حلال کاروبار، دعوتِ الیٰ اللہ کا ذریعہ بن سکتا ہے!۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

ان دنوں اسلام اور عالم اسلام کے حوالے سے ملنے والی ہر خبر اکثر مایوسی اور افسردگی کو اپنے جلو میں لے کر آ رہی ہے۔ ہاں کبھی کبھار، کسی خبر سے امیدوں کے بجھتے ہوئے چراغوں میں پھر روشنی آنے لگتی ہے۔ اس جیسی خبروں میں ایک خبر حلال فوڈ انڈسٹری سے متعلق ہے۔ بظاہر فوڈ انڈسٹری کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں کی پیش قدمی کو جوڑا تو نہیں جاتا مگر گہری سوچ کے حامل اذہان کو اس حوالے سے بھی اسلام کے بڑھتے ہوئے قدموں کی آہٹ محسوس ہوتی ہے۔ بہرحال خبر کے مطابق اس وقت مارکٹ واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق حلال انڈسٹری مقبولیت اور نفع کے اعتبار سے عالمی فوڈ مارکیٹ میں اپنا ایک نمایاں مقام بنا چکی ہے، نیز حلال انڈسٹری صرف غذائی اشیاء تک محدود نہیں رہی، اس میں ادویات، میک اپ اور زیب وزینت کی ساری اشیاء اور طبی سیکٹر میں استعمال کی جانے والی دیگر تمام اشیاء شامل ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2022ء میں عالمی حلال مارکیٹ کی ویلیو 1522170 امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے اور 2025ء تک اس کی مارکیٹ ویلیو 1959610 تک پہنچنے کی توقع کی جار ہی ہے، نیز عالمی فوڈ مارکیٹ میں حلال اشیاء بنانے والی اور فروخت کرنے والی کمپنیوں کا تناسب 55 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ ان حلال کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد مشرقی اور وسط ایشیائی نیز شمالی افریقہ کے ممالک کی تجارتی مارکیٹس پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر چکی ہیں۔

اس سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام حلال اشیاء کے استعمال کرنے والوں میں صرف مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد حلال فوڈ کے استعمال کرنے والوں میں شامل ہو چکی ہے، چنانچہ فاسٹ فوڈ کے حوالے سے عالمی سطح پر جانی مانی کمپنیاںKFC، میکڈونلڈز اور Sub Way اب مسلم ممالک کے علاوہ غیر مسلم ملکوں میں بھی حلال غذائی اشیاء فراہم کر رہی ہیں، اسی طرح غذائی اجناس کا کاروبار کرنے والی عالمی کمپنی CAREFOOR نے بھی اپنی پروڈکٹس کی لسٹ میں حلال فوڈ کو فوقیت دے رکھی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ غیر مسلموں میں حلال اشیاء اس قدر مقبولیت کیسے حاصل کر رہی ہیں، اس حوالے سے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے عالمی سطح پر مانے ہوئے پروفیسرز اور ریسرچ اسکالرز نے مختلف ملکوں مثلاً چین، امریکہ اور بھارت میں سروے کا اہتمام کیا۔ جس میں ایک ہزار سے زائد مختلف عمروں کے حامل افراد سے حلال فوڈ کے حوالے سے دریافت کیا گیا اور سروے کی روشنی میں بعض مقالات بھی تحریر کیے گئے۔ سروے کے نتائج کے مطابق اکثریت نے حلال فوڈ کی مقبولیت کے حوالے سے جہاں کئی ایک اسباب بتلائے ، ان میں سے اہم ترین سبب یہ بتلایا کہ حلال اشیاء خصوصاً حلال فوڈ ان تمام اجزاء سے محفوظ ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر معقول انسان اپنی غذا کے معاملہ میں حد درجہ احتیاط برتتا ہے، ہر اس چیز کے کھانے یا پینے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کی صحت کے لیے نقصاد دہ ہو، اس کے باوجود عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال 600 ملین افراد غیر محفوظ غذا کے استعمال کی وجہ سے مختلف عارضی یا مستقل امراض کا شکار ہو رہے ہیں اورہر سال غیر صحت مند غذا نہ استعمال کرنے کی وجہ سے چار لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں حلال کھانوں کی مقبولیت کی وجہ بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے۔

نیز حلال غذا اشیاء کا ان اجزاء سے پاک وصاف ہونا جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، کوئی نیا انکشاف نہیں، کیونکہ آج سے چودہ سو سال قبل قرآن مجید میں رسول اکرمﷺ کے حوالے سے وضاحت کے ساتھ بتلا دیا گیا کہ

﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ ﴾ (سورۃ الاعراف: 157)

جس رسول ﷺ کو ہم نے تمہاری جانب بھیجا ہے وہ صرف پاکیزہ چیزوں کو تمہارے لیے حلال قرار دیتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے صرف ان چیزوں کو حلال قرار دیا ہے جو فی نفسہ پاکیزہ اورہر اعتبار سے محفوظ ہیں اور جو اشیاء گندی اور انسانی صحت کے لیے مضر اجزاء پر مشتمل ہیں، صرف وہی اشیاء کو تمہارےلیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

اسلامی شریعت میں اشیاء کے حلال وحرام کے موضوع کو جس شرح وبسط کے ساتھ واضح کیا گیا ہے ، دوسرے مذاہب میں اس کا عشر عشیر بھی موجود نہیں ہے۔

درحقیقت اسلام کا انسانیت پر یہ ایک عظیم احسان ہے مگر بعض نادان لوگ اپنی ناقص عقل کے گھوڑے دوڑا کر اسلام میں حرمت اور حلت کے قوانین کو ان کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیتے ہیں، جب کہ اسلامی شریعت اپنے پیروکاروں کو جائز حدود میں رہتے ہوئے زندگی سے لطف اندوز ہونے سے منع نہیں کرتی ۔

نیز اس حوالے سے اس امر کا جاننا بھی ضروری ہے کہ اسلامی شریعت کے اہم مقاصد میں انسانی جان کو تحفظ فراہم کرنا، اس دنیا کو امن وسلامتی کا مقام بنانا بھی شامل ہے، لہٰذا اسلام میں صرف ان اشیاء یا ان کاموں کو حرام قرار دے دیا گیا جو نہ صرف جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ انسانی اخلاق اور اس کی روح کے لیے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً اسلامی طریقہ سے ذبح کیے جانے والے جانور کے علاوہ ہر اس جانور کو حرام قرار دے دیا گیا ہے کہ جس کی موت اس انداز سے واقع ہو کہ اس کے بدن کے خون کا مکمل اخراج نہ ہوا ہو۔

اسی طرح خون اور خنزیر اور شراب کو حرام قرار دیا گیا، جن کے انسانی صحت اور اخلاق کے لیے مضر ہونے کی گواہی آج کی موجودہ سائنس دے رہی ہے، شراب کہ جس کو ام الخبائث قرار دیا گیا ، جدید سائنسی تحقیق کے مطابق جہاں کئی ایک مہلک بیماریوں کا شاخسانہ ہے، وہیں اسی سے معاشرے میں کئی ایک اخلاقی اور روحانی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

جوئے کی حرمت پر نظر دوڑائیے تو جوئے کی اس لت سے تباہ شدہ کئی خاندان اور کئی شادی شدہ جوڑے آپ کے سامنے آ جائیں گے۔

سود کو اگر حرام قرار دیا گیا ہے تو اس کا مقصد معاشرے سے امیدی اور غریبی کے فرق کو مٹانا اور امیر وغریب کے درمیان نفرت، حسد اور احساس کمتری وبرتری کی خلیج کو پاٹنا ہے اس کے مقابلےمیں اسلام نے زکوٰۃ وصدقات اور مختلف گناہوں کے کفارے کی ادائیگی کو لازم قرار دے کر دولت کے بہاؤ کو امیروں سے غریب اور مفلوک الحال افراد اورخاندانوں کی جانب موڑ دیا ہے، جب کہ سود سے متعفن معاشرے میں دولت کا بہاؤ غریبوں سے امیروں کی جانب بڑھتا چلا جاتا ہے۔

اسی طرح رشتوں کی حرمت اور حلت کے پیچھے بھی انسانی معاشرے میں پاک دامنی، عفت وحیا اور نسب کی حفاظت کو فروغ دیا اور بے حیائی وفواہش کے راستوں کی ناکہ بندی ہے۔

الغرض اسلام میں حلال اور حرام کے پس پردہ ان پاکیزہ مقاصد کو دنیائے انسانیت تک پہنچانا، حلال کاروبار میں مشغول کمپنیوں کا وطیرہ ہونا چاہیے، اسی طرح لفظ حلال اسلام کی جانب دعوت فکر دے سکتا ہے، بشرطیکہ حلال کاروبار میں مصروف کاروباری اشخاص اس کو اسلام کی جانب بلانے کا ذریعہ بنائیں۔ لفظ حلال میں چونکہ جاذبیت ہے۔

چنانچہ بعض حددرجہ متعصب ملکوں میں لفظ حلال کے استعمال پر پابندی لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جس طرح حجاب پر پابندی لگانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ غیر مسلم معاشرے میں اسلام کو متعارف کروانے والی ہر چیز کا خاتمہ کیا جا سکے۔ افسوس کہ غیر مسلم نے لفظ حلال یا حجاب کی اہمیت کو جان لیا مگر ہم ابھی تک اس کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔

٭٭٭

امام شافعی ﷫ کا قول ہے :

’’جو یہ چاہتا ہے کہ اللّٰہ اس کے دل کو کشادگی عطا کرے اور اسے علم سے بہرہ مند فرمائے، اسے خلوت اور قلت طعام کا اہتمام کرنا چاہیے؛ بے وقوفوں کی صحبت سے کنارہ کش رہنا چاہیے اور علم کے ایسے دعوے داروں سے بھی دور ہی رہنا چاہیے جن میں انصاف ہے اور نہ ہی ادب!‘‘

(بستان العارفین للنووی، ص: 48)

تبصرہ کریں