حج کی فضیلت اور مسلمانوں کی زندگی پر اس کا اثر۔ڈاکٹر یاسر بن راشد دوسری

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، جس نے اپنے فضل سے بھلائی کے راستے آسان کیے، اپنے بندوں کو اپنے پاکیزہ گھر تک پہنچایا تاکہ حاجی اپنی نذروں کو پورا کر سکیں اور اپنے رب سے مغفرت کی امید رکھیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اللہ آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے آل واصحاب پر اور قیامت تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔

بعدازاں:

اے لوگو! میں خود اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ تقویٰ بہترین زاد راہ ہے اور روز قیامت کے لیے بہترین انجام کا ذریعہ ہے۔ اللہ سے ہر وقت ڈرتے رہو، اس کے قرآن میں نازل کردہ فرمانِ حق کو یاد رکھو:

﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾ (سورۃ المائدة: 27)

’’اللہ صرف متقی لوگوں سے قبول کرتا ہے۔‘‘

اے مسلمانوں! اہلِ اسلام کی عظیم ترین بہاروں میں سے ایک بہار ختم ہو چکی ہے، حج کے ایام اور اس کی عظیم شعائر بھی اختتام پذیر ہو چکے ہیں۔ حاجیوں نے بہترین طریقے یہ دن گزارے، مشاعر مقدسہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ قیام کیا، اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر رب العالمین سے دعائیں مانگیں اور اپنے گناہوں اور خطاؤں سے پاک ہو گئے۔ تو مبارک ہو انہیں اس تکمیلِ عبادت پر، مبارک ہو انہیں اللہ کے فضل و انعام پر۔

﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ﴾

’’کہہ دیجیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔ ‘‘(سورۃ يونس: 58)

اللہ کی نعمتوں اور انعامات پر شکر گزار ہو جاؤ، کیونکہ شکر گزاری مزید نعمتوں کا راستہ ہے اور اسی سے حج اور عبادت کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ (سورۃ ابراہيم: 7)

’’ تمہارے رب نے اعلان کیا ہے اگر تم شکر گزار ہو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ دوں گا۔‘‘

اے حجاجِ بیت اللہ، آپ نے اپنی زندگی کا ایک نیا صفحہ سے شروع کیا ہے، حج کے بعد پاکیزہ لباس میں پلٹے ہیں۔ تو اللہ کو بھلے بن کر دکھائیں، جب تک زندگی ہے، اپنی نیکیوں کی حفاظت کریں ، گناہوں سے دور رہیں، جو کچھ آپ نے کمایا کیا ہے اس کی نگہبانی کریں، جو کچھ تعمیر کیا ہے اسے گرنے مت دیں۔

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثَاً﴾ (النحل: 92)

’’ تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔‘‘

حج مبرور کی علامت اور اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہے کہ نیکی کے بعد دوسری نیکی کی توفیق ملے اور مستقل مزاجی آ جائے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ﴾ (سورۃ الشرح: 7)

’’پھر جب تم فارغ ہو، تو عبادت میں جت جاؤ۔‘‘

مؤمن یہی کا حال یہ ہوتا ہے، جب بھی وہ ایک عبادت سے فارغ ہوتا ہے، تو دوسری عبادت شروع کر دیتا ہے۔ تو خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی عیدیں نیکیوں کی قبولیت پر ہوتی ہیں، جن کی امیدیں سب سے بلند ہوتی ہیں، جن کے احوال بہتری کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ کیونکہ مؤمن کے لئے نیکی کا موقع تو اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ اس کی روح قبض نہیں ہو جاتی۔

﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾

’’اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔‘‘ (سورۃ الحجر: 99)

اے مؤمنو! جس نے حج میں رحمان کے لئے لبیک کہا، اسے چاہیے کہ وہ ہر جگہ اور ہر وقت اللہ کی فرمان برداری میں مصروف رہے۔ جس نے حج میں محظورات احرام سے پرہیز کیا، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کچھ چیزیں ہمیشہ کے لیے محظور ہیں۔ شیطان کی پیروی سے بچو، رحمان کے حدود کے قریب نہ جاؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«ألا وإن لكل ملكٍ حِمَى، ألا وإن حِمَى الله محارِمُه» (متفق علیہ)

’’سنو! ہر بادشاہ کا ایک محفوظ علاقہ ہوتا ہے، اور اللہ کا محفوظ علاقہ اس کی حرام کام ہیں۔‘‘

اللہ کے بندو! اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآن و سنت کی برکتوں سے نوازے، ہمیں ان میں موجود آیات و حکمت سے فائدہ دے۔ جو کچھ آپ نے سنا، میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ سے اپنے اور آپ کے لئے معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، جو اپنے متقی بندوں کو بے شمار عطائیں دینے والا ہے، ہر وقت انہیں نعمتوں سے نوازتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، رسول اور امام المتقین ہیں۔ اللہ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے آل و اصحاب پر رحمتیں نازل فرمائے۔

بعدازاں:

اے اللہ کے مہمانو! یہ اللہ کی خاص توفیق ہے کہ حاجی حج کے بعد خالص توحید لے کر لوٹے، اس کا دل پاک ہو چکا ہو، اس کا ایمان بڑھ گیا ہو، اس کی حالت بہتر ہو گئی ہو، اس کا اخلاق اچھا ہو چکا ہو، اس کا یقین مضبوط ہو گیا ہو اور اس کا تقویٰ بڑھ گیا ہو۔ حسن بصری سے پوچھا گیا: حج مبرور کیا ہے؟ انہوں نے کہا:

“أن تعودَ زاهِدًا في الدنيا راغِبًا في الآخرة”

’’کہ انسان دنیا سے بے رغبت اور آخرت کی طرف رغبت راغب ہو کر لوٹے۔‘‘

اے عبادت گزارو!

مختلف اقسام کی عبادت کرنے کے بعد استقامت کے راستے پر قائم رہو، کیونکہ آپ دائمی اقامت گاہ میں نہیں ہو۔

اے حجاج کرام! اے نمازیو!

یاد رکھو کہ مسجد حرام میں ان دنوں خطبہ مختصر اور نماز ہلکی کی جاتی ہے تاکہ زائرین کو آسانی ہو اور وہ گرمی اور بھیڑ سے بچ سکیں۔

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الأحزاب: 56)

’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘

اے اللہ! اپنے امانت دار رسول حضرت محمد ﷺ پر رحمتیں نازل فرما، آپ ﷺ کی پاک اور طیب و طاہر آل پر بھی، ازواج مطہرات پر بہی جو مومنوں کی مائیں ہیں، سب پر بھی رحمتیں نازل فرما۔

اے اللہ! خلفائے راشدین سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی سے راضی ہو جا، تمام صحابہ کرام اور قیامت تک نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والوں سے بھی راضی ہو جا۔ ہم سے بھی اپنی بخشش، کرم اور احسان کے ساتھ راضی ہو جا، اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے!

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، اپنے موحد بندوں کی مدد فرما، دین کی حفاظت فرما، اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و اطمینان عطا فرما، اے رب العالمین۔

اے اللہ! حاجیوں کے حج اور ان کے کاوشوں کو قبول فرما، ان کے حج کو مقبول اور ان کی محنت کو مشکور بنا، ان کے گناہوں کو بخش دے۔

اے اللہ! ان کے سفر کو سعادت والا بنا، اور ان کی اپنے ملکوں میں واپسی کو خیر والی بنا، ان کی راہ کو سلامتی اور امن والا بنا۔

اے اللہ! ہمارے امام اور ولی امر خادم حرمین اور ان کے ولی عہد کو اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق عطا فرما، انہیں ان کے اعمال کا بہترین اجر اور ثواب عطا فرما، جو وہ حرمین شریفین کے لئے کرتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کو جزائے خیر عطا فرما جو مہمانانِ رحمن کی خدمت میں ہیں، ہمارے محافظوں اور سرحدوں پر ہمارے سپاہیوں کو بہترین اجر عطا فرما۔

اے اللہ! پریشان حالوں کی پریشانی دور فرما، مصیبت زدوں کی مصیبت دور فرما، قرض داروں کے قرض ادا فرما، ہمارے مریضوں اور تمام مسلمانوں کے مریضوں کو شفا عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے مرحومین اور تمام مسلمانوں کے مرحومین پر رحم فرما، دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما، فلسطین میں ان کی مدد فرما۔

اے اللہ! ان کی مدد فرما، اور ان کے ہر دکھ کو راحت میں بدل دے، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دے، اور ہر بیماری سے شفا عطا فرما۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ﴾ (البقرة: 127)

’’اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے‘‘

ہمیں معاف فرما، بے شک تو بہت معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ہم پر رحم فرما، بے شک تو بہت معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ * وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (الصافات: 180-182)

’’پاک ہے تیرا رب، عزت والا، ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ سلام ہے رسولوں پر۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں