ہمارے دل سخت کیوں ہو جاتے ہیں؟ ۔ ترجمہ وترتیب: عبد العظیم جواد

جسم کی طرح دل بھی بیمار ہو جاتے ہیں ، لوہے کی طرح زنگ آلود ہوتے ہیں اور بے رونقی اور بھوک محسوس کرتے ہیں ۔ جب کہ ان کی شفا توبہ میں ، تاب ناکی وسفیدی ذکر ، ان کی زینت تقوی اور ان کا کھانا پینا معرفت الٰہی ، توکل اور انابت الی اللہ ہے۔

امراض قلب بہت زیادہ ہیں جو دلی پر اثر انداز ہونے والے عوامل کے اختلاف کے ساتھ مختلف ہوتے رہتے ہیں ۔ مؤثرات کی شدت سے اس کے امراض بھی شدت اختیار کر لیتے ہیں حتی کہ دل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور وہ بے نور ومقفل ہو کر جادۂ حق اور راہِ راست سے ہٹ جاتا ہے ۔ یہ دل کی بدترین کیفیت ہوتی ہے ۔ کیوں کہ اس کیفیت میں ایسے دل والا شخص حالت ایمان سے حالت کفر میں منتقل ہو کر جانوروں کا سا بن جاتا ہے۔ والعياذ بالله

دل کو لاحق ہونے والی پیاریوں میں سخت ترین بیماری قساوت قلبی (سخت دلی) ہے جس سے مزید بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن سے صرف وہ محفوظ و مامون رہ سکتا ہے جسے اللہ محفوظ رکھے اور وہ خود بھی بچاؤ کے اسباب اختیار کرے۔

قساوت قلبی کی سنگینی ذیل کی آیات سے ظاہر ہوتی ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً﴾ (سورة البقرة: 74)

’’پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ۔‘‘

﴿وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورة الأنعام: 43)

’’اور لیکن ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کردیا۔ ‘‘

﴿فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ ﴾

’’پس ہلاکت ہے ان پر جن کے دل (یادِ الٰہی سے اثر نہیں لیتے بلکہ ) سخت ہو گئے ہیں ۔‘‘ (سورة الزمر: 22)

﴿فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ﴾

’’پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔‘‘ (سورة الحدید: 16)

سخت دل اللہ کی رحمت سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے۔

قارئین کرام! آیئے ، اس خطرناک مرض کے مظاہر، اسباب اور علاج کا طریقہ جانے کی کوشش کر یں۔

قساوت قلبی کے مظاہر:

قساوت قلی کے بہت سے مظاہر و علامات ہیں جن کی مدد سے دل کی سختی معلوم کی جاسکتی ہے جو اپنے خطرات، اثرات اور سنگینی کے لحاظ سے مختلف ہیں، چند ایک درج ذیل ہیں:

1۔ اطاعت، اعمال خیر اور عبادات میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرنا:

نیکی و بھلائی کے کاموں میں کوتاہی کرنا قساوت قلبی کی علامت ہے۔ کبھی یہ تساہل تمام اعمال خیر میں ہوتا ہے جب کہ بعض اوقات چند جزوی اعمال میں ۔ مثلاً نماز کو بغیر خشوع وخضوع کے اس طرح ادا کرنا گویا وہ قید خانے میں ہے اور جلد از جلد رہائی کا خواہش مند ہے۔ سنن ونوافل کی ادائیگی میں سستی کرنا اور فرائض کو بوجھ محسوس کرتے ہوئے تیزی سے ادا کرنا گویا زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ کب وہ گھڑی آئے کہ میں اس مصیبت سے چھٹکارا پاؤں ۔ انہی اوصاف کے حامل منافقین کی علامت الله تعالی نے یوں بیان فرمائی ہے:

﴿وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ﴾ (سورة التوبہ: 54)

’’اور بڑی کاہلی سے نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں ۔

﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾

’’اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کا ہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ (سورۃ النساء:142)

2۔ قرآن کی آیات ومواعظ سے اثر قبول نہ کرنا

قساوت قلبی کا دوسرا مظہر قرآن کریم کے وعده و وعید کی آیات کو سن کر ان سے متاثر نہ ہونا ہے، یعنی نہ ان کو دل میں جگہ دیتا ہے اور نہ ہی عجز وانکساری کا مظاہرہ کرتا ہے گویا دل قرآن کی قراءت وسماعت سے غافل ہے اور وہ اس کو بوجھ محسوس کررہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ﴾ (سورة ق:45)

’’تو آپ ﷺ قرآن کے ذریے انھیں سمجھاتے رہیں جو میرڈراولے کے وعدوں سے ڈرتے ہیں ۔‘‘

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾

’’بلاشبہ ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان کے ایمان کو زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔‘‘ (سورۃ الانفال: 2)

3۔ حوادث زمانہ، قدرتی آفات اور اموات سے عدم تاثر:

مراحل زندگی میں پیش آنے والے عجائبات وحوادث زمانہ اور اموات سے اثر نہ لینا بھی دل کی سختی کا مظہر ہے۔ ایسا شخص قبروں کی زیارت کے باوجود عبرت نہیں پکڑتا جب کہ موت سے بڑھ کر کوئی نصیحت آموز چیزنہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ﴾

’’اور کیا ان کو دکھائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں، پھر بھی نہ تو بہ کر تے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں ۔‘‘ (سورۃ التوبہ: 126)

4۔ دنیاوی لذتوں پر فریفتگی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا:

دنیا کا حصول بھی ایسے شخص کا مطمع نظر اور اہم مشغلہ ہوتا ہے۔ اس کی محبت و عداوت کامعیاربھی دنیاوی مفادہی ہوتا ہے۔ نتیجتاً ایسا شخص حسد میں غرق، انانیت، خود پسندی، بخیلی اور مجوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔

5۔ اللہ عزوجل کی عظمت و جلالت کا مذکور شخص کے دل میں ماند پڑ جانا:

سخت دل والے انسان کی غیرت مر جاتی ہے اور ایمانی حرارت سرد پڑ جاتی ہے۔ حدوداللہ کی پامالی کو دیکھتے ہوئے بھی اس پرغم وغصے کے اثرات نہیں ہوتے۔ برائی کو دیکھنے اور سننے کے باوجود چپ سادھ لیتا ہے۔ نیکی کو نیکی اور برائی کو برائی نہیں جانتا اور نہ ہی گناہوں اور معاصی کو خاطر میں لاتا ہے۔

6۔ دل میں ہمیشہ وحشت ونا مانوسیت محسوس کرنا:

سخت دل والے انسان کا سینہ تنگ ہوتا رہتا ہے حتی کہ وہ لوگوں سے میل جول میں تنگی محسوس کرتا ہے، اطمینان و سکون اس کی زندگی سے مفقود ہو جاتا ہے اور اس کے قلق واضطراب اور بے چینی میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

7۔ ایک گناہ کا دیگر گناہوں کا پیش خیمہ ہونا:

اس حالت میں ایک گناہ دوسرے گناہوں کا ذریعہ بن جاتا ہے اور ایسا شخص گناہوں میں گھرتا چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ان سے دامن چھٹرانامشکل ہو جاتا ہے اور نافرمانی اس کی سرشت میں داخل ہو جاتی ہے۔

قساوت قلی (سنگ دلی) کے اسباب

دل کی سختی کے متعدد اسباب ہیں جوسنگینی اور خطرناکی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں ۔ ان اسباب کے اضافے سے قساوت قلبی میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے اہم اسباب درج ذیل ہیں:

1۔ دنیا پر دل کار یچھ جانا ، اس کی طرف میلان اور آخرت کو فراموش کرنا:

قساوت قلبی کے بڑے اسباب میں سے دنیا کی طرف غیرضروری میلان اور رغبت بھی ہے۔ دنیا کی محبت جب کسی دل میں ڈیرے ڈال لیتی ہے تو اس کا ایمان بہ تدریج کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی عبادت کو بارِگراں محسوس کرتا ہے اور دنیا کو ہی کیف و سرور اور لذت خیال کرتے ہوئے آخرت کو طاق نسیاں کر دیتا ہے ۔ موت کو بھول کر زندگی سے بھی لمبی لمبی اُمیدیں باندھ لیتا ہے۔ یہ وہ تمام رذائل ہیں کہ جس میں بھی جمع ہو جائیں اس کو ہلاک کیے بغیر نہیں رہتے۔

دنیا کے کئی پہلو مذموم ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کی طرف بھی میلان ہو گیا تو دوسرے پہلوؤں کی طرف خود بہ خودمیلان ہوتا چلا جاتا ہے اور بندہ رحمت الٰہی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اور الله تعالیٰ کو ایسے شخص کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کی وادیوں میں سے جس میں چاہے ہلاک ہوجائے ۔ العیاذ باللہ

ایسا شخص اپنے رب کو بھولتا چلا جاتا ہے اور دنیا کابڑے تپاک اور جوش سے استقبال کرتا ہے اور ایک غیر مستحق تعظیم کو عظمت دیتا ہے اور مستحق تعظیم کی اہانت کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی عاقبت بدترین ہوتی چلی جاتی ہے۔ سلف﷭ میں سے کسی نے کیا خوب کہا ہے:

’’ہر شخص کے چہرے پر دو آنکھیں ہوتی ہیں جن سے وہ اُمور دنیا کو دیکھتا ہے ۔ اور دو آنکھیں اس کے دل میں ہوتی ہیں جن سے وہ مور آخرت پرنظر رکھتا ہے۔ اور اللہ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے دِل کی آنکھیں کھول دیتا ہے، جن سے وہ اللہ کے وعدۂ غیب کو دیکھتا ہے۔ اور جو اس کے برعکس ارادہ رکھتا ہو اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘

پھر انہوں نے اس بات پر اس آیت سے استشہاد کیا:

﴿أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾ (سورۃ محمد:26)

’’یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں ۔‘‘

2۔ غفلت:

یہ ایک مہلک بیماری ہے، جب یہ دل و دماغ پر قبضہ جماتے ہوئے روح و بدن کو زیر اثر کر لیتی ہے تو یہ ہدایت کے دروازے بند ہونے ڈالا اور دل پر مہر ثبت ہونے کا ذریعہ بنتی ہے۔

﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴾ (سورة النحل: 108)

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں ۔‘‘

امام ابن قیم﷫ لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے، فرماتے ہیں:

’’مخلوقات کے احوال پرغور وفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر اللہ کے ذکر سے غافل ، خواہشات کے بجاری اور اپنے معاملات و مفادات میں کوتاه واقع ہوئے ہیں، یعنی جو چیزیں ان کے لیے نفع بخش اور جو مفاد حقیقی مفاد تھا اس میں کوتاہی کا شکار ہوئے ہیں ۔ وہ اپنے ان غیر مفید امور میں مشغولیت کی وجہ سے جلد یا بہ دیر نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل غفلت ہی اکثر سخت دل والے ہوتے ہیں کہ ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ یہی لوگ سخت دل کے مالک ہوتے ہیں جو آنکھیں ہونے کے باوجود اشیاء کا سطحی مشاہدہ کرتے ہیں اور ان اشیاء کی حقیقت و گہرائی تک نہیں پہنچے اور نہ ہی اپنے نفع و نقصان میں امتیاز کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے کانوں سے جھوٹ ، باطل، گانے ، غیبت ، بے ہودگفتگو اور چلی تو سنتے ہیں مگر ان کا نوں سے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے حقائق سے بہرہ مند نہیں ہوتے۔ ایسے دگرگوں حالات میں ہدایت اورفوز وفلاح کیوں کر ان کا مقدر بن سکتی ہے؟ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے:

﴿وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴾

’’اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے جن کے دل ایسے ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے دیکھتے ہیں اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں، یہی لوگ غافل ہیں ۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 179)

3۔بری صحبت:

بر اماحول اور بُرے دوستوں کی صحت بہت زیادہ اثر انداز ہونے والا سبب ہے کیونکہ انسان اپنے ماحول سے بہت جلد اثر لیتا ہے۔ اور جوش مخلوط مجالس کے رسیا، گانے سننے والوں ، ڈرامے دیکھنے والوں، کثرت سے ہنسنے والوں، لطیفوں اور چٹکلوں کے دِل دادہ لوگوں کی مجالس و محافل میں شریک ہوتا ہے، ان کا اثر لیتا ہے اور ان کی نقالی کرتا ہے ، نتیجتاً ایسے شخص کا دل سخت ہو جا تا ہے اور ماحول سے متاثر ہو کر وہ بھی منکرات کے لیے کمر بستہ ہو جاتا ہے۔

4۔ کثرت سے معاصی کا ارتکاب کرنا:

چھوٹے چھوٹے گناه دیگر کبیرہ گناہوں کا راستہ ہموار کرتے ہیں ایک گناہ دوسرے گناہ کا پیش خیمہ بنا ہے حتی کہ آدمی گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے جس سے نکلنا محال ہوتا ہے ۔ ایساشخص کبائر کا مرتکب ہوتے ہوئے بھی ان کی قباحتوں کو خاطر میں نہیں لاتا اور ان معاصی سے دامن چھٹرانا اس کے بس میں نہیں رہتا ہے بلکہ وہ ان سے بھی بڑے گناہوں کی تلاش میں سر گرداں رہتا ہے ۔ عاصی کے دل سے حدوداللہ کی تعظیم مٹ جاتی ہے ۔ اس سے ہدایت کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں ۔ ایسا شخص طلب معاصی میں اندھا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

«إِنَّ الْعَبْدَ إذَا أذْنَبَ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فإنْ تابَ مِنْهَا صُقِلَ قَلْبُهُ، فإنْ زَادَ زَادَتْ فَذلكَ قَوْلُ اللهِ: ﴿كَلا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾

’’بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ گا دیا جاتا ہے جب وہ اس گناہ سے باز آجا تا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ زیادہ گناہ کرے تو یہ سیاہی بھی زیادہ ہوتی رہتی ہے حتی کہ اس کے دل پر غلبہ پالیتی ہے، یہی وہ زنگ ہے جس کے متعلق اللہ

نے فرمایا: ’’ہرگز ایسا نہیں ہے! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘

5۔ موت، سکرات الموت، قبر اور عذاب قبر کو فراموش کرنا:

کسی بھی آدمی کا موت، موت کی سختیوں، قبراوراس کی ہولنا کیوں، عذابِ قبر، انعام و اکرام ، حشر نشر، پل صراط ، حساب و کتاب کے کھلنے اور آگ کو بھول جانا بھی دل میں سختی کا باعث ہے۔

6۔ دل میں فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والے معاملات میں مشغول ہونا:

امام ابن قیم ﷫ نے مفسدات قلب پانچ ذکر کیے ہیں:

٭ (دنیا دار ) لوگوں کے ساتھ کثرت سے میل جول رکھنا

٭ آرزوؤں اور تمناؤں کے سمندر میں غوطہ زن ہونا۔

٭ غیراللہ سے وابستگی۔ ٭ کثرت سے کھانا۔

٭ کثرت سے سونا۔ قساوت قلی کا علاج

رقت قلبی بڑی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ جس کا دل بھی اللہ کے لیے نرم پڑ گیا وہ نیکی کے امور میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتا ہے۔ اللہ کی اطاعت اور حصول محبت الٰہی میں حریص ہوتا چلا جاتا ہے جس کے سبب معاصی کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ مگر جو شخص بھی اس نعمت سے محروم کر دیا گیا وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ﴾

’’پس ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل یادِالٰہی سے (اثر نہیں لیتے بلکہ ) سخت ہو گئے ہیں ۔‘‘ (الزمر: 22)

چند امور جو دل کی سختی کو دور کر کے اسے اپنے خالق و مولا کے لیے منکسروخاشع بنادیتے ہیں ، آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں:

1۔ معرفت الٰہی:

جس شخص نے بھی اپنے رب کو اس طرح پہچان لیا جس طرح اس کے پہچاننے کا ہے، اس کی عقل کو جلاملتی ہے۔ جب کہ معرفتِ الٰہی سے نابلد اور تہی دامن شخص کا دل سخت ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اللہ کی معرفت سے عاری لوگ ہی سخت دل کے حامل ہوتے ہیں ۔ جوشخص جتنا اللہ تعالیٰ سے دور ہو گا وہ اتنا ہی حدوداللہ کو پامال کرنے کی جسارت کرے گا۔ جب کبھی آپ ایسے شخص کو دیکھیں جو ہمیشہ اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر کرتا رہتا ہے اور اپنے اوپر اللہ کی بے شمار نعمتوں کو یاد کرتا رہتا ہے تو آپ ایسے شخص کے دل کو نرم مزاج پائیں گے۔

2۔ موت اور مابعد الموت کو یاد کرنا:

قبر کے سوال و جواب ظلمت و وحشت، اس کی تنگی ، ہولنا کیوں، سکرات الموت ، خدا کے رو بہ رو پیشی کا تصور وغیرہ ایسے اسباب ہیں جو دل کو خواب غفلت سے بے دار کرتے اور متنبہ کرتے ہیں جس سے سنگ دل اور سخت دل اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے منکسر المزاج بن جاتا ہے ۔

اسی لیے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو موت یا در کھنے کی وصیت فرمائی :

«أكثروا ذكرَ هاذمِ اللَّذاتِ : الموتِ ؛ فإنَّه لَم يذْكُرْه أحدٌ في ضيقٍ مِن العَيشِ إلَّا وسَّعَه علَيهِ ، و لا ذَكرَه في سَعةٍ إلَّا ضيَّقَها عليهِ»

’’ تم لذتوں کو مٹانے والی چیز موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ کیونکہ جو بندہ اس (موت) کو تنگی میں یاد کرتا ہے وہ کم پر بھی قناعت کرتا ہے ۔ اور جو شخص اس کو (موت کو) خوش حالی میں یاد کرتا ہے تو اس کی خوش حالی محدود ہو جاتی ہے۔ ‘‘ (صحيح الجامع: 1211)

سعید بن جبیر ﷫ فرماتے ہیں:

’’مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں موت کو بھول جاؤں اور میرادل فساد کا شکار ہوجائے ۔‘‘

3۔ قبروں کی زیارت کرنا اور اہل قبور کے بارے غور وفکر کرنا:

بندہ جب غور و فکر کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کے وہ بھائی اور ساتھی جو کل تک اس کے ساتھ کھاتے پیتے ، چلتے پھرتے اور اچھے اچھے ، عمده لباس زیب تن کرتے تھے آج اپنا مال و اولاد سب کچھ چھوڑ کر منوں مٹی تلے دبے ہوئے ہیں ۔ بندہ جب کچھ دیر کے لیے خود کو ان کے درمیان تصور کرتے ہوئے ان کے ٹھکانے کو اپنا ٹھکانہ کھے گا تو یقیناً زیارت قبور وعظ ونصیحت، عبرت اور غافلوں کے لیے تذکیر و تنبیہ کا سامان فراہم کرے گی ۔

اسی لیے نبی کریمﷺنے فرمایا:

«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، أَلا فَزُورُوهَا،، فَإِنَّهُ يَرِقُّ الْقَلْبَ، وَتَدْمَعُ الْعَيْنَ، وَتُذَكِّرُ الآخِرَةَ»

’’میں تمہیں پہلے زیارت قبور سے منع کرتا تھا ، سو اب تم قبروں پر جایا کرو کیوں کہ اس سے دل نرم اور آنکھ نم ہو جاتی ہے اور آخرت یاد آتی ہے۔ ‘‘

4۔ قرآن کی آیات پرغوروفکر کرنا:

جوشخص بھی قرآن کے وعدہ وعید اور اوامر ونواہی میں غور وفکر کرتے ہوئے حضورقلبی کے ساتھ اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے، تو اللہ کے ڈر سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، آنکھیں بہہ جاتی ہیں اور اس کی روح ایمانی لرز جاتی ہے۔ دل دھل جاتے ہیں اور وہ رجوع الی اللہ کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ ارشاور بانی ہے:

﴿اَللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ﴾

’’اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی آیات پر مشتمل ہے۔ جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر کار ان کے جسم اور دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں یہ ہے اللہ کی طرف سے رہنمائی جس کے ذریعے جسے چاہے راہِ راست پر لگا دیتا ہے اور جسے اللہ ہی راہ بھلا دے اس کا کوئی ہادی نہیں ہے۔ ‘‘ (سورة الزمر: 23)

5۔ آخرت کی یاد، قیامت اور اس کی ہولنا کیوں کی فکر کرنا:

جنت اور اس میں اطاعت گزار بندوں کے لیے اللہ کی طرف سے تیارشدہ نعمتوں اور جہنم اور اس میں گناہ گاروں اور سیاہ کاروں کے لیے تیار ہمیشہ کا عذاب، یہ وہ تمام مناظر و احوال ہیں جو نیندیں اڑ ادیتے ہیں اور نیک لوگوں کی دم توڑتی ہمتوں اور شکست خوردہ عزائم کوتحر یک دیتے ہیں ۔ ایسے دل حقیقتاً اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جس سے وہ دل نرم پڑ جاتے ہیں۔

6۔ کثرت سے ذکر واستغفار کرنا:

دل کی سختی کو اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی چیز نرم نہیں کرسکتی ۔ بندۂ مسلم کو چاہیے کہ وہ دل کا علاج اللہ کے ذکر سے کرے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے سيدنا حسن﷫ والے کے پاس آ کر قساوت قلبی کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا:

’’اس کو اللہ کے ذکر سے نرم کرو کیونکہ دل کی کی سختی غفلت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بندہ جس قدر اللہ کی یاد سے غافل ہوتا ہے ، دل بھی اسی قدر سخت ہو جاتا ہے، اللہ کی یاد سے دل ایسے نرم ہو جا تا ہے جیسے سیسہ آگ میں پھل جاتا ہے۔ ‘‘

امام ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں:

’’دل کی سختی 2 وجہ سے ہے، غفلت اور گناہ۔

جب کہ اس کی جلا 2 چیزوں میں ہے: استغفار اور ذکر‘‘

7۔نیک لوگوں سے میل جول اور تعلقات رکھنا:

نیک لوگوں کی صحبت اور ان سے میل جول رکھنا بھی اصلاح قلب کا ذریعہ ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ کم ہمتوں کی ہمت بڑھاتے ، بھولے ہووں کو یاد دھانی کرواتے ہیں اور جہلاء کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ غریب و نادار کی مدد کرتے اور خاص طور سے انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں ۔صلحاء کی زیارت اللہ کی یاد دلاتی ہے اور اطاعت پر ابھارتی ہے ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا﴾ (سورۃ الکہف: 28)

’’اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔‘‘

تبصرہ کریں