر محبت عبادت مفقود ہو جائے تو دل میں بگاڑ پیدا ہوجائے گا ، جس کا سدھار محبت عبادت کے علاوہ کسی اور سے ممکن ہی نہیں۔‘‘ (جامع الرسائل لابن تیمیۃ، الرسالۃ الثالثۃ ، قاعدۃ في المحبۃ، ذم اللہ التفرق)

اللہ تعالیٰ سے محبت کا معیار

جب محبت کا تعلق دل سے ہے اور دل کی حکمرانی سارے جسم پر چلتی ہے، تو اللہ تعالیٰ سے محبت محض شاعرانہ اَنداز سے قوالی کی شکل میں نہیں بلکہ عملاً اور حقیقی طور پر توحید واتباع سنت کی صورت میں ہونی چاہیے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ * قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾

’’کہہ دیجیے کہ اگرتم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، نتیجتاً اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا انتہائی مہربان ہے، کہہ دیجیے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اگر یہ منہ پھیر لیں تو اللہ کافروں سے محبت ہی نہیں کرتاہے۔‘‘ (سورۂ آل عمران: 31-32)

امام ابن کثیر﷫ نے فرمایا کہ یہ آیت کریمہ ہر اس دعوے دار پر جھوٹے ہونے کا حکم لگاتی ہے جس نے محبت الٰہی کا دعویٰ تو کیا لیکن محمدی راستے پر نہیں رہا، لہٰذا جب تک وہ اپنے تمام اقوال واحوال میں شریعت محمدیہ اور دین نبوی کا تابع نہ ہوجائے اس وقت تک وہ محبت الٰہی کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے رو گردانی کی صورت میں نہ صرف محبت ہی باقی نہیں رہتی بلکہ ایمان خطرے میں پڑجاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ وَمَا أُولئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ﴾ (سورۃ النور: 47)

’’اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے، اور فرماں بردار ہوئے، پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد پھر جاتا ہے ، حالانکہ یہ مومن ہی نہیں۔‘‘

محمود بن حسن الوراق نے کہا :

تَعصي الإِلهَ وَأَنتَ تُظهِرُ حُبَّهُ                هذا محالٌ في القِياسِ بَديعُ

لَو كانَ حُبُّك صادِقاً لأَطَعتَهُ              إِنَّ المُحِبَّ لِمَن يُحِبُّ مُطيعُ

’’اللہ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے تم اس کی نافرمانی کرتے ہو ؟ یہ نا ممکن( اور) پیمائش میں انوکھی بات ہے (کیونکہ) اگر تمھاري محبت سچی ہوتی تو تم اس کے فرماں بردار ہوتے(اس لیے کہ) جو جس سے محبت کرتا ہے وہ اسی کا اطاعت گزار بھی رهتا ہے۔‘‘

(الکامل في اللغۃ والأدب لابن المبرد: 2؍4)

اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صفات

کتاب وسنت کے مطالعے سے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں کی کچھ صفات وخصوصیات کا پتا چلتا ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن گئے، مثال کے طور پر، بکثرت توبہ کرنے والے، پاکیزگی اختیار کرنے والے، تقوی شعار، نیکوکار، صبر کرنے والے، توکل کرنے والے، انصاف پسند، اس کی راہ میں جاں فشانی کرنے والے، اہل ایمان پر نرم، اہل کفر پر سخت اور فرائض کے ساتھ نوافل کا اہتمام کرنے والے وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ کی محبت کیسے حاصل کی جائے ؟

امام ابن قیم ﷫ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے 10 اہم اسباب ہیں :

1۔ انتہائی غور وفکر کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔

2۔فرائض کے بعد نوافل کا اہتمام کرنا۔

3۔ہر حال میں زبان ، دل اور عمل کے ذریعے اسے یاد رکھنا۔

4۔ نفسانی خواہشات کے غلبے کے وقت رضائے الٰہی کو غالب رکھنا۔

5۔اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی وصفات علیا کا دل کی گہرائی سے مطالعہ کرنا۔

6۔اللہ تعالیٰ کے ظاہری وباطنی انعامات واحسانات کامشاہدہ کرنا۔

7۔اللہ تعالیٰ کے آگے نفس کو شکست دينا۔

8۔نزول الٰہی کے وقت تنہائی میں تلاوت اور توبہ واستغفار کرنا۔

(1)اکثر اہل علم نے ان اشعار کی نسبت محمود بن حسن الوراق کی جانب کی، جب کہ یہ اشعار ابن المبارک ﷫ کے دیوان اور امام شافعی﷫ کے دیوان میں بھی پائے گئے ہيں اور دوسروں كی جانب بھی منسوب كئے گئے ہيں، جن میں ایک شعر کا اضافہ بھی ہے:

في كُلِّ يَومٍ يَبتَديك بِنِعمَةٍ                مِنهُ وَ أَنتَ لِشُكرِ ذاكَ مُضيعُ

’’ہر دن اپنی ایک نعمت تم پر بنا مانگے وہ نچھاور کرتا ہے اور تم اس کی شکر گزاری کو فراموش کردیتے ہو۔‘‘

9۔سچے احباب کی صحبت اختیار کرنا۔

10۔دل اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حائل ہونے والے ہر سبب سے دور رہنا ۔(مدارج السالکین بین منازل إیاك نعبد وإیاك نستعین، فصل منزلة المحبة، فصل أساب المحبة)

بعض اہل علم نے کہا کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات جاننے، کائنات پر غور کرنے، اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت اور جلال وکمال کو یاد رکھنے سے اور اس کے ساتھ سچا اور خالص معاملہ رکھنے سے اس کی محبت نصیب ہوسکتی ہے۔

علاوہ ازیں حب الٰہی کے حصول کے لیے وہ سارے کام انجام دینے چاہیے جو محبوب بندوں کی صفات وخصوصیات میں بیان کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے انہيں یہ بلند رتبہ نصيب ہواہے۔

صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کافی نہیں

امام ابن قیم ﷫نے فرمایا کہ

اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور ثواب حاصل کرکے کام ياب ہونے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کافی نہیں، کیونکہ مشرکین، نصاری اور یہود وغیرہ بھی اللہ سے محبت کرتے تھے ، لہذا اسلام میں داخل ہونے اور کفر سے بچنے کے لیے ان (انبیاء ورسل وغیرہ)سے بھی محبت ضروری ہے جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ (الجواب الکافي لمن سأل عن الدواء الشافي (الداء والدواء)، فصل أنواع المحبة)

رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان کی محبت جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کی محبت مانگتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے قریب کردے۔( جامع ترمذی: 3235)

محبوب کی قسمیں

امام ابن قیم ﷫ نے فرمایا کہ

محبوب کی دو قسمیں ہیں:

1۔محبوب لنفسہ۔ 2۔محبوب لغیرہ۔

محبوب لنفسہ کا معنی یہ ہے کہ جس سے کسی اور کی وجہ سے محبت نہ ہو بلکہ بذات خوداور براه راست اسی سے محبت ہو اور محبوب لغیرہ کا مطلب یہ ہے کہ جس سے بذات خود محبت نہ ہو بلکہ کسی اور کی وجہ سے اس سے محبت کی جائے۔

محبوب لنفسہ صرف اللہ تعالیٰ ہے ، اس کے ما سوا جیسے انبیاء، اولیاء، فرشتے وغیرہ محبوب لغیرہ ہیں، لہٰذا محبوب لغیرہ سے محبت محبوب لذاتہ ( لنفسہ) سے محبت کے تابع ہونی چاہیے اور یہ تفریق واجب الاہتمام ہے۔ (الجواب الکافي لمن سأل عن الدواء الشافي (الداء والدواء)، فصل أقسام المحبوب)

غیر اللہ سے محبت

جس کیفیت اور جس درجے کی محبت اللہ تعالیٰ سے ہونی ٖچاہیے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ہو تو شرک اکبر(القول المفید علی کتاب التوحید‘ باب قول اللہ تعالی

ومن الناس) کہلائے گی، جس کا اللہ پ نے تذکرہ کیا اور فرمایا:

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللهِ﴾

’’اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اوروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنی چاہیے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:165)

معلوم ہوا کہ اللہ پ سے جیسی محبت رکھنی چاہیے اگر ویسی محبت غیر اللہ سے ہو تو یہ مشرکانہ روش ، خالق اور مخلوق کو ایک درجے میں سمجھنے کی وجہ سے کھلی گم راہی (سورۃ الشعراء: 97-98) بلکہ کفر (سورۃ الأنعام: 1) ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں