حدیث کی تعریف اور اقسام۔ ابوضیاء تنزیل عابد

شریعتِ اسلامیہ کے بنیادی ماخذ اور مصدر دو ہیں ، قرآن اور حدیث۔ ماخذ اور مصدر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دینِ اسلام کی بنیاد ان دو چیزوں پر کھڑی ہے ، ہم نے زندگی گزارنے کے لئے جو بھی رہنمائی حاصل کرنی ہے وہ ان دو چیزوں سے ہی حاصل کرنی ہے۔ اگر ہم ان میں سے ایک کو بھی چھوڑ دیں گے تو ہم مومن اور مسلمان نہیں رہیں گے۔ کیونکہ قرآن اور حدیث دونوں ہی وحی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔

جس طرح کوئی شخص مکمل قرآن یا قرآن کی کسی ایک آیت کا بھی انکار کرتا ہے تو مسلمان نہیں ہے ، بلکل اسی طرح احادیث رسول کا انکار کرنے والا شخص بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اکثر مقامات پر ان دونوں کا ذکر اکٹھا کیا ہے۔

﴿رَبَّنَا وَابعَث فِيهِم رَسُولًا مِّنهُم يَتلُوا عَلَيهِم اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتٰبَ وَالحِكمَةَ وَ يُزَكِّيهِمۡ‌ اِنَّكَ اَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ ﴾

’’اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 129)

﴿كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ﴾

’’جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول تمہی سے بھیجا ہے، جو تم پر ہماری آیات پڑھتا اور تمہیں پاک کرتا اور تمھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمھیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 151)

﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ﴾

’’اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 33)

ان آیات کریمہ میں الكِتٰبَ سے قرآن مجید اور الحِكمَةَ سے مراد حدیث ہے۔

اس سے پتہ چلا کہ جس طرح قران کو ماننا اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے بالکل اسی طرح حدیث کو ماننا اور اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔

قرآن کریم مکمل لکھا ہوا ہمارے پاس موجود ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾

’’بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحجر: 9)

قرآن کریم نبی ﷺ نے خود صحابہ کرام کو لکھوایا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ

’’قرآن مجید کو تو ہم مانتے ہیں کیونکہ یہ مکمل لکھا ہوا ہمارے سامنے موجود ہے ، اس کی کتابت خود نبی کریمﷺ نے کروائی لیکن ہم حدیث نہیں مانتے ، کیونکہ یہ نبی ﷺ کے بعد لکھی گئیں۔‘‘

یاد رکھنا!

یہ بات درست نہیں ہے ، کیونکہ احادیث بھی نبی کریمﷺ نے خود لکھوائی ہیں اور اس کی کتابت بھی نبی کریم ﷺ کے دورِ مبارک میں ہے۔ اس کے چند دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔

سیدنا ہمام بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

مَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْهُ مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَلاَ أَكْتُبُ

’’نبی ﷺ کے صحابہ کرام میں سیدنا عبداللہ بن عمرو ‬ کے علاوہ اور کوئی مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے والا نہیں، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے میں لکھتا نہیں تھا۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ وَقَالُوا أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنْ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ فَقَالَ اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ

’’سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ ﷺ سے میں جو کچھ سنتا وہ سب لکھ لیا کرتا تھا تاکہ اسے حفظ کر لوں ۔ تو (بعض ) قریشیوں نے مجھے منع کیا ۔ انہوں نے کہا :

تو ہر بات ، جو سنتا ہے ، لکھ لیتا ہے ، حالانکہ رسول اللہﷺ ایک انسان ہیں غصے اور خوشی ( دونوں حالتوں ) میں گفتگو کرتے ہیں ، تو میں نے لکھنا موقوف کر دیا اور یہ بات رسول اللہ ﷺ سے عرض کی ۔ تو آپﷺ نے اپنے دہن مبارک کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

” لکھا کرو ، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس سے سوائے حق کے اور کچھ نکلتا ہی نہیں ہے ۔“ (سنن ابوداؤد: 3646 صححہ الالبانی)

سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ

نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ خطبہ دیا۔ یہ سن کر ایک یمنی شخص (ابوشاہ) نے حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ (سب احکام) مجھے لکھ دیجئے۔ آپﷺ نے فرمایا؛

«اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ»

’’ ابو شاہ کولکھ دو ۔‘‘ (صحیح بخاری: 2434)

ان دلائل سے ثابت ہوا کہ حدیث کی کتابت کا آغاز دورِ نبوی میں ہی ہو چکا تھا۔

حدیث کی تعریف

لغوی طور پر حدیث کا معنیٰ ہوتا ہے بات ، گفتگو۔

شرعی اور اصطلاحی طور پر حدیث کی تعریف یہ ہے:

هو ما أُضِيفَ إلى النبي ﷺ من قولٍ ، أو فعلٍ ، أو تقريرٍ ، أو صفةٍ.

’’ہر وہ قول ، فعل ، تقریر یا صفت جو محمد ﷺ کی طرف منسوب ہو حدیث کہلاتی ہے۔‘‘

حدیث کی اقسام

1۔ قولی حدیث :

جو رسول اللہ ﷺ کی بات پر مبنی ہو۔ یعنی نبی ﷺ نے کوئی بات ارشاد فرمائی ، اس کو قولی حدیث کہتے ہیں۔

اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ يَأْخُذُ عَنِّي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمُ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَعَدَّ خَمْسًا وَقَالَ اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا وَلَا تُكْثِرْ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ

’’سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پرعمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پرعمل کرے۔‘‘

سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے کہا:

’’اے اللہ کے رسولﷺ! میں ایسا کروں گا، تو رسول اکرمﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا:

’’1۔تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہوجاؤ گے ۔

2۔ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہوگے۔

3۔اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔

4۔ دوسروں کے لیے وہی پسندکرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہوجاؤ گے ۔

5۔زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کردیتا ہے۔‘‘ (جامع ترمذی: 2305 )

عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا قَالَ ثَوْبَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنْ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا (سنن ابن ماجہ: 4245 )

’’سیدنا ثو با ن بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

’’میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرور پہچا ن لو ں گا۔ جو قیا مت کے دن تہامہ کے پہا ڑوں جیسی سفید (روشن) نیکیا ں لے کر حا ضر ہو ں گے تو اللہ عز وجل ان (نیکیوں کو) بکھرے ہو ئے غبا ر میں تبد یل کر دے گا۔

سیدنا ثوبان نے عر ض کیا اللہ کے رسول ان کی صفات بیان فر دیجیے۔ ان(کی خرابیوں) کو ہمارے لئے واضح کر دیجیے۔ کہ ایسا نہ ہو کہ ہم ان میں شا مل ہو جا ئیں اور ہمیں پتہ بھی نہ چلے آ پ نے فرمایا:

وہ تمہارے بھا ئی ہیں اور تمہاری جنس سے ہیں اور را ت کی عبا دت کا حصہ حا صل کر تے ہیں جس طرح تم کرتے ہو۔ لیکن وہ ایسے لو گ ہیں کہ انہیں جب تنہائی میں اللہ کے حرا م کر دہ گناہوں کا مو قع ملتا ہے۔ تو ان کا ارتکا ب کر لیتے ہیں۔ ‘‘

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ»

’’سیدنا سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’جس نے مؤذن کی آواز سنتے ہوئے یہ کہا:

أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُهُ

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘

رضیت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دینا

’’ میں اللہ کے رب ہونے پر اور محمدﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔‘‘

’’تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 851)

2۔ فعلی حدیث :

جو رسول اللہ ﷺ کے عمل پر مبنی ہو۔ یعنی نبی ﷺ نے کوئی کام کرکے دکھایا ، اس کو فعلی حدیث کہتے ہیں۔

اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

عَنْ حُمْرَانَ: أَنَّ عُثْمَانَ رضي الله عنه دَعَا بِوَضُوءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا.

’’سیدنا حمران مولیٰ عثمان سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان نے وضو کا پانی طلب فرمایا۔ (پہلے) اس سے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیاں تین مرتبہ دھوئیں۔ پھر منہ میں پانی ڈال کر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھاکر اسے جھاڑ کر صاف کیا۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا۔ پھر اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا۔ پھر اسی طرح بایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا :

’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح (ابھی) میں نے وضو کیا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 159)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ

’’سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطرکے دن نہ نکلتے جب تک کہ آپ چند کھجوریں نہ کھا لیتے۔‘‘ (صحیح بخاری: 953)

عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ، ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ، حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ فَرَأَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ، فَقَالَ: «عِبَادَ اللهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ

’’سیدنا سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو (اس قدر ) سیدھا اور برابر کراتے تھے، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں، حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے (اس بات کو) اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد ایک دن آپ گھر سے نکل کر تشریف لائے اور (نماز پڑھانے کی جگہ ) کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپ تکبیر کہیں (اور نماز شروع فرما دیں کہ) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا، اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا، آپﷺنے فرمایا:

’’ اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے رخ ایک دوسرے کے خلاف موڑ دے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: 979)

3۔ تقریری حدیث

صحابہ کرام کا وہ فعل یا قول جو نبی ﷺ کی موجودگی میں ہوا اور آپﷺ نے اسے برقرار رکھا یا آپ ﷺ کے سامنے کسی کے عمل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی۔ یعنی منع نہیں کیا۔ اس کو تقریری حدیث کہتے ہیں۔

اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

سیدنا قیس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے فجر کی نماز ہونے کے بعد دو رکعات ادا کیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «صَلَاة الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ»

’’نمازِ فجر کی صرف دو رکعات ہیں۔‘‘

سنن ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:

«أَصَلَاة الصُّبْحِ مَرَّتَیْن؟»

’’ کیا تم نے فجر کی نماز دو مرتبہ ادا کی ہے ؟ ‘‘

اس نے کہا :

’’میں نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں ، اب وہی سنتیں میں نے ادا کی ہیں۔‘‘

تو رسول اللہ ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ (سنن ابو داؤد: 1267 ، ابن ماجہ: 1154 صححہ الألبانی)

جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں؛

غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ كُلُوا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ فَأَكَلَهُ

ہم فوج میں شریک تھے ۔ ابو عبیدہ ہمارے امیر تھے ۔ پھر ہمیں شدت سے بھوک لگی ، آخر سمندر نے ایک ایسی مردہ مچھلی باہر پھینکی کہ ہم نے ویسی مچھلی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ اسے عنبرکہتے تھے ۔ وہ مچھلی ہم نے پندرہ دن تک کھائی ۔ پھر ابوعبیدہ نے اس کی ہڈی کھڑی کروادی تو اونٹ کا سوار اس کے نیچے سے گزرگیا ۔ ( ابن جریر نے بیان کیا کہ ) پھر مجھے ابو الزبیر نے خبر دی اور انہوں نے جابر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ ابو عبیدہ نے کہا اس مچھلی کو کھاؤ پھر جب ہم مدینہ لوٹ کر آئے تو ہم نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا ، آپ نے فرمایا کہ وہ روزی کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجی ہے ۔ اگر تمہار ے پاس اس میں سے کچھ بچی ہوتو مجھے بھی کھلاؤ ۔ چنانچہ ایک آدمی نے اس کا گوشت لاکر آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے بھی اسے تناول فرمایا ۔ [بخاری: 4362]

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنْ الْأَحْزَابِ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَكَ بَعْضَهُمْ الْعَصْرُ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ

’’سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ غزوہ خندق سے فارغ ہوئے ( ابوسفیان لوٹا ) تو ہم سے آپﷺ نے فرمایا:

کوئی شخص بنو قریظہ کے محلہ میں پہنچنے سے پہلے نماز عصر نہ پڑھے لیکن جب عصر کا وقت آیا تو بعض صحابہ نے راستہ ہی میں نماز پڑھ لی اور بعض صحابہ نے کہا کہ ہم بنوقریظہ کے محلہ میں پہنچنے پر نماز عصر پڑھیں گے اور کچھ حضرات کا خیال یہ ہوا کہ ہمیں نماز پڑھ لینی چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ نماز قضا کر لیں۔ پھر جب آپ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے کسی پر بھی ملامت نہیں فرمائی۔ ‘‘ (صحیح بخاری: 946)

4۔ وصفی حدیث

یہ وہ حدیث ہے جس میں آپ ﷺ کے جسمانی یا روحانی و اخلاقی اوصاف و احوال میں سے کسی کا تذکرہ ہو۔اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا وَأَحْسَنَهُ خَلْقًا لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ

’’ابواسحق بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا براءبن عازب سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حسن وجمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور جسمانی ساخت میں بھی سب سے بہتر تھے۔ آپﷺ کا قد نہ بہت لانبا تھا اور نہ چھوٹا (بلکہ درمیانہ قد تھا)۔‘‘ (صحيح بخاری: 3549)

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا۔

’’سیدنا انس نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6203)

عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ المتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا

’’سیدنا عطاءبن یسار نے بیان کیا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی جو صفات توریت میں آئی ہیں ان کے متعلق مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ! قسم خدا کی ! آپ ﷺ کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکو رہیں۔ جیسے کہ ”اے نبی ! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور ان پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ تم نہ بدخوہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے، (اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ) وہ ( میرا بندہ اور رسول ) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرالے، یعنی لوگ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہُ نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو پردے کھول دے گا۔ (صحیح بخاری: 2125)

تبصرہ کریں