معرکہ حجاب!ہم نے نقاب میں ایک انقلاب دیکھا۔عبد الہادی العمری

ماہِ فروری 2022ء جنوبی ہند کے صوبہ کرناٹک میں واقع مہاتماگاندھی اور ڈپی کالج میں پیش آنے والے واقعہ پر مقامی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ اظہارِ خیال اور ردِ عمل کا سلسلہ زور وشور سے جاری ہے۔ انگریزی اور عربی اخبارات نے نمایاں طور پر یہ خبر شائع کی۔

مسکان خان جوB.Com سال دوم کی طالبہ ہیں، اپنے روایتی لباس برقعہ میں ملبوس کالج پہنچیں تو کچھ شرپسند عناصر نے کالج کے مرکزی دروازہ پر انہیں روکتے ہوئے برقعہ اتارنے کا مطالبہ کیا، لیکن مس خانم نے ہمت وحوصلہ سے کام لیتے ہوئے موٹرسائیکل پر سوار کسی طرح کالج کے احاطہ میں داخل ہو گئیں اور گاڑی مختص جگہ پارک کی، اتنے میں وہی اوباش لوگوں کی بھیڑ کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے قریب پہنچ گئی جو زعفرانی گیروئے رنگ کے مفلر ڈالے ہوئے تھے اور زور زور سے نعرے بلند کر رہے تھے:

’’جئے شری رام‘‘

لیکن مس خانم نے جرأت سے آگے بڑھتے ہوئے نعرہ تکبیر اللہ أکبر بلند کی، وہ اکیلی تھیں ان کے تعاقب میں ایک بھیڑ تھی، وہ عورت ہیں، ان کے خلاف مردوں کا جتھا تھا، جو کسی بھی قسم کی پُرتشدد کاروائی کر سکتے تھے، ایسے متعدد واقعات ہو چکے ہیں، لیکن شرپسندوں کے ہجوم اور نعروں کی پرواہ کیے بغیر مس خانم بھی اللہ أکبر کا نعرہ لگاتی رہیں، عام دینی محفلوں میں یا اپنے مخصوص اجتماعات میں نعرہ لگانا اور ہے، مخالفین کے ہجوم میں گھرے ہونے کے باوجود یہ نعرہ بلند کرنے میں بڑا فرق ہے۔

الفاظ ومعانی میں تفاوت نہیں لیکن

ملا کی اذاں اور ، مجاہد کی اذاں اور

کالج انتظامیہ نے بروقت ان کی مدد کی، وہ اپنے برقعہ کے ساتھ کالج کی اندرونی عمارت میں داخل ہو گئیں۔ یہاں کچھ پہلو غور طلب ہیں ، ان کے لباس پر پابندی نہ کالج انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی تھی، اور نہ ہی قانونی طور پر کس ادارہ کی جانب سے، بلکہ کالج لیکچرز نے ان کی مدد کی، نیز وہ پہلی مرتبہ اس لباس میں نہیں آئی تھیں، وہ اسی کالج کے سال دوم میں زیر تعلیم ہیں، یہ ان کے لیے معمول کا لباس ہے، اچانک ان کےبرقعہ پر اعتراض کیوں کیا گیا!

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ ان کے لباس پر اعتراض کر رہے تھے کہ اس سے طلبہ میں یکسانیت اور یونیفارم کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے، وہ خود مخصوص رنگ کے مفلر ڈالے ہوئے تھے۔ جو ہندوؤں کا مذہبی رنگ اور ایک سیاسی پارٹی کی شناخت سمجھا جاتا ہے، یہ دراصل اس تعصب اور نفرت کے بیج کے برگ وبار ہیں جو حکمران پارٹی نے انتخابات جیتنے کے لیے بوئے تھے، اس کی ڈالیاں اب مختلف اداروں اور شعبہ ہائے زندگی میں پھیل چکی ہیں، ملک بھر میں اس کے زہریلے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں، جب ضرورت پڑتی ہے، ان زہریلی شاخوں کو ہوا دی جاتی ہے۔ یورپی ممالک کو جمہوری اقدار، اظہار خیال اور انسانی آزادی پر ناز ہے، مگر حجاب کے مسئلہ میں مزعومہ اقدار اور دعوے ہچکولے کھاتے نظر آئیں گے۔ فرانس نے پہلے نقاب پر پابندی عائد کی، اس کی اقتدا میں مختلف مغربی ممالک میں یہی قدم اٹھایا گیا۔ برطانوی وزیر اعظم نے اس کے لیے کریہہ تشبیہہ دی ، نقاب پوش خواتین لیٹر بکس کی طرح دکھائی دیتی ہیں، یہ اور بات ہے کہ اس سوقیانہ ریمارکس پر انہیں پارلیمنٹ میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، بلجیئم، اٹلی اور ہالینڈ وغیرہ میں عوامی مقامات پر نقاب پر نہ صرف پابندی لگائی گئی بلکہ اس کے خلاف جرمانہ بھی مقرر کیا گیا، اگرچیکہ مخالفتوں کے طوفان میں اٹلی کے اہم رہنما، روبرٹ بیروں نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم نقاب پر پابندی کے قانون کی کیسے حمایت کر سکتے ہیں، جب ہم حضرت مریم علیہا السلام کے مجسموں پر خود حجاب دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ نصاریٰ کی مذہبی عورتوں میں ساتر لباس اور سر ڈھانکنے کا عام رواج ہے، خصوصاً نندس کو اسی لباس کے ذریعہ پہنچانا جاتا ہے۔

ایسے ہی صوبہ کرناٹک میں پیش آنے والے مذکورہ واقعہ کے خلاف بہت سے غیر مسلموں نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ

یہ دراصل سیاسی انتخابات جیتنے کے حربے ہیں، شمالی ہند میں آج کل انتخابات ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے فضا ایسی مسموم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ برسہا برس سے اکٹھے زندگی گذارنے والے بھی ایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگیں، پھر یہ تلخیاں صرف انتخابات تک محدود نہیں بلکہ پُر امن ماحول کو دیر تک مکدر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ حجاب کیا عورت کے لیے کلچر کا حصہ ہے یا اسلامی حکم! اسلام نے مردوں اور عورتوں کے لیے اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے، دونوں کے لیے کچھ آداب متعین کیے۔

جن کی تفصیلات سورہ نور آیات 30، 31 اور سورۃ الاحزاب آیت 58 وغیرہ اور صحیح احادیث میں دیکھی جا سکتی ہیں، لہٰذا یہ شریعت کا حکم ہے، جس کی پاسداری ہر کلمہ گو مسلمان پر ضروری ہے، چاہے اس کا کلچر یا جغرافیائی پس منظر کوئی بھی ہو اور اللہ عزوجل کا کوئی قانون ہمارے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ خالق کائنات کا ہر قانون ہمارے لیے فائدہ مند ہے، بظاہر برقعہ یا نقاب کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے لیکن اس کپڑے میں اتنا رعب ہے کہ

مخالفین اسلام کے دل ڈوبنے لگتے ہیں اور ان پر انجانہ خوف اور ہیبت سی طاری ہونے لگتی ہے تب یہی تو نقاب اور کبھی حجاب سے نجات میں ہی انہیں اپنی عافیت محسوس ہوتی ہے، یا اسی کپڑے کے ٹکڑے کو اسلامی اقدار کی بقاء کی نشانی اور انقلاب کا پیش خیمہ سمجھنے لگتے ہیں۔

کورونا کے زمانہ میں حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سب ہی کو اپنی سلامتی کے لیے اس کی افادیت کا قائل ہونا پڑا، گویا وائرس نے یہ سبق بھی دیا کہ حجاب شخصی سلامتی اور حفاظت کا مؤثر ذریعہ ہے، لیکن پردہ بعض لوگوں کے لیے اتنا مشکل اور آزمائشی حکم ہے کہ بہت سے اسلام کے دعویداروں کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔

اسی مسئلہ پر ڈاکٹر اسرار احمد﷫کا مشہور سلسلہ درس قرآن پاکستانی ٹی وی کو ختم کرنا پڑا، حجاب کے خلاف پاکستان میں ایک تحریک شروع کی گئی، میرا جسم میری مرضی، جو کہ دینی، اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے پاکستان میں اجنبی نعرہ تھا لیکن وہاں کی بعض تعلیم یافتہ اور فیشن کی دلدادہ خواتین کی تائید نے اس بیگانہ نعرہ کو توانائی فراہم کی، پھر بعض سرکاری ذمہ داروں نے ان کے حق میں بھرپور وکالت کی۔

مس خانم کے واقعہ کے بعد سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر حجاب کے مسئلہ میں گرما گرم بحث کا سلسلہ جاری ہے، مختلف لوگ اس اہم مسئلہ پر خامہ فرسائی کرتے ہوئے چند خاص اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، برقعہ نقاب، حجاب خصوصاً ان کے نشانہ پر ہے، ان اصطلاحات میں کچھ دانشور بھی مغالطہ کا شکار ہیں، اس لیے ان کا صحیح مفہوم ذہین میں ہونا ضروری ہے۔

حجاب:پردہ کرنے کو کہتے ہیں، یعنی خاتون کے اس فعل کا نام ججاب ہے، جب وہ کسی غیر محرم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اختیار کرتی ہے ، جیسے دیوار یا دروازہ کے پیچھے سے مخاطب ہو، سورۃ الاحزاب آیت 53 میں حکم دیا گیا کہ امہات المؤمنین سے بھی کوئی چیز مانگنی ہو تو حجاب یعنی پردہ کی آڑ سے مانگو، عرف عام میں یہی لفظ عام ہو گیا۔

برقعہ: ایسی چادر، کوٹ یا گون جو عورت کے گھریلو کپڑوں کو ڈھانک دے، اس کا اصطلاحی نام جلباب ہے، اس کے لیے نہ مخصوص رنگ کی شرط ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ہو اور نہ ہی اس کی طرز سلوائی، اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی ٹیلرنگ کس شکل کی ہو، البتہ وہ بجائے خود سادہ ہو کیونکہ مقصد گھریلو کپڑوں اور زیب وزینت کو چھپانا ہے، اس کی مروجہ شکل برقعہ ہے کہ اس کا پہنا اور سنبھالنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اس لیے خواتین اس کو ترجیح دیتی ہیں۔

نقاب: چہرہ کو ڈھانکنےکے لیے لمبا گھونگٹ یا اضافی کپڑا جو سر سے ایسے لٹکایا جائے کہ چہرہ چھپ جائے۔

عموماً اعتراض نقاب پر ہی کیا جاتا ہے، حجاب یا برقعہ ضمناً اس کی لپیٹ میں آ گیا، ورنہ نقاب پر ہی بنیادی اعتراض ہے، خصوصاً ایسی نقاب پوش خواتین اگر عوامی مقامات پر دکھائیں دیں، نقاب کے حکم پر اہل علم کی آراء مختلف ہیں:

علامہ الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اس مسئلہ پر نہایت اہم علمی کتاب لکھی ’جلباب المرأۃ المسلمۃ‘ اس میں دلائل کا بے لاگ تحزیہ کرنے کے بعد جو رائے دی، وہ اس مسئلہ میں متوازن اور عملی ہے۔

خواتین کی تربیت کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے جسم اور زیبائش کو پردہ میں چھپائے بغیر باہر نہ نکلیں، سوائے چہرہ اور ہتھیلیوں کے، اگرچیکہ وہ بھی چھپائیں تو بہت مناسب ہے، میں نے اپنی بیوی اور بیٹیوں کے لیے یہی اسلوب اختیار کیا ہے، لیکن چہرہ کو چھپانا واجب نہیں، اسے بہتر اور مناسب کہا جائے گا، کیونکہ کس چیز کو واجب کہنے کے لیے اتنی ہی صریح اور صحیح دلیل بھی چاہیے۔ ورنہ بلا دلیل کے دین میں غلو کے مترادف ہو گا کہ

ہم چہرہ کے نقاب کو واجب کہیں اور غلو ہی بعض قوموں کی تباہی کا سبب بنا۔

خصوصاً اس وقت جب کہ بے پردگی اور اباحیت کا دور دورہ ہے، بیشتر عرب ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، بلکہ اس وقت تو اکثر مغربی ممالک میں نقاب کے خلاف قانون ہے، خلاف ورزی پر پولیس کو حق حاصل ہے کہ وہ جرمانہ کر دیں اور پولیس اس پر عمل بھی کر رہی ہے۔

لہٰذا خواتین کو چاہیے کہ جہاں ممکن ہو وہاں چہرہ کو ڈھانکیں ، سوائے ضروری حالات اور مقامات کے وہاں نقاب پر اصرار نہ کریں، مگر ہر صورت میں بغیر میک اپ اور سادگی کو اپنائیں۔

٭٭٭

دین کی عمارت

دین کی عمارت دو بنیادوں پر استوار ہے:

1۔ ذکر 2۔ شکر

(حافظ ابن قیم﷫)

تبصرہ کریں